مونتاژ بھوک



میرا شہرجسکا موسم ساحلی علاقہ ہونے کی بنا پر نہ تو مردانگیِ طبع کا حامل ہے اور نا ہی نسوانی دلکشی کا  بلکہ ان دونوں کی درمیانی جنس کی سی خصوصیت لیے ہوئے ہے اس کے مخنث پن نے جو نہ تو دلوں کو گرماتا ہے اور نہ ہی خود کسی تبدیلی پر آمادہ دکھائی دیتا ہے مُجھے اندر سے اُکتا ڈالاتو میں اس دور افتادہ پہاڑی خطے کو چلا آیاجہاں میرا میزبان اس علاقے کا ایک ایسا شخص ہے جو روزگار کی تلاش میں کافی عرصہ سے میر ے شہر میں رہائیش پذیر ہے وہ اس مرتبہ چھٹی گذارنے گاوں آیا تو مُجھے بھی سیرکی خاطر ساتھ لے آیا۔یہاں آئے آج میرا پانچواں روزتھا اورمیں اردگرد کا تقریباً سارا علاقہ گھوم چکاہوںمیرا میزبان کسی کام کے سلسلے میں شہر گیا ہوا ہے اور یوں آج کا دن مُجھے اکیلے گزارنا ہے میں نے کہیں دور جانے کی بجائے سکول کی عمارت اورڈیم  دیکھنے کو ترجیح دی سکول کی عمارت دو مختلف سمتوں میں تقسیم ہےدو مخالف رُخ پر بنی ہوئی عمارتوں کو دیکھ کریوں لگتا تھا جیسے دونوں عمارتیں یا کم از کم ان میںسے ایک عمارت سکول کی بجائے کسی دوسرے مقصد کو مدِنظر رکھ کر بنائی گئی تھی مگر پھر شاید جگہ کی کمی کے باعث اُسے بھی سکول کے احاطے میں شامل کر لیا گیا۔ میں آہستہ آہستہ چلتا سکول کے گراونڈ تک جا پہنچا۔میں جب سے یہاں آیا ہوں ایک باریش بزرگ کوبلاناغہ ا س عمارت میں بچوں کو درسِ قرآن دیتے دیکھتاہوں مگر کبھی اُن سے گفتگو نہ ہو سکی سوچا کیوں نا آج اُن سے ملاقات کی جائے یہی سوچتے ہوئے میں انکے کمرے کی جانب چل دیا سکول ہی کی عمارت سے متصلہ ایک کمرہ  اُن کی رہائیش کے لیے مخصوص ہےمیری دستک پر کوئی جواب موصول نہ ہوا تو کُچھ توقف کے بعد میں نے دوبارہ دستک دی مگر جواب ندارد،ہمت کر کےکمرے میں جھانکا تو  خالی پایا،ناآشنائی کی اک جھجک لیے اندر داخل ہوا توحیران رہ گیاا لماری میں لگی کتب پر نظر پڑتے ہی ساری ناآشنائی کافور ہو گئی،کمرہ میری توقع کے یکسر الٹ نقشہ پیش کر رہا ہےفرش پر ایک سے دوسرے سرے تک گہرے بھورے رنگ کا انتہائی عمدہ کارپٹ بچھا ہے دروازے کی سامنے والی دیوار کے ساتھ جڑی ا لماری میںبہترین ادبی کُتب ایک سلیقے سے لگی ہیںالماری کے ساتھ ہی عمدہ کیسٹ پلیر رکھا ہےجبکہ مخالف دیوار کے ساتھ ایک ترتیب سے تین گائو تکیے رکھے گئے ہیں،میں کمرے کا جائیزہ لے چکا تو کتابوں کی الماری نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی،یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ کتابوں کے بیچ قرآن پاک کا ایک خوبصورت نسخہ بغیرکپڑے کا رنگین غلاف چڑھے رکھا ہےجبکہ نٹشے،ٹلسٹائی، سارتر،چیخوف،فرائیڈ،آئیوان ترگنیف،برٹرینڈرسل اور ا لبیرکامیو کے علاوہ دیگر کئی مشاہیر کی کُتب سے الماری کی کم وپیش چار شلفیں بھری پڑیں ہیںدو چار کُتب کی ورق گردانی کے بعد میں نے ایک سُرمئی رنگ کی ڈائیری اُٹھائی اور بے دھیانی میں ورق اُلٹنے لگا یہ سوچے بنناکہ ایک غیر اخلاقی فعل کا مرتکب ہو رہا ہوں۔ڈائیری کے بیشترصفحات بالکل خالی اور چند پر کُچھ پیراگراف تحریر تھے کسی جگہ کوئی شعر ، قعطہ یا کسی کتاب سے اقتباس، جس سے لکھنے والے کے شعری ذوق اور سماجی شعور جھلکتا تھا،کہیںکُچھ کتابوں کے نام درج تھے جن میں سے کم وپیش ساری کے ساری سامنے الماری میں لگیں تھیں۔پوری ڈائیری میں ایک مسلسل تحریر تھی جو بظاہر اک یاداشت کی صورت میں شروع ہوتی تھی اورڈائیری کے انہی صفات میں کُچھ سلیقہ یا ترتیب نظر آتی تھی ورنہ ساری ڈائیری کسی غریب آدمی کی زندگی کی سی بے ترتیبی کا شکار تھی۔ایک بات جو قابلِ توجہ تھی کہ ڈائیری کے مالک نے نہ تو اُسکے پہلے صفحے پر ہی اپنا نام اور ایڈرس والا حصہ پُر کیا تھا اور نہ ہی آخری صفحات پر کسی جاننے والے کا نام یا ایڈرس درج تھا،مُجھے یوں لگا جیسے یہ اُسکی بے نشاں ہونے کی اندرونی خواہش اور  فلسفہِ ملکیت سے بیزار اور لاتعلق ہونے کااعلان ہو یوں جیسے کوئی شخص کسی دوسرے کے نام سے ساری زندگی گذار جائے میں نے اپنے ٖفطری تجسس سے مجبور ہو کر وہ ڈائیری اُٹھائی اور عمارت سے ذرا پرے ڈیم کے کنارے میدان میں جسم کو گرماتی دھوپ میں بیٹھ کر پڑھنے لگا یہ ایک عجیب گورکھ دھندا تحریر تھی جولکھنے والے کے گذرے ایّام کی یاداشت پر مبنی کسی قاری مطلوب اخترکی کہانی تھی،میں نے غور کیا تو اس تحریر میں مُجھے اپنے اردگردپھیلے ماحول کا نقشہ کھنچا ملا،یوں میری دل چسبی بڑھی اور میں نے اسے ابتداء سے پڑھنے کی ٹھانی ،تحریر کُچھ یوں تھی۔
"اُتھل پانیوں کے باسی ا گر کہیں نادانستگی میں گہرے پانیوں میں جا نکلیں تو یہ احساس ہوتے ہی کے پاوئں تلے ایک اندھی کھائی واقع ہے فوراً واپسی کا سفر باندھتے ہیں،او ر اگر اُن میں سے کوئی میری طرح اپنے اس خوف پر قابو پا لے تو پھر گہرے پانیوں کواُس سے خوف آنے لگتا ہے۔ میں جو اُتھل پانیوں کا باسی ہونے کے ناتے فطرت بھی اُنہی کی سی لیے  ہوںاور گہرے پانیوں کے سارے راز طشت از بام کرنے کو بے قرار رہتا ہوں۔میں جب کبھی اپنی بے سکون طبعیت کے کارن اپنی زد میں آ جائوں تو خود کو نیچا دکھانے کی غرض سے کسی حربے سے نہیں چوکتا  حتی کہ اپنی ظاہری برائیوں کے ساتھ ساتھ بلا خوف نا صرف اپنی باطنی برائی کا ڈھنڈورا پیٹنے لگتا ہوں بلکہ ذہن کے نہاں خانوںکی سوچ تک دوسروں کے سامنے لے آتا ہوں کیونکہ میرے پاس شواہدکے طور پر نیکی اور بدی کی بحث سے ہٹ کر خالصتاً انسانی فطرت کی بنیاد پر چند ایسے ناقابلِ تردید نفسیاتی جوازہوتے ہیں کہ آپ اگر اخلاقی جرات نہیں رکھتے تو یقیناً اُنھیں قبول نہیں کریں گے مگر اُن کو جھٹلا نا بھی آپکے بس کی بات نہیں، درحقیقت کوئی بھی شحض ان بنیادی نفسیاتی وجوہات کے بغیر زندہ رہ ہی نہیں سکتا،جب تک کہ وہ  ذہینی طور پرابنارمل نہ ہو مگر ایسا ہے کہ ہر شخص انہیں کسی دوسرے نام سے جانتا اور مانتا ہے،جیسے کہ طوفانِ نوح کو سب لوگ مانتے ہیں مگر قدرِ مختلف ناموں کے ساتھ، سمیریا میں یہ اتاپنشتم کا طوفان کہلایا تو فلسطین میں طوفانِ نوح،ایران میں جمشید،یونان میں دوکلین اور ہندوستان میں مہا نودو کا طوفان ۔مگر آپ ان سب کو تو ماننے سے رہے کیونکہ آپ کا اپنا تعلق ان میں سے کسی ایک مکتبہء فکر سے ہو گا اور اس صورت میںاگر آپ اتاپنشتم کے طوفان کو سچ مانتے ہیں تو نوُح کے طوفان کو جھٹلاتے ہیں اور اگر نوح کے طوفان کو سچ مانتے ہیں توپھر اس سچ کی نسبت سے دیگر طوفانوں کو جھٹلاتے ہیں اور ایسا بھی ممکن نہیں کے ہردور میں ایک کشتی بنی ہو جس میں عزیز واقارب بمعہ دوسری مخلوقات کے ایک ایک جوڑے کے سوار کر لیے گے ہوں پھر طوفان آیا اور جب خشکی پر پانی کی سطح اتنی بلند ہوئی کہ اُس نے کشتی کو زمین سے جدا کردیا تو لنگر اُٹھا لیے گے اور پانی نے کشتی کو اپنے سینے پر لے لیااور پھر ایک لمبے عرصے کے بعد پانی کی سطع ذرا کم ہونے پر کشتی ایک پہا ڑ کی چوٹی پر ٹک گئی،پانی کی سطع معلوم کرنے کے واسطے ایک ابابیل اُڑائی گئی جو واپس آگئی پھر ایک کوا اُڑایا گیا جو واپس نہ آیا اور اسکے انتظار کے بعد ایک فاختہ اُڑائی گئی جو واپسی پر زیتون کی ایک پتی لیے ہوئے لوٹی،اور یوںمعلوم پڑا کہ زمین ایک مرتبہ پھر قیامِ آدم کے یے تیار ہوچکی ہے۔یہ تو طے ہے کہ ایسا واقعہ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں پیش ضرور آیا تھا۔مگر بات یہیں ختم نہیں ہو جا تی بلکہ یہاں سے شروع ہوتی ہے، کیونکہ یہ بات جب مان لی جائے کے ایک ایسا طوفان آیا تھا۔تو ہر مکتبہٗ فکر اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس طوفان کے باعث زمین اپنی ابتداء کی طرح ایک مرتبہ پھر زندگی سے تہی ہو گئی تھی اپنی ابتداء کی مانند اورماسوائے اس کشتی میں محفوظ حیات کے جس میں اُس دور کا ایک جینیس اپنے ساتھیوں اور دیگر جانداروں کے ساتھ سوار تھا، اور یوں بعد از طوفان روئے زمین پر زندگی نے اُسی کشتی میںمحفوظ حیات سے نمو پائی اور پھلتی پھولتی یہاں تک پہنچی۔اس نقطے پہ پہنچ کر مسلے کا یہ نفسیاتی پہلوواضع ہو جاتا ہے کہ ہر مکتبہ فکر اپنا اپنا طوفان دراصل اس لیے منوانا چاہتا ہے کہ زمین پر دوبارہ زندگی کی ابتداء کا سہرا پنے سر بندھوا سکے، ورنہ آپ ہی بتائیے بھلا طوفان کب کسی کے لیے اتنے اہم  رہے ہیںکہ انھیں قومیا ئے  جانے کے جھگڑے ہونے لگئیں ؟۔اُتھل پانیوں کا باسی ہونے کے باوجود جب میں گہرے پانیوں کے ایسے مقدس راز اور اُس کی جنونیت کے پیچھے کارفرما ایسی نفسیاتی وجوہات اُنکی اتھاہ گہرائیوں سے کشید کر کے طشت ازبام کرتا ہوں تو گہرے پانیوں کا غیظ وغضب ان مقدس کہنہ رازوں کے افشا ہونے پر اپنی انتہا کو پہنچ جاتاہے ۔کیونکہ یہی وہ راز ہیں جسے وہ خود سے بھی چھپا کر رکھتے ہیں اور جنکے آشکار ہوتے ہی اُن کا مقصدِ وفا جسے وہ اپنے تئیں بے لوث گردانتے ہیں کے پسِ پشت کارفرما  طوفان قومیائے جانے کی سی لایعنی نفسیاتی وجہِ تحریک سامنے آتے ہی اُنکی دیو ہیکل شخصیت عدسہِ عقیدت تلے سے نکلتے ہی دیکھنے والوں کی نظروں میں کسی چیونٹی کی سی حقیر جسامت  میں ظاہر ہوتی ہے  اور اُنکی حقیقت اُس آلاش کی سی نظر آتی ہے جسے اُتھل پانی آہستہ آہستہ کھینچ کر کناروں تک لاتے اور باہر اُچھال دیتے ہیں، یوں اُتھل پانیوں کے باسیوں کے ہاتھوں گہرے پانیوں سے کنارے تک پہنچ کر منظرِ عام پر آنے کا رسوا کُن سفر غیظ وغضب کا سبب نہ بنے تو اور کیا ہو۔۔۔؟
میرے پچھلے تجربوں نے گہرے پانیوں کی جانب میری رغبت بڑھائی میں بے خطر اُنکی پرت در پرت بنی خاموش دبیز تہہ کو چیرتا اتھاہ گہرائیوں تک جا پہنچتا تو کبھی پاوں کے نیچے واقع اندھی کھائی سے بے خوف اسکی سطع پر چکراتا پھرتا، اسکے راز کشید کرتا اور کناروں کی جانب اُچھال دیتا میں ایک مدت تک اتھل پانیوں میں کھڑا خوف آمیز تجسّس و عقیدت کے ساتھ  گہرے پانیوں کو دُور ہی دُور سے دیکھتا اُنکے خود اُچھالے ہوے متروک رازوں کو بہت بڑا سرمایہ سمجھ کر سمیٹتا رہا اور اس زُعم میں جیتا چلا آیا کہ گہرے پانیوں کے رازوں سے ضرف اور ضرف میں واقف ہوں، مگر ہہت بعد میں جب میری سیمابی طبعیت نے مُجھے آہستہ آہستہ گہرے پانیوں کی جانب راغب کیا تو میں اُسکی اتہا گہرائیوں میںاُتھل پانیوں کے اُن باسیوں سے ملا جو میری طرح اُسکے رازوں کو کشید کرکے کناروں کو لے جاتے تھے میںنے ان گہرائیوں میں اُتھل پانیوں کے باسیوں کے چند لاشے بھی دیکھے اُن کے لاشے جو اپنی ہی زد میں آکرخود اپنا شکار ہو گئے تھے۔اُتھل پانیوں کے باسیوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ راز طشت از بام کرنے کی شوریدہ سری جب کھبی اُنھیں خود میں غوطہ زن ہونے پر مجبور کرتی ہے اور وہ اپنے ہی اندر اپنی سوچ سے جدا اک دُنیا پنپتی دیکھتے ہیں تو ایسے میں بعض اوقات خود سے پوری طرح واقف نہ ہونے کے باعث اپنی ہی زد میںآکر خود اپنا  شکار ہو جانا بعید از قیاس نہیں،یہی کمزور پہلو ایک طرح سے اُنکے لیے سود مند بھی ہوتا ہے اور وہ یوں کہ اس شوریدہ سری کے باعث وہ اپنی خامیوں سے آشنا ہونے کے بعد اپنی اصلاح کر سکتے ہیں مگر اُنکی معرفتِ نفس سے ناآشنائی اُنھیں خود اپنا شکار کروا کرڈبو بھی سکتی ہے۔
جب میں اس پہاڑی سلسلے میں داخل ہوا تو تقریباًدوپہر کا وقت تھا،دور نیچے پہاڑوں کے دامن میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا ڈیم نظر آ رہا تھا جسکے کنارے اس وقت اپنا سفری خیمہ لگائے ہوئے ہوں ،شام کے سائے گہرے ہو رہے ہیں سورج ابھی چند لمے پیشتر میری نظروں کے سامنے تھا مگر اب اُسکی جگہ سُرخی مائل زرد شفق نے لے لی ہے، یوں تو اس شام کی ابتداء بھی زندگی کی اس ڈگر پر گذری دیگر کئی شاموں کی طرح رومان پرور اور قابلِ ستائیش ہے ایک ایسی شام کی طرح جسکا سلونا پن مُجھے زیست کی ہر مادی فکر سے آزاد کر چھوڑتا، میں خود کو اسکی مدھربانہوں میں دے دیتا وہ میرے وجود پر سے مادی فکر کی الائیش اُتار کر مہکتی سوچ کی کلیاں سجا دیتی ، تمام مذہبی رُجحانوں سے ماورا خالصتاً انسانی بنیادوں پر پنپتی ایسی سوچ وجذبات کی کلیاں جنکی چٹک مُجھے بنی نوع انسان کی بے پایاںمحبت میںبے قرار کر دیتی اور انسانیت کے لیے میرے دل میں ایک ایسا لازوال جذبہ اُبھارتی جو دُور افق پر تیرتے بادلوں،تاحدِنظر پھیلے سر سبز میدانوں اور زمین کے اُبھرے ہوئے سڈول اور طاقتور پستانوںکے جاںآفرین نظاروں سے نمو پا کر میرے وجود کو کسی روئی کے گالے کی طرح ہلکا کر دیتا،میں خود کو بادلوں کے سنگ اُڑتا ہوا محسوس کرتا ایسے میں میری کوشش ہوتی کہ میں جلد از جلد اپنے ہم خیال دوستوں کی قربت میں پہنچوں اور اُنھیں شام کے اس جادوئی نظارے میں شریک کروں اور وہ انسان دوست خیالات سنائوں جو فطرت کے قُرب سے حاصل ہوئے ہیں،زندگی کے روندے ہوئے اُن انسانوں کی کتھا بیان کروں جنھیں ضروریات کا بگولہ اوربھوک کا خوف اپنوں سے یوںدور کر چھوڑتا ہے کہ چاہنے کے باوجود وہ دلوں کے فاصلے ساری عمر طے نہیں کرپاتے،ان زندگی کے روندے اور بھوک کے مارے ہوئے لوگوں میںسے ایک قاری مطلوب اختر ہے جس سے میری ملاقات ہوئے زیادہ دن نہیں گزرے، نجانے کیوں مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے شراب پیتے وقت انسان کو میسر صحبت نشہ کرکرا کرنے یا بڑھانے میں کسی گُزک * کی سی حثیت رکھتی ہے اسی طرح کسی آدمی سے ملاقات کی جگہ اور حالات اُسکے بارے میںبننے والے جذبات  و تاثرات پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، اور اسی کارن میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ اس شخص سے میری ملاقات اگر اس خوبصورت وادی کے بجائے کسی دوسری جگہ اور دیگر حالات میں ہوتی تو یقینا اُس کے اثرات بھی مختلف ہوتے،یہ وادی دو ساتھ ساتھ ملی پہاڑیوں کے درمیاں بالکل یوںواقع ہے جیسے کسی خوبصورت متناسب الاا عضا عورت کے بے خودی میں اُٹھے پستانوں کے عین جائے ملاپ پر ہلکا سا ڈمپل(Dimple) جو اُس کے جسم کی کشش میںمزید اضافہ کرتا ہے میں یہاں پہنچا تو اس شخض نے میری ہر ضرورت کا  یوں خیال رکھا جیسے یہ اُسکا فرض رہا ہو، یہ مہمان نواز نوجوان جس کا نام تو مطلوب اختر ہے مگر قاری کا لفظ اُسکی شخضیت کے ساتھ یوں جوڑ دیا گیا کہ بغیر اس کے نام تشنہ تشنہ سا سُنائی دیتا جیسے بعض اوقات کسی شخض کی کوئی عام استعمال کی شے مثلاً ٹوپی  وغیرہ اُس کی شخصیت کا ایک لازمی جزو بن جاتی ہے اور بغیر اُسکے شخضیت ادھوری ادھوری دکھائی دیتی ہے، کُچھ اسی طرح علاقے کے لوگوں نے مطلوب اختر کے نام کے ساتھ قاری کا دم چھلا یوں لگایا کہ بغیر اس کے ایک تشنگی کا احساس اُبھرتاہے۔اس خوبصورت وادی کی طرف میرا سفر ایک عجیب پس منظر لیے ہوئے ہے ایسے احساسات کا حامل جسکا تجربہ زندگی میں ضرف ایک خاص نوع کے حساس لوگوں کو ہی ہو پاتا ہے۔
 سرما کے آخری آخری دن تھے سورج کی تپش میں اصافہ ہونے کے ساتھ ساتھ سبزہ زمین کے انگ انگ سے پھوٹ پڑا تھا خوبانی اور سیب کے درخت کی برہنہ شاخیںسفید پھولوں سے لَد گئیں تھیں اس تغیر نے مُجھے حضرت انسان کی کروڑوں اربوں سالوں سے چلی آتی غیر تغیر پزیر ی کی جھلک دکھائی تو میں نے خود کو ایک مرتبہ پھر اُسی جان لیوا یکسانیت میں ڈوبتے  اور اپنی سانسیں بند ہوتیں دیکھا جس میں زندہ رہنے کا احساس مر جاتا ہے اور ایک عادت باقی رہ جاتی ہے،بالکل اسی طرح جیسے ہم سانس بغیر کوشش کے لیے جاتے ہیں،بغیر محسوس کیئے ،بغیر چکھے اور یوں ایک عادت کے تحت ضرف  جیئے جانے کے لیے جیئے جانامیرے لیے یوں ہی ہے کہ جیسے گہرے پانی کی اتہاہ گہرائیوں میںجاکر کوئی شخض اپنی سانس کھو بیٹھے اور ضرف زندگی بچانے کے لیے سانس ختم ہو جانے کے باوجود دوسری سانس نہ لے اورمنوں وزنی گھٹن کے ایک ایسے بوجھ تلے دبا او پر آنے کے لیے مسلسل ہاتھ پاوں مار رہا ہوجس کے احساس  ہی سے انسانی ذہین کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بتدریج ماعوف ہوتے ہوتے فردِ واحد کی خاموش موت واقع ہوجاتی ہے اور بعض اوقات معاشرہ اجتماعی طور پر اس کا شکار ہو جاتا ہے۔ ناجانے مُجھے کیا ہے کہ اگر کہیں میںمسلسل اس طرح کی گھٹن کا شکار ہو جاوں جہاں دوسرا سانس لینے کی کوشش زندگی کی بجائے موت کی طرف پہلا قدم ہو تو اس بوجھ اور گھٹن کے تسلسل کو توڑنے کی خاطر یقینا میں ایسا ہی کروں۔میں مسلسل  نامساعد یا مُساعد کسی بھی طرح کے ایک سے حالات میں لمبے عرصے تک نہیں رہ سکتا اس تسلسل کے نتیجے میں حاصل ہونے والی یکسانیت مُجھے زندگی کے ٹھہر جانے کا احساس دلاتی ہے تو ایسے میں میری روح جسم میں یوں بے چین ہو ہو کر چکر لگتی ہے جیسے کسی کا سانس بند کیا جا رہا ہو اور وہ منوں بوجھ تل دبا سانس لینے کو بے چین ہو۔ عام حالات میں اگرچے بے چینی کو دیکھ لینے کا دعوا کرنا یوں ہی ہے جیسے کوئی کہے کے اُس نے ہواکو دیکھ لیا ہے مگر نجانے کیوں اس خاض کیفیت میں جب میری روح یکسانیت کی بے ہوا فضا میں سانس لینے کی کوشش میں فقط پھڑپھڑا کر رہ جاتی ہے تو مُجھے اپنے جسم میں خاض طور پر ریڑھ کی ہڈی ،پنڈلیوں اور کندھوں کے نیچے بے چینی کی سر سراہٹ نا ضرف یہ کہ محسوس ہوتی ہے بلکہ میں اپنی تیسری آنکھ سے دیکھتا ہوں کہ بے چینی فلک پر موجود ستاروں کے جھرمٹ کی سی شکل میں جسم کے ان حصوں کے درمیان کسی ایسے قیدی کی طرح چکراتی پھر رہی ہے جسے صبحِدم پھانسی پر چڑھا یا جانا ہے اور رات کو وہ اپنی موت کا خوف آنکھوں میں لیے گزری زندگی کو سوچتے ہوئے بھی کُچھ نہیں سوچ رہا ہوتا،خُدا،جزا،گناہ،ثواب اُسکے لیے ثانوی حیثیت احتیار کر جانے ہیں۔
یکسانیت کا حصار توڑنا ایک جان لیوا حد تک محنت طلب عمل ہے اور اسکی جراٗت بہت کم لوگوں کو ہوتی ہے، اس ضمن میں مُجھے یاد آیا کہ بہت سال ہوئے جب ہم جیل کے مطالعاتی دورے پر گئے تھے وہاں قیدیوں سے حالات وواقعات جاننے کے دوران اگرچے میری ملاقات بہت سے قیدیوں سے ہوئی مگر ایک قیدی مُجھے آج تک نہیں بُھولا۔ہوا یوں کے کوٹھریوں میں بند قیدیوں سے گپ شپ کرتے ہم ایک ایسی کوٹھری کے سامنے جا کھڑے ہوئے جس میں ایک ذرا پکی عمر کا قیدی دیوار سے کمر ٹکائے حسرت سے خلا کو گھور رہا تھا ۔اُس نے ہماری آمد کا نوٹس نہ لیا میرے ساتھی جو دوسرے قیدیوں سے ہنسی مذاق کرتے اور اُنھیں تحائف دیتے چلے آ رہے تھے، اُنہوں نے اس سے بھی باتیں کرنے کی کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا پھر نجانے کیسے میرے یہ پوچھنے پر کہ تم کس جرم کی سزا کاٹ رہے ہو وہ تقریباً چلاتے ہوئے بولا "زندگی کے جرم کی" میرے مسلسل کُریدنے پر اُس نے بتایا کے وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہا تھا اُسے کوئی غم لاحق نہ تھا۔بیوی تھی،بچے تھے اور ماں باپ وہ ایک کارخانے میں کام کرتاتھا وہ روزانہ منہ اندھیرے کام ہر نکل جاتا اوررات گئے گھر لوٹتاماسوائے چھٹی والے دن کے بچوں سے اُسکی ملاقات مشکل ہی ہوتی صبحِدم بچے ابھی جاگے نہ ہوتے اور وہ گھر سے نکل جاتا اور رات کو اُسکے گھر لوٹنے تک بچے سو چکے ہوتے اور خود اُسے بھی صبح  کام پر پہنچنے کی فکر بیوی سے کُھل کر باتیں بھی نہ کرنے دیتی وہ ایک لگی بندھی عادت کے تحت بنا محسوس کٗیے اپنے جسم کی تھکن بیوی کے حوالے کرتا اور بے دم ہو کر سو جاتا،آنے والی صبح اُسے گذرے ہوئے کل کی کہانی دُہرانے کو تیار ملتی۔نجانے کب سے وہ کسی ایسے ریکارڈ کے بولوں کی طرح مسلسل بج رہا تھا جس میں گراموفون کی سوئی اٹک گئی ہو،مگر بقول اُسکے وہ ایک مطمئن زندگی گذار رہا تھاکہ ایک دن ایک عام سے دن عام سے واقعہ نے غیرمعمولی شکل اختیار کر لی۔اُس منحوس دن ،زندگی میں شاید پہلی مرتبہ اُس نے اس یکسانیت کو توڑا اور دوپہر کے وقت چھٹی سے بہت پہلے فیکٹری سے نکل آیا کئی لوگوں کے لئیے کام سے یوں غائب ہو جانا معمول کی بات تھی،وہ بیوی کو حیران کرنے کی غرض سے گھر پہنچا تو خود حیران رہ گیا وہ عورت جسکے لیے اُس نے زندگی کو مشین بنا ڈالا تھا اپنے وجود سے ایک دوسرے مرد کی آغوش سجائے بیٹھی تھی،ایک لمحے کو اُسکی نگاہوں تلے اندھیرا چھا گیااور اس واقعہ نے اُس کے سوچنے سمجھنے کی قوت سلب کر لی ۔ وہ مرد تو خیر بھاگ نکلا مگر حقوقِ ملکیت کی سوچ اُس پر یکدم یوں غالب آئی کے اُس نے اپنی بیوی کو قتل کر ڈالا،اُسکے وکیل کی ساری تسلیاں جھوٹی ثابت ہوئیںاور یوں کم وپیش پندرہ سال بعد اُسکے مقدمے کا فیصلہ اُسے پھانسی کی سزا کی صورت میں ہوا اور کل صبحِ اُسے پھانسی چڑھایا جانا تھا۔اُسکی درد ناک کہانی سننے کے بعد ہم نے اُس سے ہمدردی جتانے کی خاطر نجانے کیا کیا کہا جسکی قطعی ضرورت نہ تھی بہت جلد وہ ایسی تمام بے معنی اور لایعنی لفاظیت سے بَری ہو کر اپنی اصل کو لوٹنے کو تھا۔میرے ساتھی نجانے کیا کُچھ بولتے گئے اور وہ کسی ایسے بھوکے فقیر کی سی خالی نظروں سے ہمیں گھورتا رہا جسے ہمدردی کے فضول بولوں کی بجائے روٹی کے ٹکروں کی طلب ہو،یقینا ان پندرہ سالوں میں اُس نے ہمدردی کے کتنے ہی ایسے بے وقعت لفظ اکھٹے کیے ہوںگے جن میں سے کُچھ تو ایک مشینی اور لا شعوری عمل کے تحت مُنہ سے نکل جاتے ہیں اور  بولنے والے کو خود پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا کہہ گیا اور کُچھ واقعی دل کی گہرائیوں سے شعوری کاوش سے نکالے جاتے ہیں،ذہن کا میرے نزدیک ایک عجیب سا اندرونی نظام بنتا ہے، مُجھے یوں لگتا ہے کہ یہ شہد کے چھتے کی شکل پر چھوٹے چھوٹے خانوں میںبٹا انسانی جسم کا ایک جاندار ترینself motive ،self-control اورself starterحصہ ہے  جہاں ہر خانے میں ایک الگ دُنیا آباد ہے ان خانوں میں انوع واقسام کے تجربات احساسات،جذبات، الفاظ، غرض دنیا کی دریافت شدہ چیزوں کے بارے میں معلومات اور نئی اور نامعلوم اشیاء واحساسات کے بارے میں تحیر،خوشی،غم،سنسناہٹ،ڈر،خوف ،ایثار،قربانی ،خودغرصی ،غرض  ہر جذبے کی نوع کے مطابق اُسکے اظہار کا نظام موجود ہے جو highly integrated system   کے طور پر کام کرتا ہے جونہی کسی حواس کے ذریعے کسی بھی قسم کے حالات و واقعات کی وقوع پذیری کی خبر موصول ہوتی ہے تو لاشعور اس خبر کی نوع سے متعلق خانے سے رجوع کرتاہے اور خبر کے الفاظ یا منظر سے حاصل ہونے والی سچوئیشن  اور خبر سے متعلقہ شخص سے تعلقات کی نوعیت کا اندازہ کر کے تحیّر، خوشی ،غم،غصہّ یا افسوس کے الفاظ اور تاثرات کاواقعہ کی نوعیت کے مطابق شدید یا سرسری اظہا ر کرنا شروع کر دیتاہے یوں ہر جذبے اور رویے کے اظہار کے لیے اپنے اپنے لفظوں اور منظر سے متعلق expression  ہیں اگر کبھی غلطی سے سچوایشن کو سمجھنے میں غلطی ہو جائے یعنی ہماری بصری یا سمعی حس دھوکا کھا جائے تو سب کُچھ غلط ہو جاتا ہے فرض کیجیے کہ آپکے کسی دوست کی شادی متوقع ہے اور جسکی آپکوخبر بھی ہے آپ اسی دوران اُسکے گھر کی طرف کسی کام سے جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ شامیانے لگے ہیں اور کرسیوں پر مہمان براجمان ہیں ایسے میں پچھلی خبر کی روشنی میں آپکی حسسیں شعور کو یہ پیغام پہنچائیں گئیں کے ان تازہ معلومات کا تعلق جس خبر سے ہے وہ خوشی کے خانے میں جمع ہے سو آپ اپنے دوست کو دیکھتے ہی خوشی کا اظہار کریں گے جسکی شدت کاانحصار آپکے اُس کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر ہوگا اور ایسے میں آپ یقینا یہ جان کر گربڑا جائیں گے کہ کل ہی اُسکے دادا فوت ہوئے ہیں اور یہ سارا انتظام اُسی سلسلے میں ہے۔ اُس قیدی سے ہمدردی جتاتے سمے ہم میں سے کوئی کم و پیش اسی طرح کی غلطی کا مرتکب ہوا ،اور اُس کے مُنہ سے نکلا کے خُدا رحم کرے گا،آپ مایوس نہ ہوں،مایوسی کفر ہے،  اُمید پر دُنیا قائم ہے وغیرہ ،وغیرہ لفظوں کا اداہونا تھا کہ اُس قیدی کے ضبط کے تمام بند ٹوٹ گئے وہ یکدم بھپری ہوئی آواز میں چیخا،خُدا کیا کرے گا،مایوسی ،کفر کیا ہیں ،خُدا کیوں رحم کرے گا اور اگر کرے کا بھی تو کیا میرے پھانسی پر چڑھنے کے بعد،جملوں کا ایک طوفان تھا جو ہم سب کو بہالے گیااور روایات کے سہارے کھڑے ہمارے بُت سر جھکائے کھڑے کے کھڑے رہ گئے،نجانے ہم میں سے کون سچ بول رہا تھا، یہ کیفیت گو تھوڑی دیر تک رہی مگر مُجھے آج تک یوں لگتا ہے کہ میں ابھی ابھی اس گھمبیر سچوائیشن سے نکلا ہوں۔مُجھے سمجھ نہیں آتی کے میں ان حالات میں اُسکی زندہ رہنے کی اتنی شدید خواہش کو یکسانیت سے نا واقفیت کہوں یا اُسکی زندہ رہنے کی ہٹ دھرمی کوئی بھی حساس شخص یہ سوچ کر ہی گھٹن محسوس کر نے لگے گا کہ اُس نے پندرہ سال موت کے انتظار میں یا شاید زندگی کی خواہش میں ایک کمرے میں ایک ہی طرح کے روزوشب اور ایک ہی طرح کی خواہش کے تحت کیسے گزار ے ہوں گے۔کیا اتنے لمبے عرصے کی یکسانیت  سہنے کے بعد وہ واقعی زندہ تھا یا ایک لاشعوری عمل کے تحت ضرف سانس لیے جا رہا تھا،بغیر سوچے اور محسوس کییٗ ضرف ایک زندہ  رہنے کی عادت کے تحت کیونکہ زندہ تو وہ اس حادثے سے پہلے بھی نہیں تھااُس وقت بھی وہ ایک مسلسل یکسانیت کے کرب سے گذر رہا تھایہ الگ بات کہ اُسے اس کرب کا احساس تک نہ ہو اور کسی دوسرے محسوس کر سکنے والے کو اُسے اس مسلسل یکسانیت میں گھرادیکھ کر گھٹن اور کرب محسوس ہوتا ہو،کیا خوب ہے کہ "سارا عذاب ہی جاننے اور نہ جاننے کا ہے" جب ہی تو وہ زندگی کے اس گورکھ دھندے میں  برسوں سے یکسانیت کی  چکی پیسنے کو ہی زندگی کا مقصد  اور معراج سمجھتے ہوئے خوش تھا۔ المیہ یہ ہے کہ یکسانیت اگر کافی عرصہ تک انسانی زندگی کی سرحدوں میں پڑائو ڈالے رکھے تو یہ دھیرے دھیرے بنی نوع انسان کو اپنا مطیع و غلام بنا کر کسی گھٹیا نشے کی طرح انسانی حواس کو معطل کر کے اُسے کے دماغ پر چھا جاتی ہے اور انسانی معاشعرے کو اجتماعی طور پر انفرادی  نقصانات و فوائد کے دائرہ میں قید کرکے اُسے حرض و ہوس کے عمیق گڑھے میں دھکیل چھوڑتی ہے  اور ہموار زندگی( smooth life)  کے معنوں میں سامنے آتی ہے یعنی جیئے جانا اور بس منتظر رہنا کہ کب کوئی دُکھ آئے اور اُسے سہا جائے،خوشی آئے اور اسے منایا جائے بیماری آئے اور اُسے برداشت کیا جائے بغیر سوچے محسوس کیئے اور زندگی کے بنیادی فلسفہِexistence کو بنا جانے یعنی مختصراً یہ کہ مرقبہء ذات کا کشٹ اٹھائے بناا ور خود سے متعارف ہوئے بغیرزندگی کی مادی ضروریات کو پورا کرنے کے چکر میں زندگی گذار دینا، یکسانیت کی یہ شکل ایک موذی مرض کی سی ہے جس میں مبتلا شخص کو وہ جگہ جنت نظر آتی ہے جس جگہ وہ زندگی گذار رہا ہوتا ہے،وقت کا وہ حصہ ہی زندگی کا بہترین حاصل ہوتا ہے جس میں وہ ہر بدلتے لمحے بنا تغیر کے زندہ ہوتا ہے، اس حالت میں انسان کی سوچنے سمجھنے ،چکھنے،چھونے اور محسوس کرنے کی تمام حسسیں ایک طویل یکسانیت کا شکار رہنے کی وجہ سے اپنی حساسیت کھو بیٹھتی ہیں اور وہ بہترین انسانی درجے سے نچلے درجے کی طرف آنا شروع کر دیتا ہے۔
 با لکل اسی طرح اوئل سرما میں یکسانیت لمحہ بہ لمحہ کسی عنکبوت کی طرح میری روُح کے گرد چکر لگا لگا کر مُجھے اپنے ریشمی تاروں سے جکڑنے اور نچلے درجے کی طرف گھسیٹنے لگی تو میری روُح جو میرے دمہ زدہ جسم کی نسبت زیادہ طاقتور اور اپنے افعال پر قادر ہے یکدم پھڑپھڑائی اور ایسی نازک صورتحال ظاہر ہوتے ہی میں اپنے جسم کو رُوح کے حوالے کر دیا کرتا ہوںکے وہ ہی بہتر طور پر اسکی حفاظت پر قادر ہے۔ مُجھے یوں لگا کے فطرت  سے خواہشِ وصل  میرے جسم کو یوں بلا رہی ہے جیسے عمر کی ایک خاض بسنت میں ایک بدن کی عُسرت دوسرے بدن کو پکارتی ہے،تب میں نے رحتِ سفر باندھا اور گہرے پانیوں کی کشش مُجھے اس وادی میں لے آئی، اس خوبصورت واد ی کے بارے میں مُجھے اپنے جیسے ایک آوارہ گرد، دوست نے بتایا تھا،ایک ایسی وادی جہاں فطرت خود اپنے بنائے اصولوں کو توڑ کرمجسم صورت میں رُوپ در رُوپ بٹی چلی آتی ہے،کبھی دھوپ کی روپیلی کرنوں کے پانی کی سطح پر رقص کی صورت میںتوکبھی رات کے سناٹے میں چاندنی کی چادر اوڑھ کر اور کبھی آسمان کے کینوس پر بادلوں اور قوسِ قزح کے رنگوں کی شکل لیے۔میں اس وادی میں داخل ہوا تو تقریباً دوپہر کا وقت تھا بس نے مُجھے جس جگہ اُتارا وہ ایک ایسی پُرپیچ سڑک کا موڑ تھاجو تھوڑی دور تک نظر آنے کے بعد پہاڑ کے وسط میں بل کھاتی اُسکے پہلو میں گم ہوگئی تھی،سڑک کے دوسرے کنارے پر واقع کھیتوں کی پرلی طرف مشرق کی سمت پہاڑ زمین کے ساتھ پینتالیس ڈگری کا زاویہ بناتا کئی سو میٹر کی بلندی تک آسمان کی طرف اُٹھ گیا تھا جہاں سے اُوپر تک پہاڑپر مکان ایک دوسرے کے قدموں میں پڑے کُچھ یوں دکھائی دیتے تھے کہ نچلے مکان کی چھت اوپر والے کا صحن نظر آتی تھی، سڑک کے مغرب میں ذرا ہٹ کر پرائمری سکول کا بورڈ نصب تھا اورقریب ہی سکول کی عمارت واقع تھی جس کا رُخ مغرب کی سمت تھااسی عمارت کی پُشت پر مشرق کی طرف مُنہ کیے ایک دوسری عمارت بنائی گئی تھی جس پر مدرسہء انواریہ کے حروف جلی طور پر لکھے تھے،دونوں عمارتوں کی پچھلی دیواریں انتہائی قلیل فاصلہ رکھے ہوئے کہ بظاہر جُڑی ہوئی محسوس ہوتیں اوپر کو اُٹھ گئیں تھیں سکول کی عمارت کی پشت سے پشت ملائے یہ دوسری عمارت  یوں کھڑی تھی جیسے دو حریف ایک دوسرے کے وجود کا جھگڑا مٹانے کی غرص سے ڈوئل(duel) لڑنے کوپشت سے پست ملائے تیار کھڑے ہوںدونوں عمارتوں کے شمال،جنوب اور مغربی سمت جھیل یوں پھیلی تھی کہ عمارتوںکے دونوں طرف ایک ایک کھاڑی بن گئی تھی ،دراصل سڑک کے پرلی طرف مشرق کی سمت  اُوپراُٹھے پہاڑنے سڑک کے مغرب طرف اُترتے اُترتے ڈھلوان سے بتدریج میدانی روپ لیا اور ایک لیٹی ہوئی مخروطی شکل میں پانی کو درمیان سے چیرتا یوں آگے تک چلا گیا کہ یہ عمارتیں ایک ایسے جزیرہ نما پر بنی تھیںجسکا مشرقی سمت سے خشکی سے رابطہ تھا،شمال اور جنوب میں ایک ایک کھاڑی تھی جنکی پرلی طرف پہاڑوں پر آبادی تھی اور مغربی طرف دور تک جھیل پھیلی تھی جسے بند باندھ کر روکا گیا تھابند پر سپل وے(spillway)اور اس پر سڑک بنی تھی ایک طرف پہاڑی پر خوبصورت سا گیسٹ ہاوس بنا تھا اور اس سے پرے دوبارہ سر سبزپہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ سکول کی عمارت پانچ کمروں پر مشتمل تھی جن میں سے دو بڑوں کا رخ مغرب کی طرف اور باقی تین کا شمال کی سمت تھا جو آپس میں مل کرانگریزی کا حرف ایل بناتے تھے کمروں کے آگے برآمدہ بنایا گیا تھا، ہر کمرے کی مغربی دیوار پر پلستر کر کے مستعطیل شکل کا بلیک بورڈبنایا گیا تھا،ایک کمرے کے بلیک بورڈ پرمُلک کے جغرافیائی حالات لکھ کر مٹا دیئے گئے تھے آدھ مٹّے نقشے میں  صوبوں کی نئی تقسم بنتی دکھائی دیتی تھی، دوسرے کمرے کے بلیک بورڈکے اوپری بائیں کونے میں ایک چوکھٹا بنا کر اس میں تیسرے درجے کے طلباء کی حاضری کی کیفیت درج کی گئی تھی جبکہ درمیان میں 786 کے اعداد لکھ کر اُنکے نیچے لائن لگا دی گئی تھی،تین بڑے کمروں کے عین سامنے ایک پرانا برگد کسی چوپال میں بیٹھے ہر گزرتے دور کے اُس آخری بوڑھے کی طرح نالاں دکھائی دیتا تھاجو اہلِ ماضی کی شُجاعت کے فسانوں کو نسلِ نو کی حقیقت کے مقابلِ زیادہ اہمیت دیتے ہوئے نسلِ نو سے دل برداشتہ رہتا ہے۔میں سکول کے صحن سے گزر کر پانی کے کنارے کی طرف بڑھنے لگا،کنارے کے ساتھ ساتھ دور تک گھاس اور جنگلی پھولوں کا سر سبز میدان پھیلا تھا میں نے اس نیلگوں پانی کے کنارے اپنا سفری خیمہ نصب کیا جو آسمان کا رنگ اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے تھا اورشارٹس پہن کر پانی میں اُتر گیا،یوں تو اس وادی میں داخل ہوتے ہی سرمستی کی کیفیت میرے رُوآں رُوآں سے ٹپکنے لگی تھی مگرگہرے ،ٹھنڈے نیلگوں پانی کے لمس نے میری رُوح پر عنکبوتِ قنوطیت کا لپٹاتار اُتار کر مُجھے دوبارہ پوری طرح زندہ کر دیا،میںکافی دیر تک دبیز پانی میںپرت در پرت چھپی خاموشی کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر لہروں کے ارتعاش سے توڑتے رہنے کے بعد کنارے کے ساتھ ساتھ پھیلی مخملی گھاس پر بے دم ہو کر لیٹ گیا دور تک پھیلے سر سبز قطعہ پر کہیں ،کہیں گھاس کے درمیان اُگے نرسل کی سفید پُونچھڑیاں اس سارے منظر میں نمایاں تھیں اور ہوا کے زور سے ایک طرف کو جھکتیںاُٹھتیں گردوپیش کے ماحول میں عجیب رنگ بھر رہی تھیںجھیل کے ساکن پانی میں نظر جما کر دیکھنے پر گردوپیش کے پہاڑوں کا عکس پانی میں یو ں اُبھرتاگویا عموداًاُوپر اُٹھے پہاڑ کے حُجم اور وضع قطع کا ایک دوسرا پہاڑ پانی میں اُلٹا نیچے کی جانب موجود ہے جسکے پیندے پر یہ پہاڑ اوپر کے رُخ رکھا گیا ہے،پانی کے اُوپر کی دُنیا اُلٹی شکل میںواقع اپنے عکس سے مل کر عجیب فریبِ نظرپیدا کر رہی تھی یوں لگتا تھا جیسے اصلی دنیا زمین کی پرت کے نیچے پوشیدہ ہے اور جہاں ،جہاں پانی زمین کی سطع پر باہر نکل آیا ہے وہاں عکس کا ملاپ اصل سے ہو رہا ہے ،میں ایسے ہی گنجلک خیالات میں ڈوبتا اُبھرتا نجانے کتنی دیر تک کنارے پر لیٹا روپیلی کرنوں کو پانی پر ایک نقظے پر سمٹتے،پھیلتے اور منعکس ہوتے دیکھتا رہا اور پھر یکدم مُجھ میں اُبھرنے والی بھوک  کے احساس نے مُجھے میرے اصلی وجود سے ملا دیا،میںقدرت کی اس ستم ظریفی پر مسکراتا اُٹھ کھڑا ہوا اُس نے نجانے کون کون سی بھوک ہمارے وجود میں رکھ کر ہمیں بے بس کر چھوڑا تھا،ذراسوچیئے تو اگر ہم ان بھوک والی قباحتوں سے ماورا ہوتے تو کیا ہمیں کسی خُدا کی ضرورت ہوتی،یقینااُس نے اپنا وجود منوانے کو ہی ہمیں اس گورکھ دہندے میں اُلجھا چھوڑا تھا،میں نے خیمے میں رکھا سٹعوئو ( stove)نکالاتو مُجھے یاد آیا کہ کیروسین آئیل تو ساتھ لانا بھول ہی گیا تھا،میںاُوپر گائوں کی سمت تیل لینے چل دیا سکول کے احاطِ میں سے گزر کر میں جوں جوں مدرسہ کی عمارت کے نزدیک ہوتا گیا میرے کانوں تک پہنچنے والی رٹے کی آواز اُونچی ہوتی چلی گئی،میں جونہی راستے کا موڑمُڑ کر عمارت کے پہلو سے آگے نکلا تو دیکھا کہ دس،بارہ بچے کھجور کے پتوں سے بنی لمبی چٹائیوںپر چوکھڑی مارے بیٹھے تھے اُنکی گود میں سپارے دھرے تھے جن کو اُنھوں نے بہ امرِمجبوری نیچے گرنے کے خوف سے ڈھیلے ہاتھوں سے تھام رکھا تھا اور ایک ردھم کے ساتھ آگے پیچھے جھولتے ہوئے بغیر سمجھے قرآنی آیات رٹ رہے  تھے،میرے نزدیک پہنچتے  ہی اُن کے سر ایک ترتیب سے میری جانب اُٹھے مگر کسی عمل میں تبدیلی نہ آئی، اُن سب کو ایک ہی سمت متوجو پا کر ایک نوجوان نے جسکی میری طرف پیٹھ تھی مڑکر دیکھا اور ایک گھٹی سی مسکراہٹ مسکراتا میری جانب بڑھا،اُسکی ضرورت سے زیادہ سنجیدہ اور متین نظر آنے کی کوشش اُسکے چہرے کے تاثرات سے کسی طرح میل نہیں کھاتی تھی،یوں جیسے کسی نوجوان لڑکی کی شادی اُسکی مرضی کے بغیر ہو رہی ہو اور وہ دکھی دل کے ساتھ ایک نئی زندگی کا تجسس لیے مہمانوں کے جھرمٹ میں اپنے والدین کی عزت کی خاطر دلھن بنی بیٹھی ہو، ایسے میں نئی زندگی کا تجسّس کبھی اُسکے جذبات پر غالب آجاتا اور کبھی اُس کے باغی جذبات اور والدین کی عزت پرحرف آنے کے خیال میں چپقلش شروع ہوجاتی ہے اور وہ کسی فیصلے پر پہنچنے کے بجائے خود کو حالات کے حوالے کر دیتی ہے،بس مُجھے بھی یہ گھٹی مسکراہٹ والا نوجوان ہمارے معاشرے کے دیگر لوگوں کی طرح  مجبوری کے تحت خود کو حالات کے حوالے کئی ہوا لگا۔  تیئس،چوبیس سال کے اُس نوجوان نے اپنی داڑھی کو بہت ترتیب سے ترشوا رکھا تھا اُسکے سر پر ٹوپی اور کاندھے پر ایک سرخ و سفید چیک دار رومال تکونا کر کے رکھا تھا،اُس نے تقریباً حلق سے نکلتی بھاری اور گھمبیر آوار میںنہایت شدت اور اپنائیت سے سلام کیا اور دونوںہاتھ مصافے کے لیے بڑھائے،اُسے مُجھ سے گفتگو کرتا دیکھ کر بچوں کی حرکت گھٹنے لگی اور بلند آوازدھیرے دھیرے بھنبھناہٹ کی شکل اختیار کرتی چلی گئی جب اسے معلوم ہوا کہ میں تیل خریدنے آبادی کی طرف جا رہا ہوں تو اُس نے مُجھے روکتے ہوئے کہا کے اُسکے پاس ضرورت کی ہر شے موجود ہے اور مُجھے لیکر ایک کمرے کی طرف بڑھا کمرے کے ایک کونے میں چولہا رکھا تھا جسکے گردا گرد چکنائی کے ہلکے ہلکے چھینٹوں اور کھانے  کے ذرات پر چونٹیوں کا ریلا گھوم رہا تھا، اُس نے چولھے کے طرف اشارہ کرتے ہوے کہاآپ اس سے کام چلائیں میں ذرا بچوں کو درس دے لوں وہ بات ختم کرتے ہی مڑا اور باہر نکل گیامیں اپنے خیمے سے میکرونیزکا پکیٹ اور ٹماٹو کچ اپ کی بوتل اُٹھا لایا ، میکرونی اُبالنے کے دوران میں نے کمرے کا تفصیلی جائیزہ لیا،کمرے میں کھڑکی کے قریب ایک چارپائی بچھی تھی جسکی پرلی طرف والی دیوار پر چھت سے کوئی اڑھائی فٹ نیچے ایک طرف کی دیوار سے دوسری طرف والی دیوار تک ایک لمبی کارنس بنائی گئی تھی جس پر ایک بند رحل پردھرے قرآن ِ مبین پر چمکیلا سُرخ رنگ کا غلاف چڑھایا گیا تھا،کھڑکی کے عین اوپر اور سامنے والی دیوار پر کسی کمپنی کے یک صفحاتی کیلنڈر آویزاں تھا جس پر ماڈل گرل کی تصویر پر ایک کاغذ چسپاں تھا جس پر منَدَارِج تھا  ــ" قرآن پڑھو ۔۔۔۔ قرآن پڑھائو۔۔۔۔جنت کمائو۔۔۔۔منجانب قاری مطلوب اختر آف بھوٹری  "  دروازے کے بالکل سامنے والے کونے میں یہ چولھا دھرا تھا جس پر میں میکرونیز اُبال رہا تھا اور اسکے گرد روز مرہ استعمال کے برتن پڑے تھے، جبکہ دوسرے طرف والے کونے میں چارپائی کے بالکل سامنے کھجور کے پتوں کی بنی چٹائی پر ایک جانماز قبلہ رُخ بچھی تھی جسکا اگلا ایک کونا موڑا ہوا تھا یوں جیسے کوئی شخص کتاب کے مطالے کے دوران صفحہ موڑکر نشان لگا گیا ہو، میں نے اُبلی ہوئی میکرونیز پلیٹ میں اُنڈیل کر اُن پر ٹماٹو کچ اپ ڈالا اور باوجود شدید بھوک کے اُس نیک دل نوجوان کا انتظار کرنے لگا تھوڑی ہی دیر میںوہ مسکراتا ہوا اندر داخل ہو اور مُجھے کمرے کے بیچوں بیچ کھڑا دیکھ کرچارپائی پر بیٹھنے کی دعوت دی ،میں نے پلیٹ اُٹھائی اور چارپائی پر آرہا میرے پرُزور اسرار پر اُس نے چند چمچ لیے، باتوں باتوں میں عقدہ کھلا کہ موضوف ہی قاری مطلوب اختر ہیں اور یہ دینی مدرسہ بھی وہی چلا رہے ہیں یہ بات میرے لیے کسی طرح  قابلِ ہضم نہ تھی،میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ ایک ایسا نوجوان جسکی ابھی خود سیکھنے کی عمر ہے اور جسکے قول وفعل اور چہرے کے تاثرات ظاہر کرتے ہیں کہ اس نے ابھی خودوجود سے شخصیت کی طرف جانے والے کٹھن راستے کے ارتقائی مراحل بھی طے نہیں کیے پھر ایسے میں وہ کیونکر اُستاد جیسے منصب پر فائیز ہو سکتا تھا؟اُس نوجوان نے مُجھے یہ بھی بتایاکہ علاقے کے لوگ اُسے قاری صاحب کے نام سے پکارتے اور بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیںاگرچہ وہ اس علاقے کا تونہیںمگر یہاں اُسے گھر کا سا ماحول میسر تھا،اُسکے کھانے کا بندوبست علاقے کے چند متمّول گھرانوں کے ذمہ تھا جو اپنی اپنی باری پر کسی بچے کے ہاتھ کھانا بھجوا دیتے تھے کبھی کبھار وہ خود بھی کھانا تیار کر لیتا اُس سے خاصی دیر کی گفتگو سے میں نے محسوس کیا کہ وہ ایک معقول شخص تھا مگر حالات نے اُسے ایسی ڈگر پر ڈالا کہ بناخود کو تلاش کیئے دوسروں کو اُنکی ذات کا پتہ بتلانے پر مجبور کر دیا گیا۔اُسکی باتوں سے جھلکتی بے چینی اور تشنگی اس بات کی غماز تھی کہ وہ خود اپنے اس منصب سے مطمین نہیں کیونکہ اس کے منصب کا تقاضا تھا کہ وہ لوگوں کی راہنمائی کرے مگر علم و شعور سے مکمل آگہی نہ ہونے کی وجہ 
سے اُ س کی مجبوری تھی کہ اپنی بھوک کی خاطر اپنی ذات پر مصنوعی سنجیدگی اور متانت کا لبادہ اوڑھ لے اندر ہی اندر خود سے لڑے مگر دوسروں کو اُس سچ کی راہ دکھائے جسے وہ خود نہیں جانتا تھا اور وہ کرتا بھی کیا اُسے اس منصب پر خود معاشرے نے بٹھایا تھا۔
مُجھے مسلسل خاموش دیکھ کر اُس نے چائے کے لیے پوچھا تو میں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ تھوڑی دیر بعد پییں گے اور اپنے خیمے کی طرف جانے کو اُٹھ کھڑا ہوا وہ باہر تک میرے ساتھ آیا باہر نکلتے ہی شام کے سلونے پن نے مُجھے اپنی جانب متوجہ کر لیا میں نے سپل وے کی پرلی طرف کوسوں دور پہاڑی کے پیچھے غروب ہوتے سورج پر نگاہیں جما دیںاور ایک لمبا چکر کاٹ کر جھیل کے کنارے کنارے بل کھاتی پگڈنڈی پر چلتا ڈیم پر سے گذرتی سڑک پر آرہا،میں نے سڑک کے کنارے لگی ریلنگ کے سہارے کھڑے ہو کر سگریٹ سلگایا اور نگاہیں لمحہ بہ لمحہ ڈوبتے سورج پر گاڑ دیںڈوبتے سورج کا نظارہ کرتے نجانے کیوں افسردگی،رقت اور تمام عمر کی لاحاصلی کادُکھ جسے میں نے کبھی خود پر بھی ظاہر نہیں ہونے دیا میرے وجود کے کسی نہاںخانے سے نکل کر میرے مقابل آکھڑا ہوتا اور مُجھے بُری طرح جکڑ لیتا ایسے میں میرے جسم کا  روآں  روآں،کسی فلم کی باہم ملی اُن تصاویر کی سی شکل اختیار کر لیتا جنکا تسلسل فلم کی حرکت کا باعث ہوتا ہے،دماغ کُچھ دیر کے لیے سوچنا بند کر دیتا جو عام حالات میں کسی طرح ممکن نہں اور ایسے میں لاشعور کے پردے پر ملگجے ،ملگجے خواب کی سی صورت بعض خیالات یوں مجسم نظر آتے جیسے کسی روشن غسل خانے کے موٹے دھندلے شیشے کی دوسری طرف نہاتی حسینہ کا جسم جونہ تو پوری طرح نظر آتا ہے اور نا ہی جسکے جسم کی دھندلی دھندلی تیکھی کوسوں پر سے دیکھنے والا نظریں ہٹا سکتا  ہے، میں بھی اسی طرح لاکھ کوشش کے باوجود لاشعور کے پردے پر چلنے والی اس فلم پر سے باوجود کوشش کے کبھی نظریں نہ ہٹا سکا اور نہ ہی اسے سمجھ سکا  کہ یہ بیتِ دنوں کا عکس ہے یا آنے والے دنوں کی مدہم سی جھلک جسے میں سوچ کی لہروں پر سفر کرکے مستقبل میں جا کر دیکھ تو آیا ہوںمگر بیان کر سکنے کی حد تک سمجھ نہیں سکا،یہ سحر انگیز مناظر بیت جانے کے بعد میں دیر تک ایک عجیب پُرخمار کیفیت میں رہتا مُجھے یوں محسوس ہوتا جیسے قدرت کے اس پیچیدہ اور نہ سمجھ آنے والے راز سے میرے علاوہ کوئی دوسرا واقف نہیں،میں نے چاہتے ہوئے بھی ان پُرخمار لمحوں کاکبھی کسی سے ذکر نہیں کیا کے لوگ میری ذہنی حالت پر شک کرنے لگے گئیں اور آج بھی اس ریلنگ کے سہارے کھڑے ہو کر میں نے یہ پرخمار منظر دیکھے،مگر آج اسکے خمار میں فطرت کی قربت نے مل کر دو آتشے کی سی کیفیت پیدا کر دی تھی۔
میں خود سے بیگانہ،سرور میں ڈوبا بادلوں کے سنگ اُڑتا سامنے ڈوبتے سورج کو اپنے اندراُترتا محسوس کر رہا تھا۔میں اسی کیفیت میں سرشار قاری مطلوب اختر کے پاس واپس پہنچا تو اُس نے مُجھے دیکھتے ہی چولھے پر چائے کا پانی چڑھا دیا،میںاپنے ہونے کی ترنگ میں ڈوبا اُس سے پوچھنے لگا کہ کیا کبھی اُس نے اپنے ہونے کو محسوس کیا ہے؟پہلے تو وہ میری جانب یوں دیکھنے لگاجیسے اُسے میری ذہینی حالت پر شک ہو،مگر اُس کی مسلسل خاموشی پر میں نے  جب  اپنا سوال دوہرایا تو اُس نے بہت سادہ لفظوں میں ضرف اتنا کہا کہ مُجھے بھوک لگتی ہے لہذا میں ہوں گا ہی۔اُس کا جواب اگرچہ منطقی تھا مگر انتہائی مشکوک اور اپنی ذات پر بھروسہ  نہ ہونے کی واضع دلیل لیے ہوئے ایک سطعی سوچ کا حامل ۔میرا نشہ ء خودی ایسا بلند ہوچکا تھا کہ میں اپنی طبعیت پر قابو نہ رکھ سکا اور وہ گفتگو جو میں ضرف چند مخصوص دوستوںسے ہی کیا کرتا ہوںناچاہتے ہوئے بھی مُجھ سے ہونے لگی اور میں علم سے بوجھل خُدائی وقار سے گویا ہوا کہ یقینا بھُوک ہی نے تمھیںا س بہروپ تک پہنچایا ہے ،یہ بھوک بڑی ظالم شے ہے  میرے  دوست ! اس پر حاوی آنے کی کوشش کرو،ورنہ  یہ تُم پر غالب آ گئی تو کہیں کانہ رہنے دے گی ،جو میرے ہونے کا جواز پوچھو تو میں کہوں گا کہ میرے ہونے کا جواز میرے غلط فیصلوں سے عیاں ہے  زندگی میں کئی مقا م پر میرے فیصلے خود مُجھے اور مُجھ سے تعلق رکھنے والے دوسرے لوگوں کو دُکھ دے گئے اور یہی دُکھ میری ذات کا جواز ٹھہراور اسی نے مُجھے میرے ہونے کے احساس سے متعارف کروایا،اپنے ہونے کا احساس ہو نا جہاں زندگی کا سب سے خوبصورت تجربہ ہے وہیں اس احساس سے روشناس آدمی  زندگی میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دکھی بھی ہوتا ہے کہ سارا عذاب ہی جاننے اور نہ جاننے کا ہے ،خود کو دریافت کرنا ایک پیچیدعمل ہے اس دریافت میں ہی انسان کی اصل آزادی مُضمَر ہے،خودی  سے ناآشناشخص ساری زندگی اپنے فسوں سے آزاد نہیں ہو پاتا،ہر شخص خود اپنے لیے سب سے بڑا سچ ہے اور ہر سچ پانے والا نجات پاجاتا ہے ہم میں سے بیشتر بنا خود کو جانے اپنے ساتھ یوں ساری زندگی گُزار جاتے ہیں جیسے ہمار ا سایہ ہمارے ساتھ جس کا ہونا نہ ہونا ہمارے لیے کُچھ معنی نہیں رکھتا اور جس کے بارے  جاننے اور سو چنے کی ہم میں سے کسی نے کبھی کوشش نہیں کی ۔ہمارا لمیہ یہ ہے کہ ہم بغیر خود سے متعارف ہوئے باطنی دُنیا کے پیچھے بھاگتے اور مادی آسائیشوں کی فکر میں زندگی گُزار جاتے ہیں،ہم کئی قسم کے بھوکوں میں بٹے ہوئے انسان ہیں اور ہماری بھوک ہی خو د سے ملنے کی راہ میں ہمارے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
میں نے بات ختم کر کے قاری مطلوب اختر کی طرف دیکھا تو وہ بولا ـ  ـ"ہاں واقعی بھوک نے ہی مُجھے خود سے جُدا کر دیااورمُجھے اس مقام تک پہچانے والی بھی بھوک ہی ہے،آپ بہت مشکل اور عجیب باتیں سوچتے ہیں"  اُس کی آنکھیں خلا میں کسی غیر مریعئی نقطے پر ٹکی گئیں تھیں اور وہ  یوں بول رہا تھا جیسے کسی تنویمی عمل کے زیر اثر ہوتب اُ س نے مُجھے بتایا کہ والد کی وفات کے وقت وہ مدرسے کا طالب علم تھاابھی اُس نے سکول کی مروجہ تعلیم بھی حاصل کرنی تھی مگر اس  سانحہ کے بعد گھر کا چولہا گرم رکھنے کے  لیے اُس کا کمانا بہت ضروری تھا،کوئی ہنر سیکھنا خاضا مشکل اور وقت طلب کام تھا،پھر اُس کے ایک مہربان اُستاد کی مدد سے اُسے اس دور اُفتادہ پہاڑی مقام پر واقعہ اس مدرسے کا قاری مقرر کر دیا گیا۔
ٰیوں وہ بھُوک کے ہاتھوں سوال در سوال بٹا یہاں تک پہنچا تو حیران رہ گیا کہ لوگوں نے اُسے سر آنکھوں پر بٹھالیااور اُن کی حد سے بڑھی ہوئی آو بھگت معرفت نفس سے نابلد اس جوان کی دوسری بھوک کا در وا کر گئی مایا کی چمک اُس کی آنکھوں کو خیرہ کر نے لگی وہ شکر والوں کی بجائے تصرف والوں کی طرزِ زندگی میں کَشِش محسوس کرنے لگا،مگر اُس کے اندر رکھا وعدوں کا صندوق اُس کا دل اس ساری اُٹھک پٹک سے بے چین تھا۔ اندر کا کوئی مقام ایسا بھی تھاجو دل کی طرح اس سارے پاکھنڈ کی نفی کرتا اور اُسے اُسکی حقیقت سے آگا ہ کرنے کی کوشش کرتا ،پھر ایسے میں بے چینی اُسکی رگ و پے میں دوڑتی اور چیخ چیخ کر اُسے متنبہ کرتی تو وہ جھوٹی تسلیوں سے تھپک تھپک کر اُس حقیقت شناس  حصے کو سلانے کی کوشش کرتا ،بظاہر وہ کامیاب ہو جاتامگر پھر کسی لمحے ناجانے کیسے اُس حصے میں پھر بے چینی کی روح دوڑنے لگتی اور وہ دوبارہ جان پکڑنے لگتا،بھوک در بھوک  بٹاقاری مطلوب اختر جو جیسے تیسے اپنے ضمیر کو تسلی دے کر سُلا لیتا تھامیرے نشے میں بہہ گیا،اُس نے متانت اور سنجیدگی کا لبادہ  اُتار پھینکا اور وہ میری خود اعتمادی سے ما رکھا گیا،زندگی میں دراصل سارا کھیل ہی خود اعتمادی کا ہے ورنہ سارے انسان جو بظاہرایک جیسے اعضا لے کر پیدا ہوتے ہیں فطرتاً،مزاجاًاو ر عملاً بھی ایک جیسے نہ ہوتے؟  مگر مسلہ یوں ہے کہ زندگی میں مزاج،فطرت  اور عمل کی بنیاد خود اعتمادی پر ہوتی ہے اور  اس وقت میری خو د اعتمادی سے مار کھایا ہوا اقاری مطلوب اختر میرے سامنے دوزانو تھا ۔وہ میری شخصیت کی پیمائیش کسی پہاڑ کی طرح کر رہا تھا اور میں اُس کی سادہ دلی پر اندر ہی اندر خوف زدہ یہ سوچ رہا تھا کہ اگر کہیں میری بھوک نے مُجھ پر غالبا پا کر مُجھے اپنی جگہ سے اُکھاڑ پھینکاتو یہ شخصیت کا پہاڑ مُجھ پر گر کر مُجھے نابود کر چھوڑے گا اور یوں بھی مُجھ میں اور قاری مطلوب اختر میں فرق ہی کیا تھابھلا اور اگر تھا بھی تو تجربے کی بنیاد پر استوار خود اعتمادی کاجسکے تئیں میں کسی پربھی یہ ظاہر نہ ہونے دیتا کہ مُجھے میری بھوک نے یہ  بھاگتے پھرنے والا رستہ احتیار کرنے  کی راہ دکھائی وہ تو پھر بھی مُجھ سے افضل تھا کہ اپنے اہلِ خانہ کی خاطر بھوک کی بلیٰ چڑھا اور اسے قبول بھی کرتا تھامگر میں جو ایک لڑکی سے مات کھا کر دُنیا سے مُنہ موڑ بیٹھا بلکہ خود اپنے مقابل آن کھڑا ہوا اور اُسے نہ پا سکنے پر آپنے ہی خلاف صف آرا ہو گیااپنی خواہشوں کو کُچلتا او  بھوک کو دباتا اورجوں جوں وہ مُجھے پُکارتی میں بات بے بات لوگوں کو بتا نے لگتا کہ محبت کرنا دُنیا کا سب سے بیکار ترین کام ہے  ۔میں دراصل خود کو اپنے اس قول کا قیدی بنانے کی کوشش کر رہا تھا جس کی نفسیاتی وجہ میری کم ہمتی اور بے یقنی تھی مگر میں ان وجوہات کو لوگوں کے سامنے لانے سے گھبراتا تھا اور دوسروں کو وعظ کر کے ایک ایسے کام سے باز رہنے کی تلقین و تبلیغ کرتاجسں میں مُجھے  اپنی کم ہمتی اور بے یقینی کی وجہ سے  ہزیمت  اُٹھاناپڑی اور بجائے اپنی خامی کو دُور کرنے کے میں نے محبت جیسے طاقتور اور لازوال جذبے کی مخالفت پر کمر باندھ لی،میں جو دوسروںکو خود شناسی کی تلقین کرتا رہا مگر ہر واعظ کی طرح خود کو اس سے مبرا سمجھتا رہا  اور اب جب کہ میں نے اپنے گہرے پانیوں میں قدم رکھا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ناجانے کیسے مُجھے خبرہوئے بنا مُجھ ہی میں میرے آدرشوں کے بالکل اُلٹ ایک دُنیا پنپ  رہی تھی۔میرا نشہ جہاں قاری مطلوب اختر کو بہہ کر لے گیا وہاں اُس کا سچ مُجھے لے ڈوبایقینا میں لاکھ بند باندھ کر بھی فطرت کے بے رحم اصولوں کو بدل نہیں سکتا ۔
تحریر یہاں ختم تھی اور ساتھ ہی علحیدہ سے دو  اوراق پر ایک تحریر رکھی تھی جس کا متن کُچھ یوں تھا۔
 پیارے مطلوب اختر،تم سے مل کر مُجھے ایک مرتبہ پھر پچھتاوے کے لمحے نے آن گھیرا ہے ،زندگی میں کئی مرتبہ پہلے بھی میرا اس سے سا منا ہوا  اور ہر مرتبہ میں نے خود کو اس کے وار سے بچا بھی لیامگر اس مرتبہ تو زندگی کی وہ تلخی جو میرے لاشعور تک میں سرایت کرچکی ہے اورجو شاید چین سے مُجھے مرنے بھی نہ دے ایک دفعہ پھر پوری طرح عود کر آئی ،میں انجانی راہوں کا مسافر کس دم نجانے کدھر کو نکل جائوںزندگی دوبارہ تم سے مُلاقات کا موقع دے نہ دے اور یوں بھی تُم جو اپنی نیک دلی او رفطری سادگی و اثر پذیری کی بہترین مثال ہو میںخود میں تماری فطری سادگی کا سامنا کرنے کا یارا نہیں پاتاتُم سے مل کر ۔مُجھے یو ں محسوس ہوا کہ میں تم سے زیادہ قابلِ رحم حالت میں ہوں،بات جو تمھاری بھوک سے شروع ہوئی تھی میرے ابھیاس کا پردہ چاک کر گئی  تم تو ابھی اس مقام پر ہو کہ سُدھر سکتے ہو مگر میرے لیے مراجعت ممکن نہیں۔میں تمھاری بھوک کے متعلق بھاری لفظ لکھ کر تمھیں خود تمھاری نظروں میںبے بس اور مجبور بنا کر پیش نہیں کرنا چاہتا مگریہی سچ ہے اور سچ ہی سب سے بڑی حقیقت ہوا کرتی ہے اور حقیقت سے نظریں چُرانے والا کوئی بھی فرد،گروہ،معاشرہ یا قوم میری طرح دھرتی کا بوجھ ثابت ہوتی ہے اور زندہ اقوام کی صف میں کھڑا ہونا تو کُجا تاریخ کے قبرستان میں بھی بغیر قطبہ والی یک لاوارث قبر بن کر رہ جاتی ہے اور ایک بات یہ کہ کبھی زندگی کے معملات میں تجربے کی بنیاد عمر کو مت سمجھنا کہ یہ نظریہ سوائے ایک فضول سی روایت کے کُچھ نہیں۔ تجربہ عمر سے نہیںبلکہ زندگی کو خواہشوں کے لیے تیاگ کر یاخواہشوں کو زندگی کے لیے تیاگ کر جینے کی کوشش کرنے سے حاصل ہوتا ہے،خواہشوں سے وابسطہ ہونا اگرچے انسانی جبلت میں شامل ہے مگر یہ جذبہ فطرت نے ہمیں کمزور کرنے کے لیئے ہمارے اندر رکھ چھوڑا ہے کہ اس گورکھ دھندے میں اُلجھ کر فطرت کے رازوں کو طشت از بام کرنے کی طرف توجہ نہ دے سکیں،تُمھارے سامنے زندگی اپنے ہر رنگ میں آئے گی اُس کے رنگوں سے دھوکہ مت کھاناورنہ باوجود کامیابی حاصل کر لینے کے کہیں نہ کہیں پچھتاوے کے وار سے ڈھیر کر دئیے جائو گے۔تمھاری محبت،سچائی اور فطری سادہ دلی پر تمھارا شکر گُذار۔
خط پڑھنے کے بعد میں خلا میں کسی غیرمرئی نقطے کو تلاشتا جسم کو گرماتی روپہلی دھوپ میں لیٹے کا لیٹا رہ گیامیں کُچھ نہ سوچتے ہوئے بھی بار بار اُس شخص کے متعلق سوچنے لگتا جس نے یہ سب تحریر کیا میں اپنے فطر ی تجسّس سے مجبور اُس شخصیت کی شبیہ ترتیب دیتا مگر ذہین کسی نقطے پر نہ پہنچ پاتا میں ناجانے اور کتنی دیر اسی تگ و دو میں وہاں لیٹا رہتا کہ مُجھے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دی سر گھما کر دیکھا تو وہ بہ ریش بزرگ سر پر باریک جالی دار ٹوپی اور کاندھے پر چیک دار رومال رکھے ایک شفقت بھری مسکراہٹ ہونٹوں پر لئے میری جانب بڑھتے چلے آ رہے تھے۔  اُن کے چہرے پر کھلی مشفق مسکراہٹ نے اُن کی شخصیت کو عجیب طلسماتی روپ د یاتھا،اُن کی چمکتی آنکھیں ذہانت کی غماز ہونے کے ساتھ ساتھ جسم میں اترتی محسوس ہوتی تھیں۔میرے سلام کرنے سے قبل ہی اُنہوں نے شیریں لہجہ میں اسلام وعلیکم کہ کر دونوں ہاتھ مصافے کے لیے بڑھائے،میں نے ڈائیری زمین پر رکھی اور اُٹھ کر اُن سے مصافحہ کیا تو اسی دوران اُنہوں نے جُھک کر ڈائیری اُٹھا لی اورسوالیہ نگاہوں سے میری جانب دیکھنے لگے۔
"جی وہ دراصل  میں آپ سے ملنے گیا تو آپ موجود نہ تھے میں یونہی وقت گُذاری کے واسطے یہ ڈائیری اُٹھا لایا" 
"یہ آپ کی ہے کیا؟"  میں اُن کی خاموشی کی تاب نہ لا کر فوراً بولا
" نہیں" اُنہوں نے مختصر جواب دیا
" میں معافی چاہتا ہوں ـکہ بنا آپ سے پوچھے آپکی ڈائیری  پڑھی"
 ـ" نہیں کوئی بات نہیں ،آپ مہمان ہیں" اُنہوں نے میری معذرت کے جواب میں مسکراتے ہوئے کہا اور میری ساری خفت جاتی رہی
ـ" آپ اگر مہربانی فرما کر مُجھے ان صاحب سے ملوا دیں ، کیا یہ اسی گائوں میں رہتے ہیں" میں اپنی جگہ حیران تھاکہ اس دُور دراز پسماندہ گائوں میں جہاں لوگ زندگی کی بُنیادی ـ ـ ـ ضروریات کو ترستے ہیںایسے نابغہ کا ہونااور روپوش رہنا کیسے ممکن ہوا۔
 "  جی ہاں ضرو ر،آئیے" وہ رسَائی سے بولے اور ہلکے ہلکے ہوا کے جھونکوں سے بنتی اور کناروں سے ٹکرا کر شڑاپ ،چھڑاپ کی آوازیں پید ا کرتی لہروں کے ساتھ ساتھ آڑی ترچھی مُڑتی پگڈنڈی پر چل پڑے تو میں بھی اُن کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔
ڈئیم کے پانی سے ذرا اُوپر جا کر پکی سڑک کی طرف جانے والے کچیّ راستے کا ایک مُوڑ مُڑتے ہی  اُنہوں نے مُجھے ایک قبر کے سرہانے لے جا کھڑا کیااور میں حیران و پریشان کبھی اُنہیں اور کبھی سادہ کتبہ لئے قبر کو دیکھتا رہ گیا جس پر تازہ پھول ڈالے گئے تھے حیرانی نے مجھے یوں گھیرا تھا کہ مُجھے گرد ونوع کی ہوش نہ رہی مُجھے ایک لمحے کے لیے یوں لگا جیسے یہ میری قبر ہے اور میںخود اپنی فاتحہ کے لیے ہاتھ اُٹھائے کھڑا ہوں میںدُکھ کے مارے  نجانے کتنی دیر تک یوں ہی  فاتحہ کے لیے ہاتھ اُٹھائے گُم سُم کھڑا رہادُعا مانگنے کے بعد وہ بزرگ دوبارہ جھیل کی طرف چل پڑے ہم پانی کے کنارے سبز گھاس کے ایک مخملی قطعہ پر بیٹھ گئے " میں ہی مطلوب اختر ہوں" وہ دلچسبی سے میری طرف دیکھتے ہوئے دھیرے سے بولے اورمجھے یوں  لگا جیسے کسی نے میرے کان کے قریب دھماکہ کر دیاہوڈائیری تو تُم نے پڑھ لی اور اس میں رکھا خط بھی یقینا پڑھاہو گا مگر اس میں رقم نہ ہو سکنے والے حالات سے واقف نہیں ہو،چلومیں وہ بھی تُمھیں بتاتا چلوں اُن کے لفظ میرے لیئے کسی دیو مالائی دیس کے سفر سے واپس آنے والے مسافر کی دلچسپ رودادِسفر کی سی حیرتناکی اور ہوش ربائی لیے ہوئے تھے میں جو ابھی تک اُن کے مطلوب اختر ہونے کو ہضم نہ کر پایا تھا ،قیاس کے گھوڑے دوڑاتی اپنی دماغی روپر قابو ڈالنے کی کوشش کرتے ان کی طرف متوجو ہو اتو وہ کہے رہے تھے "میں نے زندگی میں کبھی شراب نہیں پی مگر مجھے یقین ہے کہ اس کے پینے سے ویسا ہی نشہ طاری ہوتا ہے جیسا اُس شخض پر بن پئیے طاری تھا اپنے ہونے کا نشہ،میں اُس کا نام تک نہیں جانتا مگر اُسے اپنا اُستاد مانتا ہوں ،میں نے اپنی عمر کا ایک حصہ مصلحت میں بٹے اساتذہ کی نذر کر دیا مگر وہ کُچھ نہ سیکھ پایا جو اس نے مُجھے ایک ملاقات میں سکھا دیا،اُس شام وہ اُدھر ڈیم کی سڑک پرریلنگ سے لگا بہت دیر تک غروب ہوتے سورج اور سلسلہ بہ سلسلہ بلند ہوتے پہاڑوں پر نظر جمائے کھڑا رہا،کافی دیر بعد جب میرے پاس واپس پہنچا  تو ہم نے چائے پی اور پھر وہ اپنے خیمے میں سونے چلا گیا مُجھے گہری ،میٹھی نیند کے لیے دُعائیہ کلمات کہتے ہوئے،صبحِ دم جب میں نماز سے فارغ ہوا تو اُس کے لیے ناشتہ لے کر یہاں پہنچاتو برتن میرے ہاتھوں سے نیچے جا پڑے پُر سکون پانی کی سطح پراُس کی لاش یوں تیر رہی تھی جیسے کوئی ہاتھ پاوں پسارے اپنے پسندیدہ نرم گدے پر پرسکون نیند سویا ایک عرصہ کی تھکن اُتار رہا ہو ،میرا شور سن کر لوگ جمع ہوگئے گاوں والوں نے میری درخواست پر اُسے یہاں امانتاً دفن کر دیا،میں نے اس واقعہ کا اتنا اثر لیا کہ بیمار پڑ گیااور مُجھے علاج معالجے کے لئے اپنے گاوئں جانا پڑ گیا جتنا عر صہ بیماری میں گزرا میں اس شخض کے بارے میں ہی سوچتا رہا اور اس کی ڈائیری کا مطالعہ کرتا رہا اسی دوران میں نے آگے تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا اس کا سبب بھی یہ ڈائیری بنی  اس کے ایک صفحہ پر اُستاد نے تحریر کیا ہے ـ"وہ جس نے اپنے لوگوں کو علم کی فضیلت سمجھانے کے لیے دھن ودولت کی بجائے اپنے لیے علم کی فروانی مانگی کیا ستم ہے کہ اُسی کے لوگوں نے علم سے نابلد رہنے میں ہی اپنی اور اپنے آنے والی نسلوں کی سلامتی کی راہ ڈھونڈی"  کُچھ عرصہ بعد میں ایک نئے عزم کے ساتھ یہاںواپس لوٹ آیا،میں نے اپنی پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ڈائیری نے میرے لیے ایک اُستاد کی حثیت اختیار کر لی تھی ،نصابی پڑھائی کے ساتھ ساتھ میںنے ادھر اُدھر سے منگواکر اس میں درج کُتب کا مطالعہ شروع کیامیرے لیئے یہ ایک مشکل کام تھا کہ اس علم کو میرا دماغ ایک فصول اور نامقول علم قرار دے کر قبول کرنے سے عاجز تھا مگر رفتہ رفتہ میں اس نئے علم کی منطق کا عادی ہوتا چلا گیا پہلا پہل یوں محسوس ہوا کہ یہ علم ہمیں پڑھائے جانے والے تین سو سال پرانے درسِ نظامی اور مدرسوں میں دی جانے والی تربیت کے یکسر اُلٹ اور بے معنی ہے ،یہ خدا کے کمالات اور معجزات پر بات کرنے کے بجائے اُس کی بنائی ہوئی کائینات میں موجود نعمتوںسے فائدہ اُٹھانے کے طریقہ کار اور استعمال پر روشنی ڈالتا تھا کہ انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا کی جاسکیں ، یہ اپنی بات کہنے اور دوسرو ںکی سُننے کا حوصلہ پید اکرنے کی طرف راغب کر تا جب کہ اس سے قبل مُجھے صرف اپنے ہم مذہب و ہم مسلک لوگوں اور اپنے مذہبی علم و خیالات تک محدود رہنے ، تنگ دستی، غربت، فاقہ کشی پر راضی بہ رضا رہنے اور اپنے اردگرد بدلتے ہوئے سماجی ماحول کو بہ زورِ بازو تبدیلی سے روکنے یا اتنی سکت  نہ پا کر کم از کم دل میں بُرا کہنے میں خیر کا راستہ دکھایا گیا تھا۔میں آہستہ آہستہ تعلیمی مدارج طے کرتا چلا گیااور یہ مدرسہ بھی چلاتا رہا ڈگری حاصل کر لینے کے بعد میں نے نوکری کے لیے کوشش شروع کر دی اور یوں محکمہ تعلیم میں بطورِمعلم نوکری اختیار کر لی اب میں یہاں کے ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر ہونے کے ساتھ ساتھ اس مدرسے کا مُنتظم بھی ہوں مگر نجانے کیوں مُجھے کبھی کبھی شک ہونے لگتا ہے کہ میں ،میں نہیں وہ شخض ہوں جو اس قبر میں لیٹاپڑا ہے۔وہ شخض جسکی سوچو ں کا انداز مُجھے پہلی ملاقات پر عجیب لگا مگر اب اپنی سوچوںپر مُجھے اُس کی ڈائیری میں لکھی تحریر کا شبہ ہوتا ہے  زندگی کو میں اب ایک اور ہی زاویہ سے دیکھتا ہوں میں سمجھتا ہوںکہ خوبصورت اور بد صورت زندگی اسی دُنیا کی دو بیٹیاں ہیں دو حقیقی بہنیں ،شُجاع،باتدبیر،الوالعزم اور محنت کے خوگر خوبصورت بہن کو بیاہ لے جاتے ہیں اور کم ہمت، یاست زدہ ،سست الوجود اور بڑ بولے لوگوں کے حصے میں بچ جانے والی بدصورت زندگی آتی ہے وہ اسے بیاہ لانے کے بعد تمام عمر اپنی نالائیقی کو درست کرنے کی بجائے قسمت کا رونا روتے رہتے ہیں۔
وہ نیچے جھکے، زمین پر پڑی ڈائیری اٹھائی اور کھڑ ے ہوتے ہوئے بولے ــــ"  تُم پہلے اور آخری آدمی ہو جو میرے علاوہ اس ڈائیری کے راز سے واقف ہوا میں نہیں چاہتا کہ کوئی تیسرا کبھی میری لا علمی سے فائدہ اٹھا ئے "   اُنہوں نے بات ختم کی اور ہاتھ گھما کر ڈائیری گہرے نیلے پانی کی جانب اُچھال دی ، ایک چھپاکا ہوا جو پانی کی سطع پربگ بینگ کے تَمثِیل اک ارتعاش پیدا کر گیا جس نے سطع پر دائروں کو زندگی دی  جو شرارتی بچوں کی طرح ایک دوسرے کا پیچھا کرتے پانی کی وسیع سطع پر پھیلتے اوراپنے شور سے اس کی سطع تلے چھپی خاموشی کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی لہروں سے توڑنے لگے اور پھر دھیرے دھیرے وہ ازلی سکوت چاروں جانب پھیل گیا پانی کی یہ تمثیل انسانی پیدائیش کے شور سے موت تک کا سفر لہر درلہر بیان کرکے اختتام پذیر ہوئی تو شفاف پانی کی سطع تلے ادھ کھلی ڈائیری دھیرے دھیرے عموداً نیچے کو جاتی نظر آتی رہی اور پھر کچھ لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئی ، گہرے پانیوں کا ایک راز طشت از بام ہو کر بھی اُنہی کی گود میں جا رہا _______    ختم شُد







Comments