انتہاری



انتہاری

داؤد کاکڑ                                                                                                    
                     طورخم پہنچ کر سرحد پار کرتے ہی اس نے اطمینان کا سانس لیاحالانکہ  ابھی اسےزُ رمت میں واقع اپنے آبائی گاؤں تک پہنچنے کے لیئے مزید کئی گھنٹے سفر کرنا باقی تھا لیکن طور خم ایک بڑا مر حلہ تھا جو خلاف توقع  بآسانی طے ہو گیا۔
وہ طورخم کا بارڈر بیسیوں مرتبہ پار کر چکا تھااور اسے کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی لیکن پچھلے چند سالوں سے حالات کچھ بدل گئے تھے اور اس کی وجہ پاکستان میں خود کش حملہ آوروں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں تھیں۔وہ بھی پورے سال کے بعد ادھر آیا تھا۔اتفاق سے اسے افغان بارڈر پر ایک جان پہچان والا مل گیایوں سرحد پار کرنے میں اسے کوئی دقت پیش نہیں آئی۔
آگے کا سفرچونکہ بہت لمبا تھااور گاؤں پہاڑی علاقے میں تھا وہ شام پڑنے سے پہلے پہلے گاؤں پہنچنا چاہتا تھالہٰذا وقت ضائع کیئے بغیرکابل جانے والی بس میں سوار ہو گیا۔افغانستان کے حالات اور اپنی حفاظت کے پیشِ نظر اسے لمبا راستہ اختیارکرنا پڑرہا تھا لیکن وہ اس لمبے سفر پر خوش تھاکیونکہ جب تک بس روانہ ہوئی وہ اندیشہ کے تصورات میں کھو چکا تھا۔اندیشہ اس کی چچازاد اور اس کے بچپن کا پیار تھی۔
1979 میں روسیوں نے ہندؤوں کی درِپردہ شہہ اور گٹھ جوڑ کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا تو ملک سے ہجرت کرنے والے لاکھوں کروڑوں کی مخلوق میں اس کے باپ کا خاندان بھی شامل تھا۔دادا کی شہادت کے بعد اس کا باپ زرین گل نہ صرف گھر کا واحد کفیل تھابلکہ خاندان بھر کا واحد پڑھا لکھا فرد بھی تھا اس لیے ماں اور دو بیٹوں کے اس چھوٹے سے کنبے کو اس کسمپرسی کا سامنا نہیں کرنا پڑاجو ہجرت کے بعد کروڑوں انسانوں کا مقدر بن گیا تھا۔سال بھر کی محنت نے انہیں خیموں سے کرائے کے مکان میں پہنچا دیا تھا۔زرین گل کی شادی بھی پشاور ہی کی ایک فیملی میں ہو گئی۔شادی کے بعد تو زرین گل وہی کا ہو رہا لیکن اس کا چچاامین گل جو زرین گل سے چھوٹاتھا او ر واجبی سا پڑھا لکھا تھاچند سالوں بعد ماں کو لیکر افغانستان اپنے گاؤں واپس چلا گیا۔ضلع زُرمت میں ان کی کافی زمینیں تھیں لہٰذا وہاں اسے قدم جمانے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ماں نے اس کی شادی بھی کردی اور پھربڑی منتوں کے بعد اس کی کزن اندیشہ پیدا ہوئی۔
دونوں بھائیوں کا آپس میں مسلسل رابطہ رہا۔سال بھر میں زرین گل افغانستان کا ایک چکر ضرور لگاتا اور منصور خان ہمیشہ باپ کے ساتھ آتا۔جب تک وہ سکول میں تھا تو گرمی کی چھٹیوں میں مہینہ بھر اپنی دادی اور چچا کی فیملی کے ساتھ گزارتا۔کالج کا آغاز ہوا تو آمد و رفت کا یہ سلسلہ جیسے ٹوٹ سا گیا۔پھراچانک رونما ہونے والے ایک سانحے نے اس کی زندگی کیا اس کی شخصیت ہی بدل کر رکھ دی۔چند برس پہلے اس کا باپ زرین گل پشاور میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں شہید ہو گیا۔یہ سانحہ ماں بیٹا دونوں کے لیے تو قیامت تھا ہی، اسکی دادی کے لئے بھی جان لیوا ثابت ہوا اور وہ مہینہ بھر ہی میں انہی کے گھر میں چل بسی۔منصور خان پر ان واقعات کا گہرا اثر ہوا اور وہ ایکدم سے عمر کی کئی منزلیں طے کر گیا۔ایسے موقعے پر جہاں اس کے چچا امین گل اور چاچی نے ماں بیٹا کی دلجوئی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی وہاں اندیشہ بھی کسی سے پیچھے نہ رہی اور منصور خان کے زخموں پر اپنی معصوم اوربے لوث محبت کا مرہم رکھ دیا۔بچپن کا پیاراس مختصر سے عرصے میں اس قدر پروان چڑھا کہ وہ یک جان دو قالب ہو گئے۔منصور خان کو اندیشہ کی صورت میں نئی زندگی مل گئی۔
اندیشہ بلا کی حسین اور سگھڑ لڑکی تھی۔اگر اس کے ماں باپ نے بچپن ہی میں اس کے لئے اندیشہ کی بات نہ کی ہوتی تو اب تک شاید وہ کسی اور کی ہو چکی ہوتی۔بس ایک بات تھی کہ اس کے ان پڑھ چچا نے بیٹی کو بھی تعلیم جیسی نعمت سے محروم رکھا کیونکہ کہ وہ لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے کے سراسر خلاف تھا نتیجتاً وہ چار کلاسوں سے آگے نہ بڑھ سکی۔منصور خان اپنے باپ کی طرح پڑھا لکھا تھا۔اندیشہ سے اٹوٹ پیار کی وجہ سے وہ یہ گوارا کر رہا تھا لیکن شادی کے بعد اندیشہ کو پڑھانے کا اس نے مضبوط ارادہ کر رکھا تھا۔
چچا کی فیملی کے واپس جانے کے کچھ عرصہ بعد آمد و رفت کا یہ سلسلہ اس نے پھر سے جوڑ دیا تھا۔ڈیڑھ برس پہلے اندیشہ اپنے والدین کے ساتھ پشاور کا ایک چکر لگا چکی تھی لیکن سال بھر پہلے جب وہ آیا تو اندیشہ اپنی خالہ کے گھر قندھار گئی ہوئی تھی اس لئے آج کا یہ سفر اس کے لئے کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل تھا۔ایک تو وہ اندیشہ کو مدت کے بعد دیکھنے والا تھا۔دوسرے کل اس کی سترویں سالگرہ تھی اور تیسری اور سب سے اہم بات وہ پیغام تھا جو اسکی ماں نے  چاچی کے لئے بھیجا تھا۔اب ان کے ایک ہونے میں زیادہ عرصہ نہیں تھا۔
کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد وہ کابل پہنچا تو اسے زُرمت جانے کے لئے سواری ملنے میں ذرا وقت لگا۔گاؤں پہنچا تو مغرب کی آذانیں ہو چکی تھیں اور ہلکا ہلکا اندھیرا پھیل چکا تھا۔
ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ حجرے کے دروازے سے داخل ہوا تھا۔حجرے کا احاطہ کافی بڑا تھااور گھر کے اندرونی دروازے تک پہنچنے کے لئے لمبا صحن عبور کرنا پڑتا تھا۔حجرہ تھا تو بالکل خالی لیکن اس نے چند تبدیلیاں واضح طور پر محسوس کیں۔پہلے حجرے میں  صرف ایک بڑا کمرہ ہوا کرتا تھا اب اس نے دیکھا کہ دو مذید کمرے بھی ایستادہ تھے۔کمروں کے اختتام پر بیرونی دیوار تک کی خالی جگہ پر چھپر ڈال کر خاصا بڑا کچن بھی بنا ہوا تھا۔مٹی کے بنے تین بڑے چولہے اور کونے میں مٹی ہی کاایک تنور بھی ایستادہ تھا۔ایک طرف ایندھن کیلئے استعمال ہونے والی لکڑیوں کا انبار لگا ہوا تھا۔چولہوں کی حالت سے عیاں تھا کہ وہ استعمال بھی ہوتے تھے۔اور دوسری بات کہ حجرے میں چارپائیوں کی بہتات ہو گئی تھی۔گو حجرہ صاف ستھرا تھا لیکن منصور خان کو اس میں زندگی کے آثارواضح طور پر محسوس ہو رہے تھے۔اپنے چچا امین گل کی مالی خوشحالی سے وہ باخبر تھا لیکن حجرے میں یہ توسیع اور لوازمات اس کی سمجھ سے باہر تھے۔اس کا چچا اب ایسا سوشل بھی نہیں تھا۔یہی کچھ سوچتے ہوئے وہ حجرے کا طویل صحن عبور کرکے اس لمبی دیوار کے پیچھے پہنچ گیا جو گھر کے داخلی دروازے کے آگے پردے کا کام دیتی تھی۔حسب معمول دروازے کا کنڈہ گھر کے اندر کی طرف سے لگا ہوا تھا جو اس نے بآسانی کھول لیا تھا۔یہ طریقہ اسے اندیشہ نے سکھایا تھا۔
اسلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔اندر داخل ہوا تو چاچی کو دیکھتے ہی اس نے حسب عادت دور ہی سے نعرہ لگایا۔اس کی چاچی نے پہلے تو اسے حیرت بھری خوشی کے ساتھ دیکھااور اس کا ماتھا چومالیکن پھر اس کے چہرے پر پریشانی اور فکر مندی کے آثار نمایاں ہوگئے۔
خیریت تو ہے نا چاچی،سب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔؟منصور خان سے چاچی کی یہ پریشانی چھپ نہ سکی اور رسمی حال احوال کے بعد اس نے پوچھ لیا۔
ہاں۔۔۔۔ہاں زَویاسب ٹھیک ہے ۔بس تم جو اچانک آگئے ہو تو سمجھ نہیں آ رہی۔چاچی نے فوراً جواب دیالیکن اسے صاف محسوس ہوگیا کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اندیشہ کہاں ہے؟ اس نے ادھر ادھر نظر دوڑاتے ہوئے پوچھا۔
وہ۔۔۔۔وہ تو۔۔۔۔۔وہ تو خالہ کے گھر گئی ہوئی ہے اس کی چاچی گڑبڑا سی گئی اور منصور خان پر جیسے منوں اوس پڑ گئی۔سال بھر پہلے بھی وہ آیا تھا تو اندیشہ خالہ کے گھر گئی ہوئی تھی۔تب بھی وہ زیادہ دن نہیں رک سکا تھا اور اب بھی اس کے پاس کل تین دن تھے۔اس کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔
واپس کب آ رہی ہے؟ اس نے بے چینی سے سوال کیا۔
معلوم نہیں زَویا۔۔۔۔وہ تو۔۔۔۔ابھی چند دن ہوئے گئی ہے۔چاچی نے بے یقینی کے ساتھ لیکن سوچتے ہوئے جواب دیا۔اس کی خالہ بیمارتھی تو اس نے بلا بھیجا تھا۔تمہیں تو پتہ ہے زَویا کہ وہ بے چاری بے اولاد ہے۔چاچی نے اندیشہ کے جانے کا جواز پیش کیا۔
اس نے تذبذب کی سی کیفیت میں چاچی کی طرف دیکھا۔
چلو آؤ۔۔۔۔سارے دن کے سفر سے تم تھک گئے ہوگے۔۔۔۔جلدی سے منہ ہاتھ دھولومیں تمہارے لئے گرم گرم چائے بناتی ہوں۔ابھی عشاء کی نماز کے بعد تمہارے کاکاجی بھی آ جائیں گے ۔چاچی نے گڑبڑاتے ہوئے اسے بازو سے پکڑ کر اندر کمرے کی طرف دھکیلا۔
چائے پیتے ہوئے وہ عجیب سی کشمکش میں مبتلا رہا۔سارے دن کی تکان اور اوپر سے اندیشہ کی غیرموجودگی اور اس پر مستزاد چاچی کا سمجھ میں نہ آنے والا رویہ۔۔۔۔اس کے سر میں درد شروع ہوگیا۔ چائے کے دوران اس نے محسوس کیا کہ چاچی اس سے پہلو تہی کر رہی تھی ورنہ وہ تو جب بھی آتا چاچی گھنٹوں اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کے گھر اور شہر کی باتیں کرتی۔اس کی ماں اور چاچی آپس میں بہترین سہیلیاں تھیں۔
وہ چائے پی کر وہی چارپائی پر دراز ہو گیا۔سارے دن کی تھکاوٹ نے کام دکھایا اور اس کی آنکھ لگ گئی۔لیکن وہ گھنٹہ بھر سے زیادہ نہ سو سکا کہ کاکاجی نے اسے جگا دیا تھا۔بیٹے کھاناکھا لو پھر سو جاناویسے بھی مجھے تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔امین گل نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے ایک ہی سانس میں اور ایسے لہجے میں کہا جیسے انہیں کہیں جانے کی جلدی ہو۔
جی کاکاجی۔۔۔۔۔منصور خان نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے تابعداری سے کہا اور ساتھ کھڑی چاچی کے ہاتھ سے گرم پانی کا لوٹا لیکر جو وہ اسی کے لئے لائی تھی، منہ ہاتھ دھونے کے لئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
کھانے کے دوران کاکاجی زیادہ تراس کی روزمرہ کی مصروفیات سے متعلق باتیں کرتے رہے لیکن چاچی خلاف معمول خاموش رہی۔خود منصور خان اس دوران اندر ہی اندر ایک نامعلوم خوف کا شکار رہا اور بھوک کے با وجود پیٹ بھر کر کھانا نہ کھا سکا۔کھانے کے اختتام پر کاکاجی نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں ان دونوں نے بھی ان کا ساتھ دیا او رجب سامان سمیٹنے کے بعد چاچی چائے بنانے کے لئے باورچی خانے میں چلی گئی تو کاکاجی نے گفتگو کا آغاز کیا۔
منصور خان تمھیں گھر آتے ہوئے راستے میں کوئی واقف کارتو نہیں ملا؟
نہیں کا کاجی میں تو مغرب کے بعد پہنچا اس وقت تک اندھیرا ہو چکا تھا۔کم از کم میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔اس نے سوالیہ نظروں سے کاکاجی کی طرف دیکھا۔
اور تم حجرے کی طرف سے آئے ہو نا؟کاکاجی نے فوراًدوسرا سوال کر دیا۔
جی۔۔۔۔۔منصور خان کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا۔
حجرے میں کوئی تھا؟
جی نہیں۔۔۔۔۔اس کا جواب سنتے ہی کاکاجی نے دونوں ہاتھ دعائیہ انداز میں اوپر اٹھائے اور بلند آوازسے کہا’ شکر ہے اللہ پاک تیرا اور پھر منصور خان کا سر تھام کر اسے والہانہ انداز میں چوم لیا۔اللہ تمہیں لمبی زندگی دے بیٹے۔۔۔۔۔کاکاجی نے اسے دعا دی۔
کاکاجی کیا بات ہے؟ منصور خان سے زیادہ صبر نہ ہو سکا۔
کاکاجی نے ایک لمحہ غور سے اس کی طرف دیکھا اور پھر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کے بولے۔بتاتا ہوں بیٹے۔۔۔۔سب کچھ بتاتا ہوں اور ایک ٹھنڈی سانس بھری۔
منصور خان بیٹے! تمہیں تو معلوم ہے کہ میری ہمدریاں طالبان کے ساتھ شروع ہی سے تھیں۔کاکاجی نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بات شروع کی اور اس نے اثبات میں محض سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
کبھی کبھی میں ان کی تھوڑی بہت مالی امداد بھی کر دیاکر تا تھا۔ان کے ساتھ میرے ہمیشہ سے بہت اچھے تعلقات رہے۔ لیکن بیٹے ابھی پچھلے چند سالوں سے ان کے رویوں میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور اس کی وجہ نئے لوگوں کی طالبان میں شمولیت ہے۔پرانے کمانڈر جن کے ساتھ میرے برسوں سے بھائیوں جیسے تعلقات تھے ان میں اکثر تو شہید ہوچکے ہیں اورجو زندہ ہیں وہ دوبئی اور سعودیہ یا مغربی ممالک میں آباد ہوچکے ہیں۔ نئے کمانڈر جنگ کے دوران پیدا ہوئے اور اسی میں پلے بڑھے اورجوان ہوئے۔ان کا گذر بسریہی جنگ و جدل ہے۔اکثر کے سامنے کوئی واضع منزل نہیں۔ان لوگوں میں عزت و احترام والے وہ طور طریقے نہیں جو ان سے پہلے والے طالبان میں تھے۔ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو طالبان لگتے ہی نہیں بلکہ وادی سوات کے حالیہ واقعات کے دوران ہندو طالبان کی لاشوں کے سامنے آنے کے بعدتو اکثر لوگ ان کو شک کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں حالانکہ ان کے رکھ رکھاؤ طالبان جیسے ہیں لیکن مجھے اور میری عمر کے لوگوں کو یہ پرائے پرائے سے لگتے ہیں لیکن کوئی سوال کرنے کی جرات نہیں کرسکتا کہ یہ لوگ گولی چلانے سے دریغ نہیں کرتے۔انسان کی کوئی وقعت نہیں ان کے سامنے۔ منصور خان بڑے غور سے کاکاجی کی باتیں سن رہا تھا ۔
اب یہ لوگ طالبان کم اور بدمعاش زیادہ ہیں۔بہت سالوں پہلے طالبان کو ضرورت پڑتی تو میں خود ہی کبھی کبھی اپنا ہجرہ ان لوگوں کو دے دیا کرتا تھالیکن بیٹے اب یہ حجرہ مستقل طور پرانہی کے استعمال میں ہے اور یہ سب کچھ زبردستی کا ہے اور اکثر روپے پیسہ مانگنے میں بھی شرم نہیں کرتے۔اب ان کی خواتین بھی ہمارے گھر آنے سے دریغ نہیں کرتیں۔کاکاجی نے ایک لمحہ توقف کیا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے دوبارہ گویا ہوئے۔ منصور خان بیٹے! حقیقت تو یہ ہے کہ اب ہم ان لوگوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ان لوگوں کو میری مصروفیات کا نہ صرف پوری طرح سے علم ہے بلکہ مجھ پر پوری نظر ہے۔بس یوں سمجھ لو کہ ہم لوگ اپنے ہی گھرمیں ان کے قیدی ہیں۔
منصور خان کا پیمانہ صبر اب تک لبریز ہوچکا تھاچچا کے اس آخری جملے پر ایک دم سے بھڑک اٹھا۔
کاکاجی ! پھراس بات کا کوئی حل ہونا چاہیے آپ کب تک ان جاہلوں کے رحم و کرم پر رہیں گے۔ منصور خان کو اپنے کاکاجی کی بے بسی کا پوری طرح سے احساس تھااسی لیئے اس کا جوان خون جوش مار رہا تھا۔
ہاں بیٹے اس مسئلے کا حل ہے جو میں نے اپنے دو ست دلاور کے ساتھ ملکر اور بڑی سوچ بچار کے بعد نکالا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان ہجرت کر جائیں۔ کاکاجی نے جیسے اس کے دل کی بات کہہ دی۔
تو پھر دیر کس بات کی ہے کاکاجی، یہ کام تو آپ کو بہت پہلے کر دینا چاہئے تھا۔اس کے لہجے میں خوشی عیاں تھی۔
ہاں بیٹے یہ کام مجھے سالوں پہلے کر لینا چاہیئے تھا جب میرا باپ برابر بھائی میری منتیں کرتا تھا۔بھائی کو یاد کرکے کاکاجی کی آنکھیں بھر آئیں۔
بس کاکاجی آپ دل چھوٹا نہ کریں۔اب آپ کا ارادہ بن چکا ہے توانشاء اللہ آپ لوگ ضرور پاکستان نقل مکانی کر لیں گے۔منصور خان نے کاکاجی کا ہاتھ گرم جوشی سے اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑتے ہوئے ان کی ہمت بندھائی۔ اس کی چاچی جو ابھی ابھی چائے لیکر آئی تھی خاوند کی آنکھوں میں آنسو دیکھکر خود بھی روپڑی۔
میرے بس ایک دو کام رہتے ہیں جو نمٹانے ضروری ہیں۔ ایک مرتبہ ہم لوگ یہاں سے نکل گئے تو اللہ جانے کبھی واپس بھی آسکیں گے کہ نہیں لیکن بیٹے۔۔۔۔کاکاجی کواچانک جیسے کچھ یاد آگیا ہو، اس وقت سب سے زیادہ اہم کام تم نے کرنا ہے ۔ کاکاجی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بڑے رازدارانہ انداز میں کہا تو منصور خان چونکا۔
آپ حکم کریں کاکاجی۔۔وہ پوری طرح سے ان کی طرف متوجہ تھا۔
حکم نہیں بیٹے درخواست ہے اور وہ یہ کہ تم صبح فجرسے پہلے یہاں سے نکل جاؤ۔ کاکاجی نے لجاجت بھرے لہجے میں کہا تو منصور خان نے حیرت سے پہلے چچا اور پھر چاچی کو دیکھا اور ابھی اس نے کچھ کہنے کے لیئے منہ کھولا ہی تھا کہ کاکاجی نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے منع کر دیا۔
میں بتاتا ہوں بیٹے۔۔۔طالبان کا جو گروہ ہمارے حجرے پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے وہ ہمارے بارے میں صرف اتنا جانتا ہے کہ میرا ایک بھائی تھا پشاور میں جو مرچکا ہے اور اس کے بیوی بچوں کا مجھے کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں کیونکہ بھائی کے مرنے کے بعد میں ان کے ساتھ تعلقات منقطع کر چکا ہوں۔ اور بیٹے ان کو یہ بات باور کرانے کے لیئے مجھے بہت وقت لگا اور یہ سب کچھ میں نے تمھاری اور بھابھی کی حفاظت کے لیئے کیا ہے ورنہ یہ لوگ پشاور میں بھی ایسے ہی دندناتے پھرتے ہیں جیسے یہاں ۔اور دوسری بات یہ ہے کہ ابھی کسی کو تمھارے آنے کی اطلاع نہیں ہے اسی لیئے تمھارا صبح اندھیر ے میں نکل جانا مناسب ہوگاکیونکہ یہ لوگ کل شام تک واپس آجائیں گے اور پھر ہمارے لیئے بہت مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ کاکاجی نے جیسے ایک ہی سانس میں ساری بات کہہ ڈالی۔
جی کاکاجی۔۔۔۔۔جیسے آپ مناسب سمجھیں۔ منصور خان نے پوری بات سمجھتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔لیکن کاکاجی آپ کب آئیں گے؟ اس نے فوراً سوال بھی کردیا۔
ہمیں دس پندرہ دن بھی لگ سکتے ہیں اورایک مہینہ بھی۔ میرا کام تو ختم ہو جائے گا بس موقعے کی بات ہے جونہی موقع ملا ہم لوگ نکل جائیں گے اور ہاں۔۔۔۔صبح کی آذان ساڑھے پانچ بجے ہوتی ہے اور کابل جانے والی واحد بس پانچ بجے نکلتی ہے جس میں زیادہ لوگ نہیں ہوتے ۔میں تمھیں چار بجے جگادونگا۔کاکاجی نے بات ختم کرکے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ منصور خان کے لیئے ایک پکول اور پٹو نکال لے۔

بیٹے ! اس حلیے میں تو تم خالص پاکستانی لگتے ہو۔کاکاجی نے منصور خان کی طرف دیکھتے ہوئے بات جاری رکھی۔ پکول اور پٹو میں تمہارے کپڑے اور کوٹ چھپ جائیں گے۔ویسے بھی صبح سردی بہت ہوتی ہے تم آسانی سے سر پر پٹو ڈال کر آدھے سے زیادہ چہرہ بھی چھپا سکتے ہو۔
جی اچھا۔۔۔منصور خان نے ہاں میں ہاں ملائی۔
کاکاجی نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالی اور اٹھ کھڑے ہو گئے۔ نو بجنے والے ہیں میں باہر کا ایک جائزہ لیکر آتا ہوں۔ منصور خان بیٹے! اچھا ہوگا کہ تم ابھی سے سوجاؤکہ کل کا پھر لمبا سفر ہے۔
جی کاکاجی۔۔۔۔اس نے تابعداری سے کہا۔
میرے واپس آنے تک چاچی سے گپ لگاؤ۔یہ کہہ کر کاکاجی کمرے سے باہر نکل گئے۔
چاچی!یہاں تو ایک سال میں دنیاہی بدل گئی ہے۔ آپ نے تو کبھی فون پر بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا۔اکیلے ہوتے ہی اس نے چاچی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اور نہ ہی اندیشہ نے کبھی بات کی۔اس کا لہجہ شکایتی تھا۔
تمھارے کاکا نے بڑی سختی سے ہم دونوں کو منع کر رکھا تھا۔وہ تم ماں بیٹا کو اس پریشانی سے دور رکھنا چاہتے تھے۔چاچی نے جلدی سے صفائی پیش کی۔ لیکن بیٹے! اب اچھی بات یہ ہے کہ تمھارے کاکا یہاں سے جانے اور پاکستان میں آباد ہونے پر راضی ہو گئے ہیں جس پر میں بہت خوش ہوں۔
اور اندیشہ۔۔۔۔؟ اس نے فوراً سوال کیا۔
ھاں۔۔۔ھاں کیوں نہیں۔ وہ بھی خوش ہے۔ اندیشہ کے ذکر پر چاچی ایک مرتبہ پھر گڑبڑاسی گئی۔
چاچی سچ بتائیں اندیشہ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔۔؟منصور خان کو جیسے کوئی شک سا ہو گیا تھا۔
ھاں بیٹا اللہ کا شکر ہے وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔ چاچی نے پورے یقین کے ساتھ کہا تو وہ خاموش توہوگیالیکن اس کا دل مطمعن نہیں تھا۔
اوہ۔۔ھاں ۔۔۔تمھاری ماں کا ٹیلیفون آیا تھا۔چاچی کو اچانک یاد آیا۔
کب۔۔۔کب۔۔۔مجھے تو یاد ہی نہیں رہا کہ امی کو یہاں پہنچنے کی اطلاع دیتا۔ وہ پریشان سا ہو گیا۔
میں نے بتا دیا تھا کہ تم چائے پیتے ہی سو گئے تھے۔چاچی نے اسے تسلی دی تو اسے قدرے اطمینان ہوا۔
جب وہ سونے کے لیئے بستر پر دراز ہوا تو اندیشہ کے علاوہ اس کے ذہن میں اور کوئی الجھن نہیں تھی۔آج وہ خلاف معمول اس کمرے میں نہیں تھا جہاں وہ ہمیشہ ٹھہرتا تھااور جو اندیشہ نے صرف اس کے لیئے سجایا ہوا تھا آج کاکاجی نے چاچی سے کہہ کر اس کے لیئے تحویل خانہ میں بستر لگوالیا تھااور ایسا انھوں نے اس کی حفاظت کے پیش نظر کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرف کسی کی توجہ نہیں جائے گی۔یہ کمرہ رہائشی کمروں کی رو سے ہٹ کر ذرا فاصلے پر اور ایک کونے میں تھا۔یوں تو گھر کا فالتو سامان ہی اس میں رکھا تھا لیکن قرینے سے۔ چاچی نے اس کے لیئے پانی وغیرہ بھی رکھ دیا تھا۔
وہ کافی دیر تک الجھا الجھا سا کروٹیں بدلتا رہا۔گزرے چند گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے حالات و واقعات نے اسے ذہنی خلجان میں مبتلا رکھاحالانکہ دن بھر کے سفر کی تھکاوٹ سے چور بدن آرام چاہتا تھا۔ بڑی سعی کے بعد وہ ذہن کو آنے والے سہانے دنوں کے خواب دکھانے میں کامیاب ہوگیااور سو گیا اس بات سے بے خبر کہ وہ زندگی کے ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا تھا۔
اچانک اس کی آنکھ کھلی اور وہ ہڑ بڑا کر بستر پر اکڑوں بیٹھ گیا۔کلائی کی گھڑی کے روشن ہندسوں کو دیکھاتو رات کے ایک بجے کے بعد کا عمل تھا۔ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اسے جاگ کیوں آئی کہ دروازے کے کواڑ بجے اور اس کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ ایک ہی جست میں بستر سے نیچے اتر آیااور دبے پاؤں دروازے کی طرف بڑھا۔ پورے چاند کی روشنی چھن چھن کر دروازے کے روزن سے اندر آرہی تھی اور اس کو اندازہ ہو گیا تھا کہ باہر کوئی کھڑا تھااور دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کاکاجی کی ہدایت کے مطابق اس نے دروازے کا کنڈا اندر سے لگایا ہوا تھا۔اس نے روزن سے آنکھ لگا کر باہر دیکھنے کی کوشش کی اور عین اسی لمحے کسی نے روزن کے ساتھ منہ لگا کر دبی دبی آواز میں اس کا نام پکارا۔۔۔منصور۔۔۔۔! اور وہ چونک اٹھا۔یہ آواز۔۔۔۔اندیشہ۔۔۔۔! اس کے منہ سے بے ساختہ نکلااور یہ کہتے ہوئے اس نے دروازہ کھول دیا۔ چاندنی میں نہائی اندیشہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔اس نے اندر آنے میں دیر نہیں کی۔ منصور نے جلدی سے کنڈہ بھی لگادیا اور پھر کتنی ہی دیر تک وہ خاموش گلے سے لگے وہی کھڑے رہے۔ منصور کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اندیشہ رورہی تھی۔
مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اب ہماری ملاقات جنت میں ہوگی۔اندیشہ نے رندھی ہوئی آواز میں خاموشی توڑی تو منصور چونک اٹھا۔
کیوں ۔۔۔۔ایسا کیوں سوچا تم نے؟
بات ہی کچھ ایسی ہے۔۔۔۔اندیشہ نے اسے بھینچتے ہوئے کہا۔
چلو آؤ۔۔۔سردی ہے۔ منصور نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسے بستر کی طرف دھکیلا۔
تم اپنے کمرے میں کیوں نہیں گئے۔۔۔یہاں تحویل خانے میں کیوں ہو۔۔۔؟
کاکاجی نے ایسا کیا ہے۔ انھوں نے مجھے سب کچھ بتادیا ہے کہ تم لوگ کس قدر مشکل حالات سے گزر رہے ہو۔لیکن انشاٗاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ بس تھوڑے دنوں کی بات ہے۔ منصور نے پر امید لہجے میں کہا۔
انشاٗاللہ۔۔۔۔اندیشہ کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔
اب ان کی آنکھیں کمرے کے اکلوتے روشن دان اور دروازے کے روزن سے اندر آنے والی دودھیا چاندنی میں دیکھنے کی عادی ہو چکی تھیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کو وارفتگی سے دیکھ رہے تھے۔
تمہیں کس نے بتایا کہ میں تحویل خانے میں ہوں؟منصور نے پوچھا۔
مجھے نغمہ نے میسیج کرکے بتایا تھا۔جب تم آئے تو ابئی یہی تھی ماں نے تمہارا بستر ابئی کے ساتھ مل کر لگایا تھا۔جب وہ گھر گئی تو اس نے نغمہ کو بتا دیا اور نغمہ تو میری سہیلی ہے اس نے جلدی سے مجھے بتا دیا۔ اندیشہ نے اسے پوری تفصیل سنادی۔
اوہ اچھا۔۔۔تو تم لوگ پھر راستے ہی میں ہوگے جب نغمہ نے تمہیں میسیج بھیجا۔منصور خان جیسے سب کچھ سمجھتے ہوئے بولا
یہ بتاؤ کہ کاکاجی نے تمہیں کیا بتا یا ہے؟ اندیشہ کے انداز میں تجسس تھا۔
یہی کہ کیسے طالبان نے حجرے پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے اور تم سب کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے اور یہ کہ اب تم لوگ جلد ہی پشاور چلے آؤ گے۔ منصور خان نے کاکاجی سے ہونے والی بات چیت اس کے گوش گزار کردی۔
اور میرے بارے میں کیا بتایا؟ اندیشہ نے پھر سوال کیا
تمہارے بارے میں تو مجھے چاچی نے بتا دیا تھا کہ تم اپنی خالہ کے ہاں قندھار میں تھیں۔ منصور کے دل میں پھر شک و شبہات نے سر اٹھایا
اندیشہ ۱ اب یہ پہیلیاں نہ بجھواؤ اور سچ سچ بتاؤ کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ منصور نے جیسے دوٹوک انداز میں کہا۔
اچھا بتاتی ہوں لیکن تم صبر کے ساتھ میری بات سنو گے ۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔اور منصور نے اسے عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے سر ہلا دیا۔
میں خالہ کے گھر نہیں گئی تھی بلکہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مولئی صیب سے ملنے ان کے گاؤں گئی تھی ۔اس نے ایک لمحہ توقف کیا۔ میں۔۔۔۔طالبان کے ساتھ مل چکی ہوں۔اندیشہ نے جیسے ایک دھماکہ کیا اور منصور خان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اور۔۔۔اندیشہ نے بات جاری رکھی، میں نے انتہاری کی ٹریننگ مکمل کر لی ہے۔
کیا بک رہی ہوتم۔۔۔منصور جیسے پھٹ پڑااور اندیشہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔۔آ ۔۔۔۔۔ہستہ بولو کوئی جاگ نہ جائے۔اس کے ساتھ ہی اس نے منصور کے گلے میں باہیں ڈال کر اس کے گال پر اپنا گال رکھ دیا۔آئی لو یو۔۔۔۔اس نے منصور کے کان میں اسی کے رٹًائے ہوئے جملے کی سرگوشی کی۔
ہٹو ۔۔۔اور میرے ساتھ سیدھی طرح سے بات کرو۔منصور خان نے اسے اپنے سے الگ کرنے کی کوشش کی لیکن اندیشہ کی گرفت اور بھی مضبوط ہو گئی تھی۔۔ آئی لو یو۔۔۔آئی لو یو۔۔۔آئی لو یو۔۔۔اندیشہ نے اسی طرح سر گوشی کرتے ہوئے تکرار کی۔
اندیشہ! میں تمہاری اس بات کا جواب تب تک نہیں دے سکتاجب تک تو مجھے اصل بات بتا نہیں دیتی۔ منصور خان نے دوٹوک انداز میں بات کرتے ہوئے اسے اپنے سے الگ کرنے کی کوشش کی تو وہ آرام سے الگ ہوگئی لیکن اب وہ رورہی تھی۔ منصور خان کی سمجھ میں اور کچھ نہیں آیا تواس نے اندیشہ کو کھینچ کر دوبارہ گلے سے لگالیا۔
آئی لو یو منصور۔۔۔اندیشہ اب باقاعدہ ہچکیوں کے ساتھ رورہی تھی۔
آئی لو یو ٹو۔۔۔۔وہ جیسے موم کی طرح پگھل گیا۔
مجھے معاف کر دینا منصور۔۔۔میں اس عارضی دنیا میں تمہاری نہیں ہو سکی لیکن جنًت میں ہم ہمیشہ کے لیئے اکٹھے ہونگے۔ اندیشہ نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا تو منصور خان نے ایک جھٹکے اسے الگ کر دیا۔اوکے۔۔۔اوکے۔۔۔بہت ہو چکا ۔اب مجھے سچ سچ بتاؤ کہ کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔وہ ایکدم سے چارپائی سے نیچے اتر گیا لیکن پھر اسی تیزی کے ساتھ چارپائی پر واپس آکر دراز ہوگیا اور اندیشہ اس کے پہلو میں گھس کر سکڑ سی گئی۔ منصور نے جلدی سے کمبل اوپر کھینچ لیا۔ انہیں کاکاجی کے کھانسنے کی آواز آئی تھی۔ وہ دونوں سانسیں روکے پڑے رہے۔ ان کے دل بری طرح سے دھڑک رہے تھے۔
کاکاجی دروازے کے قریب آئے اور اسے اندر کی طرف دھکیلالیکن دروازہ بند پاکر یقیناًان کی تسلًی ہو گئی تھی کیونکہ وہ فوراً ہی واپس چلے گئے تھے۔
دونوں تھوڑی دیر تک یونہی خاموش پڑے رہے لیکن یہ خاموشی منصور خان کے لیئے جہاں تکلیف دہ تھی وہی سرور انگیز بھی تھی۔پہلو سے چپکی اندیشہ کے نرم سینوں کا زیروبم اور اس کی گرم گرم سانسیں منصور خان کی گردن سے ٹکرا کر اس کے تن بدن میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر رہے تھے۔ایسی کیفیت جس کے خمار میں وہ بھول گیا کہ وہ کیا باتیں کر رہے تھے۔ پھر اچانک ہی اس نے پہلو بدلا اور اندیشہ کو اپنی باہوں میں بھر لیا اور یوں کرتے ہوئے دونوں کے چہرے آپس میں ٹکرائے تو منصور خان نے غیرارادی طور پر اس کے ہونٹ چوم لیئے۔ اندیشہ نے ایک لمحہ توقف کیا اور پھر اس کے ہونٹ نہ صرف چوم لیئے بلکہ اس کا نچلا ہونٹ ہلکا سا کاٹ بھی لیا۔ یہ تجربہ ان دونوں کے لیئے جس قدر نیا تھا اسی قدر سنسنی خیز اور لذًت آمیز بھی تھا اور جس کا نشہ ان دونوں کی رگ رگ میں خاموشی سے سرا یت کر گیا تھاکہ بات یہاں رکی نہیں آگے بڑھتی چلی گئی۔اگر ایک دو مرتبہ منصور نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی بھی تو اندیشہ نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔جذبات کا دریا بپھرا تو طوفان کی شکل اختیار کرنے میں کوئی وقت نہ لگااور جب تک وہ سمبھلے سیلاب آکر گزر بھی چکا تھا۔وہ دونوں پسینے میں شرابور اکھڑی سانسوں کے ساتھ حیران و پریشان اندھیروں کو گھورتے رہ گئے۔
یہ میں نے کیا کر دیا۔۔۔۔۔سانسیں ہموار ہوئیں تو منصور خان کو جیسے حالات کی نزاکت کا مکمل شعور ہو چکا تھا۔اس کی خود کلامی میں شرمندگی اور پشیمانی نمایاں تھی۔وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
اس میں میں بھی قصوروار ہوں تم اکیلے نہیں تھے۔اندیشہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی اور اس کا بازو تھامتے ہوئے اس کی ڈھارس بندھانے کی کوشش کی۔لیکن منصور! ہمارا یہ گناہ کل ہی دھل جائے گا انشاء اللہ۔اس کے لہجے میں یقین تھا۔
منصور خان نے عجیب نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
ہم صبح فجر کی نماز کے بعد کابل جارہے ہیں۔میں نے کل شہادت کا درجہ پانا ہے۔اندیشہ کے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
میں کاکاجی کے پاس جارہا ہوں۔۔۔کہتے ہوئے منصور خان نے چارپائی سے اٹھنے کی کوشش کی تو اندیشہ نے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا۔ ایسی غلطی کی تو ہم سارے مارے جائیں گے، میں ،تم ماں اور بابا جی۔ اس کے لہجے میں خوف صاف عیاں تھا۔
لگتا ہے تم پوری طرح سے برین واشڈ ہوچکی ہو۔منصور خان جیسے بے بسی سے بولا۔
وہ کیا ہوتا ہے۔۔۔بران وش؟ اندیشہ کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
نیور مائنڈ۔۔۔۔منصور خان نے جھلاًتے ہوئے کہا۔
یہ تم کیا کرنے جارہی ہو اندیشہ۔۔۔۔تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے؟ اب اس کا لہجہ نرم تھا۔
ہاں منصور مجھے پتہ ہے میں کیا کر رہی ہوں۔ پہلے مجھے بھی یہ سب غلط لگتا تھالیکن مولئی صیب نے ہمیں قرآن اور حدیث کے ذریعے یہ ثابت کرکے دکھایا ہے کہ یہ حق کا راستہ ہے اور بڑے خوش نصیبوں کو ایسے موقعے ملتے ہیں۔ہمیں اپنے دینِ مامدی کی حفاظت کا پوراپورا حق ہے بلکہ ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن مسلمان دنیاوی عیاشیوں میں اس قدر غرق ہے کہ اسے آخرت کی کوئی فکر نہیں۔
کون مولوی صاحب۔۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں لکھا قرآن اور حدیث میں۔خود کشی حرام ہے چاہے وجہ کوئی بھی ہو۔منصور خان کو غصًہ آگیا۔نہ صرف تم خود کشی کروگی بلکہ بے گناہ اور معصوم لوگوں کا قتل بھی کرو گی اور ایسے لوگوں کے لیئے کوئی جنت ونت نہیں بلکہ ایسے لوگوں کے لیئے کوئی معافی بھی نہیں۔
سب سے پہلے تو ہم نے کسی بے گناہ کو نہیں مارنالیکن اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو وہ بے گناہ بڑا خوش نصیب ہوگا کہ اسے مفت میں جنت مل جائے گی۔ اندیشہ کے لہجے میں اعتماد تھا۔ منصور! زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اگر کوئی دھماکے میں مرتا ہے تو اللہ نے اس کی موت ایسی ہی لکھی ہوگی۔
منصور خان حیرت سے اندیشہ کو گھور رہا تھا۔اندیشہ اسے کوئی اجنبی لگ رہی تھی۔ایک ان پڑھ لڑکی کے منہ سے ایسی باتیں نکلنا نہ صرف عجیب تھا بلکہ خطرناک بھی تھا کہ اسے ان باتوں کی نزاکت کا اندازہ نہیں تھا۔ سال بھر میں اندیشہ کی کایا ہی پلٹ گئی تھی اور وہ مکمل طور پر طالبان کے جال میں پھنس چکی تھی جو اس کی نظر میں طالبان ہو ہی نہیں سکتے تھے کہ مسلمان کے دل میں خوف خدا ہوتا ہے۔ اسے کاکاجی کی بات یاد آگئی کہ سوات میں طالبان کے بہروپ میں ہندووں کی لاشیں سامنے آئی تھیں۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ ان حالات سے کیسے نبرد آزما ہو۔
چلو تم میرے ساتھ یہاں سے نکل چلو۔ ہم شام تک انشاء اللہ پشاور پہنچ جائیں گے۔ منصور خان کو جیسے کوئی حل سوجھا۔
منصور! اس وقت حجرے کے ایک کمرے میں تین طالبان اور دوسرے میں ترور جان سورہی ہے۔ صبح وہ مجھے نہیں پائیں گے تو ماں اور باباجی کو تو اسی وقت قتل کردیں گے اور پھر ہمارے پشاور پہنچنے سے پہلے ہمیں بھی ختم کردیں گے۔ان کے لوگ ہر طرف موجود ہیں۔
لیکن میں تمہیں بے گناہ لوگوں کے قتل کی اجازت نہیں دے سکتاچاہے اس میں میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔منصور خان کا لہجہ سخت اور فیصلہ کن تھا۔
خدا نہ کرے کہ تمہیں کچھ ہو منصور! اندیشہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ہمارا حدف کوئی بہت بڑا قاتل ہے جس نے سیکڑوں بے گناہوں کو شہید کیا ہے اور مجھے یہ کام ہر صورت میں کرنا ہے ورنہ وہ مذید لوگوں کا قتل کرے گا ۔اندیشہ نے دلیل پیش کی۔ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔مجھے ابھی نہا کر نفل بھی پڑھنے ہیں اور ابھی ایک گھنٹے میں باباجی بھی تمہیں جگانے آجائیں گے۔اندیشہ نے منصور کی بات کا انتظار کیئے بغیر اپنی بات جاری رکھی۔میں تمہیں ایک چیز دکھانا چاہتی ہوں۔یہ کہہ کر اندیشہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔
منصور خان کی بے بسی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ایک ان پڑھ لڑکی اس کے لیئے ناقابل حل معمہ بن گئی تھی۔اندیشہ کو اس نے ہر صورت میں اس انتہائی خوفناک اقدام سے باز رکھنا تھالیکن کیسے۔۔۔۔۔؟ یہ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔خدا نخواستہ اگر وہ اپنے ارادے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہواکہ وہ بھی اس گھناؤنے جرم میں اس کا شریک ہوگا کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ اسے روک نہ سکا۔ منصور خان بے چینی سے اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا۔اس کے تصور میں پشاور میں ہونے والے اس خودکش دھماکے کا منظر ابھر آیا جب اس نے معصوم اور بے گناہ انسانوں کے چھیتڑے چاروں طرف بکھرے دیکھے تھے اور وہ خود اپنے باپ کی ٹکڑوں میں بٹی لاش کیسے بھول سکتا تھاجو اس کے دل و دماغ میں چپک کر رہ گئی تھی۔ اس کی بے قراری بڑھنے لگی۔اس کو احساس ہی نہ ہوا کہ اندیشہ کب کمرے سے باہر گئی اور کب واپس آئی۔اسے ہوش تب آیا جب اندیشہ نے اسے بازو سے پکڑ کر چارپائی پر بٹھایا۔چارپائی پر بیٹھتے ہی اس نے خالی خالی نظروں سے اندیشہ کی طرف دیکھاتو جیسے اس کے ہوش اڑ گئے اور وہ ایک جھٹکے کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔اندیشہ اس کے سامنے بارود سے لدھی واسکٹ پہنے کھڑی مسکرا رہی تھی۔منصور خان نے کچھ کہنے کے لیئے ہاتھ اٹھایا لیکن آواز اس کے حلق میں اٹک کر رہ گئی۔
گبھراؤ مت۔۔۔یہ آن نہیں ہے۔اندیشہ اس کا خوف بھانپ گئی اور پھر اس کے ردعمل کا انتظار کیئے بغیر اسے واسکٹ کو آن کرنے اور ایک عام سے موبائل فون کا بطور ریموٹ کنٹرول استعمال کرنے کا طریقہ بتانے لگی۔اس نے اس قدر مختصر انداز میں نہایت اہم نکات بیان کیئے کہ منصور خان اس کی معلومات پر نہ صرف حیرت زدہ تھا بلکہ متاثر بھی لگ رہا تھا اور چند لمحوں کے لیئے وہ حالات کی نزاکت بھول گیا تھا۔ اندیشہ کا انداز ایسا تھا جیسے وہ کوئی انتہائی تجربہ کار واسکٹ بنانے والی ہواور پھر جب اس نے منصور خان کو بتایا کہ وہ کئی واسکٹوں کے بنانے میں مدد بھی کر چکی ہے تو وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر چارپائی پر ڈھیر ہو گیا۔ جس جوش اور جذبہ کے ساتھ اندیشہ نے بارودی واسکٹ کی تفصیل بتائی اس سے یہ بات آشکارا ہو چکی تھی کہ اسے اس کام سے باز رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔میں کیا کروں اور اندیشہ کو کیسے باور کراؤں کہ یہ کام اجتماعی قتل ہے جو لاتعداد گھر برباد کردے گا۔عورتیں بیوہ ہوجائیں گی او رخدا جانے کتنے بچے یتیم ہو جائیں گے۔اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا۔
منصور ! باتیں کرو نا۔۔۔۔میرے پاس وقت کم ہے۔اندیشہ اس کے پہلو میں بیٹھی تو وہ جیسے گہری نیند سے جاگ اٹھا۔اس نے سر اٹھا کر اندیشہ کی طرف دیکھا جو ہلکی ہلکی روشنی میں اس کے چہرے کو گھور رہی تھی۔
اندیشہ! ہمارے پاس اب بھی وقت ہے۔چلو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اور تمھارے ماں باپ کو لے کر نکل جاتے ہیں۔اس کے لہجے میں التجا تھی۔
منصور! یہ لوگ ابھی ملا بانگ پر اٹھ جائیں گے جس میں زیادہ وقت نہیں ہے۔ان کو میری غیر موجودگی کا اسی وقت پتہ چل جائے گا اور ہم کابل پہنچنے سے پہلے ہی پکڑے جائیں گے اور اسی وقت مارے جائیں گے۔تمہیں کچھ اندازہ نہیں کہ ان لوگوں کے رابطے کس کس سے اور کہاں کہاں تک ہیں۔اندیشہ نے دلیل پیش کی اور منصور خان بس اسے تکتا رہ گیا۔
منصور ! مولئی صیب نے کہا ہے کہ میرے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ ساتھ میرا منگیتر یا جسے بھی میں دل و جان سے پیار کرتی ہوں وہ بھی جنت میں میرے ساتھ ہوگا، انشائاللہ۔ ہماری یہ جدائی عارضی ہے۔ مرنا تو ایک دن سب نے ہوتا ہے۔ میں جنت میں تمھارا انتظار کرونگی۔اندیشہ بولے جارہی تھی اور منصور خان خالی خالی نظروں سے اسے تکے جارہا تھا۔ اندیشہ کے منہ سے نکلتے الفاظ اس کے کانوں سے ٹکرا تو رہے تھے لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آ رہے تھے وہ نم ہوچکا تھا۔وہ چونکا اس وقت جب اچانک دروازے پر دستک ہوئی اور خوف کے مارے اندیشہ اس سے لپٹ گئی تھی۔ چند لمحوں کے لیئے وہ کچھ نہ سمجھ سکا لیکن پھر جب دوبارہ دستک ہوئی تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ جی کاکاجی۔۔۔۔میں جاگ رہا ہوں۔اس نے وہی کھڑے کھڑے کہا تو کاکاجی ’ ٹھیک ہے‘ کہہ کر واپس چلے گئے۔کاکاجی کے قدموں کی چاپ دور ہوئی تو اندیشہ باہیں پھیلاکر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔اس نے اندیشہ کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیئے دیکھا اور پھر اسے کندھوں سے پکڑ کر گھمادیا۔اندیشہ کی کمر اس کی طرف ہوئی تو اس نے احتیاط کے ساتھ اس کی واسکٹ اتار کر اسے چارپائی پر رکھ دیا۔اندیشہ وارفتگی سے اس سے لپٹ گئی۔منصور خان نے بھی اسے باہوں میں بھر لیا تھا۔ دونوں میں چند لمحوں کی خاموشی رہی لیکن اندیشہ کے ساتھ ساتھ اب منصور کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔
آئی لو یو منصور۔۔۔۔اندیشہ کی آواز تھرا رہی تھی۔
آئی لو یو ٹو۔۔۔آئی لو یو ٹو۔۔۔۔منصور نے اسے خوب بھینچ لیا۔پھر اچانک اندیشہ نے اس کے ہونٹوں کو چومااور اس سے الگ ہو کر واسکٹ اٹھائی اور بغیر کچھ کہے تیزی کے ساتھ دروازے سے باہر نکل گئی۔ منصور خان وہی کھڑاادھ کھلے دروازے کے باہر اندھیروں کو گھورتے رہ گیا۔
جب وہ گھر کے بڑے کمرے میں پہنچا تو اس کی چچی اس کے لیئے ناشتہ تیار کررہی تھی۔ کاکاجی بھی قریب ہی چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے وہ بھی خاموشی سے جاکر چچا کے قریب چارپائی پر بیٹھ گیا۔
آرام سے سو گئے تھے؟ کاکا جی نے پوچھا
جی کاکاجی۔اس نے مختصر جواب دیا۔
اسے بھوک قطعی نہیں تھی لیکن ناشتہ تو بہرحال اسے کرنا ہی تھا لہٰذا جتنی دیر وہ ناشتہ کرتا رہا، کاکاجی اسے سمجھاتے رہے کہ کیسے اپنی شناخت کو چھپانے کے لیئے اسے سب سے الگ تھلگ بس کی آخری سیٹوں پر بیٹھنا ہوگااور کیسے خولے اور پٹو میں اپنا آدھے سے زیادہ چہرہ چھپاناہوگاوغیرہ وغیرہ جو اس نے کچھ سنا اور کچھ نہ سنا کہ اس کا ذہن اندیشہ ہی میں الجھا ہوا تھا۔
کاکاجی اور چچی نے اسے دروازے پر ہی رخصت کیا۔باہر گھپ اندھیرا اور خاموشی تھی۔بسوں کا اڈا چند منٹوں کے فاصلے پر تھا۔دروازے سے نکل کر وہ بائیں طرف مڑااور گھر کی بیرونی دیوار جو گاؤں کی اکلوتی پکی سڑک کے کنارے پر واقع تھی کے سائے میں چلنے لگا۔ چند قدموں کے بعد حجرے کی حدود شروع ہو گئی۔دیوار کافی اونچی تھی لیکن اسے احساس تھا کہ دیوار کی دوسری جا نب اس کا پیار اندیشہ اپنے طالبان ساتھیوں کے ساتھ موجود تھی۔حجرے کے اختتام پر ایک کھلا اور وسیع میدان شروع ہو جاتا تھا۔اسی میدان کی جانب حجرے کے تینوں کمرے اور کچن تھا۔حجرے کا بیرونی دروازہ بھی اسی میدان سے تھا۔اسی مقام سے اس نے سڑک پار کی اور قدموں کی رفتار تیز کر دی۔۔ بسوں کے اڈے کے قریب پہنچ کر وہ ذرا فاصلے پررک گیا۔ کاکاجی کی ہدایت کے مطابق اس نے اڈے کے اندر جانے سے اجتناب کیاکی مباداکوئی اسے پہچان نہ لے۔اسے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا اور شاید چار پانچ منٹوں ہی میں اس نے دور سے بس کو اڈے سے نکلتے دیکھ لیا۔ پھر جتنی دیر میں اس نے اپنا پٹو صحیح کیا بس اس کے قریب پہنچ کر رک چکی تھی۔ وہ جلدی سے بس میں سوار ہوا اور دروازے کے سامنے ہی سیٹوں کی آخری رو چھوڑ کر اگلی والی رو میں کھڑکی کے پاس بیٹھ گیا۔ بس روانہ ہوئی تو اس نے قریب کھڑے کنڈیکٹر کے ہاتھ میں پیسے پکڑا دیئے جو وہ پہلے ہی سے مٹھی میں دبائے ہوئے تھا۔ کنڈیکٹر نے کرایہ لیا اور آگے جاکر ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔اس نے ایک طائرانہ نظر بس میں ڈالی تو دس بارہ لوگ ہی تھے جو زیادہ تر اگلی سیٹوں پر ہی براجمان تھے۔ اس کے آگے کی تین روز مکمل طور پر خالی تھیں۔ منصور خان نے سردی کے باوجود کھڑکی کھول دی تھی کہ اس کا بدن جل رہا تھا۔اور پھر جب بس اس کے چچا کے گھر کے آگے سے گزری تو اس نے حجرے کے اندر جھانکنے کی کوشش کی لیکن دیوار کی اونچائی مانع آئی۔ گھر کے گزرتے ہی وہ سیٹ پر سمبھل کر بیٹھ گیا۔اسے احساس ہوا کہ اس کا ماتھا پسینے سے بھیگ چکا تھا۔ پٹو سے پسینہ صاف کرتے ہوئے اس نے بس میں بیٹھے مسافروں پر ایک نظر ڈالی ۔ سردی کی وجہ سے سبھی اپنے اپنے پٹوؤں میں کانوں تک لپٹے ہوئے تھے۔ اس وقت بس پہاڑی سلسلے کی طرف جانے کے لیئے پہلا موڑ کاٹ رہی تھی بس عین اسی لمحے ایک زوردار دھماکے نے خاموشی کا سینہ چیرہ اور بس چند فیٹ تک پھسلتی چلی گئی لیکن رکی نہیں۔ سب مسافروں نے سیٹوں سے اٹھ اٹھ کر باہر کچھ دیکھنے کی کوشش کی لیکن اندھیرے اور گھروں کی اونچی دیواروں کی وجہ سے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔چند موڑ کاٹنے کے بعد بس ذرااونچائی پر پہنچی تو نیچے گاؤں میں دھماکے سے متاثرہ مقام واضع ہوگیا۔اس کے کاکاجی کے حجرے سے آگ کے شعلے اٹھ رہے تھے۔مسافروں نے ایک دوسرے کے ساتھ روائتی انداز میں افسوس کا اظہار کیا۔ اگلا موڑ آیا تو گاؤں کا منظر اوجھل ہو گیا تھا۔ اسی موڑ پر منصور خان نے اپنا دایاں ہاتھ جیب سے نکالا اور کھڑکی سے باہر نکال کر ریموٹ کنٹرول گہری کھائی میں اچھال دیا تھا اور اپنا چہرہ پٹو میں چھپا لیا تھا۔






مصنف کے بارے میں


...

داؤد کاکڑ

1953 - | Denver, USA


میں ڈینور، امریکہ کا باسی ہوں اور پاکستان میں میرا تعلق پشاور سے ہے۔ 1976 میں ایک ناول شائع کیا اور اسی دور میں پشاور کی ادبی محفلوں میں متحرک ہوا. 1980 میں امریکہ وارد ہوا اور پھر تیس برسوں تک قلم نہیں اٹھایا۔ 2011 کے آغاز میں افسانہ اور خاکہ نگاری سے دوبارہ لکھنا شروع کیا۔ اب دیکھیں کہ یہ کب تک چلتا ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ جو بھی پڑھیں اس پر اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔ شکریہ ۔ داؤد کاکڑ




Comments