ہمدوش



سطحی نظر سے تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ مرکزی شفا خانے کے اُن لوگوں کو جن کی نگرانی میں بہت سے نا اُمید و پُر اُمید مریض رہتے ہیں، مساوات پر بہت یقین ہے۔ وہ ہر چھوٹے بڑے کو بلا امتیاز مذہب و ملت ،تیس تیس گرہ کے کھُلے پائنچوں کا پاجامہ اور کھلے کھلے بازوؤں والی قمیص پہنا دیتے ہیں، جن سے ایک خاص قسم کی سوندھی سوندھی نامانوس سی بُو آتی ہے۔ قمیص گھٹنے سے بھی چھ گرہ اُونچی ہوتی ہے۔ بعض وقت اتنی اُونچی کہ ازار بند بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔ مرکزی شفا خانے اور مرکزی زندان خانے کے مکینوں کی پوشش میں فرق ہی کیا ہے؟ یہی نا کہ شفا خانے کے مکینوں کی پوشش قدرے مٹیالی رنگت کی مگر اُجلی ہوتی ہے، لیکن زندان خانے میں بسنے والے بدنصیبوں کو شاید ہی کبھی دھوبی کا منھ دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔

شفا خانے میں ان تیس تیس گرہ کے کھلے پائنچوں اور ڈھیلی ڈھالی قمیصوں میں ڈھکے ہوئے بدن بھی ایک ہی ساخت کے ہوتے ہیں۔ جسمانی لحاظ سے کوئی قدرے فربہ یا کوئی بہت لاغر ہو تو ہو، لیکن منھ پر ایک ہی سی زردی چھائی ہوتی ہے۔ ایک ہی خوف یا اندیشہ ہوتا ہے، جو ہر ایک کے دل میں اضطراب پیدا کرتا ہے۔

’’کیا ہم موت کے اس غار سے زندہ سلامت گزر جائیں گے؟‘‘

— اور یہی سوچ ان غریبوں پر راتوں کی نیند حرام کر دیتی ہے۔

سورج ڈوبنے کو ہے۔ شفا خانے کے احاطے کی مرمت طلب دیوار پر ممولے کی مادہ اپنے انڈوں کے خول بنانے کے لیے چُونا کریدنے آتی ہے اور اسی وقت انہی تیس تیس گرہ کے کھلے پائنچوں اور ڈھیلی ڈھالی قمیصوں میں بے رنگ و روپ چہروں والے لوگ حکمِ امتناعی کے باوجود شفا خانے کے احاطے کی مرمت طلب دیوار پر تندرستی کا نظارہ کرنے آتے ہیں اور گھنٹوں حسرت کے عالم میں اُس متحرک زندگی کا تماشا کرتے ہیں۔

شفا خانے کے سامنے ایک بساطی کی دُکان پر چند نوجوان لڑکیوں کا جمگھٹا ہے۔ اُن کی رنگارنگ ساڑھیوں کے پلّے بے باکانہ طور پر سر سے اُڑ رہے ہیں۔ کوئی ’ہمانی‘ کی خریدار ہے اور کوئی ’زینت‘ کی اور کوئی ’کوٹی‘ کی — دُکان کے اوپر ،چھت پر پروفیسر کی بیوی چِق کے پیچھے اپنے لبوں پر سے لپ سٹک کی اڑی ہوئی سرخی کو درست کرتی ہوئی دھندلی دھندلی سی دکھائی دیتی ہے۔

میرا ساتھی عظیم الدین کھیڑا مغلی — کھیڑا مغل کا رہنے والا ہے۔ مغلی پروفیسر کی حسین بیوی کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے اپنے کاربنکل، بلکہ وجود تک کے احساس سے بے نیاز ہو کر کہتا ہے۔

’’کیا اس کے لبوں پر سے سرخی اُڑ گئی تھی؟‘‘

’’دیکھتے نہیں — ابھی پروفیسر کے کمرے سے باہر آ رہی ہے — اور — ‘‘

’’ہش ش — ہش‘‘— اور ہمارا دوسرا ساتھی اشچرج لال پھر ہمیں فنا کے عالم میں لے آتا ہے۔

سڑک پر ایک سبز اوپل کار پورے زور سے ہارن بجاتی ہوئی گزرتی ہے۔ اُس میں بیٹھے ہوئے دو بوڑھوں کی نگاہیں تانگہ میں جاتی ہوئی دلہن کی سُرخ چوڑیوں میں پیوست ہیں اور دلہن کی نگاہیں سڑک کے کنارے پر پڑے ہوئے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر جم رہی ہیں۔

چند ایک اوباش چھوکرے اپنے مخصوص بے پروایانہ انداز سے ’ٹپے‘ گاتے ہوئے سینما کی طرف لپکے جا رہے ہیں اور اُن سے کچھ ہٹ کر سنبھل سنبھل کر چلتے ہوئے ایک سادھو مہاتما ہیں، جن کا ایک ایک قدم شانتی کے تجسس میں اُٹھتا ہے۔ وہ شانتی اور سکون جو کہیں نہیں ملتا— شفاخانے کے پھاٹک پر دو خوانچہ والے گتھم گتھا ہو رہے ہیں۔ وہ دونوں بیک ساعت دروازے کے عین بغل میں اپنا خوانچہ رکھنا چاہتے ہیں — کمزور نے پیچھے ہٹ کر تنومند کو ایک پتھّر مارا ہے—

’’ارے او بے صبر و قناعت لوگو! صحت کی اس تھوڑی سی خوشی سے جو تمھیں عاریتاً دی گئی ہے، کیوں مستفیض نہیں ہوتے؟ ارے دیکھتے نہیں، ہم تمھارے بھائی کتنے حرماں نصیب ہیں؟‘‘

’’ہاں بھائی! — یہ سب تندرستی کی باتیں ہیں۔‘‘ اشچرج لال کہتا ہے۔

’’شاید ہم بھی تندرست ہو کر ایسا ہی کریں۔‘‘

پھر کھیڑا مغلی اُس قبرستان کی طرف، جو شفا خانے کے قریب واقع ہے، دیکھ کر چونک اُٹھتا ہے اور کہتا ہے—

’’کل ہمارے ہی کمرے میں — ساتویں چارپائی — اف ! میرا سر گھوم رہا ہے۔ مجھے یوں دکھائی دیتا ہے، جیسے وہ قبرستان ہماری طرف آ رہا ہے — ‘‘

’’ہش —ش ش — ‘‘ میں اُسے خاموش ہو جانے کے لیے کہتا ہوں۔’’ ایسی بات نہ کہو بھائی۔‘‘

لیکن یہ مغلی کے بس کی بات نہیں۔ وہ زور سے چھینکتا ہے۔ کاربنکل کے ساتھ اُسے انفلوئنزا نے بھی آ دبایا ہے۔ اس کے بالکل زرد، بے رونق چہرے پر سُرخ نوکدار رقیق لعاب سے بھری ہوئی ناک، ایک عجیب کریہہ منظر پیدا کر رہی ہے۔

لیکن پھر بھی ہمیں تندرستی کی دلچسپ حماقتیں محو کر ہی لیتی ہیں، حتیٰ کہ پھر مغلی ایک خوفناک انداز سے چھینکتا ہے اور بہت سے آبی، لعابی ذرّات دھوپ کی کرنوں میں اڑنے لگتے ہیں۔ چھینکنے سے مغلی کی ریڑھ کی ہڈی پر زور پڑتا ہے اور وہ درد کے ایک شدید احساس سے کاربنکل پر ہاتھ رکھ لیتا ہے۔ جوں جوں درد کم ہوتا ہے، اُس کی مڑی ہوئی آنکھیں اور ہمارے رُکے ہوئے سانس آہستہ آہستہ واپس آتے ہیں۔ کچھ دم لینے کے بعد مغلی کہتا ہے۔

’’بھائی — کیا ہم اِن چوڑے والیوں، ان خوانچہ والوں — مزدوروں کے ہمدوش چل سکیں گے؟‘‘

’’تم جی میلا نہ کرو مغلی۔ میں — میرا خیال ہے کہ تم بالکل تندرست ہو جاؤ گے۔ اشچرج لال پہلے ہی رو بصحت ہے، لیکن میں ان لوگوں کے شانہ بشانہ کبھی نہیں چل سکوں گا، دیکھتے نہیں میری ٹانگ کو ؟ بالکل گل ہی تو گئی ہے — کاش! میں اُس گداگر کے دوش بدوش چل سکوں مغلی— مجھے اِس بات کی پروا نہیں۔ چاہے اس کی طرح میری بھی ایک ٹانگ کاٹ لی جائے— میں فقط یہ چاہتا ہوں کہ صحت کی حالت میں اس احاطہ کی دیوار کو پھاند سکوں— ۔‘‘

— اور یوں اُن تندرست انسانوں کے ہمدوش چلنے کی ایک زبردست خواہش کو پالتے ہوئے ہم اپنے اپنے کمروں کا رُخ کرتے ہیں اور ممولے کی مادہ، جو کہ مٹی کے ایک ڈھیر پر بیٹھی ہمارے چلے جانے کا بڑی ہی بے صبری سے انتظار کر رہی تھی، پھر اُسی مرمت طلب دیوار پر اپنے انڈوں کے خول بنانے کے لیے چُونا کریدنے آتی ہے۔

۔۔

جب پرندہ پرواز کے لیے پَر تولتا ہے اور پنجے کا پچھلا حصہ زمین پر سے اُٹھا کر نشست و پرواز کی درمیانی حالت میں ہوتا ہے، اسے ’صورتِ ناہض‘ کہتے ہیں۔ بیمار کے لیے صورتِ ناہض بیٹھنا معیوب اور بد شگونی کی علامت گِنا جاتا ہے۔ ہاں! جو اس دنیا میں سے ایڑیاں اٹھا کر فضائے عدم میں پرواز کرنا چاہے، وہ بیمار بلا خوف صورتِ ناہض بیٹھے۔

کھیڑا مغلی اسی طرح بیٹھا تھا۔ میں نے اُسے یوں بیٹھنے سے منع کیا اور ہمیں دروازہ سے ’’گرٹی‘‘ آتے دکھائی دی۔

گرٹی ہماری نرس تھی۔ اس کا پورا نام مس گرٹروڈبینسن(Miss Gertrude Benson) تھا، مگر ہم میں سے چند ایک دیرینہ مریض اُس سے اتنے مانوس ہو گئے تھے کہ اُسے اُس کے عیسائی نام سے بُلانے سے ذرہ بھر بھی تامل نہیں کرتے تھے اور یہ چھوٹی سی رعایت گرٹی نے خود دے رکھی تھی۔ وہ مجھ پر عموماً اور کھیڑا مغلی پر خصوصاً مہربان تھی۔ مغلی کی اُجڈ، گنوارُو حرکتیں گرٹی کے لیے باعث تفریح تھیں۔ سُرخ کمبل کو ایک طرف سرکاتے ہوئے وہ اکثر مغلی کے پاس بیٹھ جاتی اور اُس کے جہلمی تراش کے بالوں میں اپنی خوبصورت اُنگلیاں پھیرا کرتی۔

جتنا وہ مغلی کو پیار کرتی، اُتنا ہی اُسے وہم ہو جاتا کہ وہ سلامتی سے بعید ہے۔ وہ کہتا ۔

’’وہ محض میری دلجوئی کے لیے مجھ سے پیار کرتی ہے — مریض کو ہر ممکن طریقے سے خوش رکھنا، ان کے پیشے کی خصوصیت ہے اور پھر گرٹی میں جذبۂ رحم بھی تو بہت ہے۔ وہ جانتی ہے کہ میرے دن بہت قریب ہیں اور پھر اس چہرے پر یہ رُوکھا پھیکا تبسّم بھی رقص نہ کرے گا۔‘‘

’’گرٹی! — گرٹی — ‘‘ ہم دونو نے پکارا۔

شفا خانے میں چند ایک مریض ایسے بھی تھے، جنھیں کھانا گھر سے منگوا لینے کی اجازت تھی۔ ہم ان خوش نصیبوں میں سے نہیں تھے۔ ہمیں شفا خانے کی طرف سے بیماروں کی خاص خوراک ملتی تھی — وہ خوش نصیب جب کھانا کھا کر چینی کے برتن دور رکھ دیتے اور ان میں سالن کی زردی اور روغن کی چکناہٹ دکھائی دیتی ، تو ہمارا دل ہمیں بغاوت کے لیے اُکساتا۔

گرٹی کے ہاتھ سے ہم نے کھانا چھینا۔ وہی روز مرّہ کا کھانا۔ اگر بھوک نہ ہوتی، تو اس کے کھانے سے ہمیں رتی بھر بھی رغبت نہیں رہتی تھی۔ بہت سے دودھ میں تھوڑا سا ساگودانہ تیرتا ہوا یوں دکھائی دیتا، جیسے برسات کے پانی میں مینڈک کے سینکڑوں انڈے چھوٹے چھوٹے سیاہ داغوں کی صورت میں ایک جھلّی میں لپٹے ہوئے تیرتے نظر آتے ہیں۔

ہم نے قحط زدہ لوگوں کے مخصوص انداز سے ایک ہی رکابی میں کھانا شروع کر دیا اور گرٹی کے کہے کی مطلق پروا نہ کی۔ مریضوں کی تیمار داری کے لیے آئے ہوئے لوگ ہمیں گھُورنے لگے۔

’’ایک سِکھ اور مسلمان — ساتھ ساتھ نہیں، ایک ہی رکابی میں!‘‘

— وہ کیا جانیں کہ شفا خانے کے احاطے کی چاردیواری سے باہر سب کچھ ہے، مگر یہاں کوئی ہندو ہے نہ مسلمان، سِکھ نہ عیسائی، گوڑ برہمن اور نہ اچھوت — یہاں ایک ہی مذہب کے آدمی ہیں، جنھیں بیمار کہتے ہیں اور جن کی نجات شفا ہے۔ جس کے حصول کے لیے وہ اپنی تمام خواہشات اور رہی سہی قوت صرف کر ڈالتے ہیں۔

اس دن شام کو ہم نے پھر تندرست انسانوں کی دلچسپ حماقتوں کا تماشا کیا۔ وہی ہنگامے، وہی بے صبری —سامنے ایک ڈبل فلائی راؤٹی خیمہ کے نیچے چند ایک آدمی دعوت اُڑا رہے تھے۔ ایک کونے میں چند بوتلیں کھلی پڑی تھیں۔ کبھی کبھی سوڈے کی ’بَز‘ کی آواز آتی— وہ لوگ ہنستے تھے، چلاّتے تھے۔ کیلے اور سنگتروں کے چھلکے ایک دوسرے پر پھینک کر نشانہ بازی کی مشق کرتے تھے اور اس دعوت کی تمام رونق قبرستان کے بے رونق پس منظر کی وجہ سے زیادہ با رونق دکھائی دے رہی تھی۔ بے شک! زندگی کی بہت سی خوشیاں موت کے پس منظر کی رہینِ منّت ہیں جس طرح اخترِ شب کی درخشندگی رات کی سیاہی اور آسمان کے نیلے پن کی۔

کھیڑا مغلی نے یک بیک صورت ناہض سے اُٹھ کر ایک کانپتا ہوا پُر جوش ہاتھ میرے شانہ پر رکھا اور مشکوک انداز سے بولا۔

’’بھائی — کیا ہم ان لوگوں کے ہمدوش بھی ہو سکیں گے؟‘‘

میں کچھ دیر مبہوت کھڑا آسمان پر اڑتی ہوئی چنڈولوں کو دیکھتا رہا۔ پھر میں نے مغلی سے لپٹتے ہوئے کہا۔ ’’ہاں — مغلی، کیوں نہیں؟ لیکن تم اس طرح بیٹھا مت کرو۔‘‘

پھر کچھ رُک رُک کر میں نے کہا۔

’’کل میری ٹانگ کا اپریشن ہے — گرٹی نے مجھے بتایا تھا۔ شاید آج یہ میری اور تمھاری آخری ملاقات ہو۔ تم ان لوگوں کے دوش بدوش چل سکو گے — اشچرج بھی شفا پا جائے گا— لیکن میں —۔

اور ہم دونو چپ نمناک آنکھوں میں سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔

پھر کھیڑا مغلی نے ایک خوفناک چھینک لی۔

دوسرے دن میری ٹانگ کاٹ لی گئی۔

پانچویں دن میری آنکھ کھلی۔ میں ہل جُل نہیں سکتا تھا۔ میں نے دیکھا۔ کھیڑا مغلی میری پائینتی پر بیٹھا زیرِ لب کچھ ورد کر رہا تھا۔ میری آنکھیں کھلتے ہوئے دیکھ کر وہ مسکرانے لگا۔ میں نے اپنے بدن میں کچھ طاقت محسوس کرتے ہوئے اُس سے لپٹنے کے لیے کانپتے ہوئے ہاتھ پھیلا دیے۔ میں اپنی ٹانگ کے دکھ جانے سے بلبلا اُٹھا اور مغلی اپنے کاربنکل پر زور پڑنے سے!

۔۔۔

مغلی کا کاربنکل اچھا ہو رہا تھا۔ اسی دوران میں مَیں شفا پاکر ہسپتال سے چلا گیا۔ میری غیر حاضری میں میری رفیقِ زندگی فوت ہو چکی تھی۔ اب ایک شیشم کی، سخت سی دوہری لاٹھی میری رفیقِ زندگی بن گئی تھی۔ پہلی اور اس رفیقِ زندگی میں فرق صرف اتنا تھا کہ وہ مجھے اپنی باتونی طبیعت سے نالاں رکھتی اور یہ اپنی خاموشی سے نالاں تر۔

اُسی لاٹھی کو بغل میں دبائے میں آہستہ آہستہ کام پر چلا جاتا۔ مجھے اپنی ٹانگ کے کاٹے جانے کا چنداں افسوس نہ تھا۔ میں اس بات پر خوش تھا کہ تندرست تو ہو گیا اور اپنی خواہش کے مطابق شفا خانے کے احاطے کی دیوار سے باہر۔

ایک دفعہ میں شفا خانے کے پاس سے گزرا تو میری روح تک لرز گئی۔ اس وقت میرے ساتھی اور بعد میں آئے ہوئے مریض حسرت بھری نگاہوں سے ہماری دلچسپ حماقتیں دیکھنے میں محو تھے — اور احاطے کی مرمت طلب دیوار پر تین ممولے اپنی تین کاٹ کی دموں کو تھرتھرا رہے تھے۔ میرے خیال میں بڑا ممولا چھوٹے ممولوں کی ماں تھی جو ہماری بیماری کے ایّام میں اُسی دیوار پر اپنے انڈوں کے خول بنانے کے لیے چُونا کریدنے آیا کرتی تھی۔

اُس وقت میرے سوا اُن مریضوں کی تکلیف کو کون جان سکتا تھا۔ میں نے ان لوگو ں کی مصیبت پر چند ایک آنسو بہائے … مجھے سامنے بساطی کی دُکان پر چند نوجوان لڑکیوں کا جمگھٹا دکھائی دیا۔ اُن کی ساڑھیوں کے پلّے اُسی طرح بے باکانہ طور پر اڑ رہے تھے— اور چھت پر، چق کے پیچھے پروفیسر کی بیوی اپنی ساڑھی کی سِلوٹوں کو درست کر تی ہوئی دھندلی سی دکھائی دے رہی تھی۔ میں ایک مبہم سے احساس کے ساتھ بساطی کی دُکان کی طرف بڑھا اور وہاں سے کچھ رنگ دار ریشمی فیتے، لاٹھی کو سجانے کے لیے خریدا اور کچھ غیر مطمئن، کھویا کھویا اور لڑکھڑاتا ہوا واپس لوٹا۔

ایک دن میں شفا خانے کے اندر گیا، تو میں نے دیکھا، مغلی کا کاربنکل بہت حد تک ٹھیک ہو چکا تھا۔ ہاں اشچرج کی حالت نازک اور ناقابلِ بیان تھی — اس کے بعد مجھے اپنے ایک افسر کے ساتھ چند ہفتوں کے لیے باہر جانا پڑا۔

میرے دل میں کئی بار خیال آیا۔ کھیڑا مغلی مجھے کتنا کوستا ہو گا ۔ وہ تو پہلے ہی کہا کرتا تھا کہ انسان خود سکھی ہو کر اپنے گزشتہ دُکھ اور دوسروں کی تکالیف کو عمداً بھول جایا کرتا ہے۔ ہر چند یہ بات درست تھی، مگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے مجھ پر عائد نہ ہوتی تھی۔

واپس آنے پر فرصت کے ایک دن میں شفا خانے گیا۔

گرٹی نے ایک روکھی پھیکی مسکراہٹ سے میرا استقبال کیا۔ میں ڈر سے سہم گیا ۔ اُس نے مجھے بتایا کہ اشچرج لال دو دن ہوئے مکمل شفا پا کر اجمیر جلا گیا ہے۔ مگر گرٹی نے کھیڑا مغلی کی بابت کچھ نہ کہا۔

میں احتیاط سے قدم اٹھا تا ہوا جنرل وارڈ کی طرف گیا۔ برآمدے کے نیچے شفا خانے کے ملازم چند ایک عورتوں اور بچوں کو بلند آواز سے رونے سے منع کر رہے تھے۔ اُن عورتوں میں سے ایک کھیڑا مغلی کی ضعیف العمر اور نیم مردہ ماں تھی، جو اپنے بیٹے کی دائمی مفارقت کے غم میں فلک شگاف چیخیں ما ر رہی تھی۔ — پھر اُس کی بیوی — بچے —

برآمدے کے ایک طرف مغلی موت کی میٹھی نیند سو رہا تھا۔ اُسے یوں دیکھ کر میری بغل میں سے لاٹھی گر پڑی — میں رو بھی نہ سکا۔

لوگوں نے چپکے سے مغلی کی میّت کو اُٹھایا۔ اُسے کندھوں کے برابر کیا اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے لے چلے!






مصنف کے بارے میں


...

راجندر سنگھ بیدی

1915 - 1984 |


راجندر سنگھ بیدی اردو کے مصنف، ڈراما نویس اور فلمی ہدایت کار تھے۔ وہ 1915ء کو سیالکوٹ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ اُنہوں نے ہہت سی مشہور بھارتی فلموں کی مکالمہ نگاری کی جیسے ابھیمان، انوپما اور بمل رائے کی مدھومتی شامل ہے۔ اُنہوں نے اپنی ابتدائی زندگی لاہور میں گزاری اور یہاں سے اردو میں تعلیم حاصل کی۔ اُن کی پہلی مختصر کہانی مہارانی کا تحفہ کو سال کی بہترین مختصر کہانی کا انعام لاہور کے ایک ادبی جریدے ادبی دنیا کی طرف سے ملا تھا۔ اُن کی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ دان و دام 1940ء میں منظرِ عام پر آیا اور دوسرا مجموعہ گرہن 1943ء میں شائع ہوا۔ اُن کا مشہور اردو ناول ایک چادر میلی سی کا انگریزی میں I Take This Women کے نام سے ترجمہ کیا گیا اور اس پر انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوراڈ سے بھی 1965ء میں نوازا گیا۔ اُس کا بعد میں ہندی، کشمیری اور بنگالی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔




Comments