کفن



جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں، ایک بجھے ہوئے الاو کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا درد زہ سے پچھاڑیں کھا رہی تھی اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ایسی دلخراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے ۔ جاڑوں کی رات تھی ، فضا سناٹے میں غرق ۔ سارا گاوں تاریکی میں جذب ہو گیا تھا ۔گھسو نے کہا "معلوم ہوتا ہے بچے گی نہیں ۔ سارا دن تڑپتے ہو گیا ، جا دیکھ تو آ۔"مادھو دردناک لہجے میں بولا "مرنا ہی ہے تو جلد مر کیوں نہیں جاتی ۔ دیکھ کر کیا آوں""تو بڑا بیدرد ہے بے ! سال بھر جس کے ساتن جندگانی کا سکھ بھوگا اسی کے ساتھ اتنی بے وپھائی ۔""تو مجھ سے تو اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاوں پٹکنا نہیں دیکھا جاتا ۔"چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاوں میں بدنام۔ گھسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام ، مادھو اتنا کام چور کہ گھنٹے بھر کام کرتا تو گھنٹے بھر چلم پیتا ۔۔ اس لیے اسے کوئی رکھتا ہی نہیں تھا ۔۔ گھر میں مٹھی بھر اناج بھی موجود ہوتے تو ان کے لیے کام کرنے کی قسم تھی ۔۔ جب وہ ایک فاقے ہو جاتے تو گھسو درختوں پر چڑھ کر لکڑی توڑ لاتا اور مادھو بازار سے بیچ لاتا ، اور جب تک وہ پیسے رہتے ، دونوں ادھر ادھر مارے مارے پھرتے جب فاقے کی نوبت آجاتی تو پھر لکڑیاں توڑ تے یا کوئی مزدوری تلاش کرتے ۔۔ گاوں میں کام کی کمی نہ تھی ۔۔ کاشتکاروں کا گاوں تھا ۔۔ محنتی آدمی کے لیے پچاس کام تھے مگر ان دونوں کو لوگ اسی وقت بلاتے جب دوآدمیوں سے ایک کا کام پا کر بھی قناعت کر لینے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا ۔۔ کاش دونوں سادھو ہوتے تو انہیں قناعت اور توکل کے لیے ضبط نفس کی مطلق ضرورت نہ ہوتی ۔ یہ ان کی خلقی صفت تھی ۔۔ عجیب زندگی تھی ان کی ۔۔ گھر میں مٹی کے دو چار برتنوں کے سوا کوئی اثاثہ نہیں ۔ پھٹے چیٹھڑوں سے اپنی عریانی کو ڈھانکے ہوئے دنیا کی فکروں سے آزاد۔ قرض سے لدے ہوئے گالیاں بھی کھاتے مار بھی کھاتے مگر کوئی غم نہیں ۔ مسکین اتنے کہ وصولی کی مطلق امید نہ ہونے پر لوگ انہیں کچھ نہ کچھ قرض دے دیتے تھے ۔ مٹر یا آلو کی فصل میں کھیتوں سے مٹر یا آلو اکھاڑ لاتے اور بھون بھون کر کھاتے ۔۔ یا دن پانچ ایکھ توڑ لاتے اور رات کو چوستے ۔۔ گھسو نے اسی زاہدانہ انداز میں ساٹھ سال کی عمر کاٹ دی اور مادھو بھی ایک سعادت مند بیٹے کی طرح باپ کے نقش قدم پر چل رہا تھا بلکہ اس کا نام اور بھی روشن کر رہا تھا ۔۔ اس وقت بھی دونوں الاو کے سامنے بیٹھے ہوئے آلو بھون رہے تھے جو کسی کے کھیت سے کھود کر لائے تھے ۔۔ گھسو کی بیوی کا تو مدت ہوئی انتقال ہو گیا تھا ، مادھو کی شادی پچھلے سال ہوئی تھی جب سے یہ عورت آئی تھی اس نے اس خاندان میں تمدن کی بنیاد ڈالی تھی ۔۔ پسائی کر کے گھاس چھیل کر وہ سیر بھر آتے کا انتظام کر لیتی تھی ۔ اور ان دونوں بے غیرتوں کا دوزخ بھرتی رہتی تھی ۔۔ جب سے وہ آئی یہ دونوں اور بھی آرام طلب اور آلسی ہو گئے تھے بلکہ کچھ اکڑنے بھی لگے تھے کوئی کام کرنے کو کہتا تو بے نیازی کی شان میں دوگنی مزدوری مانگتے ۔۔ وہی عورت آج صبح سے درد زہ میں مر رہی تھی اور یہ دونوں شاید اسی انتظار میں تھے کہ وہ مرجائے تو آرام سے سوئیں ۔۔گھسو نے آلو نکال کر چھیلتے ہوئے کہا"جا دیکھ تو کیا حالت ہے "اس چڑیل کا پھنساو ہو گا اور کیا ، یہاں تو اوجھا بھی ایک روپیہ مانگتا ہے کس کے گھر سے آئے "مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ کوٹھری میں گیا تو گھسو آلووں کا بڑا حصہ صاف کر دے گا ، بولا"مجھے وہاں ڈر لگتا ہے""ڈر کس بات کا ہے ؟ میں تو یہاں ہوں ہی ""تو تمہی جا کر دیکھو نا ""میری عورت جب مری تھی تو میں تین دن تک اس کے پاس سے ہلا بھی نہیں ، اور پھر مجھ سے لجائے گی کہ نہیں ، کبھی اس کا منہ نہیں دیکھا آج اس کا اگھرا ہوا بدن دیکھوں ۔۔ اسے تن کی سدھ بھی تو نہ ہو گی ۔۔ مجھے دیکھ لے گی تو کھل کر ہاتھ پاوں بھی نہ پٹک سکے گی ""میں سوچتا ہوں کوئی بال بچہ ہو گیا تو کیا ہو گا ۔ سونٹھ ،گڑ ،تیل ، کچھ بھی تو نہیں ہے گھر میں ""سب کچھ آجائے گا ۔ بھگوان بچہ دیں تو ، جو لوگ ابھی ایک پیسہ نہیں دے رہے ہیں وہی تب پلا کر دیں گے میرے تو لڑکے ہوئے تو گھر میں کچھ بھی نہ تھا ، مگر اس رح ہر بار کام چل گیا "جس سماج میں رات دن محنت کرنیوالوں کی حالت ان کی حالت سے کچھ بہت اچھی نہ تھی اور کسانوں کے مقابلے میں وہ لوگ جو کسانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا جانتے تھے کہیں زیادہ فارغ البال تھے وہاں اس قسم کی ذہنیت کا پیدا ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں تھی ۔۔ ہم تو کہیں گے گھسو کسانوں کے مقابلے میں زیادہ باریک بین تھا اور کسانوں کی تہی دماغ جمعیت میں شامل ہونے کے بدلے شاطروں کی فتنہ پرداز جماعت میں شامل ہو گیا تھا ۔۔ ہاں اس میں یہ صلاحیت نہ تھی کہ شاطروں کے آئین و ادب کی پابندی بھی کرتا ۔ اس لیے یہ جہاں اس کی جماعت اور لوگ گاوں کے سرغنہ او رمکھیا بنے ہوئے تھے اس پر سارا گاوں انگشت نمائی کر رہا تھا پھر بھی اسے یہ تسکین تو تھی ہی کہ اگر وہ خستہ حال ہے تو کم سے کم اسے کسانوں کی سی جگر توڑ محنت تو نہیں کرنی پڑتی اور اس کی سادگی اور بے زبانی سے دوسرے بیجا فائدہ تو نہیں اٹھاتے ۔۔دونوں آلو نکال کر جلتے جلتے کھانے لگے ۔ کل سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا اتنا صبر نہ تھا کہ انہیں ٹھنڈا ہو جانے دیں کئی بار دونوں کی زبانیں جل گئیں ۔۔ چھل جانے پر آلو کا بیرونی حصہ تو زیادہ گرم نہ معلوم ہوتا تھا لیکن دانتوں کے تلے پڑتے ہی اندر کا حصہ زبان اور حلق اور تالو کو جلا دیتا تھا اور اس انگارے کو منہ میں رکھنے سے زیادہ خیریت اسی میں تھی کہ وہ اندر پہنچ جائے وہاں اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے کافی سامان تھے اس لیے دونوں جل جلد نگل جاتے تھے حالانکہ اس کوشش میں ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے ۔۔گھسو کو اس وقت ٹھاکر کی بارات یاد آئی جس میں بیس سال پہلے وہ گیا تھا اس دعوت میں اسے جو سیری نصیب ہو ئی تھی وہ اس کی زندگی کا ایک یادگار واقعہ تھی اور آ ج بھی اس کی یاد تازہ تھی وہ بولا " وہ بھوج نہیں بھولتا تب سے پھر اس طرح کا کھانا اور بھر پیٹ نہیں ملا لڑکی والوں نے سب کو پوڑیاں کھلائی تھیں، سب کو چھوٹے بڑے سب نے پوڑیاں کھائیں اور اصلی گھی کی چٹنی ، رائتہ ، تین طرح کے سوکھے ساگ ، ایک رسے دار ترکاری ، دہی ، چٹنی، مٹھائی اب کیا بتاوں کہ اس بھوج میں کتنا سواد ملا ۔۔ کوئی روک نہیں تھی جو چیز چاہو مانگو اور جتنا چاہو کھاو لوگوں نے ایسا کھا یا ایسا کھایا کہ کسی سے پانی نہ پیا گیا ، مگر پروسنے والے ہیں کہ سامنے گرم گول گول مہکتی ہوئی کچوریاں ڈال دیتے ہیں ۔۔ منع کرتے ہیں نہیں چاہیے مگر وہ ہیں دیے جاتے ہیں اور جب سب نے منہ دھو لیا تو ایک ایک بڑا پان بھی ملا مگر مجھے پان لینے کی کہاں سدھ تھی ۔ کھڑا نہ ہوا جاتا تھا ۔۔ جھٹ پٹ جا کر اپنے کمبل پر لیٹ گیا ۔ ایسا دریا دل تھا وہ ٹھاکر ۔۔مادھو نے ان تکلفات کا مزا لیتے ہوئے کہا "اب ہمیں کوئی ایسی بھوج کھلاتا "اب کوئی کیا کھلائے گا؟ وہ جہانا دوسرا تھا اب تو سب کو کھبایت سوجھتی ہے سادی بیان میں مت کھرچ کرو ، کریا کرم میں مت کھرچ کرو پوچھو گریبوں کا مال بٹور بٹور کہاں رکھو گے مگر بٹورنے میں کمی تو نہیں ہے ۔۔ ہاں کھرچ میں کبھایت سوجھتی ہے "تم نے ایک بیس پوڑیاں کھائی ہوں گی 

 

"بیس سے جیادہ کھائی تھیں ""میں پچاس کھا جاتا ""پچاس سے کم میں نے بھی نہ کھائی ہوں گی ، اچھا پٹھا تھا تو اس کا آدھا بھی نہیں ہے " آلو کھا کر دونوں نے پانی پیا اور وہیں الاو کے سامنے اپنی دھوتیاں اوڑھ کر پاوں پیٹ میں ڈال کر سو رہے۔ جیسے وہ بڑے بڑے اژدھا کنڈلیاں مارے پڑے ہوئے ہوں اور بدھیا ابھی تک کراہ رہی تھی ۔صبح کو مادھو نے کوٹھڑی میں جا کر دیکھا تو اس کی بیوی ٹھنڈی ہو گئی تھی ۔۔ اس پر مکھیاں بھنک رہی تھیں ۔۔ پتھرائی ہوئی آنکھیں او پر ٹنگی ہوئی تھیں ۔۔ سارا جسم خاک میں لت پت ہو رہا تھا ۔۔ اس کے پیٹ میں بچہ مر گیا تھا۔۔مادھو بھاگا ہوا گھسو کے پاس آیا اور پھر دونوں زور سے ہائے ہائے کرنے اور چھاتی پیٹنے لگے ۔۔ پڑوس والوں نے یہ آواز سنی تو دوڑتے ہوئے آئے اور رسم قدیم کے مطابق غمزدوں کی تشفی کرنے لگے ۔۔مگر زیادہ رونے دھونے کا موقع نہ تا کفن کی اور لکڑی کی فکر کرنی تھی ۔۔ گھر میں تو پیسہ اس طرح غائب تھا جیسے چیل کے گھونسلے میں بانس ۔۔ باپ بیٹے روتے ہوئے گاوں کے زمیندار کے پاس گئے وہ ان دونوں کی صورتوں سے نفرت کرتے تھے کئی بار انہیں اپنے ہاتھوں پیٹ چکے تھے چوری کی علت ، میں وعدے پر کام نہ کرنے کی علت میں ،پوچھا "کیا ہے گھسو ! یہ روتا کیوں ہے ۔ اب تو تیری صورت ہی نظر نہیں آتی ۔۔ اب معلوم ہوتا ہے تم اس گاوں میں نہیں رہنا چاہتے "گھسو نے زمین پر سر رکھ کر آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہا ۔۔"سرکار بڑی بپت میں ہوں ۔ مادھو کی گھر والی رات گجر گئی ۔۔ دن بھر تڑپتی رہی سرکار ۔۔ آدھی رات تک ہم دونوں اس کے سرہانے بیٹھے رہے ۔۔ دوا دارو جوکچھ ہو سکا سب کیا مگر وہ ہمیں دگا دے گئی ۔۔ اب کوئی ایک روٹی دینے والا نہیں رہا مالک ہم تباہ ہو گئے گھر اجڑ گیا آپ کا گلام ہوں اب آپ کے سوا اس کی مٹی کون پار لگائے گا ۔۔ ہمارے ہاتھ میں جو کچھ تھا ، وہ سب دوادارو میں اٹھ گیا ۔ سرکار ہی کی دیا ہو گی تو اس کی مٹی اٹھے گی آپ کے سوا اور کس کے دوار پر جاوں ۔۔ زمیندار صاحب رحمدل آدمی تھے مگر گھسو پر رحم کرنا کالے کمبل پر رنگ چڑھانا تھا جی میں تو آیا کہہ دیں چل دور ہو یہاں سے لاش گھر میں کرھ کر سڑا یوں تو بلانے سے بھی نہیں آتا آج جب غرض پڑی تو آ کر خوشامد کر رہا ہے ۔۔ حرم خور کہیں کا بدمعاش مگر یہ غصہ یا انتقام کا موقع نہیں تھا طوعا و کرہا دوروپے نکال کر پھینک دیے مگر تشفی کا ایک کلمہ بھی منہ سے نہ نکالا اس کی طرف تاکا تک نہیں گویا سر کا بوجھ اتارا ہو ۔۔جب زمیندار نے دو روپے دیے تو گاوں کے بنیوں مہاجنوں کو انکار کی جرات کیونکر ہوتی گھسو زمیندار کے نام ڈھنڈورا پیٹنا جانتا تھا کسی نے دو آنے دیے کسی نے چار نے ۔۔ ایک گھنٹے میں گھسو کے پاس پانچ روپیہ کی معقول رقم جمع ہو گئی کسی نے غلہ دے دیا کسی نے لکڑی اور دوپہر کو گھسو اور مادھو بازار سے کفن لانے چلے اور لوگ بانس وانس کاٹنے لگے ۔۔گاوں کی رقیق القلب عورتیں آ آ کر لاش کو دیکھتی تھیں اور اس کی بے بسی پر دو بوند آنسو گرا کر چلی جاتی تھیں ۔۔بازار میں پہنچ کر گھسو بولا ۔۔ "لکڑی تو اسے جلانے بھر کی مل گئی ہے کیوں مادھو ۔۔مادھو بولا ہاں لکڑی تو بہت ہے اب کفن چاہیے "تو کوئی ہلکا سا کفن لے لیں "ہاں اور کیا لاش اٹھتے اٹھتے رات ہو جائے گی رات کو کفن کون دیکھتا ہے کیسا برا رواج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانکنے کو چیتھڑا نہ ملے ، اسے مرنے پر نیا کفن چاہیے "اور کیا رکھا رہتا ہے یہی پانچ روپے پہلے ملتے تو کچھ دوا دارو کرتے "دونوں ایک دوسرے کے دل کا ماجرا معنوی طور پر سمجھ رہے تھے بازار میں ادھر ادھر گھومتے رہے یہاں تک کہ شام ہو گئی دونوں اتفاق سے یا عمدا ایک شرابخانے کے سامنے آ پہنچے اور گویا کسی طے شدہ فیصلے کے مطابق اندر چلے گئے وہاں ذرا دیر تذبذب کی حالت میں کھڑے رہے پھر گھسو نے ایک بوتل شراب لی کچھ کڑک لی اور دونوں برآمدے میں بیٹھ کر پینے لگے ۔۔کئی کچناں پیہم پینے کے بعد دونوں سرور میں آگئے ۔۔گھسو بولا"کفن لگانے کیا ملتا ۔ آکھر جل ہی تو جانا ہے کچھ بہو کے ساتھ تو نہ جاتا "مادھو آسمان کی طرف دیکھ کر بولا گویا فرشتوں کو اپنی معصومیت کا یقین دلا رہا ہو "دنیا کا دستور ہے یہی لوگ باسنوں کو ہجاروں روپے کیوں دیتے ہیں کون دیکھتا ہے پرلوک میں ملتا ہے یا نہیں ""بڑے آدمیوں کے پاس دھن ہے پھونکیں ، ہمارے پاس پھونکنے کو کیا ہے "لیکن لوگوں کو کیا جواب دو گے ؟ لوگ پوچھیں گے کہ کفن کہاں ہے ؟گھسو ہنسا ۔ کہہ دیں گے کہ روپے کمر سے کھسک گئے بہت ڈھونڈا ۔ ملے نہیں مادھو بھی ہنسا اس غیر متوقع خوش نصیبی پر قدرت کو اس طرح شکست دینے پر بولا "بڑی اچھی تھی بیچاری مری بھی تو خوب کھلا پلا کر "آدھی بوتل سے زیادہ ختم ہو گئی گھسو نے دو سیر پوریاں منگوائیں ، گوشت اور سالن اور چٹ پٹی کلچیاں اور تلی ہوئی مچھلیاں ۔ شراب خانے کے سامنے دوکان تھا ، مادھو لپک کر دو پتلوں میں ساری چیزیں لے آیا پورے ڈیڑھ روپے خرچ ہو گئے صرف تھوڑے سے پیسے بچ رہے "دونوں اس وقت اس شان سے بیٹھے ہوئے پوریاں کھا رہے تھے جیسے جنگل میں کوئی شیر اپنا شکار اڑا رہا ہو نہ جواب دہی کا خوف تھا نہ بدنامی کی فکر ضعف کے ان مراحل کو انہوں نے بہت پہلے طے کر لیا تھا گھسو فلسفیانہ انداز سے بولا "ہماری آتما پرسن ہو رہی ہے تو کیا اسے پن نہ ہو گا "مادھو نے فرق صورت جھکا کر تصدیق کی "جرور سے جرور ہو گا ۔ بھگوان تم انتر جامی ﴿علیم﴾ ہو اسے بیکنٹھ لے جانا ہم دونوں ہردے سے دعا دے رہے ہیں آج جو بھوجن ملا وہ کبھی عمر بھر نہ ملا تھا "ایک لمحہ کے بعد مادھو کے دل میں ایک تشویش پیدا ہوئی بولا کیوں دادا ہم لوگ بھی تو وہاں ایک نہ ایک دن جائیں گے ہی "گھسو نے اس طلفلانہ سوال کا کوئی جواب نہ دیا مادھو کی طرف پر ملامت انداز سے دیکھا ۔جو وہاں ہم لوگوں سے پوچھے گی کہ تم نے ہمیں کفن کیوں نہ دیا، تو کیا کہیں گے ؟کہیں گے تمہارا سر پوچھے گی ترجرور تو کیسے جانتا ہے اسے کفن نہ ملے گا ؟ مجھے اب گدھا سمجھتا ہے میں ساٹھ سال دنیا میں کیا گھاس کھودتا رہا ہوں ۔۔ اس کو کفن ملے گا اور اس سے بہت اچھا ملے گا جو ہم دیں گے "مادھو کو یقین نہ آیا بولا کون دے گا ؟ روپے تو تم نے چٹ کر دیئے "گھسو تیز ہو گیا میں کہتا ہو اسے کفن ملے گا تو مانتا کیوں نہیں ؟کون دے گا ، بتاتے کیوں نہیں ؟وہی لوگ دیں گے جنہوں نے اب کی دیا ۔ ہاں وہ روپے ہمار ہاتھ نہ آئیں گے اور اگر کسی طرح آجائیں تو پھر ہم اس طرح بیٹھے پئیں گے اور کفن تیسری بار لے گا ۔۔جوں جوں اندھیرا بڑھتا تھا اور ستاروں کی چمک تیز ہوتی تھی میخانے کی رونق بھی بڑھتی جاتی تھی کوئی گاتا تھا کوئی بہکتا تھا کوئی اپنے رفیق کے گلے لپٹا جاتا تھا کوئی اپنے دوست کے منہ سے ساغر لگائے دیتا تھا وہاں کی فضا میں سرور تھا ، ہوا میں نشہ کتنے تو چلو میں ہی الو ہو جاتے تھے یہاں اتے تھے تو صرف خود فراموشی کا مزا لینے کے لیے شراب سے یادہ یہاں کی ہوا سے مسرور ہوتے تھے ۔۔ زیست کی بلا یہاں کھینچ لاتی تھی اور کچھ دیر کے لیے وہ بھول جاتے تھے کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ یا زندہ درگور ہیں ۔۔اور یہ دونوں باپ بیٹے اب بھی مزے لے لے کر چسکیاں لے رہے تھے سب کی نگاہیں ان کی طرف جمی ہوئی تھیں کتنے خوش نصیب ہیں دونوں پوری بوتل بیچ میں ہے کھانے سے فارغ ہو کر مادھو نے بچی ہوئی پوریوں کا تیل اٹھا کر ایک بھکاری کو دے دیا ، جو کھڑا ان کی طرف گرسنہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور "پینے" کے غرور اور مسرت اور ولولہ کا اپنی زندگی میں پہلی بار احساس کیا ۔ گھسو نے کہا"لے جا کھوب کھا اور آشیرباد دے "جس کی کمائی تھی وہ تو مر گئی مگر تیرا اشیر باد اسے جرور پہنچ جائے گا روئیں روئیں سے اشیر باد دے بڑی گاڑھی کمائی کے پیسے ہیں "مادھو نے پھر آسمان کی طرف دیکھ کر کہا وہ بیکنٹھ میں جائے گی ۔۔ دادا بیکنٹھ کی رانی بنے گی "گھسو کھڑا ہو گیا اور جیسے مسرت کی لہروں میں تیرتا ہوا بولا "ہاں بیٹا بیکنٹھ میں نہ جائے گی تو کیا یہ موٹے موٹے لوگ جائیں گے ، جو گریبوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں اور اپنے پاپ کے دھونے کے لیے گنگا میں جاتے ہیں اور مندروں میں جل چڑھاتے ہیں ۔"یہ خوش اعتقادی کا رنگ بھی بدلا نشہ کی خاصیت سے یاس اور غم کا دورہ ہوا مادھو بولا " مگر دادا بیچاری نے جندگی میں بڑا دکھ بوگا ۔ مری بھی کتنا دکھ جھیل کر "وہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگا ۔گھسو نے سمجھایا کیوں روتا ہے بیٹا ! کھس ہو کہ وہ مایا جال سے مکت ہو گئی جنجال سے چھوٹ گئی بڑی بھاگوان تھی جو اتنی جلدی مایا کے بندھن توڑ دیئے اور دونوں وہیں کھڑے ہو کر گانے لگے ٹھگنی کیوں نیناں جھمکا دے ٹھگنی سارا میخانہ محو تماشہ تھا اور یہ دونوں مے کش مخمور محویت کے عالم میں گائے جاتے تھے پھر دونوں ناچنے لگے اچھلے بھی ، کودے بھی ، گرے بھی بھاو بھی بتائے اور آخر نشے سے بدمست ہو کر وہیں گر پڑے ۔۔






مصنف کے بارے میں


...

منشی پریم چند

31 July 1880 - 8 October 1936 |


نام دھنپت رائے لیکن ادبی دنیا میں پریم چند مشہور ہیں 1885ء میں منشی عجائب لال کے ہاں موضع پانڈے پور ضلع بنارس میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک ڈاک خانے میں کلرک تھے۔ پریم چند ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے تقریباً سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہوگئی ۔ایک سال بعد والد کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پرہی پڑ گیا۔ فکر معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو بطور ٹیوٹر پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازم ہوگئے۔ اسی دوران میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ پریم چند کو ابتدا سے ہی کہانیاں پڑھنے اور سننے کا شوق تھا اور یہی شوق چھوٹے چھوٹے افسانے لکھنے کا باعث بنا۔ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز 1901ء سے ہوا۔ جب آپ نے رسالہ (زمانہ) کانپور میں مضامین لکھنے شروع کیے۔ اول اول مختصر افسانے لکھے اور پھر ناول لیکن مختصرافسانہ نویسی کی طرح ناول نگاری میں بھی ان کے قلم نے چار چاند لگا دئیے۔ انہوں نے ناول اور افسانے کے علاوہ چند ایک ڈرامے بھی یادگار چھوڑے ہیں۔ پریم چند مہاتما گاندھی کی تحریک سے متاثر ہوئے اور ملازمت سے استعفا دے دیاتھا۔ وہ دل و جان سے ملک کی آزادی کے یے لڑنا چاہتے تھے ۔ لیکن اپنی مجبوریوں کی بنا پر کسی تحریک میں عملی حصہ نہ لے سکے۔ پریم چند کو اردو ہندی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ 1936ء میں بنارس میں ان کا انتقال ہوا۔




Comments