قحط زدہ آدمی



       
                   قحط زدہ آدمی
   
 
جاڑے کے موسم کا اپنا ایک منفرد حسن ہوتا ہے، یہ رنجیدہ مگر خوشگوار سا موسم مُجھے بالکل اُس لڑکی کا سا لگتا ہے جس کی شادی اُس کی مرضی سے طے نہ ہو او ر وہ شادی کے چند ماہ بعد ہی بیوہ ہو جائے ایسے میں اُس کے چہرے پہ کرب، مسکراہٹ،اور آئندہ زندگی کے بارے میں توقعات گھل مل سی جاتی ہیں۔ وہ بھی جاڑے کے موسم کا کچھ ایسے ہی تاثرات سے بوجھل دن تھا ،میں اپنے اندر کی پرسکون تنہائی میں ڈوبا موسم سے لطف اُٹھاتا سنسان سڑک پر گھوم رہا تھا کہ اچانک اُس سے مُلا قات ہو گئی۔ وہ عجیب مانوس سا اجنبی تھا جو کبھی کبھار مُجھ سے اچانک یوں ملتا گویا مُجھ میں سے باہر نکل آیا ہو، وہ  درویشانہ مزاج اور سیدھی سادی سوچ کا مالک تھا میں کبھی تو اس کے مزاج اور سوچوں سے صد فی صد متفق ہوتا اور کبھی وہ مُجھے اپنے مزاج کا بالکل اُلٹ لگتیں۔
 "بادل برس ہی نہیں رہے۔۔۔۔میں تو تنگ آکر واپس جانے کو تھا، موسموں کا مزاج بھی کُچھ انسانوں سا نہیں ہوگیا  بس انہیں بھی خبر ہونے کی دیر ہے کے کوئی ان کا منتظر ہے پھر تو یہ بھی انسانوں کی طرح انّا کی فصیل بلند کرنا شروع کر دیتے ہیں"وہ اذیت آمیز مسکراہٹ ہونٹوں تلے دبائے مُجھے دیکھتے ہی بولا
"اتنے دن کہاں رہے ،کہیں گئے ہوئے تھے کیا؟ "میںنے پوچھا
"ہاں۔۔۔۔ خود میں اُتر گیا تھا ۔۔۔ مگر وہاں بھی تو وہی باہر کا سا حال ہے ہر طرف سے خواہشیں مُجھ پر یوں ٹوٹ پڑیں جیسے کسی آفت زدہ علاقے کے مصیبت زدہ لوگ جواپنے ماں ،باپ،بچوں حتٰی کے خود اپنے آپ کو بھول کر ایک وقت کا راشن دینے والے رضاکاروں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔۔۔ اور میں جو خود انہی حالات سے پناہ لینے خود میں اترا تھا گھبرا کر باہر چلا آیا"۔۔۔وہ یاس بھرے انداز میںہو بہ ہو اُس کسان کی طرح بول رہا تھاجس کی فصل اچھی نہ ہوئی ہو ،جوان بیٹی کے بیاہ کی تاریخ سر پر ہو اور اس پر اُس کا اکلوتابیل سُوکھے کی نذر ہوجائے۔
ًًًًً  "مگر تمھیں اپنے اندر اتنی خواہشیں دکھائی کیسے دیتی ہیں ؟میں تو جب بھی خود میں اُترا خود کو پُرسکون تنہائی میں ڈوبا ہوا پایا، میرے اندر تو خالص خاموشی رہائیش پذیر ہے،یہاں تک کہ جو کوئی میرا ساتھ دینے اور مُجھے تنہائی سے نکالنے کے لیے مُجھ میں اُترا نہ جانے کیوں میرے نہ چاہتے ہوئے بھی بھاگ نکلا۔ آج تک میرا کوئی چاہنے والازیادہ دنوں تک یہاں نہیںرہ سکا،نجانے میری تنہائی سے گھبرا کر بھاگ لیا یا پھر شاید میرے اندرون کہیں کوئی چور دروازہ ہے ؟جس سے میں خودبھی آشنا نہیںکیونکہ میں جسے بھی اپنے دل  میں اتار کر  باہر سے کنڈی چڑھاتا ہوںوہ کُچھ ہی دنوں میںاندر ہی اندر غائب ہو جاتا ہے اور کُنڈی باہر سے ویسے ہی چڑھی رہتی ہے شاید اندر اُترنے والااُسی چور دروازے سے نکل جاتا ہے ،میںحیرانی سے بولا
"تمھیں یقین ہے کہ تم خود میں ہی اُترتے ہو ؟ ـَِاُس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
ہاں  سو فی صد یقین ہے۔۔میںایک لمحے کو بوکھلا گیا اور اندر ہی اندر غور کرنے لگا کے کیا واقعی میں خود میں ہی جھانکا کرتا ہوں یا کہیں کسی دوسرے کے وجود میں ؟مگر جواب میں نے بظاہر بڑے اعتماد سے دیا تھا۔
"تب شاید یا تو تم خود میں نہیںاُترتے یا پھرتمھارے اور تمہاری خواہشوں کے درمیان انا کی بلند دیوار حا ئل ہے اسی لیے خواہشیں تُجھے دکھائی نہیں پڑتیں کیونکہ اکثر انّا کے مریضوں کو ہی خواہشیں نظر نہیں آتیں نہ اپنی اور نہ پرائی۔ یوں کر کہ خود میں اُتر کر رنج کے پھل کو روح کے بیلن میں بیل اور جب احساس کا بٹّھل اُداسی کے شربت سے بھر جائے تو اپنے انّا کے مریض کو پلا تب تیرا یہ روگ جاتا رہے گا اور تُجھے خواہشیں دکھائی دیں گی اور اگر وہاںخواہشوںکا اسی قدر قحط ہو جیسا کہ تُو نے کہا ہے تو یقین کر کے تُو دنیا کا واحد خوش قسمت شخص ہوگا"۔
"مگر رنج کا پھل تو میری زمین میں کبھی اُگا ہی نہیں  "  میں مایوسی کے عالم میں بولااور وہ یکدم گھبرا کر مُجھے یوں دیکھنے لگا جیسے کسی ماہر طبیب کو نبض دیکھتے ہی مریض کے جان لیوا مرض کا پتہ چل جائے ۔
"تب تُو ایسا کر کہ اپنی زمین میں محبت کا بوٹا لگا اور اُسے آس کا پانی دیئے جا اور جب وہ ثمربار آور ہونے کو ہو تو اُکھاڑکر ہجر کی دھوپ میں جلنے کو ڈال دے اور جب جل کر راکھ ہو جائے تو اُس راکھ کی ایک چُٹکی لے کر اپنی مٹی پر ببّوردے پھر دیکھ تیری مٹی میں رنج کا جنگل اُگ آئے گا"
"مگر یہ تو ممکن ہی نہیںکیونکہ میری سرحدوں میں تو کبھی وصل کا سورج ہی طلوع نہیں ہوا پھر ہجر کی دھوپ کہاں ؟" میں پریشانی سے بولا
"لگتا ہے تم واقعی قحط زدہ آدمی ہو"اُس نے مختصر سا جواب دیا اور سگریٹ کے کش لیتا مُجھے اکیلا چھوڑکر سڑک پر مخالف سمت کو چل دیا۔


       






Comments