وہ ایک لمحہ




" سات برس سے وہ تمہاری تلاش میں ہیں "
وہ تاسف سے بولی ۔
"اور میں بائیس برس تک ان کو ڈھونڈتا رہا تھا"
وہ استہزائیہ لہجے میں ہنسا تو وہ تحیر سے اسے دیکھتے رہ گئی۔
" ہاں عنایہ ، پورے بائیس برس میں ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے تلاش کرتا رہا مگر میری تلاش لاحاصل ٹھہری ۔ وہ میرے آس پاس تو تھے مگر میرے ساتھ نہیں تھے ، اور مجھے ان کا ساتھ چاہئے تھا جو مجھے دعاؤں سے بھی نہیں ملا "
تھکن زدہ لہجے سے درد جھلک رہا تھا ۔
"اور جب تمہاری تلاش تمام ہونے کو آئی تو تم انہیں اپنی تلاش سونپ کر چلے آئے"
وہ طنزیہ لہجے میں کہتی ہوئی اسے سلگا گئی ۔
" ہاں تو اور کیا کرتا میں "
وہ اشتعال انگیز لہجے میں بلند آواز سے بولا ، تو چار سالہ طلحہ جو قریب ہی سو رہا تھا ، ڈر کر کچی نیند سے بیدار ہو کر رونے لگا ۔
"معاف کر سکتے تھے"
عنایہ نے بھی قدرے بلند آواز میں کہا ، اور طلحہ کو اٹھا کر بہلانے لگی ۔
"تم میری جگہ ہوتی تو کیا کر دیتی معاف؟"
اس نے اپنی لہو رنگ سوالیہ نظریں عنایہ کے چہرے پہ گاڑیں۔
" ہاں "
وہ مضبوط لہجے میں کہتے ہوئے طلحہ کو شانے سے لگائے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
اور وہ اپنی جگہ ساکت رہ گیا ان گنت سوچوں کے بھنور میں ڈوب گیا ۔ تب ہی اس کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا اور وہ گھٹن زدہ کمرے میں چھائے وحشت انگیز سکوت سے گھبرا کر باہر بالکونی پہ آ گیا ، چاند کی دودھیا چاندنی کے حصار میں رقص کرتے ہوئے نرم ہوا کے جھونکوں کی سرگوشیاں اس کی سماعتوں سے ٹکرائیں تو ایک پر کیف احساس اس کی رگ و پے میں سرایت کر گیا ۔ اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے آنکھیں موند لیں ، اس عمل سے اس کے اندر کی گھٹن قدرے کم ہوئی تھی ، کچھ پل یونہی خالی الذہنی میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہوئے بیت گئے ، پھر وہ دھیرے سے چلتا ہوا آہنی جالی کے قریب آیا اور ایک نظر جھک کر نیچے لان میں دیکھا ، تو اس کی عزیز از جان بیوی عنایہ بیٹے طلحہ کو شانے سے لگائے ، اسے سلانے کی خاطر ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی ۔ ایک ہلکی مسکان اس کے لبوں پہ ابھری اور کسی خیال کے تحت معدوم ہو گئی ، وہ وہیں سے پلٹ گیا ، واپس کمرے میں آ کر اس نے سگریٹ سلگا لیا ، اور سگریٹ کے دھویں میں اس کے ماضی کی پرچھائیاں رقص کرنے لگیں ۔۔۔
⭐⭐⭐⭐⭐

عنایہ اس کی زندگی کی پہلی خوشی تھی ، وہ واحد ہستی تھی جس نے اسے خوشیوں سے روشناس کروایا تھا ، مسکرانا سکھایا تھا ، ورنہ وہ تو مسکرانا فراموش کر چکا تھا ، اس نے کبھی اپنے ماں باپ کو بھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا ، تب وہ سمجھتا تھا کہ شاید مسکرانا کوئی معیوب عمل ہے ، اسے آج بھی وہ دن یاد تھا جب وہ آخری بار کھلکھلا کر ہنسا تھا ۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہنسنے کھیلنے میں اس قدر مگن تھا کہ وہ یہ بھی بھول گیا کہ بابا گھر پر ہیں اور چھٹی کا دن جمعہ تو اس کے لئے ہمیشہ ہی بھاری ہوتا تھا ، ماں کے ساتھ ساتھ اس کی بھی کسی نا کسی بات پر بابا کے ہاتھوں شامت آ جاتی تھی ۔ آج بھی یہی ہوا تھا بچوں کے کھیل کود کا شور اس کے بابا صدیقی صاحب کو اتنا ناگوار گزرا کہ انہوں نے اسے خوب ڈانٹا اور اس کے ننھے دوستوں کو بھی ڈانٹ کر بھگا دیا ، تب اس نے روتے ہوئے ہمیشہ کی طرح اللہ سے شکوہ کیا ۔ " ڈیئر اللہ میاں فرائیڈے کا دن اچھا نہیں ہوتا ، ہمیں فرائیڈے نہیں چاہیے ، اسے مت بھیجا کریں " اس کا معصوم ذہن چھٹی والے دن کو ہی قصوروار ٹھہراتا تھا ، کیوں کہ وہ دن کبھی بھی اس کے لیے خوشگوار ثابت نہیں ہوا تھا ۔ اس دن کے بعد اس نے کوئی دوست نہیں بنایا وہ اپنی ذات کے خول میں سمٹ کر رہ گیا ۔ صدیقی صاحب اکثر اپنی ناتمام حسرتوں کا غصہ اس معصوم یا اس کی سہمی ہوئی ماں پہ اتار کر اپنے کمرے میں بند ہو جاتے تھے ۔ اور وہ آبنوسی الماری کہ جس کے آس پاس بھٹکنے کی بھی کسی میں ہمت تھی اور نہ ہی کسی کو اجازت تھی ، اس الماری میں دھری ماضی نامی کتاب کے اوراق پلٹتے رہتے تھے ۔  ارحم کو اس الماری سے شدید نفرت تھی ، اسے سارے فساد کی جڑ وہی آبنوسی الماری لگتی تھی ۔ " آخر ایسا کیا ہے اس الماری میں ، جو بابا کے مزاج کو بدل کر رکھ دیتا ہے " وہ اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑاتا ۔ " ایسی بھی کیا خاص بات ہے ، جو بابا کے علاوہ اس الماری کو کوئی بھی نہیں کھول سکتا " اسے کئی سوال اس کے ذہن کے دریچے پہ دستک دیتے مگر اسے جواب نہ ملتا ۔ ماں سے پوچھتا تو وہ بھی جواب دینے کے بجائے برہم ہو جاتیں اور کہتیں کہ " جاؤ اپنے باپ سے پوچھو " معاملہ اس کی سمجھ سے باہر تھا ، تجسس تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔ وہ اب بڑا ہو رہا تھا ڈانٹ ڈپٹ اسے باغی کر رہی تھی ، تب ہی ایک رات اس نے بابا کے پرس سے آبنوسی الماری کی چابی چرا لی مگر وائے قسمت ! الماری کھولتے وقت وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ۔ صدیقی صاحب کی قہر آلود نظروں نے اس کا لہو نچوڑ لیا ، اس کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی ۔  صدیقی صاحب نے اس روز پہلی بار اس پر ہاتھ اٹھایا اور ایسا اٹھایا کہ مار مار کر اس کا برا حال کر دیا ۔ وہ ششدر تھا کہ ایسی بھی کیا خطا کر بیٹھا ہے ۔  وہ مارتے رہے وہ چیختا رہا ، ان کے سامنے ہاتھ جوڑتا رہا ، پاؤں پڑتا رہا ، مگر صدیقی صاحب کو اس پہ رحم نہ آیا ، اس نے مدد بھری نگاہوں سے ماں کی جانب دیکھا مگر وہ بھی خاموش تماشائی بنے کھڑی رہیں ۔ اس لمحے اس کے دل میں نفرت کی ایک لہر نے جنم لیا اور پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے کر تمام احساسات کو سلا دیا ، وہ دن بھی آخری تھا جب اس کی آنکھ سے آنسو ٹپکا تھا اس دن کے بعد وہ پتھر ہو گیا ۔ اس نے الگ سے اپنی ایک دنیا بسا لی جس میں کتابیں تھیں ، وہ تھا اور اس کی تنہائی تھی ۔
وہ گھر میں ہونے والے آئے روز کے جھگڑوں سے تنگ تھا وہ ناچاقی کی وجہ ڈھونڈ کر اسے ختم کرنا چاہتا تھا ، اس کی دلی تمنا تھی کہ اس کے ماں باپ اس کی خاطر سمجھوتا کر لیں ، ہنسی خوشی زندگی گزاریں یا پھر ایک دوسرے کو جھیلنے کی اذیت سے خود کو آزاد کروا لیں ، ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں ، یوں کم از کم اسے کسی ایک کی تو مکمل توجہ و محبت حاصل ہوتی ، وہ یوں گھٹ گھٹ کر آدھی ، ادھوری زندگی نہیں بسر کرنا چاہتا تھا ، مگر اب چاہے وہ لڑ لڑ کر مر جائیں اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ، وہ سانس لیتی مشینوں کے ہمراہ مشینی زندگی گزار رہا تھا اور مشینوں کے کوئی جذبات و احساسات نہیں ہوتے ، سو اس کے بھی نہیں تھے ، ایک ساتھ رہتے ہوئے بھی ان کے درمیان صدیوں کے فاصلے تھے اور فاصلوں کو مٹانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی تھی ۔ وہ ہوسٹل چلا گیا پڑھائی میں مصروف ہو گیا ، کبھی کبھار چھٹیوں میں گھر آتا ، سرد رویے اس کا استقبال کرتے ۔ باپ سے اس کا تعلق صرف پیسوں کی حد تک تھا ، اور رہی ماں تو وہ اس کے کھانے پینے ، کپڑے جوتوں کا خاص خیال رکھتی ، اگر باتیں کرتی تو اس میں آدھی سے زیادہ شوہر کی شکایتیں ہوتیں وہ چپ چاپ سنتا رہتا ، اس کا دل چاہتا کہ کوئی اسے بھی سنے اس کی باتوں کا جواب گرمجوشی سے دے ۔ اس نے ماں کو بتایا تھا کہ اس نے کلاس میں ٹاپ کیاہے ، مگر ماں نے اسے یوں سرسری لیا کہ جیسے کوئی معمولی بات ہو ، وہ اپنی تمام حسرتیں دل میں دبائے واپس چلا جاتا ۔ یونہی ماہ وسال گزر رہے تھے کہ ایک دن جب وہ یونیورسٹی سے گھر آیا تو بابا کے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے وہ ٹھٹھک کر رک گیا ، آبنوسی الماری کے پٹ کھلے ہوئے تھے ، پہلے تو وہ اسے اپنی نظر کا دھوکا سمجھا ، پھر قریب جا کر دیکھا تو واقعی الماری کھلی ہوئی تھی ، اور کمرا بالکل خالی تھا ، مگر کمرے میں بوسیدہ پھولوں کی مہک چہار سو پھیلی ہوئی تھی ، وہ سحرزدہ سا الماری کی جانب بڑھنے لگا ، قریب پہنچا تو اس نے دیکھا الماری بالکل خالی ہے ، مگر الماری کے باہر نیچے زمین پر بہت سے کاغذ بکھرے ہوئے تھے ۔ ایک پھٹی ہوئی سیاہ ڈائری میں گلاب کی خشک پتیاں اپنے ہونے کا پتا دیتے ہوئے ، اسے بہت کچھ باور کروا رہیں تھیں ، وہ نیچے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا ۔ سیاہ ڈائری ، چند خطوط ، سوکھے گلاب اور ایک نسوانی تصویر کے ٹکڑے اس کی آنکھوں میں مرچیں بھر گئے ۔ " محبت ہی نے محبت کے ماروں کو اک عمر محبت سے محروم رکھا " اس نے محبت نامے ہاتھ میں لئے ہوئے زخمی لہجے میں خود کلامی کی اور اس کا دل چاہا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے ۔ وہ یونہی سکتے کے عالم میں اپنے سامنے بکھری ہوئی چیزوں کو دیکھے جا رہا تھا کہ اسے کسی کے کھلکھلا کر بلند ہوتے قہقہوں نے چونکا دیا ۔ ۔ ۔ وہ اٹھا اور اس نے قہقہوں کی آواز کی سمت قدم بڑھا دیے ، ٹی وی لاؤنج میں پہنچ کر وہ ساکت رہ گیا ۔ سامنے کا منظر اس کے سر پہ حیرت کا پہاڑ توڑنے کے لئے کافی تھا ۔ ۔ ۔ چائے سے محظوظ ہوتے ہوئے گفتگو میں مصروف دو خوش باش نفوس اس کے ماں باپ تھے ۔ اسے اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا ، اسے لگا وہ کسی خواب کے زیرِ اثر ہے ۔ " تمام عمر سراب کے پیچھے دوڑتے بیت گئی ، میں نے اب جانا کہ اس کے لئے میں محض پڑاؤ تھا ، جسے میں نادانی میں منزل سمجھ بیٹھا تھا ، جبکہ میری منزل تو تم تھیں اور تم ہی ہو "  صدیقی صاحب اہلیہ سے مخاطب تھے ۔ ارحم پہ نظر پڑی تو نادم سے ہو کر خاموش ہو گئے ۔ " ارحم تم کب آئے ؟" ماں کی آواز پہ وہ چونکا ۔ " آؤ بیٹا ، تم بھی ہمارے ساتھ چائے پیو ! " صدیقی صاحب نے کہا تو  اسے لگا کہ کوئی اجنبی اس سے مخاطب ہے وہ متحیر سا خاموش رہا ۔۔۔ " ارحم بیٹا " اس کی ماں نے اٹھ کر اس کے قریب آنا چاہا تو اس نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے قریب آنے سے روک دیا ۔۔۔ " نئی زندگی مبارک ہو " وہ شکستہ دلی سے مسکرایا اور پھر بنا کچھ کہے سنے گھر کی دہلیز ہمیشہ کے لئے چھوڑ گیا ۔۔۔

⭐⭐⭐⭐⭐

گھر چھوڑا تو شہر بھی چھوڑ دیا ، چھوٹی موٹی نوکری کر کے وہ تعلیم کا خرچہ اور فلیٹ کا کرایہ ادا کرتا رہا ۔ اس نے خوب محنت کی اور ایک دن ڈگری کی صورت میں اس کی محنت رنگ لے آئی اور اس کی خوش قسمتی کہ اسے فورََا ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں بہت اچھے عہدے پر نوکری مل گئی ۔ وہیں آفس میں اس کی ملاقات بھوری آنکھوں گھنگریالے بالوں اور گالوں میں پڑنے والے بھنور لیے من موہنی سی عنایہ سے ہوئی ، عنایہ کے والدین انتقال کر چکے تھے اور اب وہ اپنے بھائی و بھاوج کے ساتھ رہائش پزیر تھی ، اور شوقیہ نوکری کر رہی تھی ۔ عنایہ نے ارحم کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا ، جسے اس نے جھجھکتے ہوئے تھام لیا ، ارحم کم گو اور سنجیدہ شخصیت کا مالک تھا ، جبکہ عنایہ ایک پراعتماد اور باتونی لڑکی تھی ۔ دونوں کی شخصیت میں تضاد ہونے کے باوجود ان کے درمیان گہری دوستی ہو گئی تھی ، عنایہ نے ارحم کو اپنے بھائی و بھاوج سے بھی ملوایا تھا ۔ اور وہ دونوں ارحم سے مل کر بہت خوش ہوئے تھے ، اور یہ جان کر افسردہ ہوئے کہ وہ تنہا رہتا ہے ۔ لیکن اب جب سے اس کی دوست عنایہ اس کی زندگی میں آئی تھی ، اسے یوں لگتا تھا کہ جیسے اس کی تمام محرومیوں اور تنہائیوں کا ازالہ ہو گیا ہو ۔ عنایہ کی باتیں تنہائی میں بھی اس کے لبوں پہ مسکان بکھیر دیتی تھیں ۔ وہ اب خوش رہنے لگا تھا ۔ اور اس خوشی کی وجہ صرف دوستی نہیں تھی ، دوستی سے بڑھ کر کچھ تھا اور وہ تھی ، محبت ۔۔۔ لیکن وہ اظہار سے ڈرتا تھا ، کہ انکار کی صورت میں کہیں وہ اپنی دوست کو ہی نہ کھو دے ۔ جبکہ عنایہ کے بھی ارحم کے لئے یہی جذبات تھے ، لیکن وہ اظہار سے ڈرتی نہیں تھی ، اسے اپنی محبت پر پورا بھروسہ تھا ۔ بس وہ چاہتی تھی کہ چاہت کے اظہار میں پہل ارحم کرے ۔ لیکن اب وہ ارحم کی خاموشی سے تھکنے لگی تھی ، اور تھک تو وہ اپنی نوکری سے بھی گئی تھی ۔ تب ہی اس نے استعفٰی دینے کا سوچا ، کیوں کہ نوکری اس کی مجبوری نہیں ، شوق تھا ۔ جو کہ اب پورا ہو چکا تھا ۔ وہ ریزائن دینے آئی تو جہاں پورا سٹاف اداس تھا ، وہیں ارحم کے دل کی حالت بھی عجیب تھی ، اسے لگا کوئی متاعِ جاں اس سے دور جا رہی ہو ۔ اس کے لب خاموش تھے مگر اس کی آنکھیں ، اس کے دل کا حال بخوبی سنا رہی تھیں ۔
" جا رہی ہو؟ " وہ فقط اتنا ہی کہہ پایا تھا ۔
" ہاں " وہ بھی مختصرََا بولی ۔
" کیوں ؟ " کہنا تو چاہتا تھا کہ ' مت جاؤ ' مگر کہہ نہیں پایا ۔
" کیوں کہ میری شادی ہو رہی ہے " وہ مسکرا کر بولی تو جیسے اس کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹ گیا ۔
" کس کے ساتھ؟ " اسے اپنی آواز کسی گہری سرنگ سے آتی سنائی دی ۔
" ارحم صدیقی کے ساتھ "
وہ پراعتماد لہجے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اطمینان سے بولی تو اس پہ شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہو گئی ۔
" کھاؤ قسم " وہ بے ساختہ بے یقینی کے عالم میں اس کا ہاتھ تھام کر بولا تو وہ ہنستی چلی گئی ۔
" ہاں تمہاری قسم ، اگر تمہیں منظور ہے تو ۔۔۔ "
" مجھے منظور ہے "
اور یوں ایک شام وہ دونوں ایک ہو گئے ۔ عنایہ نے اس کی بے رنگ زندگی میں اپنی چاہت کے رنگ بھرے تو زندگی مسکرانے لگی ۔ آج ارحم کے پاس سب کچھ تھا گھر ، گاڑی ، اچھی بیوی اور ایک پیارے سے بیٹے سے بھی اللہ نے اسے نواز دیا تھا ، سب کچھ ہونے کے باوجود دل میں کوئی کسک سی تھی جسے عنایہ نے بھانپ لیا تھا ۔ اور آج کل وہ جو کر رہی تھی اس کی خوشی کے لئے ہی کر رہی تھی ۔ وہ چاہتی تھی کہ ارحم اور اس کے ماں باپ کے درمیان انا و نفرت کی جو دیوار حائل ہے ، وہ گرا دے ، مگر ارحم سمجھنے کو تیار نہیں تھا ۔ چھے سالہ اذدواجی زندگی میں کبھی ان کی لڑائی نہیں ہوئی تھی ، مگر اب اس موضوع کو لے کر ان میں آئے روز تلخ کلامی ہونے لگی تھی ، عنایہ اس کے والدین سے رابطے میں تھی ، اور اس نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ارحم ایک دن ان کے پاس لوٹ کر ضرور آئے گا ۔۔۔

⭐⭐⭐⭐⭐

" حرام زندگی جنم دینا جرم ہے تو جائز زندگی حرام کر دینا جرم کیوں نہیں ہے ؟ "
دہکتی ہوئی سوالیہ نگاہوں سے چھلکتے ہوئے کرب سے اس کا دل کٹ کر رہ گیا ۔
" جرم ہے تو ان کو اس جرم کی سزا مل چکی ارحم "
عنایہ نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے کہا ۔
" ہونہہ ۔۔۔ ان کو کوئی سزا نہیں ملی ، وہ خوش و خرم ہیں "
ارحم نے اس کا ہاتھ بے دردی سے جھٹکتے ہوئے کہا ۔
" اور اب تو میں ان کو چشمِ تصور سے بھی خوش باش نہیں دیکھنا چاہتا ، عنایہ جب تم ان کا زکر کرتی ہو تو میرا خون کھول اٹھتا ہے "
شدید نفرت اور غصے سے اس کا وجود سلگ اٹھا تھا ۔
" ارحم ان کی خوشیوں کا محور تم ہو ، صرف اور صرف تم ہو "
وہ ملتجیانہ لہجے میں بولی ۔
" ہاہاہا ۔۔۔ اچھا مذاق ہے "
وہ مضحکہ خیز انداز میں ہنسا ۔
" ارحم تمہارے بابا بہت بیمار ہیں "
عنایہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ ارحم کو کیسے قائل کرے ، کہ سب کچھ بھلا کر وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز کر لے ۔
" میں ان کے علاج کے لئے چیک لکھ دیتا ہوں ، تم ان تک پہنچا دینا "
وہ سپاٹ لہجے میں بولا تو عنایہ متحیر رہ گئی اسے ارحم سے اتنی سنگدلی کی امید نہیں تھی ۔
" ارحم انہیں پیسوں کی نہیں تمہاری ضرورت ہے "
اب کی بار عنایہ بھی غصے سے بولی ۔
" مجھے بھی ان کی ضرورت تھی عنایہ "
ارحم نے طیش میں آتے ہوئے سامنے میز پہ مکا رسید کرتے ہوئے کہا ۔
" ہاں عنایہ مجھے بھی ماں کی محبت کی ، بابا کی شفقت کی ضرورت تھی ، مگر ان دونوں کے اختلافات نے مجھ سے میرا بچپن چھین کر ان گنت محرومیاں میرے دامن میں ڈال دیں ، آخر میرا کیا قصور تھا ؟ "
غم و غصے کی زیادتی کی وجہ سے الفاظ اس کے منہ سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے ۔
اس سے پہلے کہ عنایہ کچھ کہتی ، فون کی گھنٹی نے ان کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔۔۔ عنایہ نے گھڑی پہ نظر دوڑائی اور کہا۔
" ماں کا فون ہوگا ۔۔۔ میں دیکھتی ہوں "
عنایہ اٹھی تو ارحم نے اس کی کلائی تھام لی ۔
" رکو "
عنایہ نے مڑ کر اسے دیکھا تو اسے اس کے تیور خطرناک لگے ۔
" میں آج اس قصے کو یہیں ختم کرتا ہوں "
ارحم شدید طیش کے عالم میں فون کی جانب بڑھا ۔
" نہیں ارحم ، آپ ماں سے کچھ نہیں کہیں گے "
عنایہ اس کے پیچھے بھاگی ۔
"آج کے بعد اس گھر میں تمہارے منہ سے میں ان کا زکر نہ سنوں سمجھیں "
ارحم آپے سے باہر ہو رہا تھا ۔
فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی ۔
" پلیز ارحم ، وہ ماں ہیں "
عنایہ نے روہانسا ہو کر کہا اور ارحم سے پہلے ہی فون کے ریسیور پہ ہاتھ رکھ دیا ۔
" ہٹ جاؤ عنایہ "
ارحم کے لہجے میں ایک غضب ناک دھاڑ تھی ۔
" نہیں "
عنایہ نے کہا تو ارحم نے ایک جھٹکے سے فون اس کے ہاتھ سے چھینا تو وہ دور جا گری ۔
" ہیلو "
ایک نحیف سی جانی پہچانی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی ، تو ایک لمحے کے لئے وہ بھول گیا کہ اسے کیا کہنا ہے ، مگر اگلے ہی لمحے وہ سنبھل گیا ۔
" کون ہیں آپ؟ " وہ تلخ لہجے میں بولا ۔
" ماں ہوں تمہاری " آواز میں لرزش تھی ۔
" نہیں ہیں آپ میری ماں "
وہ گرج رہا تھا اور عنایہ تاسف اور بے بسی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
" آج کے بعد اگر میرے گھر میں آپ کی کال آئی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا "
ارحم نے شدید طیش کے عالم میں گلدان اٹھا کر دیوار میں دے مارا ، جو ایک زور دار چھناکے کی آواز کے ساتھ ٹوٹ کر بکھر گیا ۔
تب اچانک ہی کوئی چیز تیزی کے ساتھ ارحم کے قدموں سے آ کر ٹکرائی ۔
" ارحم بیٹا میری بات تو سنو "
وہ ملتجی لہجے میں بولیں ۔
ارحم کچھ بول نہ پایا اس کی نگاہیں نیچے کی طرف تھیں ، اور وہ اپنے قدموں سے ٹکرانے والے فٹ بال پر جمی تھیں ۔ 
" ہمیں معاف کر دو "
وہ روہانسا ہو کر بولیں ۔
ارحم نے نیچے جھک کر فٹ بال اٹھا لیا ۔
" پلیز واپس آ جاؤ "
جہاں سے فٹ بال آیا تھا ، ارحم نے اس جانب دیکھا ، تو بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا ۔
" میں آ رہا ہوں ماں "
اور پھر ارحم نے آگے بڑھ کر تھرتھر کانپتے ، سہمے ہوئے اپنے ننھے جگر پارے کو اپنی بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔
⭐⭐⭐⭐⭐





مصنف کے بارے میں


...

ریمل آرزو

- | Okara


افسانہ نگار




Comments