الہام



 

دوپہر کے کھانے میں جب اتنا کم وقت رہ گیا کہ گاؤں سے کوئی سندیسہ شہر نہ پہنچ سکے تو چودھری رمضان نے اپنے گھر کے کشادہ صحن میں کھڑے ہو کر منادی کرنے کے سے انداز میں اطلاع دی۔

’’فوجی آ رہے ہیں ‘‘

’’کب؟‘‘

’’آج‘‘

’’آج؟‘‘

’’ہاں دوپہر کو۔۔۔ کھانے کی تیاری کرو‘‘

راجاں سمجھ تو گئی کہ چودھری نے پہلے کیوں نہیں بتایا مگر ایسے خاص مہمانوں کا کھانا پکانے کے لئے اب وقت ہی کتنا رہ گیا تھا۔ بولی

’’اطلاع کب آئی؟‘‘

’’کل شام کو‘‘

’’مجھے تو بتا دیتے‘‘ راجاں نے شکایت آمیز لہجے میں کہا،’’کیامجھ پر بھی اعتبار نہیں رہا ‘‘

  ’’میں نے سوچا‘‘ چودھری بولا ’’اس بار شک و شبے کی گنجائش نہ رہے‘‘

’’کتنے لوگ ہیں۔۔۔ کیا کچھ پکانا ہو گا؟‘‘

’’پانچ وہ، دو تین ڈرائیور۔۔۔ وہی سب کچھ پکا لو۔۔۔جو پکایا کرتی ہو‘‘

’’میں نے مشینیں نہیں لگا رکھیں ‘‘

’’وہ بھی لگ جائیں گی بھاگوان‘‘ چودھری مسکرایا ’’فکر کیوں کر تی ہو۔ یہ کمی کاری کس لئے ہیں ‘‘

’’آج دن کیا ہے؟‘‘ راجاں کو سعد اور نحس دنوں اور گھڑیوں کا بہت خیال رہتا تھا۔

’’بدھ‘‘ چودھری نے داد طلب انداز میں جواب دیا ’’کم سدھ‘‘

’’انشاء اللہ ‘‘راجاں نے زیرِ لب کہا

’’یوں تو فکر کی کوئی بات نہیں چودھری بولا۔ لیکن پھر بھی اس پر نظر رکھنا۔ کیا کرتی ہے‘‘

’’اس بے چاری نے کیا کرنا ہوتا ہے ‘‘ راجاں بولی ’’اسی اونترے کو الہام ہو جاتا ہے اور عین موقعے پر پہنچ کر رنگ میں بھنگ ڈال دیتا ہے‘‘

’’دیکھتے ہیں ‘‘ چودھری کسی انجانی خوشی کا لطف لیتے ہوئے بولا ’’اس بار اسے کیسے الہام ہوتا ہے‘‘

’’مجھے تو یقین ہے وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اچانک آ ٹپکے گا اور مہمان بد دل ہو کر چلے جائیں گے‘‘

’’یہ فوجی لوگ ہیں ‘‘ چودھری نے تسلی دی ’’ایک بار آ جائیں تو اتنی آسانی سے نہیں جاتے‘‘

’’کبھی کبھی میں سوچتی ہوں۔ کیا حرج ہے۔ جب وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو ہم یہ کڑوا گھونٹ پی کیوں نہیں لیتے‘‘

  چودھری نے غصے سے راجاں کی طرف دیکھا اور بولا۔

’’تم چاہتی ہو۔۔۔سب کچھ اسے دان کر دیں۔ اپنی بیٹی، خاندان کا نام اور زمین جائیداد؟‘‘

’’کیا حرج ہے۔ہم نے اسے بیٹا بنایا ہے‘‘

’’ہم نے اسے لا وارث سمجھ کر پناہ دی، پالا پوسا اور پاؤں پر کھڑا کر دیا۔ کیا یہ کم ہے‘‘

’’دل تو میرا بھی نہیں مانتا پتہ نہیں کیسے ماں باپ کی اولاد ہے اور دنیا کیا کہے گی مگر‘‘

  ’’اگر مگر چھوڑو۔۔۔ وقت کم ہے۔ کھانے کی تیاری کرو‘‘

تھوڑی دیر بعد حویلی کے صحن سے دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے۔ چولھوں پر کڑھائیاں اور دیگچے چڑھ گئے۔ مرغ روسٹ ہونے لگے، کباب تلے جانے لگے اور ہر طرف زردے، بریانی اور قورمے کی خوشبوئیں اٹھنے لگیں اور سورج ڈھلتے ڈھلتے کمی کاریوں کے شور، برتنوں کے کھڑکنے اور نگرانی کرتی راجاں کے بول بلا رے میں کاروں جیپوں کی گھوکر شامل ہو گئی۔ چودھری رمضان ٹھنڈی بوتلوں کے ساتھ نلکیاں بھجوانے کی تاکید کر کے ڈیرے کی طرف دوڑا۔ اس کے پہنچتے پہنچتے چھاؤنی آ لگی تھی۔

لڑکے کا والد راجہ جہان خان روایتی لباس میں اور چچا میجر سلطان خان وردی میں تھے۔ خود لفٹین صاحب بھی وردی میں تھے اور نظر نہ ٹھہرتی تھی۔ اسے پتہ تھا چچا بھتیجے کو ڈیوٹی پر پہنچنا ہے۔ ایک تو بڑے زمیندار پھر فوجی۔ اوپر سے مارشل لاء کا زمانہ۔ چودھری فخر سے پھولے نہ سماتا تھا۔ باری باری سب سے گلے ملا۔ پھر اس کی نظر کار کی پچھلی سیٹوں پر بیٹھی دو ادھیڑ عمر کی گوری چٹی خواتین پر پڑی۔ فوراً پہچان گیا۔ ان میں ایک لڑکے کی والدہ اور دوسری پھوپھی تھی۔ ملازمین کو مہمانوں کی خاطر تواضع کا اشارہ کر کے چودھری کار کے قریب آیا اور سلام دعا کے بعد مہمان خواتین کو گھر پہنچانے اور تعارف کرانے کے لئے ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔

گھر سے واپس ڈیرے پر آنے سے پہلے اس نے راجاں کو ایک طرف لے جا کر پوچھا ’’نازو کہاں ہے؟‘‘

’’ادھر ہی ہے گھر میں۔ اوپر اپنے کمرے میں گئی ہے۔ ابھی بلاتی ہوں ‘‘

’’اسے نہیں بلاؤ۔ خود جا کر دیکھو۔ کیا کر رہی ہے‘‘

’’کپڑے بدل رہی ہو گی اور کیا کرے گی؟‘‘

کوئی عمل ؟کوئی ٹونا؟‘‘

’’عمل ٹونا تو خیر کیا کرے گی۔مگر مجھے لگتا ہے ساری خرابی اس پڑھائی لکھائی کی وجہ سے ہے‘‘

’’مہمانوں کے سوا اسے کسی سے ملنے نہ دینا‘‘

’’اچھا‘‘

ظہر کے وقت جب سب لوگ کھانے کے کمر ے میں بڑی میز کے گرد جمع ہو گئے تو راجہ صاحب نے ادھر ادھر نظر یں دوڑاتے ہوئے چودھری رمضان سے پوچھا

’’بھئی بیٹی کہاں ہے؟‘‘

’’جی وہ اوپر والے کمرے میں ہے وہیں کھا لے گی‘‘ راجاں نے کہا

’’بھابی ہم صرف کھانا کھانے نہیں آئے۔ بیٹی سے ملنے آئے ہیں۔ بلاؤ اسے‘‘

راجاں نے پریشان ہو کر چودھری کی طرف دیکھا۔ وہ کان کھجانے میں مصروف تھا۔ بولی

’’بہت شرماتی ہے‘‘

’’آپ بسم اللہ کریں راجہ صاحب‘‘ چودھری بولا ’’میں آپ سے ملا دوں گا‘‘

’’ اور میجر صاحب اور عثمان خان؟‘‘

’’میجر صاحب سے بھی ملا دیں گے‘‘

’’لیکن چودھری صاحب۔۔۔ اصل معاملہ تو لڑکی لڑکے کی ملاقات کا ہے‘‘ راجہ صاحب نے لفظ ملاقات پر زور دے کر کہا

’’میں معافی چاہتا ہوں راجہ صاحب‘‘ چودھری بولا ’’ہمارے ہاں اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا‘‘

’’عجیب رواج ہے‘‘ راجہ صاحب سٹپٹا گئے ’’یعنی لڑکی لڑکا جنہوں نے ایک ساتھ زندگی گزارنی ہے سب سے مل سکتے ہیں مگر ایک دوسرے کو دیکھ اور مل نہیں سکتے‘‘

’’زمانہ بدل گیا ہے بھائی صاحب‘‘ بیگم راجہ بولیں ’’اب وہ پرانے رسم و رواج نہیں رہے‘‘

’’بھابی یہاں گاؤں میں زمانہ نہیں بدلا‘‘ چودھری بولا ’’لوگ سنیں گے تو باتیں بنائیں گے‘‘

’’زمانہ تو یہاں بھی بدل گیا ہے‘‘ میجر صاحب بولے ’’مگر سمجھنے کی ضرورت ہے‘‘

’’یہ میز کرسیاں، پلیٹیں، بجلی، پنکھا اور فریج‘‘ عثمان خاں کی پھوپھی بولیں ’’یہ سب پہلے کہاں تھے گاؤں میں ‘‘

’’یہ روشنی کا زمانہ ہے‘‘ کرنل صاحب نے کہا۔ نئی نئی چیزیں ایجاد ہو گئی ہیں۔ جن سے فاصلے سمٹ گئے اور رسم و رواج بدل گئے ہیں۔ اب شادی سے پہلے لڑکے لڑکی کا ایک دوسرے کو دیکھنا اور پسند کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے‘‘

’’ہاں ذہنوں میں بیداری پیدا ہو گئی ہے۔  اب شادی بیاہ کے معاملے میں زبردستی ممکن نہیں ‘‘ میجر صاحب نے لقمہ دیا۔’’ چند برسوں میں بڑی تبدیلی آ گئی ہے‘‘

راجاں اور چودھری نے بے بسی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر چودھری مری ہوئی آواز میں راجاں سے مخاطب ہوا

’’جاؤ۔۔۔ اسے لے آؤ‘‘

راجاں چلی گئی تو چودھری نے کہا

’’آپ کھانا شروع کریں راجہ صاحب۔ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ نازو ابھی آ جائے گی‘‘

’’ہم تو اپنی بیٹی کے ساتھ کھائیں گے‘‘ راجہ صاحب نے اپنائیت سے کہا۔

تھوڑی دیر بعد جب گلابی سوٹ میں ملبوس جھینپی جھینپی سی نازو ماں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی اور سلام کیا تو تینوں مہمان مردوں نے کھڑے ہو کر اس کا استقبال کیا۔ خواتین سے وہ کچھ دیر پہلے مل چکی تھی انہوں نے دعا دی اور اپنے پاس بٹھا لیا۔وہ مہمان عورتوں کے درمیان سہم سکڑ کر بیٹھ گئی تو راجہ صاحب راجاں کی طرف دیکھ کر بولے۔

’’بھابی آپ کو غلطی تو نہیں لگ گئی‘‘

 ’’کیا بھائی صاحب‘‘ راجاں پریشان ہو گئی۔راجہ صاحب نے خوشدلی سے کہا

’’بیٹی کی بجائے گلاب کا پھول لے آئیں ‘‘

سب ہنسنے لگے۔ چودھری اور راجاں کی خوشی سے باچھیں کھل گئیں۔

کچھ دیر ایسی ہی خوشگوار باتوں کے بعد کھانا شروع ہوا۔کھانا اتنا اچھا اور لذید تھا۔سب نے باری باری اس کی تعریف کی۔مگر لیفٹین صاحب کو کھانے کا کہاں ہوش تھا۔وہ نازو کے بے پناہ حسن میں گم ہو گئے تھے۔ اچانک پانچ ہارس پاور کی موٹر سائیکل کی آواز نے چودھری اور راجاں کو یوں دہلا دیا۔۔۔ جیسے خان کھیوے کے گھر کے پچھواڑے مرزا جٹ کی بکی آ ہنہنائی ہو۔(سم بکی دے کھڑکدے،جیوں آہرن پین ودان )

مہمان یوں چونکے جیسے محاذ جنگ سے دشمن کے حملے کی اطلاع آئی ہو۔ مگر ہونے والی سسرال کی عورتوں کے درمیان سکڑی سمٹی، گن گن کر نوالے لیتی اور لفٹیننٹ عثمان خان کی تحسین آمیز اور بیباک نظروں سے سہمی ہوئی نازو اس پھٹپھٹاہٹ سے جیسے سوتے سے جاگ اٹھی۔ نہیں مرتے سے زندہ ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب طرح کی چمک اور چہرے پر اعتماد کی روشنی پھیل گئی۔ اس تبدیلی کو محسوس کر کے فوجی لوگ چونکے جیسے خطرے کا بگل بجنے لگا ہو اور اس سے پہلے کہ چودھری یا چودھرانی کمرے سے باہر جا کر خطرے کو وہیں روک دیتے، وہ موٹر سائیکل ہی کی رفتار سے اندر داخل ہو گیا۔

چودھری اور راجاں نے پریشان ہو کر پہلے ایک دوسرے کی، پھر اس کی طرف دیکھا۔

اس کے بال ضرور بکھرے ہوئے تھے مگر اس کے لباس اور چہرے سے اندازہ نہ ہوتا تھا کہ وہ سو ڈیڑھ سو کلو میٹر کا سفر طے کر کے آ رہا ہے۔ 

( سے کوہاں دا فاصلہ،بکی دتی دھوڑ دھما)

’’اسلام علیکم‘‘

’’وعلیکم سلام‘‘ مہمان آوازیں منمنائیں

’’امی۔۔۔ میں زیادہ لیٹ تو نہیں ؟‘‘ وہ بے تکلفی سے ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

’’نہیں۔۔۔۔‘‘ راجاں نے ڈوبی ڈوبی آواز میں جواب دیا۔

’’یہ غلام رسول ہے‘‘ چودھری نے ندامت اور معذرت کے ملے جلے لہجے میں کہا ’’ہمارا بیٹا‘‘

’’آپ کا بیٹا؟‘‘ راجہ صاحب نے حیرت سے پوچھا ’’آپ نے تو بتایا تھا آپ کی ایک ہی اولاد ہے‘‘

’’منہ بولا‘‘ راجاں چودھری کی کمک کو آئی ’’بیٹوں کی طرح پالا ہے‘‘

’’جی ہاں انکل‘‘ غلام رسول نے پلیٹ میں بریانی لیتے ہوئے کہا ’’انہوں نے مجھ یتیم اور لا وارث کو پالا پوسا اور پڑھایا لکھایا اور میں بھی انہیں سگے ماں باپ ہی سمجھتا ہوں ‘‘

’’کیا کرتے ہو؟‘‘ میجر صاحب نے انٹرویو لینے کے انداز میں پوچھا

’’الیکٹرانکس میں ڈپلوما کیا ہوا ہے۔ ایک موبائل فون کمپنی میں کام کرتا اور کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ چھٹی والے دن ملنے آ جاتا ہوں۔ آج آپ لوگوں کی وجہ سے آنا پڑا‘‘

’’لیکن چودھری صاحب نے تمہارے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا‘‘ کرنل صاحب کے لہجے میں شکایت تھی۔

’’بتایا تو مجھے بھی نہیں ‘‘ غلام رسول ہنسنے لگا ’’ابا کو بھولنے کی عادت ہے‘‘

’’تو پھر تمہیں کیسے پتہ چل گیا،؟، میجر صاحب نے کرید کی۔

’’گھر میں میری جب بھی ضرورت ہو مجھے اطلاع مل جاتی ہے‘‘ غلام رسول نوالہ حلق سے اتارتے ہوئے بولا ’’امی کہتی ہیں مجھے کشف یا الہام ہو جاتا ہے۔۔۔۔ ہے نا امی‘‘ وہ ہنسنے لگا

مہمانوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو خطرے سے آگاہ کیا اور محفل کا رنگ تبدیل ہو گیا

’’شادی ہو گئی تمہاری؟‘‘ بیگم راجہ نے تنکے کا سہارا تلاش کرنا چاہا۔

’’شادی کے لئے نہیں مانتا‘‘ راجاں نے آخری پتہ پھینکا ’’کہتا ہے پہلے بہن کی رخصتی ہو جائے‘‘

راجاں نے یہ کہہ کر داد طلب نظروں سے چودھری کی طرف دیکھا مگر وہ شاید پیشانیوں کے بل گننے میں مصروف تھا۔

’’آپ کی اتنی زمین ہے‘‘ میجر صاحب چودھری سے مخاطب ہوئے ’’ اور آپ کا منہ بولا بیٹا آپ کا ہاتھ بٹانے کی بجائے شہر میں معمولی ملازمت کرتا ہے‘‘

’’ہم نے تو بہت کہا‘‘ چودھری بولا ’’مگر اسے گاؤں کی بجائے شہر میں رہنا بسنا پسند ہے‘‘

کھانے کا ذائقہ تو غلام رسول کی آمد سے ہی تبدیل ہو گیا تھا۔ اب مہمانوں کی بے چینی میں بھی ہر لمحے اضافہ ہونے لگا۔ نازو اور غلام رسول کی نظروں کے باہمی سگنلز کسی سے پوشیدہ نہیں تھے۔۔۔۔ نہ ہی انہیں پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

کھانے کا فطری دورانیہ مختصر ہو گیا۔ مگر اس سے پہلے کہ مہمان کھانے کی میز سے اٹھ کر سیدھے کاروں جیپوں میں بیٹھ جانے کا بہانہ سوچتے۔ وائرلیس پر راجہ صاحب کے لئے پیغام آ گیا اور ان کا اٹھنا اور جانا آسان ہو گیا۔

رخصت ہوتے وقت راجہ صاحب نے چودھری رمضان کو اپنے قریب بلایا اور موبائل فون دکھاتے ہوئے آہستہ سے بولے۔

’’یہ کشف یا الہام نہیں چودھری،نئی نئی چیزیں ایجاد ہو گئی ہیں۔ زمانہ بدل گیا ہے چودھری۔۔ہمیں بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہو جانا چاہئے۔ خدا حافظ‘‘

 

 






مصنف کے بارے میں


...

محمد منشا یاد

1937 - 2011 | شیخوپورہ


منشا یاد 5 ستمبر، 1937ء کو جنڈیالہ شیر خاں، شیخوپورہ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ سول انجینئر تھے۔ ان کا اصل نام محمد منشاء تھا، تاہم انہوں نے منشا یاد کے قلمی نام سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا افسانہ 1955ء میں منظر عام پرآئی۔ رفتہ رفتہ انہوں نے افسانے کی دنیا میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔ منشا یاد نے اپنے افسانوں میں جن علامتوں کو استعمال کیا ہے، انہیں سمجھنے کے لئے قاری کو کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ منشا یاد نے قاری کا بہت خیال رکھا ہے۔ ان کے تمام افسانے ان کے اسی اسلوب نگارش کے غماز ہیں۔ ان کے افسانوں میں خواب سراب، دُور کی آواز، درخت آدمی، وقت سمندر، ماس اور مٹی،بند مٹھی میں جگنو، خلا اندر خلا، کچی پکی قبریں، مارشل لا سے مارشل لا تک، اورتماشا اعلیٰ ترین افسانے ہیں۔ انہوں نے کئی ناول اور یاد گار ڈرامے بھی تحریر کئے، جن میں بندھن، جنون آواز، پورے چاند کی رات اور راہیں نے ملک گیر شہرت حاصل کی۔ منشا یاد پنجابی میں بھی اُسی روانی اور سہولت سے لکھتے تھے جیسے اردو میں، چنانچہ اُن کے پنجابی ناول ٹاواں ٹاواں تارا کو انتہائی کامیابی کے ساتھ ایک ڈراما سیریل میں ڈھالا گیا جو راہیں کے نام سے پی تی وی سے نشر ہوا۔




Comments