ڈکا



         
                 ڈکا    

     
پھر یوںہوا کہ آسمان کے سارے سوتے یکدم پھوٹ پڑے، پانی ندی نالوں میں چڑھنے لگا ،صحرا سمندر بن گئے اور یوں اس سال اس قدر مینہ برسا کہ گھروں میں پڑی ساری ماچسوں نے  نمی پکڑ لی، جونہی کوئی آگ جلا نے کے لیے مسا لے پر تیلی کا سرا رگڑتا، تیلی کسی عمر رسیدہ ناتواں شخص کی طرح بھوس کی آواز کے ساتھ سلگنے سے پہلے چپُ سادھ لیتی ،بارش کے زور سے پکے کوٹھے اور ماڑیاں تک ٹپکنے لگی تھیں تو کچے مکانوں اور سروٹ سے بنے چھو نپڑوں کا کیا بنتا، وہ جگہ جگہ سے ٹپکتے چھت تلے بیٹھا کُچھ سوچتے ہوئے بھی کُچھ نہیں سوچ رہا تھا، وہ دو لمحوں میں بٹا ہوا آدمی ہمیشہ کی طرح آج بھی فیصلے کے اگلے اور پچھلے لمحے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہوئے ہچکچا رہا تھا، کمرے کے دوسرے کونے سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ رونے والا آواز کو دبانے کی حتٰی الوسع کوشش کر رہا ہے،لالٹین کی ملگجی روشنی کے زیرِاثر کمرہ موت کی طرح سرد،بوجھل اور کربناک احساس سے بھر گیا تھا، سسکیوں کی آواز کے ذرا بلند ہوتے ہی اُس نے کسی ماہر سوار کی طرح فیصلے کے اگلے لمحے پر ارادے کی زین کَس لی ، اگرچہ لمحے نے پچھلے سمّوں پر سیدھا کھڑے ہو کر بے شمار وسوسے ہنہنائے مگر وہ کسی جونک کی طر ح لمحے سے چمٹا رہا۔سسکیوں کی آواز ذرا بڑھی اور ہچکیوں کی شکل اختیار کرتی چلی گئی،تب یکدم وہ چارپائی سے اُترا اور زمین پر قدم رکھتے ہی یہ محسوس کر کے چونک اُٹھا کے کمرے میں ٹخنوں ٹخنوں پانی کھڑا تھا۔
رجو ، او، ۔۔ رجو ۔۔۔چل بس کر اور دیکھ نالی میں ڈکا لگا ہے وہ نکال کہ پانی اندر سے نکلے، اُس نے کمرے کے نیم تاریک کونے کی طرف مُنہ کر کے کہااور سوچنے لگا کہ نجانے کیوں اندر کا پانی ہمیشہ باہر کے ڈکّوں کی وجہ سے ہی رُکا رہتا ہے،باہر ڈکے نہ ہوںتو شاید اندر ایک بوند نہ ٹھہرے،سسکیوں کی آوازیوںگم ہو گئی جیسے کسی نے ٹیپ کا بٹن آف کر دیا ہو،نیم تاریکی سے ایک ہیولا اُٹھا اور روشنی کے نزدیک پہنچ کر ایک جواں سالہ عورت کا روپ دھار گیا،سوکھے مُنہ کی سسکیوں نے آنکھ کا کاجل تک نہ بھگویا تھا، عورت نے بارش سے بچنے کے لیے چادر کا پلّو پھیرکر سر پر لیا ،چوڑیاں کھنکیں اور وہ ایک چھپاکے سے باہر نکل گئی۔
وہ قدم بڑھا کر چارپائی کے سرہانے جا کھڑا ہوا،چارپائی پر ایک عمر رسیدہ شخص کی میّت پڑی تھی، اُس نے مرنے والے کے چہرے پر ایک نظر ڈالی اور ہاتھ بڑھا کرچادر کا سرا میت کے مُنہ پر ڈال دیا، "   چھیمے نالی تو صاف ہے کہیں ڈکا نہیں لگا ہوا ،گلی والی نالی میںکہیں لگا ہو گا،ساری گلی میںگھٹنے ،گھٹنے پانی کھڑا ہے"  رضیہ صحن ہی سے اُونچی آواز میں بولتی ، گیلی چادر کو جھاڑتی کمرے میں داخل ہوئی اورسلیم کو چارپائی کے سرھانے کھڑا دیکھ کر چپ ہوگئی،پھر چند لمحے چُپ چاپ کھڑا رہنے کے بعد بولی" چھیمے جاکرمامیِ جیرے کوابے ِ کی فوتگی کی خبر دے پر دیکھ پہلے ساتھ والی ماسی جینبِ کو میرے پاس بٹھاتے جانا مُجھے اکیلے میںڈر لگتا ہے"۔
  "او ، او۔۔۔عقل کی دُشمن چپ کر جا کیوںعزت کے درپے ہوئی ہے، پہلے یہ تو سوچ کے ابّا کے کفن دفن کا خرچ کہاں سے آئے گا" اُس نے بیوی کی بات سُن کر سوچ سے حقیقت کی دنیا میں یوں قدم رکھا جیسے کوئی بچّہ نا چا ہتے ہوئے،ڈرتے ڈرتے کڑوی دوائی نگلنے کی کوشش کرتا ہے،
"  لے کوئی نئی میت ہوئی ہے کیا ؟ تُجھے پتہ تو ہے کفن دفن کا انتظام ہمیشہ ہی کمیٹی والے خود کرتے ہیں" رضیہ نے سادگی سے کہاوہ تو ٹھیک ہے پر ابّا کی بڑی خواہش تھی کہ اُسے کمیٹی کا دیا ہوا کفن نہ پڑے جبھی تو ہر وقت کھیسے میں "ہزار کھنڈ" رکھتا تھا بیچارہ، وہ توـ آخیرلی بار اُس کی دوا آگئی ورنہ کفن تو ہر دم ساتھ لیے پھرتا تھامرحوم" 
"بات تو تیری ٹھیک ہے مگر ا ب تووہی ہوناہے جو بستی کے دُوجے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے"
"نئیں رجو تُو سمجھتی کیوں نئیں ابّاآخیر سرکاری ملازم تھا،ساری زندگی کماتا رہا  اور پھر اُسے پنشن بھی ملتی تھی ،اگر تو وہ بھی بستی کے دوجے مردوں کی طرح ویلا ہوتا تو بات دوسری تھی مگر اب جو کفن کمیٹی والوں نے ڈالا تو لوگ کیا کہیں گے"۔
"اچھا تو پھر تُو ہی بتا کیا کریں، اُدھاربھی تو کوئی نہیں دے گا"رجو نے آخری ممکنہ حل کو بھی ردّ کرتے ہوئے کہا۔
وہ دونوں میت کے سرہانے ٹخنوں،ٹخنوں پانی میں کھڑے اس مسئلہ کا حل سوچنے میں یوں مگن تھے کہ اُنھیں قریب پڑی میت کا احساس تک نہ رہا ،یوں جیسے باپ کی موت سے زیادہ دُکھ اور فکر اُنھیں کفن میسر نہ ہو سکنے کی ہے،اور باپ کی میت پر رویا جا سکتا ہے مگر کفن کا مسئلہ حل کرنے کے بعد۔
"اس مسلے کا بس ایک ہی حل ہے اور وہ میں سوچ چکا ہوں بس ،تُو چپ کر کے چارپائی کے پاس بیٹھی رہ کفن کا انتظام میں کر لوں گا" سلیم نے یوں اطمینان سے جواب دیا جیسے نہ صرف یہ کہ کفن آچکا ہو بلکہ تیار کیا جا رہا ہو۔
"پر یہ تو بتا کیسے؟"رجوحیرانگی سے بولی
"دیکھ صبحِ دوسرے مہینے کی دس تاریخ ہے اور ابّاکو پنشن ملنی ہے ہم صبحِ تک چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں اور کسی کو ابّا کی فوتگی کی خبر نہیں کرتے،میں صبح سویرے ابّا کی پنشن کی کاپی اور ڈاکٹر کا پرانا سرٹیفکیٹ بھی ساتھ لیتا جائوں گاکیشیئر بائو ،اباّ کا دوست ہے وہ جانتا ہے کہ ابا بیمار ہے،بس کفن کا مسلہ حل سمجھو" سلیم نے دبے دبے جوش کے ساتھ رضیہ کو ساری بات سمجھائی اور رضیہ جس کے دماغ میں لفظ یوں اکھٹے گھسنے کی کوشش کر رہے تھے جیسے چھٹی ہونے پر کمرے کے واحد دروازے سے بچے ایک دوسرے سے پہلے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاموشی ملی حیرانی کے عالم میں بیٹھی خلاء کو گھور رہی تھی،اگرچہ وہ اُس کی ساری بات سمجھ تو نہ پائی تھی مگر اُس کی ذہانت کی دل سے قائل ہو گئی تھی، پھر وہ دیر تک صبح کے انتظار میں بیٹھے رہے اور اندر کا پانی باہر کے ڈکے کی وجہ سے رُکا رہا، چلو اچھا ہوا اب صبح تک آرام سے بیٹھ تو سکوں گی ورنہ چھیمے کی وجہ سے یونہی جھوٹی سسکیاں بھرنی پڑ رہی تھیں،رضیہ نے سوچااور دیوار کے ساتھ لگ گئی۔
زور زور سے چھنچھوڑے جانے پر وہ یکدم اُٹھ بیٹھی، "رجو۔۔ او ۔۔رجو اُٹھ ابے کی پینشن کی کاپی نکال کر دے"آنکھ کھلتے ہی چھیمے کی آواز اُسکے کانوںسے ٹکرائی، بادلوںکی فوج سے لڑتی، تھکی ہاری روشنی کو آسمان پر چھائے  دبیزبادلوںنے صبح ہو جانے کے باوجودصبح کا سماںبنانے میں کا میاب نہیں ہو نے دیا تھا ، رتجگا رضیہ کے جسم میں درد بن کر دوڑ رہا تھا،طبیعت پر عجیب کسل مندی چھائی ہوئی تھی، وہ آنکھیں ملتی ہوئی نیچے اُتری اور کمرے میں کھڑے پانی میں پائوںپڑتے ہی اُس کی ساری نیند یکدم اُڑ گئی، وہ آہستہ آہستہ چلتی چار اینٹوںکی بنی چوکی پر پڑے صندوقوں کی طرف بڑھی اُوپر کے دو صندوق اُٹھا کر اُس نے چارپائی پر رکھے سب سے نیچے ابّا کا صندوق رکھا تھا جو تقریباً آدھا پانی میں ڈوبا ہوا تھا، اُس نے لوہے کے صندوق کا ڈھکنا اُٹھایا تو سکتے میں آگئی صندوق میں پڑی ابّا کی دوسری اشیا کے ساتھ پنشن کی کاپی بھی پانی میںلت پت ہو گئی تھی، پانی زنگ آلودہ صندوق کے پیندے میں سے اُوپر چڑھ آیا تھا، سلیم نے جو یہ حال دیکھا تو یکدم رضیہ پر ٹوٹ پڑاچیخنے اور رونے کی آوازیں سن کر محلے کے لوگ دوڑے چلے آئے، لوگوں نے بلکتے ہوئے سلیم کوگلے لگایا اور تسلی دینے لگے، مارے دُکھ کے سلیم کے گلے سے آواز نہیں نکلتی تھی۔ وہ روتے ہوئے نیم مردہ انداز میں ہاتھ اُٹھا کر ایک سمت کو اشارہ کرتا اور دیکھنے والوں کی نگاہیں چارپائی پر پڑی میت پر جا کر رُک جاتیں اور پھر کوئی نا کوئی اُسے تسلی دینے لگتا، مگر جونہی سلیم کا ہاتھ فضا میں اُٹھتا اور نظر چارپائی کی دوسری جانب پڑے صندوق پر پڑتی وہ پھر بلک پڑتا۔  

 






Comments