گڑیا



اُس نے اپارٹمنٹ کا دروازہ لاک کیا، چابیاں  پاکٹ میں ڈال لیں اورباہر سڑک کی طرف نکل آئیجو اُس کے اپارٹمنٹ کے قریب اورروز اس پہر سے سورج ڈھلنے  تک اس کی آماجگاہ ہوا کرتی تھی۔سڑک پر ایک عجیب سی شکستہ اُداسی چھائی ہوتی تھی۔سڑک کے کنارےلگے درخت ماحول کی اُداسی میں اضافہ کررہے تھے ۔ جن کے زرد پتےہوا کی ہلکی ہلکی چھیڑ خانی سے آوارگی کا سا شوخ پن لیے مگر اک شان سے نیچےگررہے تھےگویا سڑک اور ماحول کی اُداسی کو گلے لگائے آگے بڑھ رہےہوں کہ ہمیں جُدا  ہوکے بھی شان سے جینا آتا ہے۔ اس پہر روزانہ اس جگہ  پر عموماً یہی ماحول ہوا کرتا تھا اور وہ اس ماحول میں آکراکثر اپنے ماضی کے چھروکوں میں کھو جایا کرتی تھی۔

سڑک پہ ایک چھوٹی سی بچی، ایک خوبصورت سا ہیئر کٹ لئے، کیجول سا کوٹ پہنے بے نیازی سے چل رہی تھی اور معصومانہ انداز میں اپنی گڑیا سے باتیں کر رہی تھی۔  دنیا و مافیہا سے  بے خبر، بے خطرجیسے  اس کے لئے اس لمحے اس کی پوری کائنات وہ گڑیا ہو۔ اس کی ماں اوورکوٹ پہنے اور ایک  ہینڈ بیگ اُٹھائے ہوئےتھی۔ وہ باربار فون  کو کان سے ہٹا کر  بچی کو بولتی

“Be Fast Baby, It’s not a Place for Playing”

اور وہ ننھی پری تھوڑی دیرتیز چلتی پھر دوبارہ گڑیا کے کپڑے درست کرنے، بال سنوارنے لگ جاتی اور باربار کہتی

“Today we will eat Ice-Cream dolly”

آج بچی کو گڑیا سے یوں پیار کرتے ہوئے دیکھ کر اس کے ذہن میں  ایک عکس ابھراگویا نیلےپانیوں میں ابھرنے والا عکس ہو، ایک لہر  اسے اندر تک سرایت کر گئی، گویا ایک یاد نے  اس کے ذہن میں یادوں  کے بہت پرانے تختے کو جو گرد سے اَٹا ہوا ہو، ہوا کے جھونکے کی طرح نکھار دیاہو جیسےکوئی دستک ہوئی ہو  اور ہلکا سادروازہ کھلتے ہی مسافر مالک بن بیٹھے۔

"بابا مجھے نئے کپڑوں کے ساتھ نئے جوتے بھی چاہییں ہیں" باپ نے شفقت بھرے انداز میں مسکراکر کہا، ہاں! ہاں!"میں اپنی گڑیا کو سب کچھ لے کر دوں گا۔"

"اور چاکلیٹس لائے ہیں آپ؟" اس نے قدرے شوخے انداز میں کہا۔

"میں بھلا اپنی گڑیا کے لئے چاکلیٹس کیسے بھول سکتا ہوں؟"

اور ایک محبت بھری مسکراہٹ باپ کے چہرے پر نمایاں ہوتی ہے۔ "اتنی زیادہ؟" وہ خوشی سے آنکھیں پھاڑ کر کہتی ہے۔

میں ساری رکھ لوں؟تھوڑا لالچ در آتا ہے۔

"ہاں بھئی! ساری اپنی گڑیا ہی کے لئے تو لایا ہوں" باپ گرم جوشی سے مسکرا کر کہتا ہے۔

"یاہو! یاہو! میرے بابا میرے لئے اتنی ساری چاکلیٹس لائے " وہ پورے گھر میں  بھاگتی اور سب کو پکڑ پکڑ کر بتاتی پھرتی  جبکہ اس کا باپ پانی کا گلاس تھامے اسے دیکھتا مسکراتا رہتا۔

اور پھر جب اس نے بیرونِ ملک تعلیم کی خواہش ظاہر کی تھی"بابا میں Further Study کے لئے  بیرون ملک جانا چاہتی ہوں، وہاں Opportunities زیادہ ہوتی ہیں اچھے کیرئیر کے لئے۔"اس نے جلدی سے  بسکٹ منہ میں ڈالتے  ہوئے کہا۔

اس کی ماں ایک نظر اس پر ڈالتی ہے، ایک اسے کے باپ پر  اور پھر خاموشی سے دوبارہ کپ میں چائے ڈالنا شروع کردیتی ہے۔ باپ تھوڑی دیر خاموش رہتا ہے پھر قدرے بدلے ہوئے لہجے میں گویاآواز اندر کسی گہری کھائی  سے آرہی ہو اور الفاظ بہت سی سوچوں کے گرداب سے نکل کر آرہے ہوں، کہتے ہیں۔

"کہتے ہیں بیٹا!اچھی تعلیم و تربیت والدین کی طرف سے اولاد  کو بہترین تحفہ ہوتا ہے۔"

پھر ہلکی سی نم آنکھیں لیے مگر چھیڑنے والے انداز میں کہتے ہیں "جب میری گڑیا کا بابا زندہ ہے تو فکر کیسی؟" وہ گرم جوشی سے اُٹھ کر ان کو  پیچھے سے بانہیں گلے میں ڈال دیتی ہے"You are the best father of  world.

وہ جواباً مسکرا دیتے ہیں۔

پھر جب وہ اسے ائیر پورٹ چھوڑنے آئے تھے ، وہ  معمول سے  تھوڑے الگ نظر  آرہے تھے، ایک اُداسی چھپائے ہوئے ،آنکھوں میں ایک نمی( جو اندر اُٹھنے والے طوفانوں کی موجوں  پر مکمل تو نہیں مگر کافی حد تک بند باندھنے میں کامیاب ہونے کا ثبو ت تھی) لئے ہوئے تھے۔

"اپنا خیال رکھنا میری گڑیا"

ایک شکستہ سی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی جب اس کا بابا اسے گلے لگائے ہوئے کھڑا تھا اور چند گرم پانی کے قطرے اسے اپنی پیٹھ پر گرتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔ وہ ان سے  الگ ہوئی تو قدرےالجھے انداز میں مگرمسکرا کر بولی۔

"آپ کی گڑیا  اب بڑی ہوگئی ہے بابا"

وہ بھی جواباً اِک پُرخلوص سی مسکراہٹ دیتے ہیں۔ شاید وہ زندگی کی آخری، بہت ہی انمولLive مسکراہٹ تھی۔ شاید اسی لئے تھوڑی الگ، خاص، بدلی ہوئی مگرمقدس، گہری اور محبت سے لبریز مسکراہٹ تھی ۔ جو شاید برسوں سے  تعاقب میں تھی۔

سورج ڈوب رہاتھا، فضا کی خنکی اور سوگواری میں قدرے اضافہ ہوچکا تھا۔ وہ ان یادوں کے بھنور سے باہر آئی تو اس  کا چہرہ بھیگا ہوا تھا اور آنکھیں تھکی تھکی تھیں۔ اس نے جلدی سے  چہرہ صاف کیا اور واپس اپارٹمنٹ کی طرف چل دی۔ اسے محسوس ہوا کہ پوری فضا میں "میری گڑیا" کی آوازوں سے جلترنگ سا بج رہا  ہو اور خنک ہوا بہت سے راز چھپائےجلترنگ کو احساس دلا رہی  ہو کہ اب صرف جلترنگ ہی بجے گا،صرف اور صرف جلترنگ، وہ ساتھ پھر سے ممکن نہیں، وہ بات پھر سے ممکن نہیں ، کبھی نہیں۔






Comments