مونتاژ سروپ




                                                                               سرُوپ    
 
                                                 
میرے تجربوں کی وسعّت زندگی کے اُتھل پانیوں میں تیرنے اور خود کو ایک مایہء  ناز پیراک کہلانے کے شوق کے سوا کچھ نہیں جب کبھی وقت کی رو  راستے میں حائل کسی حقیقت سے ٹکرا کر زندگی کی لہروں میں چھل پیدا کرتی تو اُتھل پانی گہرے ہونے لگتے اور میں فوراً  اپنی جگہ چھوڑ کر بہت آہستہ اُلٹے پائوں چلنے لگتا تاکہ کسی کو خبر نہ ہو کہ میں حقیقتوں کی ایک بڑی لہر سے گھبرا کر اپنی جگہ چھوڑ رہا ہوں، کیونکہ بہ بانگ ِدہل خود کو حقیقت پسند کہلانے والا یوں حقیقتوں سے بھاگتا پھرتا کچھ اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ آخر ِکار مجھے جس چیز نے زندگی کے گہرے پانیوں کا تجربہ کروایا،وہ میرے لیے عورت نام کی وہ کشتی تھی جو اپنے سوار کو عین گہرائی میں لے جا کر خود ہولے سے کھسک لیتی ہے،مجھے زندگی میں پہلی دفعہ عورت ہی کے کارن معلوم پڑا کہ آدمی حقیقت پسند کس وقت بنتا ہے، ـمیں آج تک آکاش سے اس بحث میں اُلجھتارہا کہ جرات مثبت جذبہ ہے یا منفی اور یہ کہ حقیقت پسندی جرات کی مرہونِ منت ہے یا جر ات حقیقت پسندی کے؟ بعض اوقات ہماری بحث بہت طویل ہوتی مگر نتیجہ کچھ برآمد نہ ہوتا میرا موقف یہ ہوتا کہ جرات مثبت بھی ہے اور منفی بھی،یعنی یہ بذاتِ خود کچھ نہیں مگر حالات کے پیشِ نظر یہ مثبت بھی ہو سکتی ہے اور منفی بھی اورآکاش زور دیتا کہ یہ ہر حال میں منفی ہے اور جرات نام ہی منفی رجحانات کے یک جا ہونے کا ہے ، یہ وہ انسانی جبلت ہے جو اپنی جان کو خطرے میں دیکھ کر خود بخود حرکت میں آجاتی ہے، اس زمرے میں صرف جان ہی نہیں بلکہ عزتِ نفس،مال ودولت اور ہر وہ چیز آتی ہے جو کسی بھی طرح ایک انسان کو دوسرے سے منفرد کرتی ہو، مگر میں ہر دم اس کی نفی کرتا رہا اور آخرِکار عورت نے مجھے احساس دلایاکہ میں بہت زیادہ اور آکاش تھوڑا سا غلط تھا،کیونکہ احساس کے جس پودے پرجرات کا پھل آتا ہے وہ صرف منفی رجحانات کی حامل زمین میں ہی پروان چڑھ سکتا ہے، البتہ خود آدرشی،علمیت،صبر،کسرِنفسی جیسی مثبت اثرات کی حامل سوچیں وہ خصوصیات ہیں جو اس کے پھل کو مثبت رنگ دے سکتی ہیں،مگر ان نادر خصوصیات کا کسی ایک جگہ یکجا ہونا بذاتِ خود ایک ناممکن بات ہے اور یوں واقعہ یہ ہے کہ جرات صرف اور صرف منفی رجحانات کے نہ صرف زیرِاثر پیدا ہوتی ہے بلکہ پھلتی پھولتی بھی وہیںہے ، حقیقت پسندی اور بزدلی میں ایک باریک سی بال برابر لکیر واقع ہے،بعض اوقات ان دونوں میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے ،کبھی خود اپنی ذات اور کبھی دوسروں کے ردِعمل میں،حقیقت پسندی دراصل وہ رویہ ہے جو ہم کوئی دوسرا راستہ نہ پا کر اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں یا کر دیے جاتے ہیں، اس کی مثال یوں ہے کہ آپ ایک ایسی چٹان پر کھڑے ہیں جس کی دوسری طرف بہت گہرائی میں سمندر واقع ہے اور سامنے سے ایک شیر لمحہ بہ لمحہ آپکی طرف بڑھتا چلا آ رہاہے ایسے میں یقیناً جرات سے کام لیتے ہوئے آپ یا تو شیر سے مقابلہ کریں گے اور یا پھر اُندھے منُہ سمندر میں گرنے کی بجائے خود سوچ سمجھ کر چھلانگ لگا ئیں گے اور یہی حقیقت پسندی ہے جو گھیراو کی صورت میں انسان اپنانے پر مجبور ہوتا ہے اور جس کی پشت پناہی جرات کرتی ہے،یوں بظاہر حقیقت پسندی بھی ایک منفی رجحان ہوا۔۔۔جی۔۔ جی۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ بجا فرمایا آپ نے ، میں واقعی بحث بہت لمبی کرتا ہوں اور سچ پوچھیں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ پارلیمانی اجلاسوں کی طرح وہ ہوتی بھی بالکل لاحاصل ہے، کیونکہ اکثر میں خود اُسی نقطے کی مخالفت کرنے لگتا ہوں جس کے حق میں میں نے بات کرنی شروع کی تھی اور بعض اوقات اس کے بالکل اُلٹ بھی یعنی اس موضوع کے حق میں رائے دینی شروع ہو جاتا ہوں جسکی مخالفت پر میں نے کمر باندھی تھی اور زندگی کے معمولات میں یہی دوہرا پن میرے ہر کام میں بدرجہ اُتم موجود ہے۔۔۔۔ہا ۔۔۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔۔۔ واقعی ،واقعی۔۔۔۔یوں میں واقعی خوش قسمت اِنسان ہوں کہ اِس مصنوعی قحط زدہ دور میں میرے پاس ہر چیز دوہری ہوئی بہ نسبت شخصیت کے دوہرے پن کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر اس دوہرے پن کی بات چھوڑیئے اور ذرا ذہن پرزور دے کر اپنے سُپر کمپیوٹرکی یاداشت میں وہ منظر تلاش کیجیے جب پہلی پہلی مرتبہ آپ کو زندگی کا شعور حاصل ہونا شروع ہوا تھایعنی کسی بہت بڑے فلسفے کا ادراک ،کسی انتہائی ادنیٰ واقعہ سے تعلیم ہوا اور پھر کہیں بہت بعد میں اس کی تفہیم ہوئی، بالکل بچوں کی کتا ب میں ترتیب وار نمبر لگا کر نقطوں سے بنی تصاویر کی طرح ،جوپنسل سے لا ئین کھینچ کر نمبروار نقطے ملانے سے یکدم شکل اختیار کر لیتی ہیں، بالکل اسی طرح میں نے زندگی کے کینوس پر انسانی نقطوں سے بنیں رشتوں کی تصویروں کو جذبات کی لکیریں کھینچ کر مکمل کیا اور یوں زندگی کی حقیقتوں کے بارے میں ،میں نے بہت سی باتیں بہت سے لوگوں سے سیکھیں جو سب لاشعوری عمل تھا، ایک قدرتی کمپیوٹررایزڈ سسٹم کے تحت یہ سب ہوتا گیا اور میں نے بہت سے برے لوگوں سے بہت سی اچھی باتیں اور بہت سے اچھے لوگوں سے بہت سی بُری باتیں سیکھیں ،جنکی مجھے خود خبر نہ ہوئی پھر جب کبھی کسی بات یا رویئے کاسایہ حقیقت کا روپ لیکر سامنے آیا تو کسی حد تک شعور مکمل ہوتا گیا ۔۔۔۔ جی ،  ۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔ ۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔خوب یاد دلایا آپ نے، میں معافی چاہتا ہوں،مگر اس کی وضاحت میں پہلے ہی کر چکا ہوں کہ یہ میری کمزوری ہے ۔۔۔بہرحال تو بات پہنچی تھی حقیقت پسندی اوراُس کے شعورتک جو مجھے ایک مہربان عورت بلکہ اُسے لڑکی کہنا زیادہ بہتر ہو گا کی وجہ سے حاصل ہوا اس تمثیل سے لطف اُٹھانے کے لیے میں آپ کو اس واقعہ کی بنیاد پر لیے چلتا ہوں، تو پھرذرا تکلیف کیجیے اور اپنے سُپر کمپیوٹر کے ذریعے وہ جذبات وایّام دہرائیے جب آپ عنفوانِ شباب میں قدم رکھ رہے تھے اور آپ کے گرد ایک مقدّس ہالہ محوِ رقص رہتا تھا،آپ روئی کے گالوں کی طرح فضائوں میں اُڑتے پھرتے تھے اور جذباتیت آپ پر اس قدر غالب تھی کے کوسوں دُور سُرمئی پہاڑیوں کی چوٹیوں کو چُومتے بادل آپ کو یوں ترنگ میں لے آتے گویا آپ پر برس رہے ہوں۔
 میرے دوست!  ۔۔۔ ذرا سوچئیے کہ عمر کے اسقدر خوبصورت حصے میں آپ کو کسی بدصورت ترین حقیقت کا سامنا کرنا پڑجائے تو کیا کیجیے گا؟عمر کے ایسے ہی دور میں ،میںنے اپنے متعلق چہ مگوئیاں سُنیں،میرا تمسخر اُڑایا گیااور مجھے سکول سے لے کر مسجد اور گلی محلوں سے گھروں تک نسلی امتیازاور معاشرتی تضاد کا سامنا کرنا پڑاذرا سوچئیے توایسے بچے کی شخصیت بھلا کیا خاک تعمیر ہو گی جس پر غربت اور مذہب لاد دیئے جائیںاور کھیل کود میںملنے والی خوشی وانبساط کے لمحوں سے دُور رکھ کر گھرکے چھوٹے موٹے کام کروائے جائیں اور بالائے ستم اُس پر علم حاصل کرنے کے دروازے بند کر دئیے جائیں اوروہ لاکھ مخالفتوں کے باوجود کوشش کر کے اپنے لیے علم کا دروازہ کھول لے تو بعد از بلوغتِ عقل ،معاشرے کا رویہ ، اور اُس کی آگہی کا ٹکرائو اُس کےلیے عذابِ جاں نہ بنے گا کیا ۔۔۔۔؟ اور پھر اُس پر ستم ،وہ خواہشات جو اندرہی اندر اُسے دیمک کی طرح چاٹ رہی ہوں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ" سارا عذاب ہی جاننے اور نہ جاننے کا ہے " اور یہی جملہ یہاں صادق آتا ہے۔

پھر ایسے میں یوں ہوا کہ گاہ بہ گاہ مجھے اس کا قُرب میسر ہونے لگا اُس کا ماحول میرے ماحول کی ضد، وہ
 کھاتے پیتے گھرانے کی نازو نعم میں پلی ایک شگفتہ کلی اور میں ایک ایسی گرم دوپہر جسے اس کی صبح سے کچھ تعلق نہ شام سے ، کہ صبح کتنی ہی شگفتہ اور مدھر کیوں نہ ہو آپ دوپہرکی تمازت سے نفرت کریں گے اور دوپہر  چاہے کیسی ہی آتشیں اور جہنم خیز کیوں نہ ہو شام کا سلونا پن آپ سے اپنی ستائش کرائے بغیر جانے کا نہیں، میں نے اُس دور میں اپنے باپ کے ٹوٹے ہوئے عصا میں کیل بن کر لگنے کی کوشش کی،کہ وہ کچھ مضبوط ہو مگر حالات نے میرے وجود کو عصاکی مٹھ میں نکلا ہوا کانٹا بنا دیا جس کی چبھُن عصا کا سہارا لینے والے کے لیے ناقابلِ برداشت تھی،کچھ میری خواہشوں نے جو غیر متوقع طور پر پوری ہو رہی تھیں مجھے کاہل اور خوش فہم بنا دیا اور جلد ہی میرے گردروشن مقدّس ہالے کی لو مدھم پڑنے لگی، ضروریات کی تیز روشنی نے جذبات کی دھنُدآنکھوں پر سے ہٹائی تو رویوں نے رُخ بدل لیا میں ابھی بدلتے رویوں کو سمجھنے کی کوشش میں مصرو ف تھا کہ وہ زر میں تُل کربک گئی اور میں نے بھی پہلی دفعہ حقیقت پسندی کا سامنا کیا، یوں مجھے معلوم ہوا کے حقیقت پسندی کاسامنا مجبوراً کرنا پڑتا ہے جب سب راہیں مسدوّد ہو چکی ہوں،یہ سب تو خیر ایک حد تک سمجھ آنے والی بات ہے مگرمیرے دوست !   ایک بات جو آج تک میں نہ سمجھ سکاوہ ہے فطرت کی بے رحمی، میں نے آپ سے عرض کیا تھا نا کہ میں زندگی کے اُتھل پانیوں کا باسی ہوں اور ظاہر یہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ سارا سمندر میرا دیکھا بھالاہے، اُتھل پانیوں میں رہنے کا ایک فائدہ مجھے یہ ہوا کہ میں زیادہ نہ سہی مگر تھوڑے بہت اندر کے رازوں سے واقف ہو گیاکیونکہ سمندر ہر چیز کو کچھ دنوں تک خود میں سمونے کے بعداُسے اُتھل پانیوں کی طرف اُچھال دیتا ہے اور اسی طرح مجھے فطرت کی بے رحمی والے واقعے پر توجہ دینے کا موقع ملا اور سچ پوچھیئے تو یہ واقعہ مجھے بہت دُکھ دے گیا۔۔۔۔۔۔۔۔آپ محسوس نہ کریں تو میں سگریٹ سلگالوں ۔۔جی شکریہ۔۔۔جی ،جی ہاں آپ نے سچ کہا۔۔ جب میں سگریٹ نہیں پیتا تھا تو اس کے دُھوئیں کے بارے میں میری بھی یہی رائے تھی کہ لوگ اسے کس طرح برداشت کر لیتے ہیں۔۔۔اوہ اچھا ،بھئی واہ!۔۔۔ یہ بھی اپنی طرز کی ایک ہی مثال ہے۔۔۔۔یعنی آپ شاید اکیلے آدمی ہوں گے جو خود تو سگریٹ پیتے ہیں مگر کسی کا اُگلا ہوا دھواں آپ کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، جبکہ زندگی بہت سے لوگوں کو دوسروں کا اُگلا ہوا نوالہ تک چبانے پر مجبور کردیتی ہے زندگی اِنسان کے ساتھ کیاکیا سلوک نہیں کرتی؟ مگر انسان پھر بھی اس سے جدا ہونا نہیں چاہتا،کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ فطرت کتنی بے رحم ہے۔۔؟ اور اُس کی یہ بے رحمی کتنا بڑا سچ ہے کہ وہ انسان کے وجود میں کیسی عجیب و غریب خواہشیں پروان چڑھاتی ہے، خواہشیں جو زندگی کا زہر ہیں، اگر خواہشیں نہ ہوں تو زندگی کی وقعت یقینا کم ،بہت کم ہو جائے،ذرا سوچئیے کہ فطرت انسان پر کس قدر ظلم کرتی ہے کہ ایک نومولود کے جسم میں بتدریج خواہشوں کازہر پھونک دیا جاتا ہے،جو عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ پہلے سے طے کردہ طریقہ کار کے مطابق عمر کے مختلف مدارج میں نہایت شدّت سے اُس پر حملہ کرتی ہیں اور اُسے توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہیں، یہ سب کمال ہمارے خالق ہی کا تو ہے ،جو انسان کو ایک مقرر ہ حدّ سے آگے نہیں جانے دیتا، ۔۔۔ توکیا میں کہوں کہ وہ خائف ہے ؟
اگر آپ کا جواب ہاں ہے ، توکس سے؟ کیا اپنے لکھے سے ۔۔؟ آپ تو برُا منا گئے۔۔۔۔۔۔۔چلیے آپ ہی کہیے یہ سب کیا ہے۔۔؟
میرے دوست !۔۔۔۔یہ کیسا گورکھ دھندا ہے ۔۔؟
چلیے چھوڑیئے اس یک طرفہ بحث سے بھلا کیا حاصل ،میں آپ کو فطرت کی بے رحمی والا واقعہ سناتا ہوں ،جو مُجھے انتہائی دُکھ دے گیا،قصّہ یوں ہے کہ میں نے اپنی زندگی کا کچھ حصہ حکومت کے ایک فوجی ادارے کے اسٹیٹ آفس میں بطورِکلرک ملازمت کرتے گزارا ۔ہمارے دفتر کے ذمہ ادارے میںکام کرنے والے ملازمین کو اُن کی سنیارٹی کے لحاظ سے کوارٹر الاٹ کرنا ،اور بعداز رٹیائرمنٹ اُن سے کوارٹر خالی کروانا،اور علاقے میں صفائی اور خوبصورتی کا خیال رکھنا اور اسی طرح کے دیگر کئی کام تھے، ایک روز میں دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایک عورت میری میز پر آئی جی فرمائیے؟ میں نے لاشعوری طور پر وہ لہجہ اپناتے ہوئے کہا 
  جو عموماً میں صنفِ نازک کے لیے استعمال کرتا ہوں،نرم اور شہد ملا لہجہ، عورت نے کچھ کہے بغیر اپنی ریشمی چادر سے ہاتھ باہر نکالا اور اس میں پکڑی چٹ میری طرف بڑھا دی میں نے چٹ پر لکھا درخواست کا نمبر دیکھ کرروزنامچے میں اس کے متعلق تفصیل دیکھی اور درخواست وصول کرنے والے کلرک کی میز کی سمت اشارہ کرتے ہوئے اُسے بتایا کہ اُسکی درخواست اُس کلرک کے پاس ہے، عورت اسی طرح سوالیہ انداز میں اُس کلرک کے سامنے جا کھڑی ہوئی، تھوڑی دیر تک کمرے میں بڑبڑاہٹ گونجتی رہی اور پھر خاموشی چھاگئی، عورت دوبارہ میری میز پر آن دھمکی میں نے ایک نظر اُسکے سراپے پر ڈالی سر تا پا چادر میں لپٹے اس ملفوف میں دو واضح اُبھار اُس کی کشش میں پراسرار سا اضافہ کر رہے تھے،اپنی جانب یوں متوجہ پا کرعورت نے اپنی آنکھیں میری آنکھوں میں گاڑ دیں، میرے جسم میں اندر کسی دور افتادہ مقام سے گدگدی،کرنٹ اور تلپٹ کا سا ملا جلا ایک بگولا اُٹھا اور یونہی بے سمت سا دوڑ کر بیٹھتا چلا گیا،میں نے اسکی مقناطیسی نگاہوں سے نظریں ہٹائیں تو نجانے کیوں مُجھے یکدم یوں محسوس ہوا جیسے میرے پھیپھڑوں کو زیادہ آکسیجن کی ضرورت درپیش ہے میں نے ایک بڑا پُر آواز سانس لیتے ہو ئے ہنکارابھرا بے چین ہو کر کرسی پر پہلو بدلا اور خو د کو سنبھا لنے کے لیے اُس کے ہاتھ سے چٹ  لے کر اُس "گدھ نما " کلرک کی جانب چل دیایہ نام اُسکی شخصیت کا وہ تاثر تھا جوروزبروز اُس کے ساتھ وقت گزار کر اس کی عادات اطوار اور خصائل سے واقف ہونے کے بعداُسکے بارے میں بنا اور آج تک تبدیل نہ ہو سکا، اُسکی مخصوص طرز کی ناک اُس پر دھری عینک اور عینک کے اُوپر سے گھورتی دو سرخ،سرخ گول آنکھیں اُس پہ ستم اُس کے ایک خاص ترتیب سے اُڑے ہوئے سر کے بال اور سب سے بڑھ کر اُس کی اخلاقی بدحالی یہ سب چیزیں مل کر اُسے لج لجی لمبی گردن والے کریہہ الشکل مردار خور گدھ سے مشابہ کرتی تھیں،مجھے اُسکی میز پر پڑی اُس عورت کی کیس فائل کی ورق گردانی کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ وہ ملک کی ایک مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتی ہے اور ایسے علاقے میں رہائش پذیر ہے جو اس کے ہم مذہب  اور اس ملک میں دُوسرے درجے کی حثیت  کے حامل شہریوں کیلیے مختص ہے ، جہاں اردگرد اُس کے رشتہ دار  رہتے ہیں اور اُن سے کسی گھریلو جھگڑے کی بنا پر وہ اُس علاقے میں واقع اپنا اوّل درجے کا مکان چھوڑ کر کہیں اور  دوسرے درجے کے کوارٹر میں جانے کو تیارتھی،اور الاٹمنٹ قوانین کے مطابق یہ ایک قابلِ عمل بات تھی مگر ایڈمن آفیسر نے اس وضاحتی نوٹ کے ساتھ کہ درخواست دہندہ کو ایک ایسے علاقے میں سے جو اس کے ہم مذہبوں کے لیے مختص ہے، اکثریتی مذہب کے رہائشی علاقے میں نہیں بھیجاجا سکتا کیونکہ موجودہ کوارٹر خالی ہونے کی صورت میں اکثریتی مذہب کا کوئی شخص اس علاقے میں کواٹر لینے پر راضی نہ ہو گااورکسی اقلیتی کی سنیارٹی لسٹ میں باری آنے تک کوارٹرخالی رہے گااور محکمے کو کرایہ نہ ملنے کی وجہ سے نقصان ہوگا،اس صورتِحال کے پیشِ نظر کواٹر شفٹ نہیں کیا جا سکتا، میں نے یہ ساری کتھاجوں کی توں اُس عورت کو سنا دی اور وہ بچاری مایوس و نامراد لوٹ گئی۔ 
پھر یوں ہوا کہ میری ڈیوٹی بدل دی گئی،اب میں دوسرے ممالک سے آنے والے اُس کے ہم مذہب معزز مہمانوں کی میزبانی پر مامور تھا ، ایک روز میرے ساتھ والے مکان کے سامنے ٹرک آ کر رُکا اور سامان اُتارا جانے لگا ،سامان اُتارنے والوں میں ایک نو عمر لڑکا مجھے اپنی طرف تکتا پا کر آگے بڑھا اور اس نے مُجھ سے مصافے کے لیے ہاتھ بڑھایا،میں نے بھی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرداً فرداً  ان سب سامان اتارنے والوں سے ہاتھ ملایا حالانکہ ان کے ہاتھ پسینے پر گرد جمنے کی وجہ سے قطعاً اس قابل نہ تھے کہ میں ان سے مصافحہ کرتا،مگر میں ہمیشہ کسرِ نفسی سے کام لیتا ہوں،اور ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا بہت خیال رکھتا ہوں تاکہ کسی بھی شحض کی دل آزاری نہ ہو،بہرحال وہ میری خوش اخلاقی سے بہت متاثر ہوئے اسی دوران ان کی باہمی گفتگو سے یہ عقدہ کھولا کہ وہ سب دیہاڑی دار مزدور ہیں اور مُجھے بڑا دُکھ ہوا کہ میں نے فضول اپنا وقت ان کو اپنی خوش اخلاقی سے متاثر کرنے میں برباد کیا ، اتنی دیر میں تو میں اپنی دوپہر کی آدھی نیند سو لیتااور پھر ان کا بھلا ایسے احساسات و جذبات سے کیا تعلق اور اگر ہو بھی تو مجھے ایسے لوگوں سے جن سے زندگی میں دوبارہ واسطہ پڑنے کے دُور دُور تک کوئی آثار نہ تھے خوش اخلاقی،روادری،عجزوانکساری  جیسے جذبات سے پیش آنے کا کوئی جواز نظر نہ آتا تھا،اگرچہ یہ سب جذبات کس قدر مصنوعی اور غیر حقیقی ہوتے ہیں، اس ضمن میں، میں آپ کو  چند واقعات سنائوں گا مگر ابھی نہیں، اُس شام گھر سے نکلنے پر میری ملاقات اسی نوعمر لڑکے سے ہوئی جو مزدورںکے ساتھ تھا ،وہ نہایت گرم جوشی سے ملا  ،میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ یہ کوارٹر اسکی والدہ کو ملا ہے پھر وہ مجھے جذبہء خیر سگالی کے تحت اپنے گھر لے گیا،صحن میں پڑی چارپائی پر ہم بیٹھے ہی تھے کے باہر کا دروازہ کھلا اور ایک درمیانی سن کی ،پرکشش آنکھوں والی متناسب ا لااعضاء عورت  اندر داخل ہوئی  ،مجھ پر نظر پڑتے ہی اس کے سانولے تیکھے نقوش والے چہرے پر ہزاروں شکنیں اُبھر آئیں ،اس نے لڑکے کو گھور کر دیکھا،مگر لڑکا اس کے احساسات سے بے نیاز میرا تعارف کروانے میں جُتا ہوا تھا،مجھے اس کے اندازِ تخاطب سے اندازہ ہوا کے یہ لڑکے کی ماں ہے،پھر باتوں کے دوران پردہ اٹھا کے یہ وہی عورت ہے جس کی میں نے درخواست  ڈھونڈنے  میں مدد کی تھی مگر اس کا کام نہیں ہو سکا تھا ،مجھے پریشانی لاحق ہوئی کہ ایک کم درجے کا اقلیتی گھرانہ میرے پڑوس میں آن بسا تھامگر میں نے اپنی فطری رواداری اور متانت کے پردے تلے اپنی 
پریشانی اور ناپسندیدگی کو چھپالیا مبادا ان لوگوں کی دل آزاری نہ ہو، دوسرے دن میں اپنے پرانے آفس جا پہنچا،متعلقہ کلرک سے گپ شپ لگانے اور چائے پینے کے بعد میں نے  اس کے کوارٹر کی فائل نکال کر ورق گردانی کرنا شروع کی اور تب میری نظر ایک بیان حلفی پر جا کر رُک گئی،جس کا حاصلِ مضمون یہ تھا کہ، میں خطیب جامع مسجدفاروقیہ تصدیق کرتا ہوں کہ فلاں بنتِ فلاں نے میرے ہاتھ پر اسلام قبول کیا میں دعا گو ہوں کہ خدا اسے دینِ اسلام پر عمل پیرا ہونے اور مستقل مزاج رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین، اور بیان کے آخر میں خطیب صاحب کا نام بمعہ دستخط موجود تھا،میں حیران ہوا کہ وہ اس کارِثواب کو لوگوں سے کیوں چھپا رہی تھی اسے میری ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے مجھے بتانا چاہیے تھا کہ وہ اپنا مذہب تبدیل کر چکی ہے ،رہ رہ کر مجھے کہیں گڑبڑ کا احساس ہو رہا تھا مگر گڑبڑ کیا ہے؟ یہ سمجھ نہیں آرہی تھی پھر یکدم گزشتہ روز ،رونما ہونے والے واقعات کی پوری فلم میری آنکھوں کے سامنے چلی اور مجھے یاد آیا کہ صحن میں بیٹھے ہوئے کمرے کے نیم وا دروازے سے مجھے ان کی مقّدس شبیہ سامنے کی دیوار پر لگی نظر آئی تھی، تب سارا معاملہ میرے ذہن میں کھل گیا وہ دن میں نے ایک شدیداور عجیب جذبے کے تحت گزاراکئی مرتبہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے شدّتِ جذبات کے زیرِ اثر غائب الدماغی کے عالم میں اپنے آپ سے باتیں کی ہوں،پھر میں چونک کر اردگرد بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھتا کہ کسی نے میری اس خود کلامی کو سُن تونہیں لیا مگر سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مگن ملتے ، بارہا میرا دل چاہا کہ میں کسی دوسرے کو اس راز میں شامل کر لوں مگر پھر خیال آتا کہ اس اخلاقی بدحالی کے دور میں کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا،آخر کومیں نے کسی کو کچھ نہ بتانے کا فیصلہ کر کے چپ سادہ لی کچھ دنوں تک میں یہ چپ سہتا رہا اور اس چپ نے میری "میں  "کو کھینچ کر مجھے کسی مہان دیوتاسے بڑا بنا دیا توایک دو روز تک میں اس بڑے پن کے نشے میں جھومتا رہا،پھر مجھے اندازہ ہوا کہ اتنے بڑے احساس کو یوں اکیلے سنبھال کر خود میں سمیٹے رکھنا کہ کسی کو کانو کان خبر نہ ہوکتنا مشکل کام ہے ،  اور اس سے پہلے کہ میں اس مہانتا کے پہاڑ تلے دب کر جان دے دیتا میرے اندر کے گہرے پا نیوں سے مردِ جہاں دیدہ اُبھرا اور میرے سر پر سے جان نکال دینے والا مہانتا کا بیکار بوجھ ساتھ لیے دوبارہ گہرے پانیوں میں جا رہا،مجھے یکدم احساس ہوا کے انسان اپنے اندر اُٹھنے والی فطری خواہشات اور جذبات کا گلہ دبا کردوسرں اور خود کی نظروں میں مہان تو بن جاتاہےمگر پھر اس مہانتا کے بوجھ سے گلوخلاصی اُسکے بس میں قطعی نہیں ہوتی ِ ،میں بھی اس بوجھ سے جان چھوٹتے ہی فطری  مرداناجذبے کے زیرِاثر اسکے دروازے پر جا پہنچا میرے دستک کے جواب میں اس نے دروازہ کھولا اور مجھے کھڑا دیکھ کر حیران ہوئی ابھی کچھ کہنے نہ پائی تھی کہ میں نے اپنے لہجے کو انتہائی رازدارانہ بناتے ہوئے اسے کہا کہ مجھے اس سے ایک ضروری کام ہے اور اُس سے اکیلے میں بات کرنی ہے،اس نے معاملے کی گمبھیرتاکااندازہ میرے لہجے سے لگایا اور دوسرے ہی لمحے مجھے اندر بلا لیا ،کمرے میں بیٹھنے کے بعد میں نے ہمدردانہ اور معاملہ فہمی کاسا لہجہ اپناتے ہوئے سامنے دیوار پر لگی ان کی  مقدس مذہبی شبیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایاکہ آج ہمارے آفس میں اسکے خلاف درخواست آئی تھی کہ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم ہے اور یہ کہ جو بیانِ حلفی پیش کیا گیا وہ جھوٹا تھااور یہ سارا معاملہ میرے سپرد کیا گیاہے تاکہ میں انکوائری کر کے رپورٹ پیش کروں،یہ سب سن کر اُس کے چہرے کا رنگ متغیرہو گیا تو میں نے ہمدردانہ لہجے میں اپنی مدد کی پیش کش کی اس شرط پر کہ اگر وہ مُجھے ساری بات بتادے تب اُس نے بتایا کہ وہ مجبور تھی خاوند سے علیحدگی کے بعد اپنے مذہب کی رُو سے وہ دوسری شادی نہیں کر سکتی تھی اور اُس کا گھر سارے عزیز رشتہ داروں کے گھروں کے درمیان واقع تھا  اس لیے یہ ممکن نہ تھا کہ اس کالاگُو گھر آ سکے اِس لیے اُسی نے وہاں سے شفٹنگ کے لیے درخواست دی مگرجب درخواست پر عملدرآمد نہ ہوا تو اُسکے دوست نے مشورہ دیا کہ اس کا واحد حل تبدیلیِ مذہب ہے، اور یوں انھوں نے مل کر مسلئے کے حل کے لیے یہ ترکیب آزمائی جو کامیاب بھی رہی،پھر اس نے انّا و خوداری کا لبادہ ایک جانب رکھا اور اچانک میرے قدموں میں بیٹھتے ہوئے لجاجت اور منت بھری آواز میں مجھے ہر حال میں مدد کرنے کی درخواست کی اور یقین دہانی چاہی اور میرے دوست سچ پوچھیے تو مجھے بھی اُس سے ہمدردی محسوس ہونے لگی تھی، وہ مذہب کی ماری اور قانون کی روندی ہوئی انسانیت کی لاش واقعی قابلِ رحم تھی، مگر ناجانے کیوں میرے لہو میں ایک بے سمت سی خواہش نے رینگنا شروع کر دیاتھا،میں نے اپنی خواہش کو سختی سے کچلتے ہوئے اُسکی بھرپور مدد کرنے کا وعدہ کیا ،مگر انسان کے سفلے پن اور ہوس پر افسوس صد افسوس کہ انسان خود سے چھپ چھپ کر خود اپنے متعین کردہ راستوں پر چلتا ہے اورخود کو جھوٹی تسلیاں دے دے کر مطمئن کرتا رہتا ہے بالکل اسی طرح یہ بھی میری خواہش کی پکار تھی جوہمدردی کا لبادہ اُوڑھ کر آگے بڑھ رہی تھی،اور پھر ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا،وہ روزانہ مجھ سے انکوائری رپوٹ بھجوانے کے متعلق پوچھتی اور میں روزانہ اسے ٹال دیتا،آخرکو اس عذاب سے مجھے یوں چھٹکارا ملا کہ ایک روز میری خواہش مجھ پر غالب آگئی اور اُس نے مُجھے پچھاڑ ڈالااور اُس دن میرے پہلو میں لیٹے ہوئے اُس نے آواز کو شدّتِ تاکید کا لہجہ پہناتے ہوئے مُجھے اپنے حق میں رپورٹ بھیجنے کو کہا جیسے یہ اب اس کا استحقاق رہا ہو، اور میں نے عجیب مسکراہٹ کے ساتھ اُسے بتایا کہ رپورٹ تو میں بھیج چکا ہوں، اگرچہ یہ مسکراہٹ اور رویہ خود میرے لیے قابلِ نفرت تھا مگر تجربے کے شوق نے مُجھے آہستہ آہستہ گہرے پانیوں کی جانب راغب کرنا شروع کیا اور تب میں نے جانا کہ گہرے پانی کیوں پُر اسرار خاموشی اور بے انت سکون میں ڈوبے ہوتے ہیں یقیناً اسی طرح پے درپے تجربات انسان کو بھی پرسکون اور گہرا بنا دیتے ہیں اور یہی حقیقت پسندی ہے جو تجربے کا حاصل ہے،پھر یونہی ایک روز اس نے مُجھے بتایا کہ خطیب مسجد نے اُس کا جھوٹ پکڑ لیا تھا اور پھر کس طرح ایک باہمی سودا طے ہونے پرشب بھر اُس کا حجرہ آباد کرنے کے عوض یہ کام ہو سکا تھا، اور یقین کیجیے برادرم مارے غصے کے میرا ذہن مائوف ہو گیا،میں خطیب کی کمینگی اور سفلےِ پن پر کانپ اٹھاکہ کس کمینگی سے اُس نے ایک مجبور عورت کو اپنی اخلاقی بدحالی کا نشانہ بنایا ،میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ اس اخلاقی بدحالی کے دور میں کسی سے کُچھ بعید نہیں۔
میرے دوست !۔۔۔۔ یہ ہے قانون کی لاقانونیت کا واقعہ جو مجھے دکھ دے گیاآپ خود سوچئیے کہ انسان کس سادگی سے خود اپنے بنا ئے گئے قانون کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے ، مگر کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ انسانی قوانین کوقانونِ فطرت کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے ۔۔مگر چلیے چھوڑیے ۔۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کاحل شاید یہی ہے کہ  چلیے چھوڑیے۔۔۔ میں نے آپ سے وعدہ کیا تھاکہ میں آپ کو اخلاق،رواداری اور کسِرنفسی کے چند واقعات سُناوُں گا،کیا آپ نے کبھی غور کیاکہ یہ سب کُچھ کس قدر مصنوعی سی چیزیں ہیں؟  ۔۔۔۔جی۔۔۔۔ جی ہاں میں بقائمی ہوش وحواس یہ کہہ رہا ہوں۔۔۔  آپ تو حیران رہ گئے ،شاید آپ مجھے خبطی سمجھ رہے ہوں یا ایک ایسا آدمی جس کا انسانی رویوں اور رشتوں پر سے اعتبار اُٹھ گیا ہو۔۔نہیں میرے دوست قطعی نہیں۔۔۔۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ اب ہی تو مُجھے ان رشتوں ناطوں اور ان میں چھپی ہوئی محبت،نفرت،چاہت اور شرمندگی یعنی کے ہر اچھے برے روئیے کا ادراک ہوا ہے،میں نے عرض کیا تھا نا کہ میں اُتھل پانیوں کا باسی ہوں اور یہ اُسی کا نتیجہ ہے، شروع میں ،میں سمجھتا رہا کہ میں ازخود چھل سے ڈر کر پچھلے پائوں چلنے لگتا ہوںکہ گہرے اور پرسکون پانیوں سے خوف زدہ ہوں، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی،میں نے آخر کو یہ راز پا لیا کہ اُتھل پانیوں کا باسی ہونا میری ذاتی خوبی یا خامی کی نسبت سے نہیں بلکہ یہ میری جبلت تھی ، ایک بندش جو ودیعت ایزدی تھی، میری سرشت میں شامل کر دیا گیا تھا کہ میں صرف اُتھل پانیوں میں رغبت محسوس کرتا تھا، پرسکون پانیوں سے میں خوف زدہ نہیں تھا مگر مُجھے اُس کے ماحول سے نفرت تھی جو بظاہر نہایت سکون اور پاکیزگی کے حامل دکھائی دیتا ہے مگر دراصل ہزاروں طوفان اپنے دامن میں چھپائے ہوتاہے،جس کی پاکیزگی کی چا در تلے اس کی اصلیت روپوش ہوتی ہے وہ جرم کر کے اسے چھپا لیتا ہے اور پھر چپکے سے کسی وقت اسے اُتھل پانیوں کی طرف اُچھال دیتا ہے اور خود بے قصور بن کر اور سادہ پن کا لبادہ اُڑھ کر ایک طرف ہوجاتا ہے میں خود ہی اپنا محاسبہ کر لُوں اس سے پہلے کہ آپ مجھے دوبارہ اپنے موضوع کی طرف آنے کو کہیں ،تو بات ہورہی تھی رویوں کے ادراک کی ، جی ہاں یہ سب مصنوعی نہیں تو اور کیا ہے ،شروع ہی سے دیکھ لیجیے، چلیے یوں سہی ،آپ کسی شادی شدہ جوڑے سے کبھی یہ سوال کیجیے کہ آیاکہ جب کبھی وہ دُنیاکی سب ضروریات و سوالات کو نظرانداز کر کے رات کی پرسکون تاریکی میں ہم آغوش ہوتے ہیں تو کیا اُس وقت اُن کے ذہن میں سوائے سکون و لذّت کے ریلے میں غوطہ زن ہونے کے کوئی دوسرا سوال ظہور پزیر ہوتا ہے،بلکہ یوں کہیئے کہ آیا وہ اُس دوران کسی دوسرے مقصد کوذہن میں رکھّے ہوتے ہیں، اگر وہ حقیقت پسندی سے کام لیں تو یقیناً جواب نہ کی صورت میں ہوگا ۔کہنے کی بات یہ ہے کہ اِس دوران سوائے جنسی جبلت کی تسکین کے اور کوئی جذبہ کار فرما نہیں ہوتا  یعنی اس جنسیِ عمل کی اصل پراڈکٹ  (Product)تسکین ہے اور جہاں تک اولاد کے پیدا ہو جانے کا سوال ہے تو وہ ایک بائی پراڈکٹ  (Byproduct)یعنی ضمنی پیداوار کے طور پر ظہور پذیر ہوتی ہے، میرے دوست آپ خود سوچیے کہ کتنے ماں باپ ایسے ہوںگے جنھیں اس فطری جذبے کو پورا کرتے وقت یہ احساس ہوتاہے کہ وہ یہ عمل ایک اشرفِ المخلوقات کو دنیا میں لانے کے لیے کر رہے ہیں، قطعی نہیں شایدایک فیصد بھی نہیں، اور اگر یہ احساس بنی نوح انسان میں پیدا ہو جائے تو اسقاطِ حمل کو جائز اور ناجائز قرار دینے کی بحث میں اُلجھی اور مئونث بچوں کی پیدا ئش پر عورت کے لیے مسائل کھڑے کرنے والی اولادِ آدم کا مسئلہ یقیناً خود بخود حل ہو جائے،ہاں جہاں تک اولا د پیدا ہونے کے شوق و تجسس کی بات ہے تو یہ دراصل وہی حقیقت پسندی ہے جس کے لیے آپ کو قدرت نے محصور کر رکھا ہے اور یوں جب ماں باپ کواحساس ہونے لگتاہے کہ اُنھیں ضمنی پیداوار (Byproduct)کا سامنا کرنا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اپنے آپ کو اُس کے لیے شعوری طور پرتیار کرنے لگتے ہیں اور پھر خواہش جنم لیتی ہے بائی پراڈکٹ کی قسم کے بارے میں اور یہی اُنکی حقیقت پسندی کے ارتقائی مراحل ہوتے ہیں جو اولاد کی پیدائش کے بعد ہر دو قسموں میں ٹھوس شکل اختیار کر جاتے ہیں کیونکہ وہ قدرت کے سامنے مجبور ہیں کہ وہ جو دے اُسے قبول کریں۔ میرے بھائی! ۔۔۔۔اب اس بارے میں کیا کہو گے ،یعنی وہ روئیے کیسے ہوں گئے جو ایک انسان اُس اولاد کے لیے اپنانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے جواُسے ضمنی پیداوار کے طور پر حاصل ہوئی اور جس کی شعوری خواہش یا کوشش اس نے قطعی نہیں کی تھی۔۔۔جی نہیں اب ایسا بھی نہیں، میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دنیا میں پھیلے یہ سارے جذبے اور سلوک جھوٹے ہیں اور انکی کوئی حقیقت نہیں بلکہ میرے خیال میں حقیقتِ احوال یوں ہے کہ انسان جو بھی جذبہ کسی دوسرے کے لیے محسوس کرتا ہے اور جو بھی رویہ کسی دوسرے کے لیے اپناتا ہے اس کی پشت پناہی اُس شخض کی کوئی ذاتی تمنا کر رہی ہوتی ہے۔۔۔ یعنی بے لوث اور مفت کچھ نہیں ،کہیں نہیں، ماں، باپ،بہن، بھائی، بیٹا،بیٹی، دوست،محبوب یہ سب رشتے ایک حقیقت پسندی سے کام لینے اور نبھائے جانے کا نام ہیں،اور انسان کے وہ اعمال جو کسی دوسرے مخصوص انسان کے لیے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے وقوع پذیر ہوتے ہیں غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اس تمنا کے زیر اثر ہیں کہ اُس کی ستائش کی جائے،مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے شعوری ارتقاء کے مراحل طے کرتے ہوئے کئی ایسے عمل لاشعوری طور پردوسروں کی ذات سے کشید کیے،مثلاً میں اکثرراستے میں پڑی کوئی خار دار شاخ،اینٹ کا ٹکرا ، یا دوسری  ایسی چیز جو کسی کے پائوں کو زخمی کر سکتی ہو یا پھسلا کر گرا سکتی ہو ، بڑی متانت سے اٹھا کر ایک طرف پھینک دیا کرتا ہوں ،میں نے جو اپنی اس عادت پر غور کیا، تو یاد آیا کہ ہائی سکول کے تعلیمی سال گزارتے ہوئے اکثر اپنے سکول کے پرنسپل کو راہ میں پڑی ایسی ہی چیزیں اور کیاریوں میں پڑے کاغذاٹھاتے دیکھ کر میں اُن کے اس فعل سے بہت متاثر ہوتا اور میرے اند ر اُن کے لیے ایک تقدس اور ستائش کا جذبہ اُبھرتا کہ یہ کام جسے وہ کسی مالی یا جمعدار سے باآسانی کروا سکتے ہیں کس قدر کسرِنفسی سے کام لیتے ہوئے خود انجام دے رہے ہیں،متاثر ہونے کی اُس عمر میں، میں نے یہ عمل بلا سوچے سمجھے کسی وقت اپنا لیا،پھر اپنے اس عمل پر میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں جس راستے سے یہ چیزیں اٹھا یا کرتا  ہوں اُس راستے پر میرے علاوہ کئی لوگ چلتے ہیں مگر کبھی کسی نے یہ سب کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کی ،آخر کیوں۔۔۔۔۔؟
اس عمل سے مجھے کیا حاصل ہوتا ہے،میں نے خود میں اُٹھنے والے اس سوال پر غور کیا اور آخر کو میں نے یہ راز پا لیاکہ میرا یہ نام ونہاد جذبہِ خدمتِ خلق اُسی وقت شدت سے جاگتا ہے جب میں لوگوں کے سامنے ہوتا ہوں،میں کبھی کسی ایسی جگہ پرراہ میں پڑی رکاوٹوں کو قابلِ توجہ نہ سمجھتاجہاں مجھے دیکھنے والا کوئی نہ ہوتا،رات کی تاریکی میں اور سنسان راہوں پر چلتے ہوئے کبھی یہ جذبہ نہ جاگا  میں نے یہ راز پایا اور حیران رہ گیا، کہ یہ سب باتیں کس طرح اب تک،مُجھ میں ہوتے ہوئے بھی مُجھ سے پوشیدہ تھیں، تب میں نے جانا کہ انسان اپنے علاوہ اُس ماحول کی ہر شے پر نظر رکھتا ہے جس میں وہ رہتا ہے اور اسی وجہ سے وہ ساری عمر خود سے اجنبی رہتا ہے،سوچ کے اس نئے زاویے نے میرے اندر ایک طوفان برپا کر دیا ہے، اُتھل پانی گہراہو رہا ہے اور میری سانسیں پھول رہی ہیں، مجھے اپنے ہر فعل سے دکھاوے اور اجنبیت کی بو آرہی ہے اور میرا وجود خود میرے لیے ایک بدبو دار تلاب کی شکل اختیار کر گیا ہے،جس میں جھانکنے پر میری شبیہ اسرار کے ہزار رنگ اپناتی اور بکھر جاتی ہے، میں خود میں کبھی اُس لڑکی کو دیکھتا ہوں جو زر میں تُل کر بک گئی تو دوسرے ہی لمحے وہ ایک مجبور اقلیتی عورت کا روپ دھار لیتی ہے ،میں مسجد کا خطیب بن کر اُس پر چھپٹتا ہوں تو خودسے ٹکرا کر رُک جاتا ہوں ،میں شرمندہ ہو کر راہ میں پڑے اینٹ کے ٹکڑے کواُٹھا کر ایک طرف پھینکتا ہوں تو وہ میری ذات کے بدبودار تلاب میں جاگرتا ہے،تلاب میں لہریں پیدا ہوتی ہیں جو میری ناک پر عینک دھرتیں اور سر کے بال اُڑا کر مجھے گدھ نما کلرک بنا دیتی ہیں،میں گھبرا کر آنکھیں میچ لیتا ہوں تو خود کو کسی نومولود کی طرح کلکاریاں مارتا ہوا پاتا ہوں، اُتھل پانی گہرے ہو رہے ہیں اور دھیرے دھیرے اس کائنات کی ساری آوازیں مُجھ سے مُنہ موڑتی جا رہی ہیں،شاید میں اُسی مقام کی طرف رواں دواںہوں جس کی پرسکون ،پاکیزہ سی خاموشی مُجھ میں ڈر اور نفرت کا احساس اُجاگر کرتی تھی، میں گہرے پانیوں میں ڈوب رہا ہوںاور پھر کسی دن میری طرح کوئی اُتھل پانیوں کا باسی میرے وجود کے راز کو گہرے پانیوں کے اُچھال کے بعد طشت از بام کرے گا ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔میں منتظر رہوں گا















 






Comments