فسادی



                  فسادی


اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی مرزاعزیزالدین بیگ کے ہاں ،جشنِ آزادی منانے کی تیاریاں نہایت جوش وخروش سے شروع ہو گئیں،گھر کے بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر اک یوں سرگرم اور مصروف نظر آتا جیسے گھر میں کسی کی شادی ہونے کو ہے، نئے کپڑے سلوائے گئے،جھنڈیاں تیار کی گئیں،گھر کے دیوار پر نیا رنگ و روغن کیا گیا، چراغاں کرنے کو مومی شمعیں خریدی گئیں اور قرآن خوانی  کے واسطے مدرسہ کے طالب علموں اور مولوی صاحب کو پیشگی کہلا بھیجا گیا، ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا تھا، خیال نہیں پڑتا کہ کبھی اس دن کو اُنھوں نے اک مقدس تہوار کی طرح نہ منایا ہو، مرزا صاحب گو خاصی عمر کے تھے مگر ولولہ جوانوں کا سا تھا، اُ ن کی کل کائنات اُن کی بیٹی خدیجہ اور نواسی عارفہ تھیں، خدیجہ پارٹیشن کے وقت یہی کوئی چار،پانچ برس کی ہوگی ، ماسوائے باپ،بیٹی کے گھر کا کوئی فرد اُس خونی معرکے میں نہ بچا ،انخلا کے دوران ہنستابستا گھر یوں اُجڑا کہ اس پر نوحہ کناں ہونے کا موقع بھی نہ ملا،سانحہ اُتنا ہی بڑا تھا جتنا بڑا کہ مقصدِ انخلا،مرزا صاحب کے جذبہِ حب الوطنی کو آفرین کہ ماںباپ،بہن  بھائی،بیوی ،بیٹے،بیٹیاں اور عزیز رشتہ دار ،غرض بھرا پورا گھر  پاکستان کے نام پر کٹوا کربھی زبان پر اُف اور ماتھے پر شکن تک نہ آئی،بدقسمتی سے انخلا کے دوران اُن کا خاندان جس ٹرین میں سفر کر رہا تھا اُس پر سکھوں کے ایک ایسے جتھے نے حملہ کر دیا جسے اپنے ہم وطن اُن فوجیوں کی پشت پناہی حاصل تھی جن کے ذمہ بظاہر یہ کام سونپا گیا تھا کہ کسی ممکنہ فسادکی صورت میں مسافروں کی حفاظت کریں اور بلا تفریقِ رنگ و مذہب فسادیوں سے عام لوگوں کو بچائیں،مرزاصاحب کی بوگی میں سوار مسافروں میں سے خود وہ اور اُن کی بیٹی خدیجہ زندہ بچ سکے، بہتے خون کی وحشت نے اُن کا دماغ  مائوف کر دیا اور وہ بے ہوش ہوگئے جن لوگوں نے مرزا صاحب اور خدیجہ کو بو گی سے نکالا اُن کے بقول دونوںباپ،بیٹی لاشوں کے انبار تلے دفن اور خون میں نہائے ہوئے تھے ، پاکستان پہنچنے پر مرزا صاحب نے نئے سرے سے پاکستان کو مستحکم کرنے کی خاطر کمر کس لی اُنہیں ریلوے کے محکمہ میں نوکری  ملی اور وہ محکمے کے سرکاری کوارٹر میں رہنے لگے، اپنی خوش اخلاقی،ایمانداری اور وسعت قلبی کی بدولت جلد ہی اُنھوں نے سارے محکمے میں نیک نامی اور ہردلعزیزی حاصل کر لی۔
مرزا صاحب نے عجیب درویشانہ طبیعت پائی تھی،جہاں پاکستان آنے والے ہر لُٹےپٹے گھرانے نے الاٹ منٹ کلّیم کا حقدار ہونے یا نہ ہونے کے باوجود اچھی زمین اور عمدہ مکان الاٹ کروانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے شروع کر دیئے وہاں اُنھوں نے اپنی محنت پربھروسہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کے واحد آسرے خدیجہ کے لئے خود کو ایک عزمِ نو سے مُسلح کر کے رات دن ایک کیا ، چھٹی کے بعد کُچھ دیر آرام کرتے اور پھر ایک ہوٹل میں جزو وقتی نوکری پر چلے جاتے رات گئے واپس آتے اس طرح اُنھوں نے محنت کر کے ایک چھوٹا سا مکان بنا لیا، خود ریلوے کے سرکاری کوارٹر میں رہے اور مکان کو کرائے پر چڑھا دیا،یوں ان کی ماہانہ آمدنی میں خاطر خواہ رقم کا اضافہ ہوگیا، ذرا سکون نصیب ہوا تواُنھیں خدیجہ کی شادی کی فکر نے آ گھیرا، اس سلسلے میں اُنھوں نے اپنے قریبی دوستوں سے مدد چاہی اور یوںخدیجہ کے لیے ایک ہونہار بَرتلاش کر لیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مرزا صاحب نے دوبارہ  ایک گھر آباد کر لیا، خدیجہ کے بیٹی ہوئی اور اُسکے بچپنے کو چھونے لگی، مرزا صاحب کی جان گویا اُسکے کالبُد میں قید تھی، بچی کا نام عارفہ رکھا گیا تھا مگر مرزا صاحب اُسے پیا ر سے گڑیا کہتے تھے، اور تھی بھی تو وہ کسی گڑیا ہی کی طرح خوبصورت اور نرم و نازک ،خدیجہ جب اُسے فراک پہنا ،دو چُٹیاکر، آنکھوں میں ہلکی سی کجلے کی سلائی لگا ،باہر نکالتی تو دیکھنے والوں کو یوں لگتا جیسے کسی پلاسٹک کی بنی نازک سی گڑیا کو چابی بھر کر چھوڑ دیا گیا ہے جسے گود میں اُٹھاتے ہی اُسکی آنکھیں بندہوجائیں گی اور مُنہ سے نپل نکالتے ہی رونے کی آواز بلند ہوگی، مرزا صاحب تو اُسکا نام لیتے نہ تھکتے تھے شاید اس لیے بھی کہ وہ خدیجہ کی واحد اولاد تھی، یوں تو آج تک کسی نے بھی مرزا صاحب کے مُنہ سے اپنا گھر بار لُٹ جانے اور عزیزواقارب کے ذبح ہونے کے بارے میں کبھی حرفِ شکایت نہیں سنا تھا مگر کون جانے کہ اندر ہی اندر وہ اس غم میں گُھل رہے تھے، جب کبھی یادوں کا دریچہ وا ہوتا اُن کے ذہن میں بسے کوچہ وبازار سنسان ہو کر کسی مرگھٹ کا سا ہیبت ناک منظر پیش کرتے اور مرزا صاحب کے اندر باہر ایک ہُو کا عالم گھیرا ڈال لیتا،مگر اب گڑیا کی شکل میں اُنھیں زندگی کا ایک سہارا  ہاتھ لگ گیا تھا، گڑیا کے ہر کام کے لیے وہ ہر وقت یوں تیار رہتے جیسے کبھی جوانی میں کسی کام کے سلسلے میں پاکستان کا نام آتے ہی ان کے جسم میں خون کے بجائے جذبہ گردش کرنے لگ جاتا تھا یوں لگتا تھا جیسے یہ چھوٹا سا پاکستان ہے جسے وہ اُٹھائے اُٹھائے پھرتے ،ہر کسی سے ملواتے اور اُس کی اآرئش وزیبائش پر ہر دم توجہ رکھتے، ماہ و سال یونہی گزرتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے گڑیا کا پیکر پھیلا اور حُسن و خوبصورتی کے انوکھے رنگوں سے بھرتا چلا گیا ، مرزا صاحب کچھ اور بھی بوڑھے ہوگئے،اب گڑیا کے ساتھ ساتھ محلے بھر کے بچے اُن کی شفقت اور محبت کے قد آور درخت سے لطف اندوز ہوتے،اُن کی شخصیت جہاں گڑیا کے چچازاد بہن بھائیوں میں پیار و محبت اور سخاوت کے لیے مشہور تھی وہاں محلے کے بچے بھی اُن کے نام کی مالا جھپتے تھے،دیگر کئی عادات کی طرح اُن کی ایک عادت جو اب تک قائم تھی وہ جشن آزادی دھوم دھام سے منانا تھی، وہ ناصرف گڑیا بلکہ اُسکے چچا زاد بہن بھائیوں کو بھی جشن آزادی کے موقع پر نئے کپڑے سلوا کر دیتے اور اُنکی ہر خواہش پوری کرتے،پچھلی مرتبہ گڑیا گریجویشن کے امتحان کی تیاری میں مصروف ہونے کی بنا پر جشنِ آزادی سے پوری طرح لطف اندوز نہ ہو سکی تھی اسی لیے اس مرتبہ وہ اس سلسلے میں کُچھ زیادہ دلچسپی لے رہی تھی،آخر وہ دن آن پہنچا جس کاسب کو شدت سے انتظار تھا، دن کو تو قرآن خوانی کی وجہ سے اُنھیں زیادہ فرصت نہ ملی البتہ سرِشام اُنھوں نے محلے کے سارے گھروں کو سبز ہلالی پرچم سے بنی جھنڈیوں سے بھر دیا، شام ڈھلے محلے کے سبھی گھر وںکی دیواروںپر مومی شمعیں روشن کی گئیں اور رات گئے وہ سب لوگ ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم تھامے مل کر مینارِپاکستان کی سج دھج دیکھنےنکلے جو خوبصورت،خوش رنگ جلتے بُجھتے قمقموں کی روشنی میں نہایا ہو ا تھا، میدان میں ہر سمت لوگ ہی لوگ تھے، جن کے درمیان پولیس کے جوان ڈنڈے اُٹھائے گھوم رہے تھے تاکہ نظم و ضبط قائم رکھا جا سکے اور کوئی بدمزگی نہ پیدا ہو، سارے میدان میں سبز ہلالی پر چم لہلہاتے نظر آتے تھے، تھوڑی تھوڑی دوری پر جلتے بُجھتے بلبوں کی مدد سے مختلف دعائیہ کلمات لکھے گئے تھے، میدان میں داخلے کے لیے ایک خوبصورت گیٹ بنایا گیا تھا،جس کے ماتھے پر جلتے بجھتے بلبوں سے بنا ایک طغرا آویزاں تھا،جس پر تحریر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جگمگاتے لفظ سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے،لوگ روشنیوں کے اس میلے میں ہنستے مسکراتے پاکستان کی آزاد فضا سے لطف اندوز ہو رہے تھے ہر طرف عورتوں، مردوں، بچوں اور کہیں کہیں آٹھ آٹھ دس دس بے فکرے نوجوانوں کی ٹولیاں گھومتی نظر آرہی تھیںمختلف قسم کی کھانے کی اشیا بیچنے والوں کی بھرمارتھی،مرزا صاحب گڑیا کا ہاتھ تھامِ،دیگر بچوں کے ہمراہ رنگ و نور کے اس سیلاب سے لطف اندوز ہو رہے تھے مینارِ پاکستان کے ایک محراب کی پیشانی پر ایک  طغرا لگایا گیا تھا جسکے تھرکتے رنگدار قمقمے جشنِ آزادی مبارک کے جلتے بجھتے الفاظ،دیکھنے والوں کے دلوں میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کرتے، مرزا صاحب مینار پر جگمگاتے لفظوں پر نظر گاڑھے،سینہ تانے یوں چل رہے تھے، گویا یہ سب اُنہی کی محنت کا صلہ ہے، رنگ و جذبات کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنے عروج پر تھا کہ ایسے میں بجلی چلی گئی، ہر طرف اندھیرے کا راج تھا اور لوگوں کی چیخ و پکار یکدم اور بھی بلند ہو گئی تھی، ایسے میں اچانک مرزا صاحب کو کسی بھاگتے راہ گیر کا طاقتور کندھا لگا اور وہ اُوندھے مُنہ زمین پر جا رہے،گڑیا کا ہاتھ اُن کے ہاتھ سے چھوٹ گیا،  دوسرے بچے بھی اس افراتفری میں نجانے کدھر رہ گئے، شور ایسا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی، مرزا صاحب کو ایک لمحے کے لیے یوں لگا جیسے وہی برسوں پہلے گزرے لمحے لوٹ آئے ہیں اور پاکستان کی جانب گامزن اُنکے قافلے پر سکھوں کے جتھے نے حملہ کر دیا ہے، اُنھوں نے لوگوں کی ٹھوکروںسے بچتے ہوئے اُٹھنے کی کوشش کی تو اس دوران بجلی کی سپلائی بحال ہو گئی، سارے میدان کا عجیب منظر تھا،دم بھر میں آلو چھولے والوں کی رھڑیوں سے سب مال غائب ہو چکا تھا،بوتلوں کے خالی کریٹ دُکانداروںکو مُنہ چڑا رہے تھے، ایک صاحب پولیس والے سے اپنی جیب کٹ جانے کا رونا رو رہے تھے،چند عورتیں سر کی اُڑھنیوں کو دُرست کرتیں ناجانے کس کو صلواتیں سُنا رہیں تھیں،ایک نوجوان لڑکی خوف زدہ نظروں سے مجمع کو گھورتی اپنی ماں کے سینے سے لگی زارو قطار رو رہی تھی، مرزا صاحب گڑیا کی تلاش میں جھلائے پھر رہے تھے کہ اچانک اُنکی نظر ایک مجمع پر پڑی ،اُنھوں نے آگے بڑھ کر آنکھوں کو حتّی الوسع سکیڑتے ہوئے مجمع کے درمیان خوف سے سمٹی لڑکی کو  پہچاننے کی کوشش کی،اس  ہلے گُلے میں اُن کی عینک نجانے کہاں رہ گئی تھی، اُنھوں نے بغور دیکھنے پرزخمی گڑیا کو پہچان لیا تو سوچا کہ کاش اُن کی آنکھیں ہی کہیں رہ گئیں ہوتیں،گڑیا مینارِ پاکستان کے اُس محراب کے عین نیچے سمٹی بیٹھی تھی جس پر جشنِ آزادی کا طغرا آویزاں تھا، جشن آزادی مبارک کے جلتے بجھتے لفظوں کی روشنی اُسکے دریدہ لباس پر پڑتی تو اُسکی برہنگی  اور بھی اُجاگر ہو جاتی، اُسے اس حالت میں دیکھ کر مرزا صاحب کا دماغ ماعوف ہو گیا اُنہیں یوں لگا کہ وہ سکھوں کے جتھے میں گھر چُکے ہیں،خون کی وحشت اُن کے سر کو چڑھ گئی ،مگر اس مرتبہ بیہوش ہونے کی بجائے وہ چیختے چلاتے آگے بڑھے اور ارد گرد کھڑے لوگوں پر اپنے کمزور و نحیف ہاتھوں سے مکے برسانے لگے اسی جھُونجھل میں وہ قریب کھڑی آلو چھولے کی ایک ریڑھی سے جا ٹکرائے اور برتن اُٹھا اُٹھا کر لوگوں پر برسانے لگے، اور اس سے پیشتر کہ حالات مزید خراب صورتِحال اختیار کرتے، لوگوں کی بھیڑ کو چیرتا ایک فرض شناس پولیس انسپکٹر اپنے  جواں ہمت سپاہیوں کے ہمراہ اُن کے سر پر آن پہنچااُس کی آواز فضا میں گونجی "پکڑلوسالے فسادی کو" اور سپاہیوں نے مرزا صاحب کو کالر سے پکڑکر گھسیٹتے ہوئے پولیس کی گاڑی میں دھکیل دیا۔





Comments