گڈریے کا بیٹا



اُس کا کام تھا سارے گاوں کی بکریاں چراناسو اُس کے دن رات بھیڑ بکریوں کے درمیان گُزرتے ، گاوں کے راستوں پریہ آوازیں اکثر سنائی دیتیں ۔ ’’ اِدھر نہیں ، اُدھرجاو ، سیدھا بالکل سیدھا جاو، بھوری او بھوری کہہ نہیں رہا سیدھی جا‘‘

شاید اُسے بکریوں کی زبان آتی تھی یاشاید بکریوں کواُس کی زبان۔

گڈریے کا ایک ہی بیٹاتھا کہ جس کو اُس کی بیوی جنم دے کر فوت ہوگئی سو اُس نے اپنے بیٹے اشرف کو ماں اور باپ دونوں بن کر پالاتھا یہ چھوٹا سا بچہ اُس کی کُل کائینات تھاوہ صبح اُسے کندھے پر بٹھاتااور ایک ہاتھ میں لکڑی تھامے ’’ کِچ کِچ کِچ ‘‘ کرتا ریوڑکو ہانک کر گاوں سے دور کھلے میدانوں میں لے جاتا، ایک درخت کی نیچے اشرف کو بٹھاتا، مختلف رنگوں کے پتھر اُس کے آگے رکھتااور کہتا ’’ پُترتو بیٹھ اوران سے کھیل میں ذرا بکریاں اِس طرف لے آوں ۔ دور جاتے ہوئے بھی اُس کی نظر اشرف پر رہتی ذرا سی آواز ہوتی تو وہ بھاگتے ہوئے درخت تک آتا، اشرف روتا تو وہ بے چین ہوجاتا ’’ پُتر چپ کرجا ، چپ کرجا ، دیکھ تیرا باپ بھی تیرے ساتھ رو پڑے گااور بعض دفعہ تو وہ روبھی پڑتا ۔۔۔۔ اشرف بیمار ہوتا تو اس کے اندر گہری اداسی چھا جاتی جیسے کئی بیوائیں اس کے اندر رو رہی ہوں ۔۔۔۔

اُس کی یہ بھی خواہش تھی کہ اشرف اس کی طرح گڈریا نہ بنے سو ایک دن ماسٹرصاحب سے ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ’’ جی کیا میرا پُتر بھی سکول آسکتا ہے ایک گڈریے کا پتر‘‘

ماسٹر جی پہلے تو اُس کے سوال پر بہت ہنسے پھر کہاکیوں نہیں آسکتا بلکہ کل ہی سے بھیج دو۔۔

یوں گڈریے کا بیٹا اب سکول جانے لگ گیا ۔

اشرف کوسکول یونیفارم میں دیکھ کراُسے یوں محسوس ہوتا کہ گویا کوئی بابوشہر سے بہت پڑھ لکھ کر آیا ہے اوراُسے یہ بھی خوشی ہوتی کہ اشرف اب گڈریا بھی نہیں بنے گا۔

وقت کی عادت ہے تیزی سے گزرنا سوگزرگیا اور اشرف نے میٹرک کرلیاگڈریے کو لگا کہ اس کا بیٹا اب اس گاوں کا سب ذیادہ پڑھا لکھا آدمی ہے اُس کا روم روم خوشی سے جھوم اٹھا اُس کا خیال تھا کہ جلد حکومت اشرف کو کوئی بڑی نوکری دے دی گی کہ اُ س کے بیٹے نے پوری دس جماعتیں پاس کی تھیں اور یہ کوئی عام بات نہیں تھی ، اُس نے خود تو ایک جماعت بھی نہیں پڑھی تھی۔

میڑک کرنے کے کئی سال بعد تک اشرف آوارہ گردی کرتا رہا، اُسے معلوم تھا کہ بھلامیٹرک پاس کو کون نوکری دیتاہے اورجونوکری ملے گی بھی وہ بھی نائب قاصد یا چوکیدار کی جو کہ اُس نے کرنی ہی نہیں ۔

اُسے بس ایک ہی شوق تھا ولایت جانے کا شوق سو وہ اخبار میں باہر جانے کے اشتہار پڑھتااور وقتافوقتا شہرجاکر کمپنیوں میں باہر جانے کے لیئے انٹرویوز بھی دیتا رہتا۔

ایک باراُسے شہر میں ایک ایجنٹ ملا جو کہ غیرقانونی طریقے سے لوگوں کو بیرون ملک بھیجتا تھااور یہ طریقہ کار تھا بھی بہت سستہ ۔۔

اُس نے باپ کو بتایا ’’ ابا میں ولایت جارہا ہوں ایک بہت بڑی کمپنی میں مجھے نوکری مل گئی ہے اب ہمارے بھی دن پھر جائیں گے بس ابا تُو کسی طریقے سے نمبردارسے تھوڑا سا قرض لے دے میں وہاں جاکربہت ساپیسہ بھیجوں گا تو قرضہ بھی لوٹا دیں گے‘

’’ نہ نہ پُترادھر ہی روکھی سوکھی کھالیں گے ولایت نہ جا ، ولایت تو بہت دور ہے پُتر‘‘

’’ ابا ، ادھر کچھ بھی نہیں ہے کئی سالوں سے دھکے کھا رہا ہوں کوئی نوکری ملی ، نہیں نا؟ اب یہی موقع ہے زندگی بدلنے کا اور میں کونسا ہمیشہ کے لیئے ولایت جارہاہوں کچھ سال بعد واپس آجاوں گا اوراتنی رقم لاوں گا کہ یہیں کاروبار کروں گا ، تُو فکر نہ کرابا میں تجھے خط بھی لکھا کروں گا اور پھر تجھے حج بھی تو کراناہے نا‘‘

گڈریے کا عمر بھر کاسہارا ، اُس کا اشرف جارہا تھا لیکن اُسے اشرف کی باتیں سن کر حوصلہ ہوا کہ وہ خط بھی تولکھے گا اورشاید اس گناہ گار کی قسمت اُس پر یوں مہربان ہونا چاہتی ہے اور اِسی بہانے وہ حج بھی کرلے گا ، یہ سوچ کر اُس کا دل شدتِ جذبات سے پگھلنے لگا اوراُس کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔۔۔

اُس نے اشرف کو نمبردار سے کہہ سن کر کچھ قرض لے دیا

’’ جا میرا پُتر، اللہ پاک تجھے سکھی رکھے‘‘

اور یوں گڈریے کا بیٹا ولایت چلاگیا۔۔۔

گڈریا اُس کے جانے کے بعد بہت اُداس ہوگیا بکریاں چرانے اب بھی جاتا اور دھیان اب بھی بیٹے کی طرف ہی رہتا، وہ پرانے شیشم کے درخت کو دیکھتا اور روتا کہ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو اشرف یہاں چھوٹے چھوٹے پتھروں سے کھیل رہا تھایہ وقت آخر اتناتیزی سے کیوں گزرتاہے۔۔۔وہ سوچتا جانے ولایت میں اشرف اب کیسا ہوگا، معلوم نہیں وہاں کھانا کس طرح کا ہوتا ہوگا پھر وہ خود کوسمجھاتا اور کہتا ولایت تو بہت بڑا ہے اور وہاں تو بہت اچھے اچھے کھانے ہونگے اشرف یقیناًخوش ہوگا، ،

’’ باپ کواُداس کرکے چلاگیا چلو جو ہوا سو ہوا ، سکھی رہے ‘‘

مہینے بعد ڈاکیا ایک خط لایا۔۔

’’ پُتر پڑھ کرسنا دے میں ان پڑھ تو ایک جماعت بھی نہ پڑھ سکاہاں میرا اشرف پوری دس جماعتیں پاس ہے ‘‘

’’ چاچا جی اشرف لکھتا ہے کہ

’’ السلام علیکم ابا جی ‘‘

’’ وعلیکم السلام میرا سوہنا اشرف ، جیندا رہ سدا سکھی رہ‘‘

’’ چاچا جی آگے بھی لکھا ہے کہ

’’ اباجی میں خیریت سے پہنچ گیا ہوں ، کمپنی بڑی اچھی ہے کھانااور رہائش کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ، پہلی تنخواہ تین مہینے بعد ملے گی تو کچھ پیسے بھیجوں گا اُس میں سے نمبردار کا قرض بھی واپس کردیجئے گا اور سنیے اپنا خیال رکھیئے گامیں جلد لوٹ آوں گا

آپ کا بیٹا

اشرف‘‘

’’یہ لیں چاچاجی خط رکھ لیں ، خوش رہ پتر ، تو شوکت کا خط لے کرآیاہے اور پڑھ کر بھی سنایاہے تیری بڑی مہربانی ، خوش رہ ‘‘

اِس کے بعد دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے اشرف کا کوئی خط نہ آیااور نہ اُس نے کوئی رقم بھیجی ۔۔۔

گڈریا پہلے خط کو کئی کئی بارکھولتا ، سونگھتا، اور آنکھوں سے لگاکرساری ساری رات روتا رہتا۔ اب یہ عالم تھا کہ خط پر کوئی لفظ واضح نہیں تھافقط بہتی ہوئی سیاہی تھی ۔۔۔روز وہ اُس خط کو احتیاط سے تہہ کرتااورسنھبال کرالماری میں رکھ دیتااور اگلی رات پھر یہی ہوتا۔۔۔

پھر یوں ہوا کہ کئی روزگزرے گڈریا گھر سے نہ نکلا تو گاوں کے لوگوں کو تشویش ہوئی سو کچھ لوگ مل کر اُس کے گھر گئے ، اندرتاریک کمرے میں فرش پروہ مرا پڑا تھا اور ایک کاغذ اُس کے ہاتھ میں تھا کہ جس کی تمام سیاہی اب بہہ گئی تھی۔۔۔۔

ختم شد






مصنف کے بارے میں


...

محمدجمیل اختر

- | میانوالی


تعارف میں اور کیا کہوں کہ میں افسانہ نگارہوں سو افسانے لکھتا ہوں ، کیوں لکھتا ہوں یہ جواب ڈھونڈ رہا ہوں ، مجھے شاید شوق تھا معاشرے کی تلخیوں پر چیخنے چلانے کا سو مجھے اِس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ملا کہ میں افسانے لکھوں۔۔۔۔۔ محمدجمیل اختر




Comments