جوٹھن




                                 جوٹھن          
میں نے بلاآخر گاوں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور اس وقت جب کہ میں اپنا سامان باندھنے میں مصروف ہوں تو جہاں میرے ماںباپ ناراض ہیں وہاںگائوں والے الگ پریشان ہیں کہ نجانے اُن سے کیا خطا سرزد ہو گئی ہے کہ میں گائوں چھوڑکر جا رہا ہوں،مگر میں اُن سب کو کیسے سمجھائوںکے اب میرا گائوں کوچھوڑ جانا ہی ایک بہتر فیصلہ ہے ،چلیے جب تک نور الہی اسٹیشن جانے کے لیے ٹانگہ تیار کرتا میں جاتے جاتے آپ کو اپنی کہانی سناتا جائوں۔
میں نا جانے کب سے بے ثمری کے برزخ میں جی رہا ہوںاورجب خود کو اس قدر قابلِ نفرت مقام پر کمال دلیری وبے باکی سے کھڑا پاتا ہوں تو مُجھے اپنے ماضی پر بے ساختہ پیار آنے لگتا ہے، میں اردگرد کے دیہاتوںمیں بسنے والے غریب ،ان پڑھ اور توہم پرست لوگوں کے ان داتا اور پیرو مرشد ،بڑے شاہ صاحب کی واحد اُولاد ہوں، میرا بچپن زبیدہ کے ساتھ معصوم جذبوں کی خوش رنگ تتلیوں کے پیچھے بھاگتے اورچُھپَن چھُپائی کھیلتے گزرا،عمر کی گلیوں میںاکھٹے بھاگتے دوڑتے ہم لڑکپن کی گلی کا موڑ مڑے اور جوانی کی شاہراہ پر میں نے خود کو تنہا پایا تو اُس کے وجود نے خواہش کا روپ دھار کر میرے دل کے آنگن میں سمادھی لگا دی ،مگر یہاں تو ہمیشہ سے یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ خواہشیں پالنے والا یا اپنی خواہشوں کو ساتھ لے کر زندگی گذارتا ہے اور یا پھر اپنے والدین کے کمائے ہوئے نام،رُتبے،روایتوں اور خود اُن کے وجود کواور میرے لیے توخواہشوں کو ساتھ لے کر چلنے کا فیصلہ اور بھی مُشکل تھا کہ فیصلے کے دوسرے پلڑے میں میرے والدین ہی نہیں بلکہ مُرشد کی شکل میں گائوں کی عزت اور دیہاتیوں کے اَن داتا اور مشکل کشاکا اندھی عقیدت سے تراشا بت بھی پڑا تھا، اور اتنے سارے رتبوں کے ہوتے اگر مخالف پلڑے میںکوہِ ہمالیہ بھی رکھ دیا جائے تو رتبوں والا پلڑا نہ اُٹھے اور کہاں یہ کہ پلڑے میں ہمالیہ کی بجائے تتلیوں کے نازک پروں ایسی کسی دل کی رنگیں خواہشیں،چند آنسو اور بیتے دنوں کی معصوم محبت کی یادیں پڑیں تھیں ،وہ محبت جس کورتبوں کے ناگ نے ڈس لیا ،اور جو مذہب کے نام پر کھڑی کی جانے والی دکھاوے،تعصب اور جھوٹی اناکی دیوار تلے دب کر سسکی اور دم توڑ گئی، میں نے باوجود سب کُچھ جان لینے اور دل ہی دل میں ہار مان لینے کے باوجود اپنی سی آخری کوشش کی اور ماں سے مدد چاہی مگر اُس نے بھی کورا جواب دے دیا وہ بولی " بیٹا دیکھ ایک تو اُس کا تعلق کمیںخا ندان سے ہے اوراگر اس کے خاندان کا کوئی فرد ہمارے کسی برتن میں بھی مُنہ مار کر اُسے جھوٹھا کر دے تو ہم وہ برتن کتوں کو راتب ڈالنے کے لیے الگ کر دیتے ہیں، دوسرا وہ ہمارے مرید ہیں اور اُن کے باپ دادا،ہمارے بڑوں کے زمانے سے حجروں میںسلام کو آتے اور ہمیںاپنا پیرو مرشد مانتے چلے آئے ہیں، یہ سننے کے بعد میں بالکل ہی بے دم ہو گیا، اگرچہ میں اس خود ساختہ عزت و بڑائی کے معیار کو تسلیم نہیں کرتااوروہ شاید اس لیے کہ میںاپنے علاقے کا پہلا ہونہار پُوت تھا جس نے شہر جا کر بی اے کی ڈگری لی تھی،کتابوں میں پڑھائے جانے والے آدرشوں سے مجھے انسانیت کی بنیاد پر برابری کے اصول کا ادراک ہوا تھا اور تعصب کی دھند میری آنکھوں پر سے چھٹ چکی تھی، میں انسانی عظمت کو چار چاند لگانے والی اسلامی مساوات کے خُمار میں سر شار امن و شانتی کی منزل کو اگلے قدم پر محسوس کرتا لوگوں کے چہروں پر سے فضول اور دقیانوسی رسوم و عقائد کی گرد جھاڑنے اور بے بنیاد عقیدت سے تراشے بُت کو پاش پاش کر کے اُنھیں اُن کا اصل چہرہ دکھانے کے زعم میں کتابوں سے سیکھے آدرشوں کا تیشہ لیے جذبہء ابراہیمی سے سرشار جاہلوں کی اس بستی میں گُھسا تو خرقہ سالوس میں ملبوس جس پہلے شخص سے میری مڈبھیڑ ہوئی وہ میرا باپ تھا، سو پہلے میں اُس کا بیٹا تھا اور بعد میں نئے آدرشوں کا علمبرداراور کُچھ یہ سوچتے ہوئے بھی کہ اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا،میں دم سادھ کر کسی تائیدِ غیبی کی آس میں بیٹھ گیا،میں سارا سارا دن پیرخانے کی عقبی دیوار سے لگی چارپائی پر پڑا گاوں والوں کے معمولات زندگی دیکھا کرتا  نہ کسی آنے جانے والے کی خیر خبر لیتا اور نہ کسی کے سلام کا جواب دیتا۔ ظُلم تو یہ تھا کہ میری اس کنارہ کشی کو بھی گائوں والوں نے مراقبے اور چلے سے جوڑ دیا مگر میں اپنے خیالات میں گُم رہا ،کسی بھی گائوںمیں زندگی ایک مخصوص ڈگر پر چلتی ہے جس میں ہر شخص کے کُچھ لگے بندھے کام ہوتے ہیں، ہمارے گاوٗں میں بھی دوسرے بہت سے دیہاتیوں کی طرح صبح ہوتے ہی کسان قُلبہَ کاندھے پر لٹکائے بیلوں کی جوڑی ہانکتے،کندھے سے ڈھلکتی چادر کو سنبھا لتے ہا تھ میں پکڑی چوب ایک مخصوص انداز سے فضا میں اُٹھاتے گراتے خراماں خراماں کھیتوں کو نکل جاتے،راج پرائے جذبوں اور خواہشوں کی تعمیر میںجوت جاتے ، کمہار رات کی تری لگی مٹی چاک پر جماتا اور اس بے جان لوندے میںدھیرے دھیرے احساس کی روح پھونکنے میں لگ جاتا،وہ جب چاک کو تیز تیز گھما کرگیلے ہاتھوں سے صراحی کی گردن پر سے فالتو مٹی اُتارکر اُسے پتلا کرتا تو مُجھے یوں لگتا جیسے کوئی ہاتھ میرے گناہوں میں لتھڑے وجود پر سے دھیرے دھیرے گناہ کی کیچڑ اُتار رہا ہے، اور میںخود کو نہایت ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتا، چکی کی تُوک تُوک کی مسلسل آواز سے گائوں کے گھروں کے سارے برتن  بھر جاتے،اور پھر سورج کے ذرا بلند ہوتے ہی گائوں کی دراز قد اور جل تھل جسموں والی کنواریاں جو یوںتو پرائی نظر کا بوجھ تک نہیں سہار سکتی تھیںدو دو گھڑے سروں پر اور ایک ایک پہلو میںدبائے نہایت اطمینان سے قطار اندر قطار گائوں کے عین درمیان میں واقع ٹوبے کی جانب جاتی دکھائی پڑتیں جہا ں بکائن اور شیشم کے درختوں نے ایک اونچے تھڑے پر گائوں کے واحد میٹھے پانی کے کنویں کو ڈھانپ رکھا تھا ، اُن کے قدم زمین سے چند سوت اُوپر ہی کسی غیر مرئی سطح پرپڑتے اُٹھتے معلوم ہوتے اور ایک غیر محسوس جھٹکے سے اُن کی کمر کے ریشمی بل اس قدر واضح ہو جاتے کہ موٹے کھدر کے کپڑے میں سے گنے جا سکتے ۔
میرے سارا سارا دن  یونہی بے کار بیٹھے رہنے پر ابّا جان نے ایک روز حتمی فیصلہ سنا دیا ، میں نے بہت ہاتھ پائوں مارے مگر میری ایک نہ چلی اور میری دستار بندی کر دی گئی یوں مجھے خود خبر نہ ہوئی اور مریدوںنے مُجھے بڑے شاہ جی کی طرح بُت بنا کر پوچنا اور اپنا پیرو مُرشد سمجھنا شروع کر دیا،اور میرا بے مقصد وجود بھی گائوں کی زندگی کے نہ ٹوٹنے والے معمول کا ایک لازمی حصہ بن گیا،پھر ناجانے کب سے چلے آنے والے زندگی کے اس معمول کے دوران ایک روز میں شام کے وقت سارے مریدوں کو رخصت کرنے کے بعداُٹھنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ حجرے کے دروازے میںاک سایہ نمودار ہوا ،لالٹین کے دھندلائے ہوئے شیشے کی اندھی روشنی میں وہ سایہ نزدیک آتے آتے ،دو ،دو گھڑے اُٹھانے والی ایک جواں سالہ دوشیزہ کا روپ اختیار کر گیا، وہ میرے قریب پہنچ کر بے حس و حرکت کھڑی ہو گئی۔
"بیٹھ جائو" میں نے اُسکے یوں کھڑے رہنے پر سپاٹ آواز میں کہا، اور وہ خود کو کمرے میں بچھی پَرال پر گراتے ہوئے میرے نزدیک کھسک آئی، مُجھے اس کا یہ بے باک انداز عجیب سا لگا ،کیونکہ دوسرے مُرید عموماً قریب بلائے جانے پر ایک محضوض جھجک اور ادب کے ساتھ تقریباً دوہرے ہو کر زمین سے لگے ہوئے ذرا ساآگے بڑھ کر رک جایا کرتے تھے۔
میں نے اُس کی دلیری پر حیران ہو کر اُس کی سمت غور سے دیکھا تو ششدرہ رہ گیا،وہ زبیدہ تھی اور ساری کی ساری اپنی آنکھوں میں آن بیٹھی تھی، ایک پل کو میرا دل مچلا کہ میں یہ سارا پاکھنڈ خود پر سے اُتار پھینکوں اور اُسے بانہوں میں سمیٹ لوں مگر پھر ابا کی لعن طعن کا خوف مرشد والے لہجے میں باہر نکلا۔
"کیا ہو گیا ہے تُجھے؟" میں نے اپنی حیرانی کو مُرشد کے وجود میں دفن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھاکہ بقول بڑے شاہ صاحب کے مرشد کسی صورت حیران نہیں ہو تا کیونکہ حیران تو وہ ہوتا ہے جس کو رونما ہونے والے واقعات کی خبر نہ ہو۔
"شاہ جی! درد سے جان نکلی جاتی ہے،دم کروانے آئی ہوں"وہ میرے لہجے کی کرختی کو نظرانداز کرتے ہوئے عجیب خمار میںبولی،اور مُجھے پہلی مرتبہ خوف کا احساس ہوا یوں جیسے اس سارے پاکھنڈ کو میں ہی نہیں وہ بھی خوب جانتی ہے۔
"اچھا تو پھرجہاں درد ہے اس جگہ کو ہاتھ سے دبا اورلے میرا ہاتھ دوسرے ہاتھ سے پکڑ"میں نے اپنے والد سے سیکھے ہوے طریقے کے مطابق دم کرنے کے لیے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا اور مرشدانا رُعب کے حامل لہجے سے بولتے ہوئے اُسے نظر انداز کرنے کی اپنی سی کوشش کی، اُس نے مزید نزدیک کھسکتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑا اور تیزی سے چادر میں لے گئی،اک نرم ریشمی سا لمس محسوس کرتے ہی میرے وجود سے جان نکل گئی، میرے کانوں نے دنیا کی تمام آوازوں کے لیے اپنے در بند کر لیے دماغ نے شعور کی لہریں سارے جسم سے سمیٹ لیں اور پورے وجود میں سائیں سائیں ہونے لگی ، میرا گلہ خشک ہو گیا۔
" دم پڑھیے نا شاہ جی"اُس نے نہایت اطمینان سے میرے ہاتھ کو دباتے ہوئے کہا اور میں یکدم ہوش میں آگیا۔ گویا صور پھونک دیا گیا ہو، میں نے اپنا ہاتھ کھینچنے کی ادھوری سی کوشش کی مگر وہ کسی صورت اُسے چھوڑنے پر آمادہ نہ تھی، اُس نے میرے ہاتھ کو بہت اطمینان سے کہیںآگے کو کھسکا یا اور مجھے یوں لگا کے میرا ہاتھ ہی نہیں پورا وجود کسی پہاڑی کی ڈھلوان اُتر رہا ہے، ڈھلوان اُترکر میں نے خود کو سمیٹنا چاہا تووہ اندھیرے میں کسی سپنی کی طرح پھنکار ی "شاہ جی سنا ہے آپ کے جس برتن میں کمی مُنہ مار دے وہ برتن آپ کتوں کے لیے الگ رکھ چھوڑتے ہیں ؟"
اُس کی پھنکار میرے کانوں میں گرم سیسے کی طرح اندر ہی اندر اُترتی چلی گئی اور وہ خود اندھیرے میں کہیں غائب ہو گئی، لوگوں کی کچی آس کی دیواروں کو ایک ایسے شعور کا سہارا دیتے دیتے جس سے میں خود بھی واقف نہیں تھا میرے وجود کی دیوار مُجھ پر آ رہی، اور یوں میں نے گائوں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ،لیجیے نورالہی ٹانگا لے آیا مُجھے اب حوصلہ کر کے چلنا ہی ہو گا کہ زبیدہ بھی اسٹیشن پر میری مُنتظر ہو گی ،اب آپ ہی کہیے میں بھلا گھر والوں کوکیسے بتائوں کہ اب میں ایک کمیںعورت کا جھوٹھا کیا ہوا برتن ہوں ،لہٰذا اُسی کے قابل ہوں۔









Comments