چاہ در چاہ



وہ دونوں سیاحت کی خاطر اسلام آباد سے بیجنگ جا رہے تھے۔

          رات کا وقت تھا۔اس کا ساتھی علی اور تقریباً سبھی مسافر سو رہے تھے صرف وہ اکیلا جاگ رہا تھا۔

          وہ پوری دنیا گھوم چکا تھا مگر اسے ہوائی سفر میں، خواہ و ہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہوتا نیند نہیں آتی تھی۔اس کی وجہ محض ہوائی جہاز کے سفر کا خوف نہیں تھا بلکہ وہ اسے زمینی سواریوں،بسوں ویگنوں اورفلائنگ کوچز کے مقابلے میں،جو ڈرائیوروں کی حماقت،ضد یا لالچ کی وجہ سے آئے روز حادثات کا شکار ہوتی رہتی ہیں،محفوظ ترین ذریعۂ سفر سمجھتا تھا مگر اس کے باوجود اسے نیند نہیں آتی تھی اور زمین پر دوڑنے والی خطرناک سواریوں میں سفر کرتے ہوئے اسے گچھوں کے گچھے اور ٹوکرے بھر بھر کے نیند آتی۔جیسے ننھے بچوں کو  پنگوڑے میں۔ ادھر بس، ویگن یا ریل گاڑی روانہ ہوتی ادھر اسے نیند آ دبوچتی۔ طالب علمی کے زمانے میں وہ موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران میں اتوار کو اکثر سینما دیکھنے گاؤں سے شہر چلا جاتا اور آتے جاتے،کتاب یا رسالہ پڑھتے پڑھتے لاری میں سو جاتا اور بعض اوقات اس کے گاؤں کا سٹاپ پیچھے رہ جاتا اور اسے کسی دوسری بس یا ٹانگے سے واپس آنا پڑتا۔

          اب یہ تو کوئی ماہر نفسیات ہی بتا سکتا ہے کہ بچوں کو پنگوڑے اور جھولے میں ڈال کر جھونک دیتے ہیں تو وہ کیوں جلدی سو جاتے ہیں اور بڑوں کو بھاگتی اور شور مچاتی سواریوں میں اتنی نیند کیوں آتی ہے۔ ریل گاڑی میں تو اسے بہت ہی نیند آتی۔جونہی وہ شاہدرہ یا چکلالہ سے نکلتی اس کی آنکھیں بند۔یہ فراٹے بھرنے لگتی اور وہ خراٹے۔گھر میں ذرا سی آہٹ یا کھٹکے سے آنکھ کھل جاتی مگر ریل گاڑی کی مسلسل کھٹ کھٹ اور ہچکولے اسے تھپکیاں دے دے کر سلاتے۔انجن کی کرخت سی کوک اور گارڈ کی تیز وسل اسے میٹھی لوری معلوم ہوتیں۔چندا کے ہنڈولے میں،اڑن کھٹولے میں۔ مگر یہ عجیب سا خمار ہوتا کہ وہ سوتا بھی رہتا اور اسے راستے کے سٹیشنوں اور سٹاپوں کا بھی پتہ چلتا رہتا اور ہاکروں،خوانچے والوں اور بھکاریوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہتیں جن کے الفاظ کثرتِ استعمال سے پوری طرح سمجھ میں نہ آتے۔ اور یہ اندازہ بھی ہوتا رہتا کہ کب انجن نے گاڑی کو جھنجوڑا اور کوک مار ی۔بلکہ نیند اور ریل گاڑی میں ایک ایسا تعلق سا پیدا ہو گیا تھا کہ جب کبھی گھر میں بھی نیند کا وقت گزر جاتا یا ستانے والے کسی خیال کی وجہ سے نیند اچٹ جاتی تو وہ آنکھیں بند کر کے فرض کر لیتا کہ آرام دہ بستر پر نہیں ریل گاڑی کے سخت پھٹے پر لیٹا ہوا ہے اور اس کی یہ ترکیب اکثر کارگر ثابت ہوتی اور وہ خراٹے لینے لگتا۔

          آدھی سے زیادہ رات بیت چکی تھی اور ہر پل سکڑتی جا رہی تھی کیونکہ وہ اجالے کی سمت سفر کر رہے تھے۔بڑے جہاز کی ٹی وی سکرین پر ایک چھوٹا جہاز ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں پر پرواز کرتا لمحہ بہ لمحہ سحر کے قریب تر ہو تا جا رہا تھا مگر ابھی گھپ اندھیرا تھا۔برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑی سلسلوں کے درمیان کہیں کہیں کوئی اکا دکا چراغ ٹمٹماتا نظر آتا تو وہ  انسانی جدوجہد اور جستجو کے بارے میں سوچنے لگتا کہ دشوار گزار پہاڑوں،بے پایاں سمندروں اور لق و دق صحراؤں میں انسانی قدم کہاں کہاں نہیں پہنچے۔ پھر اسے اولین دور کے انسانوں کا خیال آنے لگا وہ اس تاریک، ویران اور خطرات سے پر زمین پر کیسے زندگی بسر کرتے ہوں گے اور اس کے جد امجد کی کیا شکل و صورت اور حلیہ ہو گا؟

           پھر پو پھٹی اور پھٹتی ہی چلی گئی۔اسے یوں لگا جیسے لٹھے کے کائناتی سائز کے تھان کو دونوں کناروں سے پکڑ کر درمیان سے کاٹا جا رہا ہو۔اس نے زندگی میں کئی بار رات کو صبح، آمریت کو جمہوریت اور ظلمت کو روشنی میں تبدیل ہوتے دیکھا تھا۔لیکن اتنی خوبصورت،اجلی اور طویل صبح طلوع ہوتے ہوئے شائد ہی پہلے کبھی دیکھی ہو۔اسے لگا جیسے اب تک وہ اجالے کا استقبال کرتا آیا تھا مگر آج اجالا اس کا انتظار کر رہا تھا۔

          نہایت عجیب اور دلکش منظر تھا۔زمین پر وادیوں میں ابھی رات تھی مگر پہاڑی چوٹیوں پر برف مسکرا رہی تھی اور اوپر آسمان روشن تھا۔جہاز کے پر اب صاف نظر آنے لگے تھے اور فضا میں جگہ جگہ دھنکی ہوئی روئی کے مانند بادلوں کی بستیاں دکھائی دینے لگی تھیں جو لمحہ بہ لمحہ زیادہ اجلی اور سفید ہوتی جا رہی تھیں۔وہ  ان بستیوں کے نام سوچنے لگا۔ پینگ

 پور ہ،خمار کوٹ،نیند نگر، خواب گڑھ، سپنوں کا گاؤں،نور آباد وغیرہ۔

          پھر ان نقرئی بادل بستیوں کے گرد سونے کی فصیلیں تعمیر ہونے لگیں۔ اسے کہیں آسمانوں سے گیتا رائے کی آواز سنائی دی۔دھرتی سے دور گورے بادلوں کے پار آ جا۔ آ جا  بسا لیں نیا سنسار آ جا۔گیت ختم ہوتا تو وہ ذہن کے ریکارڈ پلیئر پر اسے پھر نئے سرے سے لگا دیتا۔یوں ہی کئی ہزار میلوں تک وہ متواتر ایک ہی گیت بار بار سنتا رہا۔

          پھر اس نے اپنی یاد داشتوں کا وہ فولڈر کھولا، جس کی ایک فائل میں اس نے اپنے حصے کی موعودہ حوروں کو زمینی قصے سنانے کے لئے اپنے نوٹس محفوظ کئے ہوئے تھے۔ اس کا خیال تھا وہ لاکھوں برس تک عرش کے مقدس ماحول میں رہتے اور پارسائی کی بے رنگ زندگی گزارتے گزارتے اکتا گئی ہوں گی اور زمینی قصے انہیں بہت دلچسپ اور اچھوتے معلوم ہوں گے۔اس فولڈر میں کئی مناظر بند تھے۔

          پہلا منظر۔گرمیوں کی ایک دوپہر کا،جب وہ بائیسکل پر سکول سے لوٹ رہا تھا اور وہ خربوزوں کے کھیت کی رکھوالی کرتے اپنے باپ کو دوپہر کی روٹی دینے جا رہی تھی کہ وہ دونوں ایک بگولے کی لپیٹ میں آ کر ٹکرا گئے تھے۔بہتے ہوئے کھال میں گر کر ان کے کپڑے گیلے ہو گئے۔ وہ باہر کے بگولے سے تو بچ نکلا تھا مگر اس کے بدن کے چھوٹے چھوٹے بگولوں سے،جو بھیگنے سے نمایاں تر ہو گئے تھے نہ بچ سکا اور ہمیشہ کے لئے اس کی نیلگوں آنکھوں میں ڈوب گیا۔ اور اگرچہ کتابیں بھیگ گئیں،کھانا خراب ہو گیا اور کپڑے مٹی سے لت پت ہو گئے تھے مگر وہ اس کے منہ پر لگی کیچڑ دیکھ کر بے اختیار ہنسے جا رہی تھی۔

          دوسرا منظر۔کچے آموں کی رت تھی۔اس روز آندھی کے ساتھ بارش آئی اور رات بھر باد و باراں کا سلسلہ جاری رہا۔بارش اور آندھی سے گر جانے والی کیریاں چننے اور لے جانے پر کوئی پابندی نہ تھی۔اس کا گھر گاؤں کے دوسرے سرے پر اور عام گزرگاہ سے ہٹ کر تھا اس لئے وہاں جانے کا کوئی موقع یا بہانہ نہیں ملتا تھا۔وہ جانتا تھا اسے کیریاں پسند ہیں اور وہ علی الصبح آموں والے باغ میں ضرور جائے گی۔ وہ منہ اندھیرے اٹھ کر پہنچا تو وہ دوسری کئی لڑکیوں کے ساتھ سچ مچ وہاں موجود تھی۔جلدی جاگ جانے کی وجہ سے اس کے چہرے پر نیند کا عجیب سا خمار تھا۔ٹھنڈی اور تیز ہوا چل رہی تھی اور اس کے سوکھے سیاہ بال اڑ رہے تھے۔جنہیں وہ بار بار پیشانی سے جھٹکتی سمیٹتی مگر وہ بار بار اس کے چہرے کو ڈھانپ لیتے۔

          تیسرا منظر۔اس کے پڑوس میں اس کی ایک سہیلی کا بیاہ تھا۔وہ رات کو وہاں آ جاتی اور دیر تک سہیلیوں کے ساتھ شادی کے گیت گاتی رہتی۔وہ بھی بے قراری سے عقبی گلی میں رات رات بھر ٹہلتا اور اس کی آواز سنتا رہتا۔ اس کی آواز بہت اچھی تھی اور اسے گیت بھی بہت یاد تھے۔ خود بھی گھڑ لیتی تھی۔ماہیے کے بول گھڑنے میں تو اسے بہت ہی مہارت تھی۔ایک رات وہ کسی بہانے چھت پر آئی اور منڈیر  پر بیٹھ کر دیر تک باتیں کرتی رہی۔پھر پتہ نہیں اس کے جی میں کیا آئی کہ اس نے دس بارہ فٹ اونچی چھت سے گلی میں چھلانگ لگا دی اور اگرچہ وہ اس کے بعد کئی روز تک لنگڑا کر چلتی رہی تھی اور اسے اس کے اس والہانہ پن سے خوف بھی آیا تھا مگر وہ منظر اس کی یادداشت کا حصہ بن گیا تھا۔

          آہستہ آہستہ بادلوں کے گرد کارِ زرگری تمام ہو گیا۔نیچے وادیاں،بستیاں اور درختوں کے جھنڈ نظر آنے لگے۔دوری اور بلندی کی وجہ سے ہمالیہ کے ابلتے چشمے تو دکھائی نہیں دے رہے تھے لیکن کہیں کہیں کسی پہاڑی یا میدانی گھر سے اٹھنے والے دھوئیں سے معلوم ہو رہا تھا چینی جاگ اٹھے ہیں۔پہاڑی ڈھلوانوں پر سبزے کے قالین بچھے تھے اور کالے بادل امڈے ہوئے تھے۔اگرچہ اتنی دور سے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا مگر وہ تصور تو کر سکتا تھا،ہرے بھرے جنگلوں میں بلند اور گھنے،طرح طرح کے پھلوں سے لدے اشجار کا،جن کے درمیان توتوں،میناؤں اور کوئلوں کی چہکاریں گونج رہی ہوں گی۔فضا میں تتلیاں بھٹکتی اور چڑیاں اڑتی پھرتی ہوں گی۔ابابیلوں کی ڈاریں ایک دم تیزی سے نیچے کو جاتی پھر اسی تیزی سے واپس پلٹتی ہوں گی اور نسیمِ  سحری کے چلنے سے درختوں کے پتے اور ٹہنیاں آہستہ آہستہ جھولے جھولتی ہوں گی مگر ذہن کی فلاپی میں حوروں کے لئے یہ منظر محفوظ کرتے ہوئے اسے تامل ہوا کہ کہیں وہ نیک بخت یہ نہ کہہ دیں۔لاکھوں برس سے عرش پر بیکار بیٹھی یہی زمینی مناظر دیکھ کر تو وقت گزارتی رہی ہیں۔

          سورج ابھی کہیں بحر الکاہل کے جزیروں پر گلاب اور لالے کے پھول برسا رہا تھا لیکن اس سے ہمالیہ کی ترائیاں روشن اور معطر ہونے لگی تھیں۔مگر دور تک کوئی آدم زاد نظر نہ آتا تھا۔ اس نے گھبرا کر اپنے آس پاس دیکھا۔علی سمیت سب لوگ سو رہے تھے۔کیا پتہ بعض اس کی طرح چپکے چپکے جاگ رہے ہوں۔پھر اجالا اور بڑھا۔سورج نے بحر الکاہل کے پانیوں سے سر نکالا اور نیند نگر،نور آباد اور سپنوں کا گاؤں سبھی بادل بستیاں روشن ہو گئیں۔سورج کا سونا ہر طرف پھیل گیا اور روشنی کھڑکی سے اندر گھس آئی۔

          ’’تم ابھی تک جاگ رہے ہو‘‘؟ علی کی آنکھ کھل گئی

          ’’ہاں ‘‘

          ’’اچھا کیا کسی کو جہاز کی نگرانی بھی تو کرنا تھی ‘‘

          ’’تم تو خوب سوئے ‘‘

          ’’کتنا اچھا خواب تھا‘‘ علی بولا

          ’’کیا دیکھا؟‘‘

          ’’اپنے مرحوم والدین کو‘‘ وہ بولا ’’پہلی بار خواب میں آئے ‘‘

          ’’کس حال میں تھے ؟‘‘

          ’’خوش تھے اور جوان‘‘

          ’’یقیناً جنت میں ہوں گے ‘‘

          ’’اماں کی گود میں دو تین برس کی صغریٰ تھی ‘‘

          ’’صغریٰ کون؟‘‘

          ’’میری چھوٹی بہن۔حال ہی میں جس کا تینتالیس برس کی عمر میں انتقال ہوا۔‘‘

          ’’تو تم نے چالیس برس پہلے کے زمانے کو خواب میں دیکھا؟‘‘

          ’’ہاں ‘‘

          ’’یا پھر اگلے جہان کی ایک جھلک ؟‘‘

          ’’یار کتنا اچھا ہوتا جو اگلا جہان اسی دنیا،اسی گلوب پر کہیں واقع ہوتا اور جو لوگ ہم سے ایک سرزمین میں بچھڑ جاتے ہیں وہ کسی دوسرے ملک یا خطے میں مل جاتے ‘‘

          ’’ہم چاہیں تو اب بھی ایسا ہو سکتا ہے‘‘

          ’’وہ کیسے؟‘‘

          ’’سنا نہیں تم نے ؟یہ توہم کا کارخانہ ہے۔یاں وہی ہے جو اعتبار کیا‘‘

          ’’چلو کچھ دنوں کے لئے ایک نیا نظریہ ایجاد کرتے ہیں ‘‘

          ’’نظریہ یا مفروضہ؟‘‘

          ’’ایک ہی بات ہے،ہر نظریہ شروع میں مفروضہ ہی ہوتا ہے‘‘

          ’’تو کیا کسی اور زمین اور زمانے میں جانے کا ارادہ ہے؟‘‘

          ’’ہاں ‘‘

          یہ اسی سہ پہر یا شائد اس سے اگلے روز کا واقعہ ہے۔

           ہم فلائنگ کوچ میں ایک کشادہ سڑک پر سیر کو جا رہے تھے۔ مجھے پھر اونگھ آ گئی۔مگر شور سن کر جاگ پڑا

          ’’روکو روکو‘‘ ایک بوڑھا چلا رہا تھا ’’میں مریض ہوں زیادہ دیر تک ضبط نہیں کر سکتا‘‘

          فلائنگ کوچ ہری بھری فصلوں اور درختوں کے درمیان رک گئی۔سبھی اُتر پڑے اور منتشر ہو گئے۔

          کچھ فاصلے پر سیبوں کا مہکتا ہوا ایک باغ تھا۔وہ دونوں چلتے ہوئے اس کے دروازے پر آ گئے۔ سیب کے درختوں کے درمیان کیاریوں میں جیسے نغمے بوئے گئے تھے    طرح طرح کے خوشنما پرندے اپنی اپنی منقاروں سے سازینے بجا رہے تھے۔ وہی کچی کیریاں لوٹنے والی صبح کی سی ٹھنڈی اور تیز ہوا چل رہی تھی۔بڑے دروازے کے قریب دو عورتیں جو ماں بیٹی یا ساس بہو معلوم ہوتی تھیں،اپنے اپنے سامنے ایک ایک ٹوکری رکھے سیب بیچ رہی تھیں۔وہ اشاروں سے بھاؤ تاؤ کرنے لگے۔ علی نے تصویر بنانے کی کوشش کی تو بڑھیا نے اشارے سے منع کر دیا۔چھوٹی کے سوکھے سیاہ بال ہوا سے اڑ رہے تھے۔وہ انہیں پیچھے ہٹاتی سمیٹتی مگر وہ بار بار چہرے کو ڈھانپ لیتے۔

          ’’چھوٹی تمہیں بڑے غور سے دیکھ رہی ہے ‘‘علی بولا ’’جیسے پہچانتی ہو‘‘

          ’’مجھے بھی اس کی صورت اور منظر جانے پہچانے لگتے ہیں ‘‘

          ’’مگر تم تو یہاں پہلی بار آئے ہو؟‘‘

          ’’ہاں مگر لگتا ہے یہ کوئی دوسری زمین اور زمانہ ہے‘‘

          ’’ہاں اسی جہان میں اگلا جہان؟‘‘

          ’’نہیں مفروضہ ‘‘

          اچانک اسے یاد آ گیا۔اس نے پوچھا

          ’’تم جمیلہ ہو؟‘‘

          اس نے کوئی جواب نہ دیا۔مگر اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔وہ گھبرا کر بڑھیا کی طرف دیکھنے لگی اسے یقین ہو گیا وہ جمیلہ ہی تھی۔اتنے برسوں بعد قدرتی طور پر شکل و صورت میں کچھ تبدیلی آ گئی تھی مگر اس کی کرنجی آنکھوں کی نیلاہٹ اور چہرے کی ملاحت ابھی تک برقرار تھی۔یوں بھی وہ اس سے کئی برس چھوٹی تھی۔

          اس کے ایم اے فائنل کا امتحان دے کر یونیورسٹی سے گاؤں لوٹنے تک وہ بھی عشق کے کئی نو ماہی ششماہی امتحان پاس کر چکی تھی اور اڑوس پڑوس میں آنے جانے اور اٹھنے بیٹھے کے ٹھکانے تلاش کر چکی تھی۔ اس کا سب سے بڑا ٹھکانہ بی بی جی کا گھر تھا جن سے وہ سیف الملوک کا سبق لینے آتی اور کسی نہ کسی بہانے اس کے گھر کے چکر بھی کاٹتی اور سیف الملوک کے شعروں کے بہانے اپنے جذبات کا اظہار کرتی رہتی۔مگر وہ اب اس سے بات کرنے سے گریز کرنے لگا تھا کیونکہ نہ صرف اس کا رشتہ طے ہو چکا تھا بلکہ عنقریب شادی ہونے والی تھی۔یوں بھی اس کا منگیتر  اور بھائی گنوار لٹھ مار قسم کے لوگ تھے اور وہ پڑھا لکھا اور ڈرپوک لڑکا۔ مگر وہ بیوقوفی کی حد تک جذباتی لڑکی تھی،عزت یا جان کسی چیز کی پرواہ نہ کرتی۔

          ملازمت کی تلاش اور انٹرویوز کی خاطر اس کا ہر دوسرے تیسرے روز شہر آنا جانا رہتا تھا۔اس کے والدین اور رشتے دار عورتیں بھی اکثر شاپنگ کے لئے شہر آ جا رہی تھیں  پڑھا لکھا اور سمجھدار جان کر وہ شادی کے زیورات اور کپڑوں کے انتخاب اور خریداری میں اس سے مدد لیتی رہتی تھیں۔وہ اس با ت پر بہت خوش ہوئی۔ایک روز کہنے لگی:

          ’’میرا شادی کا جوڑا تم نے پسند کیا؟‘‘

          ’’ہاں میرا مشورہ شامل تھا‘‘

          ’’کاش تم مجھے یہ جوڑا پہنے بھی دیکھ سکتے ‘‘

          ’’مکلاوے آؤ گی تو پہن کر آ جانا۔دیکھ لوں گا‘‘ اس نے دل رکھنے کو کہہ دیا۔

          ’’تب تک تو وہ میلا ہو جائے گا‘‘

          ’’پھر تو ممکن نہیں ‘‘

          لیکن اس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔

          ایک روز دوپہر کو اس کی برات آئی اور شام کو وہ ڈولی میں بیٹھ کر سسرال چلی گئی۔وہ شہر سے لوٹا تو گھر کے سب لوگ اس کی شادی میں شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے۔  شام سے کچھ دیر پہلے اس کی رخصتی ہوئی اور سب لوگ اپنے اپنے گھر آ گئے۔گاؤں میں کچھ دیر شادیانے بجتے رہے پھر ہر طرف اداسی چھا گئی۔

          کاتک کا مہینہ تھا اور پورے چاند کی رات۔

          خنک چاندنی ہر  سو پھیلی ہوئی تھی اور اوس سے بوجھل ہوا چل رہی تھی۔بھورے شاہ کے مزار پر قوالی ہو رہی تھی اور گیت دھمالیں ڈال رہے تھے۔

          ’’چھیتی بوہڑیں وے طبیبا نہیں تے میں مرگیا ں۔تیرے عشق نچایاں کر کے تھیاتھیا‘‘

          قدموں کی دھمک اور گھنگھروؤں کی جھنکار سنائی دے رہی تھی۔ گھر والے اس شور کی وجہ سے جمعرات کو چھت پر نہیں سوتے تھے مگر وہ چھت پر ہی سوتا تھا کیونکہ اسے قوالیاں اور گیت اچھے لگتے تھے اور اگر سونا چاہتا تو لوری کا کام دیتے اور سپنوں میں رنگ بھرتے رہتے۔ اور آج تو دل کے زخموں پر مرہم کا کام دے رہے تھے۔

          گاؤں بھرکی چھتیں ایک دوسری سے ملی ہوئی تھیں اور بڑی گلی کے دونوں طرف کسی بھی ایک چھت پر چڑھ کر پورے گاؤں میں گھوما جا سکتا تھا۔قوالی کے بول بھی بانس کی سیڑھیاں لگا کر ہر چھت پر چڑھ آئے تھے اور پورے گاؤں میں گھوم رہے تھے۔

          ابھی اس کی آنکھ لگی ہی تھی کہ خوشبو کا ایک جھونکا سا آیا اور اس نے چونک کر آنکھیں کھول دیں۔ اور یہ دیکھ کر اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ زیورات سے لدی،سہاگ کے اسی سرخ جوڑے میں ملبوس وہ چاند کی طرف رخ کئے پائنتی کی طرف کھڑی تھی۔اس کا سسرال تین چار کوس دور تھا اور اس کی رخصتی ہوئے بمشکل ایک پہر گزرا تھا۔اس کا اکیلے اتنی رات گئے واپس آ جانا ممکن نہیں تھا۔یقیناً یہ خواب تھا یا کوئی اسرار۔کیا پتہ بھورے شاہ کے مزار کی کوئی ڈائن یا پچھل پائی اپسرا کا روپ بھر کر آ گئی ہو۔

          اس نے تھوڑی دیر کو آنکھیں بند کر لیں اور جب دوبارہ کھولیں تو وہاں کوئی نہیں تھا۔یقیناً یہ سوتی یا جاگتی  آنکھوں کا خواب ہی تھا ورنہ وہ اتنی جلدی بہت سی چھتیں پار کر  کے غائب نہ ہو جاتی۔مگر ہوا میں اب تک اس کی خوشبو موجود تھی۔ اگر وہ صرف گمان تھی تو یہ خوشبو کہاں سے آئی؟

          اگلے روز پتہ چلا اس نے سسرال پہنچتے ہی شور مچا دیا تھا کہ اس سے بھول ہو گئی ہے۔اس نے شوہر کا منہ دیکھنے سے پہلے بھورے شاہ کو سلام کرنے کی منت مانی ہوئی تھی۔ اس کا شوہر اور سسرال والے بھورے شاہ کے معتقد اور مرید تھے وہ اس کے فریب میں آ گئے۔ انہوں نے کہاروں سے کہا کہ وہ اسے فوراً لے جائیں اور سلام کروا کر واپس لے آئیں۔اس کے ہوش اُڑ گئے۔ مزار سے نکل کر اتنی دُور آتے جاتے اسے ضرور کسی نہ کسی نے دیکھ لیا ہو گا اور بات پھیل جائے گی۔

          اس کا اندیشہ درست نکلا۔بات نہ صرف پھیل گئی تھی بلکہ اس کے سسرال والوں نے خفیہ طور پر اس کا بھورے شاہ کے مزار تک پیچھا کیا تھا۔ اگلے روز اس کے بھائیوں نے بھی تفتیش شروع کر دی۔اس کے لئے اب گاؤں چھوڑ دینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا وہ ایک روز شہر اور کچھ عرصہ بعد بیرونِ  ملک چلا گیا۔

          شروع شروع میں اس کے بارے میں خبریں ملتی رہیں کہ سسرال والوں کی طرف سے اس پر بہت پابندیاں ہیں۔شوہر سختی کرتا اور مارتا پیٹتا ہے اور اسے میکے گاؤں آنے جانے اور والدین سے ملنے تک کی اجازت نہیں۔ کچھ ہی عرصہ بعد اس کے سسرال والوں نے دوسرے صوبے میں زمین خرید لی اور وہاں منتقل ہو گئے۔پھر ایک روز پتہ چلا کہ وہ بیمار ہو کر فوت ہو گئی ہے۔لیکن کچھ لوگوں کو شبہ تھا اسے قتل کر دیا گیا تھا اور اس کے بھائی اور دوسرے رشتہ دار بھی اس واردات میں شامل تھے۔

          اور اب اتنے برسوں بعد وہ اس کے سامنے زندہ اور سلامت موجود تھی مگر جیسے اس کی قلبِ ماہیت ہو چکی تھی۔شائد زندگی کے تلخ تجربات اور ٹھوکروں نے اس کے مزاج کو تبدیل کر دیا تھا اور اس کی ساری شوخی،بہادری اور جوش چھین لیا تھا ورنہ وہ اتنے عرصہ بعد اور ایک اجنبی سرزمین میں اسے اچانک دیکھ کر بے اختیار لپٹ نہ جاتی؟

          سب لوگ اپنی سیٹوں پر جا کر بیٹھ چکے تھے اور ڈرائیور ہارن دے کر اسے بلا رہا تھا۔اب مصلحت اور احتیاط کی گنجائش نہیں تھی اس نے کہا:

          ’’تم نے مجھے پہچانا جمیلہ۔ میں طاہر ہوں۔پتہ نہیں تم یہاں کیسے پہنچیں اور کس حال میں ہو مگر شکر ہے تم زندہ ہو۔ہم نے تو سنا تھا تمہیں قتل کر دیا گیا تھا‘‘

          اس نے پریشان ہو کر پہلے بڑھیا کو اور پھر اپنے اردگرد دیکھا پھر بولی

          ’’تم نے ٹھیک سنا تھا۔انہوں نے پاؤں کے ساتھ پتھر باندھ کر مجھے اندھے کنویں میں پھینک دیا تھا‘‘

          ’’پھر تم یہاں کیسے پہنچیں ؟‘‘

          ’’ مجھے جس کنویں میں پھینکا گیا تھا اس کی تہہ نہیں تھی۔وہ چاہ در چاہ کی صورت اندر سے دنیا بھر کے کنوؤں سے ملا ہوا تھا۔میں نیچے ہی نیچے گرتی چلی گئی اور اس بڑھیا کے بیٹے نے مجھے اپنے گھر کے کنویں سے باہر نکال لیا‘‘

          ’’اب تم میرے ساتھ واپس چلو گی؟‘‘

          ’’نہیں ‘‘ وہ بولی ’’لیکن ایک اجنبی کے ساتھ بات کرنے کے جرم میں اب یہ بھی مجھے کنویں میں پھینک دیں گے۔تم مجھے تلاش کر کے وہاں کسی کنویں سے نکال لینا‘‘

          بڑھیا اپنی زبان میں زور زور سے کچھ بولنے لگی۔گائیڈ بھاگا بھاگا آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے فلائنگ کوچ میں لے گیا۔اچانک فلائنگ کوچ جہاز میں تبدیل ہو کر فضا ء میں اڑنے لگی۔پھر ائیر ہوسٹس کی آواز سنائی دی۔

          ’’خواتین و حضرات بیلٹس باندھ لیجئے ہم تھوڑی دیر میں بیجنگ کے بین الاقوامی ائیر پورٹ پر اترنے والے ہیں‘‘






مصنف کے بارے میں


...

محمد منشا یاد

1937 - 2011 | شیخوپورہ


منشا یاد 5 ستمبر، 1937ء کو جنڈیالہ شیر خاں، شیخوپورہ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ سول انجینئر تھے۔ ان کا اصل نام محمد منشاء تھا، تاہم انہوں نے منشا یاد کے قلمی نام سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا افسانہ 1955ء میں منظر عام پرآئی۔ رفتہ رفتہ انہوں نے افسانے کی دنیا میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔ منشا یاد نے اپنے افسانوں میں جن علامتوں کو استعمال کیا ہے، انہیں سمجھنے کے لئے قاری کو کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ منشا یاد نے قاری کا بہت خیال رکھا ہے۔ ان کے تمام افسانے ان کے اسی اسلوب نگارش کے غماز ہیں۔ ان کے افسانوں میں خواب سراب، دُور کی آواز، درخت آدمی، وقت سمندر، ماس اور مٹی،بند مٹھی میں جگنو، خلا اندر خلا، کچی پکی قبریں، مارشل لا سے مارشل لا تک، اورتماشا اعلیٰ ترین افسانے ہیں۔ انہوں نے کئی ناول اور یاد گار ڈرامے بھی تحریر کئے، جن میں بندھن، جنون آواز، پورے چاند کی رات اور راہیں نے ملک گیر شہرت حاصل کی۔ منشا یاد پنجابی میں بھی اُسی روانی اور سہولت سے لکھتے تھے جیسے اردو میں، چنانچہ اُن کے پنجابی ناول ٹاواں ٹاواں تارا کو انتہائی کامیابی کے ساتھ ایک ڈراما سیریل میں ڈھالا گیا جو راہیں کے نام سے پی تی وی سے نشر ہوا۔




Comments