گلیسرین



’’مجھے تم سے محبت ہے کیا تم میرے ساتھ تھوڑی دور تک چل سکتی ہو؟‘‘

’’کہاں تک؟‘‘

’’بس ایک عمر کی مسافت تک؟‘‘

’’لیکن مجھے تم سے نہ محبت ہے نہ نفرت ، کچھ بھی تو نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر یہ سفر طے کیا جائے‘‘

’’ ہماری گلی کے سِرے پر ایک درخت تھا جس سے مجھے نہ محبت تھی نہ نفرت ، لیکن جب ایک رات طوفان آیا اور وہ درخت جڑسے اکھڑ گیا تو اگلے دن سب لوگوں نے کہا کہ گلی کا منظر کافی بدل گیاہے ، ہاں مجھے بھی ایسا لگاکہ میرے اندر اور گلی کے باہر کچھ خالی خالی ساہوگیاہے ۔ حالانکہ مجھے اُس پیڑ سے نہ محبت تھی نہ نفرت پھر بھی ایک خلا سا محسوس ہوتا تھا‘‘

’’یہ سب کتابی باتیں ہیں درختوں اور پودوں کی کمی کون محسوس کرتا ہے ‘‘

’’ہاں شاید لیکن میں سچ میں اُداس رہا تھا‘‘

’’ کٹ‘‘ بہت اچھا شاٹ تھا ۔۔

’’ برہان یار ،کیسے عجیب ڈائیلاگ تھے اِس شاٹ میں ، ہیں نا‘‘

’’ ہاں ، لیکن ، وہ۔۔۔۔ شاید‘‘

’’ سُنا ہے تم شہر چھوڑ کر جا رہے ہو؟‘‘

’’ ہاں میں یہاں سے جارہا ہوں‘‘

’’کیوں ؟‘‘

’’ وہ دراصل۔۔۔ چھوڑو اِس قصے کو‘‘

’’وہ کہ جن کو آدمی اپنا ہمسفر مان لے وہ ساتھ نہ چلیں توایسے میں آدمی کو کیا کرنا چاہیے؟‘‘

’’ آدمی کو اپنی راہ جدا کرلینی چاہیے اور اپنا راستہ خود طے کرنا چاہیے ‘‘

’’لیکن کیسے ؟‘‘

’’ پرانا سب کچھ بھول جانا چاہیے ‘‘

’’ سب کچھ ، مطلب سب کچھ؟‘‘

’’ ہاں سب کچھ؟‘‘

’’ کیسے مگر کیسے ؟‘‘

’’کٹ‘‘ بہت زبردست

’’ اچھاتو برہان وہاں اُس شہر میں کیا کروگے؟‘‘

’’کوشش کروں گا کہ نئے شہر اور نئے راستوں کا عادی ہوجاؤں۔اگرچہ کہ یہ مشکل کام ہے میرے لیے مجھ جیسے دیوانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں کچھ بھولتا نہیں ، لفظ ، چہرے ، راستے ، درخت سب کچھ یاد آتے ہیں ‘‘

’’برہان ڈرامے سے نکلو میں تمہارے بارے میں پوچھ رہی ہوں تم ابھی بھی وہیں ہو‘‘

’’ دو برس پہلے مجھے ایک لڑکے سے محبت تھی ، لیکن وہ آسٹریلیا چلا گیااب میں تمہاری طرح اُس کی یاد میں روتی رہتی تو آج تک اُداس رہتی ، میں نے اُسی دن فیصلہ کیا کہ اب اُسے یاد نہیں کرنا اور اب دیکھو تمہارے سامنے ہوں کتنی خوش ہوں سو تم بھی سب کچھ بھول جاؤ گے، دیکھو ہمارے درمیان ایسا کچھ بھی نہیں کہ جسے یاد رکھا جائے تمہیں مجھ سے محبت ہے لیکن مجھے تم سے محبت نہیں نہ نفرت بلکہ کچھ بھی تو نہیں ‘‘

’’لیکن ہم دو سال اِس یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے رہے ہیں ،ہم دوست تھے‘‘

’’ تو اِس سے کیا ہوتا ہے ؟‘‘

’’کٹ۔۔۔۔ ایکسلینٹ‘‘

’’ وہاں بھی ایکٹینگ کروگے برہان ؟‘‘

’’ ہاں شاید اداکاری ہی کرنا پڑے لیکن کیمرے کے سامنے نہیں، آنکھوں کے سامنے ‘‘

’’برہان ، کیا مطلب تم یہ فیلڈ چھوڑ رہے ہو، ابھی تو کیریر کاآغاز ہے تم نے بہت آگے جانا ہے تم بہت اچھے اداکار ہو، میں تو سوچ رہی تھی ابھی ہمارے بہت سے ڈرامے ایک ساتھ آئیں گے‘‘

’’دو سال اتنے بھی کم نہیں ہوتے کہ انہیں فوراً سے بھلا دیا جائے ‘‘

’’ ہاں لیکن اتنے زیادہ بھی نہیں کہ اُنہیں یاد رکھا جائے ‘‘

’’مجھے لگتا ہے میں یہ دوسال شاید کبھی نہ بھلا پاؤں‘‘

’’ معلوم نہیں اِن دوسالوں میں ایسا کیا ہے کہ جسے یاد رکھو گے ، حالانکہ ہمارے درمیان نہ محبت ہے نہ نفرت بلکہ کچھ بھی تو نہیں ‘‘

’’یہ لو ٹشو‘‘

’’ کٹ۔۔۔ زبردست، برہان صاحب اِس شاٹ میں آپ گلیسرین لگانا بھول گئے تھے لیکن پتا بھی نہیں چلا‘‘






مصنف کے بارے میں


...

محمدجمیل اختر

- | میانوالی


تعارف میں اور کیا کہوں کہ میں افسانہ نگارہوں سو افسانے لکھتا ہوں ، کیوں لکھتا ہوں یہ جواب ڈھونڈ رہا ہوں ، مجھے شاید شوق تھا معاشرے کی تلخیوں پر چیخنے چلانے کا سو مجھے اِس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ملا کہ میں افسانے لکھوں۔۔۔۔۔ محمدجمیل اختر




Comments

  • noimage cimg

    Rimal Arzoo

    زبردست