دبیز پانیوں کے نام ایک خط ۔



دبیز پانیوں کے نام ایک خط

!اے جہاں بھر کے رازوں کو خود میں سمیٹے زندگی کے پلوں تلے سے مسلسل بہنے والے وقت کے دبیز پانی
اے کائینات کے حکمران اور خُداوند کے ہمراز ۔
اے خود میں ہزار اسرار سمیٹے زندگی سے موت اور موت سے زندگی کو بہنے والے۔
سُن کہ میں نے تیری نمی سے نمو پا کر زندگی کو جینے کا حوصلہ اپنی انّا سے کشید کیا۔
موت سے زیادہ خوفناک اور جہنم سے زیادہ تکلیف دہ آگہی کا عذاب دے کر تو نے مُجھے زندگی کے بے آب و گِیاہ صحرا میں اُتارا ۔
دیکھ کے میں نے وہ صحرا پاٹ ڈالا ۔
سُن ! میری کہانی بھی سُن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مُجھے معلوم ہے کہ میں جبکہ یہ خط پڑھ رہا ہوں تو زندگی کے پلوں تلے سے میرے حصّے کے وقت کا بہت سا پانی گذر چُکا ہے۔ جس کا ازلہ کسی طور ممکن نہیں۔ کُچھ باتیں ایسی ہوتیں ہیں جو انسان ضرف خود سے کرتا ہے اکیلے میں بیٹھ کر ،خاص طور پر زندگی میں کبھی اضطراری طور پر کیئے گئے کسی فیصلے کے اک مدت بعد غیر متوقع نتائج نکلنے کی صورت میں خود کو مطمین کرنے کے لیے اور یہ خط تمھارے حوالے کرنا ایسے ہی بے اختیار کر دینے والے لمحے کی بازگشت سے بچنے کی ایک کوشش ہے ۔ اس خط کی طرح جانے اور کتنے رازتمھاری دبیز تہوں میں پوشید ہ ہیں۔ندی میں بہتا وقت کا اسرار اس خط کو اپنے ساتھ لیئے پُراسرار پانیوں کی دبیزتہہ میں جا رہا ہے،ایسی تہہ جہاں وقت اور پانی ہم خواص و ہم شکل ہو کر ایک دوسرے میں یوں گھل مل گئے ہیں کہ دیکھنے والی آنکھ صرف باوقار،خاموش ،خود میں گُم پُرسکون پانی کی سطع پر رقص کرتی رہ جاتی ہئے۔ مگرکون جانے کہ پانی کا یہ رنگ وروپ اس بوڑھے وقت کی رفاقت کے کارن ہے جو ازل سے اسے اپنی اماجگاہ بنائے ہوئے ہے۔جسکی دبیزاور ہر شئے کو خود میں ضم کر لینے والی سیّال تہہ کو ہم پانی کی سطع قیاس کرتے ہیں۔یہ دونوں باہم مل کر صدیوں ںے بہتے چلے آ رہے ہیں اسطرح کہ ہر دم اور ہر پل نئے ،تازہ اور جوان جو اک پل پہلے تھا وہ اس دم نہیں اور جو ابھی ہے وہ تھوڑی دیر بعد نہ ہو گا۔قطرہ قطرہ پانی اور لمحہ لمحہ وقت کی ہر آن شکلیں بدلتی یہی کہانی ہے جبھی تو میں ان میں سے ہر ایک پر دوسرے کو قیاس کرتا ہوں۔
وقت کے دبیز پانیوں کا احسان ہے کہ وہ رازوں کو خود میں چھپا کرہمیں ان کے دُکھ سے بچا لیتے ہیںجیسے اُس خط کا راز جس کی بنیاد سے یہ کہانی اُٹھی جو زندگی کے اُس حصّے پر مشتمل ہے جو مکمل ہوکر اپنی اصل کو لوٹ گیا کہ ہر شئے کو بلا آخر اپنی اصل ہی کو لوٹنا ہے،دبیز پانیوں کی تہہ میںکہ مکمل اورٹھہری ہوئی اشیاء کا زندگی سے کُچھ تعلق نہیں زندگی ادھوری ،رواںاور ڈوبتی اُبھرتی چیزوں کی آماجگاہ ہے۔ہر مکمل شئے کو اپنے اصل کی طرف دبیز پانیوں کی خاموش تہہ تلے لوٹ کر جانا ہو گا فراموشی کے واسطے اور ہر ادھوری شے کو اس دُنیا میں رہنا ہوگا مکمل ہونے تک۔میں اپنی زندگی میں اُس کی یاد کو فراموش نہیں کرنا چاہتا اسی لیئے میںنے خط کے ساتھ اپنی زندگی کا مکمل ہو جانے والا حصّہ بھی پُراسرار پانیوں کی مہربان تہہ کے حوالے کر دیا اور اُسکی یاد آنے والے دنوں میںجینے کے جواز کے طور پر سینے سے لگائے خود دوبارہ ادھوری زندگی کی سمت لوٹ آیا۔ چاند نے ذرا سا جھک کر پام کے درختوں سے سر نکالاہے آج چاند کی چودھویں ہے۔ اس دیارِغیر میں میری دلداری کے واسطے چاندنی دھیرے دھیرے نرم گھاس پر بکھررہی ہے ۔ اک مدت بعدبحرالخیال میں پھر مدوجزر کا سلسلہ شروع ہو ا ہے،چاند مدھرہوا کے ساتھ جھومتے پام کے درختوں کی اوٹ سے دھیرے دھیرے اُبھر رہا ہے ۔مگر نا جانے کیوں جسم میں اُٹھنے والی برسوں پرانی سر شاری ناپید ہے ہاں مگر اس کی جگہ اک ادھورے پن کی کسک سر اُٹھا رہی ہے۔چودھویں کا پورا چاند ندّی کے پُرسکون خاموش تہہ میں پڑا چمک رہا ہے ، ساتھ کے ہاسٹل میں کسی دل جلے نے ٹیپ ریکاڈر اونچی آواز میں لگایا ہو ا ہے،
اب کے ہم بچھڑے ہیں تو کتنے رنگیلے ہو گئے
میری آنکھیں سُرخ تیرے ہاتھ پیلے ہو گئے
جانے کیا احساس سازِ زلف کے تاروں میں ہے
جن کو چھوتے ہی میرے نغمے سُریلے ہو گئے۔
کبھی میں یہ غزل کتنی سُنا کرتا تھا۔وہ عجیب پُر خمار دن تھے۔ سر شاری میرے انگ انگ سے یوں پھوٹتی جیسے آمدِبہار پر کونپلیں ۔میں ہر دم خود کو ہلکا پھلکاہوا میں پیرتا محسوس کرتا۔ہر چیز مجھے اپنی دسترس میں لگتی۔روزانہ شام کو باغ میں لکڑی کے بنچ پر بیٹھ کر سگریٹ پھونکتے ہوئے جب میںآسمان پر روئی کے گالوں کی مانند ہوا کے دوش پر اِدھر اُدھر پیرتے بادلوں پر نظریں جماتا تو میرا آرٹیسٹک دماغ آسمان کے وسیع کینوس پر بادلوں کے سرمئی،سفید،کالے و نیم آتشی رنگوں سے عجیب و غریب تصویریں پینٹ کرتا ،اچھوتی اور نیچرل تصویریں بادل کبھی بیل کا سر بن جاتے تو کبھی کسی چھوٹے بچے کے پائوں کے نشان ،کسی جگہ دیوار سے کوئی بوڑھا ٹیک لگائے اپنے عصا کے سہارے بیٹھانظر آتا تو کہیں کوئی حسینہ زلفیں بکھرائے نیم تاریک ماحول میں ڈوب جاتی ۔میں پہروں ایسی تصاویر تخّیل کرتااور ہوا کے دوش پر اُڑتے بادلوں سے دھیرے دھیرے اُنہیں بھدا ہوتے اور پھر ایک سے دوسری شکل میں ڈھلتے یا آہستہ آہستہ ہوا میں تحلیل ہوتے دیکھتا رہتا ۔تنہائی میں یہ بادل بینی مُجھے سحر زدہ کرچھوڑتی۔شام ہوتے ہوتے اُفق کی سرخی پھیلتی اورسامنے کوسوں پھیلے گندم کے کھیتوں کے پس منظر میں آگ لگا جاتی۔دیکھتے ہی دیکھتے تاریکی اپنا حُجم بڑھاتی تو آسمان پر پھیلی روشنی سمٹ کر اُفق کے ساتھ ایک روشن لکیر کی شکل دھار لیتی جو دُور تک پھیلے میدان اور اُس پر جھکے آسمان کے درمیان نیم روشن حَدّ ِفاصِل کا کام دیتی۔شام کے جُھٹ پٹے سے کومل رات کسی شرمیلی نوعمر دوشیزہ کی طرح دھیرے دھیرے ،لجاتی،بل کھاتی باہر قدم رکھتی اور پھر ذراہی دیر میں پل پل جواں ہوتی مہربان رات اپنا سیاہ آنچل پھیلاتی تو اُس پر ٹکے ستارے یوں جھلمل جھلمل کرنے لگتے جیسے بھاگتے میں کسی حسینہ کا آنچل پائوں میں اُلجھنے سے منظر جھلملاجاتا ہے۔اُدھر چاند بادلوں کی اوٹ سے باہر آتا او ر ادھر بحرالخیال میں مدّوجزر کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ ذرا ہی دیر میں چاند رات کے اندھیرے کی دبیز چادر کاٹ پھینکتا ۔کالی رات چاندنی کی مہین روشن جالی سے یوںچھنتی جیسے کالے نقاب کے پیچھے سے حسین چہرے کی چاندنی ۔یہ میری زندگی کے وہ دن تھے جب میرے جواں جسم کی شریانوں میں خون کی طغیانی پر بہتے جذبات ابھی اپنا مرکزنہیں ڈھونڈپائے تھے ۔ اسی سبب میرا دماغ بسا اوقات میرے دل کی نفی کرتاتو میرا دل میرے دماغ کی اور میری رُوح بے چین رہتی اس قلبی،ذہنی و روحانی اضطراب کے سبب مرکزِجذبات کی تلاش میں میر حال اُس پیغمبر ایسا تھا جس نے اپنے اندر کی سچائی کا مرکزِ جذبات ڈھونڈتے ہوئے کبھی سورج توکبھی چاند ستاروں کو خدا قیاس کیا اور مطمئین نہ ہو کر خود ہی ردّ کر ڈالا۔میں بھی کائینات کے نظاروں میں کھو کر مدھر ساز کے حامل جھرنوں،پہاڑوں کی گود میں سیمٹی وادیوں،زمین کو چومتے بادلوں اور بادلوں سے بنتی بگڑتی تصویروں، شام ، شفق، چاندستاروںاور رات کے جادوُ میں اپنے مرکزِجذبات کو تلاش کرتا۔گو اک سرشاری کا احساس جنم لیتا مگر میں جس منفرد خدائے جذبات کی تلاش میں سرگرداں تھا ،ان نظاروں میں اسکی غیر موجودگی مُجھے اُسی پیغمبر کی طرح اپنا قیاس ردّ کرنے پر مجبور کرتی اور میں نئے سرے سے نئی سمت میں اپنی تلاش کی ابتداء کرتا۔
نظاروںکا یکطرفہ سرشاری بہم کرنا اور خود اس کا اثرقبول نہ کرنا ہی واحد وجہ تھی کہ میں نے اُنھیں مرکزِ جذبات کے طور پر قبول نہ کیا۔ میرے خیال میں جس وجود کا خیال،نظارہ،بانک پن و ندرت میرے واسطے وجہِ سر شاری بنے،اُس وجود کے لیے میرا خیال،اندازِ فکر،تخیل،خودی اور طریقہِ زندگی بھی وجہِ سرشاری ہو،میں ایک مدت تک کائنات کے ان بکھرے ہوئے نظاروں ہی کو سب سے طاقتور اور متاثر کُن سمجھتا رہا کہ یہ کسی بھی وجود میں اپنے بانک پن سے جذبات کو بار آور کر کے سر شاری پیدا کر سکنے کے اہل ہیں ۔یہی جواز مُجھ خُدائے جذبات کے متلاشی کو ان کی جانب متوجو کرتا ۔مگر جلد ہی میں نے محسوس کیا کہ درحقیقت یہ تو اُن لوگوں کی دلداری کا سامان بہم کرتے ہئں جو میری طرح خُدائے جذبات کی تلاش میں سرگرداں ہیں،یہ گُل و بوئے گُل،چاند، چاندنی،رات اور اُس کا اسرار،بھید بھری دوپہروں کے ویران سناٹے،جھرنوں کے نغمے،پرندوں کی چہچہاہٹ،بادل اور ہر لمحے اُن میں بنتی بگڑتیں تصویریں،شام کے آنچل سے لپٹی شفق ،اُداسی اور ملولئیت،وادیوں کے دامن چُومنے کو اُترتے بادل،یہ سب مل کر متلاشیوں کے جذبات کو اور بھی اُبھار تے اوراُنکی ہمت بندھاتے ہیں۔ اُنکی بے چین روُحوں کو اپنے بانک پن سے یوں بارآور کرتے ہیں کہ سرشاری اُنکے بدن میں جنم لیتی ہے اور وہ ایک نئے ولولے سے خُدائے جذبات کی تلاش میں جُت جاتے ہیں۔یہ عمیق نقطہ میری سمجھ میں آیا تو میں نے اپنی تلاش کا دائرہ ذرا وسیع کیا اور یوںاس عمل نے مُجھاُس سے متعارف کروایا۔
وہ کسی سکول میںٹیچر تھی ۔یونیورسٹی سے فارغ ہونے پر اُس نے یونہی وقت گذاری کے لیے ٹیچنگ کے شعبے میں قدم رکھاتھا۔سچ تو یہ ہے کہ مُجھے پہلی جھلک نے ہی اُس کا گرویدہ کر ڈالا۔اُس کے جسم کا بانکپن،ایک ناسُنی جاسکنے والی تال کے ساتھ اُسکے اُٹھتے،گرتے قدم اور جسم کا متناسب تناو،اس پر اُسکی سلیقہ مندی اور اندازِ گفتگو،مُجھے یکدم میرے جذبوں کا مرکزمیرا خُدائے جذبات مل گیا۔اُسے تکتے ہی سرشاری ہر مُوئے بدن سے پھوٹتی اور مُجھے ایک ٹھنڈے سکون میں تر کر چھوڑتی۔میںاب جب کبھی باغ میں لکڑی کے بینچ پر بیٹھ کر شام کے وقت سورج کو افق کی سرخی میں آہستہ آہستہ ڈوبتے دیکھتا تو جانے کیوںمیرے دل پر ایک بوجھ اور ملال کاسا احساس بیٹھ جاتاتو ایسے میں ہر عنصر فطرت میری دلداری کو آموجود ہوتا،چاند،تارے، رات کی رانی اور چاندنی سب مُجھ سے اُس کی باتیں کرتے اور مُجھے اُسکے متعلق باتیں کرنے پر اُکساتے میں رات بھیگ جانے تک اُن سے محفل جمائے رہتااور اُنھیں اُسکی ایک ایک ادا ،مسکان،غصّے اورشوخی کے قصّے سناتا اور جانے کیسی کیسی باتیں بناتا جنکی حقیقت میں ہونے کی کبھی اُمید تک نہیںکی جا سکتی۔کبھی کبھار مُجھے یوں لگتا جیسے اُن کو میرے جھوٹ کی خبر ہے مگر وہ سب میری دلداری کی خاطرمیرے جھوٹ کو بالکل سچ گمان کرتے ہیں اورمُجھ سے دلداری کر کے مُجھے اور بھی اُچھالتے ہیں۔یہ سلسلہ نجانے اور کتنے عرصے چلتا مگراسی دوران مُجھے اُس کے گھر تک رسائی ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی باغ میں بینچ پر بیٹھنے والا سلسلہ بھی اختتام پذیر ہو گیا ۔اب میں شام پڑتے ہی اُسکے گھر جا پہنچتا۔گھر میں وہ، اُسکی امی،ابو،چھوٹا بھائی اور اُس سے چھوٹی ،بڑی دو بہنیں ،کُل یہی چھ افرادتھے ۔ ہم سب لوگ دیر تک بیٹھے باتیںکرتے رہتے ماسوائے اُسکے ہر شخص گفتگو میں حصّہ لیتابات اُن کے پڑوسیوں سے شروع ہوتی اور اسلامی رواداری،اخلاق و روایات،مذہبی شعور،معاشی مسائل اور بین الااقوامی حالات وواقعات سے ہوتے ہو ئے قریبی سینما میںلگی فلم،کسی نئی چھپنے والی کتاب ،کسی رائیٹریا افسانے پر آ رُکتی،ا س دوران ہر کوئی بڑھ چڑھ کر اپنی اپنی رائے دیتامگر وہ بیشتر وقت خاموش بیٹھی کسی رسالے کی ورق گردانی کرتی اور اگر کبھی لب کھولتی تو ضرف میری مخالفت میں کُچھ کہنے کواس دوران سامعینِ محفل کے حسبِ فرمائیش وہ یا اُسکی بہن چائے،کافی بنا کر پیش کرتیں۔اگر چائے بنانے کی باری اُس کی ہوتی تو وہ تو ہر مرتبہ مُجھ سے چینی کی مقدار ضرور پوچھتی مگر اس سے قبل کہ میںجواب دوں اُسکی چھوٹی بہن میری طرف مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے فوراً بول اُٹھتی،ــ "ضرف ڈیڑھ چمچ ــ"، وہ چہرے کی مسکراہٹ دبانے کی کوشش میں چمکتی آنکھوں سے اک اُچٹتی سی نگاہ مُجھ پر ڈالتی یوں جیسے اپنی بے پروائی کی لگائی ہوئی ضرب کے اثرات تلاشتی ہو، میں اندر اُٹھنے والی تلملاہٹ پر صبرو بُردباری کا پھا رکھتا اور خود کو لاپروائی کی چادر تلے چھپا لیتا۔
" یقینا وہ مُجھے یہ باور کروانا چاہتی ہئے کہ میں اُس کے لئے ایک عام ساآدمی ہوں جسکے ہونے نا ہونے سے کُچھ فرق پڑنے والا نہیں" بظاہر لاپروائی کے باوجود میں سوچ کی گونج کے اس گرداب میں ڈوبنے لگتا اور محفل میں ذرا دیر پہلے گونجتی میری آواز کہیں کھو جاتی۔مگر اس سے قبل کہ کوئی محسوس کرے میں خود پر قابو پا چکا ہوتا۔ کیا وہ بھی میری اس ذرا دیر کی ذہنی غیر حاضری کاادراک رکھتی تھی ؟ اس سوال کا جواب میں باوجود لاکھ کوشش کے نہ پاسکااس نے اپنی شخصیت کے گرد ایک ایسا حصار بنا رکھا تھا ۔جسکو عبور کرنے کی سوچنا بھی جان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ جبھی تو چھوٹے بہن ،بھائی اک ذرا محتاط انداز میں اُس سے بات کرتے اور بعض اوقات تواُسکی ماں بھی اُسے سمجھاتی تو آواز میں لاڈ پیار کا عُنصر زیادہ نمایاں ہوتا۔کیا وہ محض لاڈ سے بگڑا ایک چّہ ہے اور بس۔۔۔ اگر ایسا ہوتا تو گھر میں اک اُدھم مچا رہتا ۔ہر شحض اُس سے نالاں ہوتا۔گھر میں اُس کے حوالے سے ہر وقت کوئی نا کوئی مسلہ کھڑا رہتا۔مگر ایسا نہیں تھااُسکے سبھی باغی رویوں کا شکار صرف اور صرف میںتھا ۔اور شاید دُوسروں کے ساتھ اُس کا ایسا اُکھڑا اُکھڑا اور بگڑے بچّے کا سا برتائو بھی صرف میری موجودگی میں ھوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ہمارے درمیان فضا زیادہ تر اُسی طرح کے کھچائو کا شکار رہتی جیسی کسی جنگل میں شکاری اور زور آو ر چوکنّے جانور کے درمیان رہتی ہے جو شکاری کو ہر دم امتحان میں ڈالے رکھتا ہے ۔
اسی طرح اگر کبھی گھر میں آنے والا میگزین میں مطالعہ کے لیے گھر لے جانا چاہتا توپورے گھر میں صرف اُسی کو اعتراض ہوتاـ "آج ہی تو آیا ہے ،میں نے پڑھنا ہے آپ وہ والا لے جائیں"وہ پرانے میگزین کی طرف اشارہ کر کے کہتی،اور مُجھے یوں محسوس ہوتا جیسے میری کھلی اُڑا رہی ہو کیونکہ وہ جانتی تھی کہ میں وہ میگزین پڑھ چکا ہوں۔اس کے علاوہ بھی وہ اکثر میری مخالفت پر کمر بستہ رہتی۔یوں جیسے اُس نے ہر کام پر میری مخالفت کرنے کی قسم کھا رکھی ہو۔حالانکہ میںنے کبھی اُس پر ظاہر کرنے کی کوشش نہ کی کہ میں ضرف اُسکی خاطر گھنٹوں یہاں بیٹھا جھک مارا کرتا ہوں۔مگر لگتا تھا کہ صرف وہ ہی نہیں بلکہ پورا گھرانہ اس راز سے واقف تھا۔یونہی کسی بات پر میری پُرزور مخالفت کے ذرا دیر بعد کھڑی بھر کے لیے ہماری نگاہیں ملتیں تو بجلی کی سی کوند اُسکی نگاہوں سے لپکتی اور میری نگاہوں کے راستے دل کو جالیتی اور مُجھے اک عجب کسک پیدا کرنے والی سرشاری میں ڈبو چھوڑتی جسکا خمُار میری نگاہوں سے ہُوَیدا ہوتا۔ میری پُر خُمار نظروں کی تاب نہ لا کر وہ اک شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ نگاہیں جھکا لیتی تو مُجھے میرے اُن سارے سوالوں کے جواب مل جاتاجو اُس کے روئیے کے کارن میرے من میںاُٹھے ہوتے۔وقتی طور پر اگرچہ میں بدحواس ہونے لگتا مگر فوراًخود کو سنبھال لیتا،بعد میں کئی روز تک میری سوچ کے پردے پر یہ منظر کسی سلو موشن فلم کی طرح چلتا،اُسکی نگاہیں دھیرے سے اُوپر اُٹھتیں میری نگاہوں کو لمحے بھر کے لیے تھامتیں یوں جیسے کوئی مہربان کسی بچے کو گرتے میں لپک کر تھام لے،اور ایک نظر میں ہزاروں سوال کرتیںکسی دوسری جانب نکل جاتیں،اسی ایک لمحے میں اُس کے چہرے پر اُبھرنے والی مُسکان میرے ساتھ اُسکے ہر رویے کی نفی کرتی اور اگلے ہی لمحے اُن نگاہوں میں وہی دل میں ہول اُٹھانے والی اجنبیت، ٹھہرائو اور لاتعلقی عود کر آتی،چہرے کی مسکان غائب ہو جاتی اور گال میں پڑنے والا خوبصورت ڈمپل ہموار ہو کر سنجیدگی کی چادر تلے چھپ جاتا اور یوں لگنے لگتا جیسے ایک لمحہ پہلے میںنے جو کُچھ دیکھا وہ سب میرا وہم تھا۔اب تک میں نے یہ کامیابی حاصل کی تھی کہ گھر کے ہر فرد کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ ماسوائے اُسکے اور وہاں کامیابی کے آثاربھی کوسوں دکھائی نہ پڑتے تھے۔
میںاس کھیل میں کئی دفعہ اُکتا بھی گیا ۔میری حالت اُس شکاری کی سی تھی جو کسی ایسی جھیل میں مچھلی پکڑنے کے لیے ڈوری ڈال بیٹھے جو ہو تو انتہائی خوبصورت مگر اُس میں مچھلی ایک بھی موجود نہ ہواور جھیل کی خوبصورتی شکاری کی اُکتاہٹ کے باوجود اُسکے وہاں سے اُٹھنے میں مانع ٓآئے ۔ پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ میںنے کسی نتیجے پر پہنچنے کی غرض سے ہر اندیشے کو بلائے تاک رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ہوا ٰیوں کہ اس دوران اُ س سے بڑی بہن کی شادی کے دن آن پہنچے تو آئے دن گھر میں ہلہ گُلا رہنے لگا یونہی اک روز محفل میں لُڈی ڈالتے سمے میرے اُدھر جا نکلنے پر اُس کے مُنہ چھپا کر بیٹھ جانے پراہلِ محفل کی میری طرف اُٹھی استفہامی نظروں نے جہاں میرے اوسان خطا کر ڈالے وہاں دیکھنے والوں کو سُنانے کو ایک کہانی ہاتھ لگ گئی جس کی بھنبھناہٹ اگلے کئی روز تک گونجتی رہی خدا خدا کر کے شادی کا ہنگامہ اختتام پذیر ہوا تو زندگی وہی اپنی ازلی دھیمی رفتار پر آگئی اور میں جو اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ کیے بیٹھا تھا کہ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے،خوشی خوشی اُس کے گھر کو چل دیامگر خالات میں مزید بگاڑ اور تنائو پا کر چکرا گیا۔ہر کوئی خود میں سمٹا سمٹا دکھائی دیتا آخر ہمت کر کے میں نے وجہ جاننی چاہی تو معلوم ہوا کہ شادی کے موقع پر جنم لینے والی کہانی بعد میں خاندان بھر میں کہی سُنی گئی سب گھر والے اسی پر کیا پریشان تھے کہ اس پر مستزاد چھوٹی پھپھو نے اپنے بیٹے کے لئے اُس کا ہاتھ مانگ لیا ،ابو کے سوا گھر کا کوئی فرد اس رشتے پر خوش نہ تھا مگر کوئی ایسا بھی نا تھا جو ابو کے سامنے اس معاملے پر رائے زنی کر سکتا،ہاں البتہ ابو نے اس کی رائے طلب کر کے اُسے ایک موقع فراہم کیا تو تھا مگر بجائے کوئی جواب دینے کے اُس نے خود کو اُوپر والے کمرے تک محدود کر لیا ۔سب گھر والے مُجھے موردِالزام ٹھہرا رہے تھے اورچاہتے تھے کہ میں ابو سے اُس کا ہاتھ مانگ لوں ادھر کس کافر کو انکار تھا مگر نجانے کیوں اُسے یہ بھی منظور نہ تھااُس کے تئیں اگر یہ رشتہ ہو گیا تو خاندان میں اور بھی باتیں بنیں گئیںاور شادی والے واقع کوبڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے گا اور مزید بدنامی ہو گی۔گھر والوں کے اُکسانے پر میں نے اس سے بات کرنے کی ٹھانی تو نتیجہ اور بھی مایوس کُن نکلا اُس نے آئیندہ نہ صرف اس موصوع پر مُجھے بات کرنے سے منہ کردیا بلکہ یہ کہہ کر مُجھے قصوروار ٹھہرایا کہ کااگر میں اُس روز آموجود نہ ہوتا تو یہ ساری کہانی جنم ہی نہ لیتی۔میں اُس کے رویے سے اس قدر مایوس ہوا کہ نہ صرف اُس کے گھر جانا چھوڑ دیابلکہ راتوں کو باغ میں جا کر بیٹھنا بھی ترک کردیا ۔میں سوچتا کہ اب کس مُنہ سے اپنی دلداری کو آنے والے نظاروں کا سامنا کروں اور کتنا جھوٹ بولوں ۔ان حالات سے گھبرا کر میں نے مُلک چھوڑنے کا فیضلہ کر لیا اور یوں اُس رومانوی دُنیا نے جب مُجھے جگہ نہ دی تو میں اپنے اندر کے رومان کو جھوٹ سمجھ کر اس سے بھاگتا پھرنے لگا میں نے اپنی دلداری کرنے والے نظاروں سے بھی مُنہ موڑ لیا اور اسی بھاگ دوڑ میں اس مشینی دُنیا کا حصہ آ بناتو صحرائی بگولوںکی طرح ہر دم جسم میں رقصاں سر شاری بھی کہیں تھک کر بیٹھ گئی۔
اور اب جب کہ زندگی نے نئے سرے سے کسی محتاط بازی گر کی طرح وقت کی تنی ڈور پر قدم رکھے ہی ہیں کہ اُس کاخط موصول ہوا اب تک میں اس یک صفاتی خط کو بسیوں مرتبہ پڑھ چکا ہوںاور اس وقت بھی اس خوبصورت ندی کی پُلیا پر بیٹھا چائے کی چُسکیاں لیتے پڑھ رہا ہوں میرے خوابوں کی تعبیر سے مزین خط کی ہر سطر پڑھ کر دل چاہتا ہے کہ سب کُچھ چھوڑ چھاڑ پلک چھپکتے ہی واپس جا پہنچوںاس خط کے ملنے کے بعد سے میرے جسم میں مصنوعی زندگی کی خواہشوں کے نیچے دب کر سو جانے والے سر شاری نے دھیرے دھیرے سر اُٹھایا ہے مگر یوں منزل سامنے دیکھ کر میرے اندر کوئی شے ٹوٹ سی گئی۔مُجھے یکدم احساس ہو کہ یہ تو کُچھ نہ ہوا،یوں تو سب ختم ہو گیا زندگی کا ہر خلا پُر ہوگیا تو گویا سکوت چھا گیا اور سکوت تو موت کی نشانی ہے زندگی توکبھی خود میں مکمل نہیں ہوتی مکمل تو موت ہو ا کرتی ہے،اس قدر مکمل زندگی تو اپنے معنٰی کھو بیٹھے گی یہ تو یوں ہو ا کہ جیسے خُدا مجسم صورت میں سامنے آرہے اور اپنا سارا طلسم کھو بیٹھے،یعنی سب تپسیا بیکار ہو گئی،گویا ہر چیز مکمل ہر کر پُرسکوں اور ایک ہموار سطع پر خود کو برقرار رکھے ہوئے پانی کی طے میں بیٹھتی چلی گئی،اس سارے عمل سے پیدا ہونے والی یکسانیت کے خیال ہی سے میرا سانس روکنے لگا اور میں منوں پانی تلے دب جانے والے شخص کی طرح یکدم بے تاب ہو گیا ،میرا تیز فہم احساس ایک جست میں آنے والے اُس لمحے کی گرانی محسوس کر آیا جو اس جیت کی صورت میں مُجھے برداشت کرنا پڑتی۔میں نے جو خُدائے جذبات ایک انسانی شکل میں تلا شہ تھا اُسے کس پتنگے کی طرح اپنی مُٹھی میںآتا دیکھ کر میرے اندر کا خُدا پرست تڑپ اُٹھاتو میں نے چُپکے سے خود کو پتہ چلے بنا ہاتھ بڑھا کر خط نیچے بہتی ندّی میں گرا دیا لمحے بھر کو ندی کے ساکن تہہ میں پڑا چاند جھلملایا اور پھر پانی کی سطع یوں پرسکون ہو گئی جیسے مُجھے کوئی خط ملا ہی نہ ہو۔






Comments