خوبصورت آنکھیں



"ٹھک، ٹھک۔۔۔" دروازہ  وقفے وقفے سےمسلسل بج رہا تھا۔ اس نے اونگھتے ہوئے لحاف منہ سے اٹھایا اور دروازے کو گھورا۔ دروازہ اب بھی بج رہا تھا، اس نے کوفت سی محسوس کرتے ہوئے بدمزگی میں ایک جمائی لی اور چھڑی تھامے دروازے کی جانب اپنی لاغر سی چال کا رخ کر دیا۔

"آ رہا ہوں بھائی، آرہا ہوں۔۔ہونہہ۔ کون آیا ہے بھائی ؟" بوڑھے نے منہ میں موجود  اپنے نایاب اثاثے کو زبان سے ٹٹولتے ہوئےکہا۔  "ضرور کوئی بل والا ہو گا، بھئی مجھ اکیلے بڈھے کا کتنا خرچہ ہے آخر، جو یہ آخری چند سانسیں بھی دوبھر کرنے پہ تلے ہوئے ہیں" وہ غصہ میں بڑبڑا رہا تھا، اتنے میں دوبارہ زور سے دروازہ بجا۔ اس نے بالآخر دروازے پہ پہنچ کر اکھڑتی سانسیں بحال کیں اور دروازہ کھولا۔

سامنے قریبا 28 برس کا ایک نوجوان کھڑا تھا، مسحور کن آنکھوں والا نوجوان۔ اس کی آنکھیں غیر معمولی تھیں، جیسے سمندروں کی گہرائیاں، صحراؤں کی تمام وسعتیں سمیٹ رکھنا ان آنکھوں کا فرض اتم ہو، زندہ جاگتی آنکھیں ، بولتی ہوئیں، جن کو دیکھ کر سامنے والےکے منہ سے نکلی بات سننا رائیگاں سا محسوس ہو، ان کی ٹمٹماہٹ، گویا کسی دیے کی لو ہو۔۔۔ بوڑھا چند لمحوں کیلئے ان کے سحر میں کھو کر دور کسی خوبصورت جزیرے کی رعنائیوں میں مبہوث سا ہو گیا تھا کہ اچانک نوجوان بولا، " اس وقت تکلیف کے لئے معذرت چاہتا ہوں، اس خراب موسم میں مجھے آپ کا مکان ہی جائے پناہ نظر آیا" ۔ بوڑھے نے ایک نظر باہر دوڑائی، موسم کچھ مہربان نہ تھا، ماحول  میں خنکی اور اندھیرے کا راج تھا، دور سڑک پہ کچھ برف بھی نظر آئی۔  ٹھنڈ کی ایک لہر براستہ ناک بوڑھے کے دماغ تک سرایت کر گئی تو اس نے ایک جھرجھری لی اور نوجوان کی طرف متوجہ ہوا۔  نوجوان اب بھی بوڑھے کے جھریرے چہرے کی طرف نظریں جمائے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ بوڑھے نے ایک نظر اس کے چہرے پہ ڈالی اور ایک آسمان کی طرف،، اچانک بجلی کڑکی، جیسے آسمان نے آنکھیں دکھائی ہوں۔ "ٹھیک ہے میاں، آ جاؤ، اس بوڑھے کے پاس کوئی خاص قیام و طعام تو نہ مل سکے گا تمہیں، البتہ جو تھوڑا بہت ہے، اس میں سے تم بھی حصہ بانٹ لینا"۔ بوڑھے کو اس خراب موسم میں اس کو انکار کرنا قدرے گراں محسوس ہوا۔

"بہت شکریہ بزرگوار، میں آپ کا ممنون ہوں گا، بدلے میں آپ مجھ سے جو چاہیں، لے سکتے ہیں"۔ نوجوان نے مشکور و عاجز لہجے میں کہا۔

نوجوان    اندر آ گیا، اپنا کوٹ اتارا اور سوالیہ نظروں سے بوڑھے کی طرف دیکھا، بوڑھے نے دروازے کے اندرونی طرف لگے کھونٹے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ "وہاں دروازے کے پاس لٹکا دو"، نوجوان نے کچھ ہڑ بڑا کر وہاں کوٹ لٹکا دیا، سامان کا چھوٹا سا اٹیچی بھی پاس رکھ دیا اور چارپائی کے قریب پڑی ایک بوسیدہ کرسی پہ محتاط سے انداز میں  بیٹھ گیا۔ بوڑھے نے زمین پہ ایک طرف بستر لگا نے لگا، "میاں میرے پاس کوئی دوسری چارپائی نہیں ہے اور اپنی میں تمہیں دے نہہیں سکتا، اس عمر میں شکم پذیر کمر کو چارپائی کی آسودگی میسر نہ ہو تو یہ منہ چڑھاتے ہوئے بغاوت کر دیتی ہے، مجبورا تمہیں اس پہ ہی گزارا کرنا پڑے گا" بوڑھے نے بستر درست کرتے ہوئے کہا۔

"میرے لئے یہ ضرورت پوری ہونے سے کہیں بڑھ کر ہے، میں تا عمر آپ کے احسان کا متمنی رہوں گا" نوجوان نے  جھک کر کہا۔ بوڑھا تب تک بستر لگا کر اپنی چارپائی پہ بیٹھ گیا اور نوجوان بہت ہی نفاست سے قریب جوتے اتار کر اپنے بستر پہ لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی، بوڑھے کو سناٹے سے گھبراہٹ ہونے لگی، لہذا بولا۔" برخوردار، تم اس وقت اس سنسان علاقے میں کہاں بھٹک رہے ہو؟"  

"میں گزشتہ روز سے حالت سفر میں ہوں، ابھی ایک دن کی مسافت باقی تھی کہ موسم کی خرابی کے سبب فی الحال سفر ملتوی کرنا پڑا اور ایسے میں میری آپ جیسے فرشتہ صفت انسان سے ملاقات ہو گئی اور میں اس دار لمحفوظ میں پہنچ گیا"۔ نوجوان  آنکھوں سے بازو ہٹا کر بوڑھے کی طرف متوجہ ہوا۔ "اچھا، اچھا، مطلب کافی تھکے ہوئے ہو پھر تو" بوڑھے نے سر ہلایا۔ "چلو میاں، خدا تمہارا حامی و ناصر ہو"

"نیک تمناؤں کیلئے شکر گزار ہوں آپ کا" نوجوان نے شائستگی سے کہا اور سردی سے بازو سہلانے لگا۔

"اوہ، میں تو بھول ہی گیا، تم سفر کی تھکن سے چور بھی ہو گے اور ٹھنڈ بھی کافی ہے، قہوہ پیئو گے؟ میں اچھا بنا لیتا ہوں" بوڑھے نے بے تکلفی سے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔ "جج۔جی، جی ضرور" نوجوان جھجھکتے ہوئے مسکرایا۔

بوڑھا اٹھ کر اسی کمرے میں ایک طرف قہوہ بنانے کی غرض سے گیا اور ساتھ ساتھ باتیں اور دیگر معمولی سوالات بھی جاری رکھے۔ نوجوان کبھی مختصر سا جواب دیتا، کبھی تشکر کے الفاظ کہتا تو کبھی مسکرانے پہ ہی اکتفا کرتا۔ اس کا انداز قدرے مختلف سا تھا، محتاط سا، یا شاید یہ اس کا وہم تھا۔  بوڑھے کو اور کیا چاہیے تھا، کئی برسوں سے وہ تنہا ہی کبھی خود سے تو کبھی دیواروں سے باتیں کرتے کرتے اکتا گیا تھا، وہ خوش تھا کہ اسے ایک کم گو آدمی کا ساتھ میسر آیا ہے، اگر بولتا بھی ہے تو میری شان میں قصیدے ہی کہتا ہے، کتنا سچا اور بھلا آدمی ہے، وہ خود ہی خود میں سوچ کر تھوڑی دیر تک مسکراتا رہتا اور مزید جوش و خروش سے باتوں میں مگن ہو جاتا۔ کچھ ہی دیر میں قہوہ تیار ہو گیا، بوڑھے نے ایک پیالی میں نوجوان کو قہوہ  پیش کیا اور ایک میں اپنے لئے ڈال کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔ نوجوان نے پہلے چند لمحے اس کی خوشبو کو محسوس کیا پھر آہستہ آہستہ چسکیاں بھرنے لگا۔ جبکہ بوڑھا خوش گپیوں کی ایک لمبی قطار میں ایک دو گھونٹ قہوے کے لیتا اور پھر باتوں میں مصروف ہو جاتا۔ وہ نوجوان کو کبھی اپنے اس جگہ  آغاز قیام میں درپیش نامساعد حالات سناتا، پھر ان سے نبردآزما ہونے کے  قصے اورکبھی اپنے دور شباب کے چٹکلے۔۔ نوجوان بہت تحمل سے مسکرا کر اس کی ساری باتیں  سنتا رہا اور کبھی کبھی ہاں میں ہاں ملا دیتا۔ اسی اثنا میں رات اپنی مدت تمام کر چکنے کے قریب تھی اور دیا اپنی روشنی گل کر نے کے۔جب دیا اپنی آخری سانسیں لینے لگا اور بوڑھا کو اندھیرے میں نوجوان کی آنکھوں میں دیکھنے میں دقت ہونے لگی تو اسے اپنی باتوں کا مزہ کرکرا سا محسوس ہونے لگا۔ "میرے خیال میں اب تمہیں کچھ دیر آرام کر لینا چاہیے، کافی وقت ہو گیا ہے"۔ بوڑھے کا قدرے مرجھایا لہجہ نوجوان نے محسوس کیا اور اثبات میں سر ہلا کر لیٹ گیا۔

کچھ ہی دیر میں نوجوان گہری نیند کے آغوش میں چلا گیا جبکہ بوڑھا اس کی آنکھوں کی خوبصورتی سےاپنے خیالات کو آراستہ کئے کچھ دیر مسکراتا رہا۔ "کس قدر خوبصورت آنکھیں ہیں؟ خدا نے کیا دلکش عنایت کی ہے اس پر۔ ایسی میری بھی آنکھیں ہوتیں تو کیا ہی بات ہوتی" وہ انہی حسین خیالوں میں گم تھا کہ ناجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی، اسے خبر نہ ہوئی۔

اگلی صبح بھی موسم کے تیور کچھ ٹھیک نہ تھے،  ٹھنڈی ہوائیں چلیں پھر موسلادھار بارش شروع ہو گئی تھی، جگہ جگہ پانی اکٹھا ہونا شروع ہو گیا۔ایسے حالات میں  سفر کرنا بے وقوفی سے کم نہ تھا۔"ایسے موسم میں بھلا کیسے سفر ہو گا"، یہ سوچ کر نوجوان کچھ پریشان سا ہو گیا، مایوسی کے سائے اس کے چہرے پہ منڈلانے لگے۔ بوڑھا شخص اس کے چہرے سے مایوسی کے تاثرات پڑھتے ہوئے بولا، " نوجوان، جب تک موسم ٹھیک نہیں ہو جاتا، تم یہاں قیام کر سکتے ہو، اسے تب تک اپنا ہی گھر سمجھو"۔ "بہت شکریہ، آپ نے میری مشکل آسان کر دی" نوجوان کے چہرے سے پریشانی کے بادل چھٹ گئے اور اس نے اطمینان کی سانس لی۔   بوڑھا اپنے گھر کے معمول کے کاموں میں مصروف ہو گیا اور نوجوان بھی اس کا ہاتھ بٹانے کے لئے اس کے ساتھ ہو لیا۔ "ارے، تم مہمان ہو، کام تو میں روز کرتا ہوں، عادت بن گئی ہے اب تو، ہو جائے گا" بوڑھے نے اسے مسکراتے ہوئے منع کیا۔ " آپ نے خود ہی کہا کچھ دیر پہلے کہ اسے اپنا گھر سمجھوں، پھر آپ مجھے منع نا کریں ان کاموں سے" نوجوان نے اپنائیت سے کہا۔ بوڑھے نے مزید مزاحمت نہ کی، فورا مان گیا۔ نوجوان نے بہت ہی سلیقے سے ہر کام بوڑھے کے ساتھ انجام دیا، گویا یہی اس کا معمول ہو، اس کے ہاتھ غیر معمولی انداز میں چل رہے تھے۔ بوڑھا کبھی کبھار کام چھوڑ کر اس کے ہاتھوں کی طرف دیکھنے لگتا، کبھی اس کے چہرے کی طرف۔  وہ پر سکون انداز میں کام کرنے میں لگا ہوا تھا۔ کچھ ہی دیر میں دونوں کام سے فارغ ہو گئے۔ بوڑھے نے پھر کھانا تیار کیا، نوجوان نے آغاز میں بوڑھے کی مدد کرنا چاہی مگر سبزیاں معمولی سے وقفے کے ساتھ فرش پہ گر نے لگیں۔ "یہ کام تمہارے بس کا نہیں معلوم ہوتا نوجوان، چھوڑو، میں یہ خود ہی کر لیتا ہوں" بوڑھے نے قہقہہ لگا کر اس انداز میں کہا گویا اس نے کسی بڑی بازی میں نوجوان کو چاروں شانے چت کر ڈالا ہو۔ نوجوان جوابا چہرے سے گھبراہٹ کے آثار چھپانے میں ناکام خجل سی ہنسی ہنس دیا۔ کچھ دیر میں کھانا تیار ہو گیا اور وہ دونوں کھانے میں مشغول ہو گئے۔ بوڑھے کی باتوں کا سلسلہ اب بھی ساتھ ساتھ جاری تھا۔ اس طرح اگلے کچھ  مزید دن بارش اور باتوں میں گزر گئے ، دونوں کو وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلا۔

 ایک ہفتہ موسلادھار بارش کے بعد اب موسم درست ہونے کے آثار نمودار ہونے لگے تھے، اب ممکن تھا کہ نوجوان اپنا سفر دوبارہ جاری کر سکے گا۔ باتوں ہی باتوں میں بوڑھے نے اس کی آنکھوں کی تعریف کی اور خواہش کا اظہار کیا کہ کاش وہ بھی ایسی آنکھوں کا مالک ہوتا۔ نوجوان کچھ لمحوں کے لئے حیرت سے ساکت کھڑا رہا، پھر خود کو سنبھالتے ہوئے بولا" میری آنکھوں سے زیادہ بہتر  آنکھیں آپ کی ہیں"۔ بوڑھے نے بے ساختہ قہقہہ لگایا"تم صرف خود ہی اچھے نہیں بلکہ مذاق بھی اچھا کر لیتے ہو"۔ نوجوان جوابا مسکرا دیا۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد بوڑھے نے پھر سے اس کی آنکھوں کی رعنائیوں کا ذکر چھیڑ دیا، نوجوان سنتا رہا، پھر کچھ توقف کے بعد بولا "آپ آنکھوں کا سودا کرنا چاہیں گے؟"۔ "مطلب؟" بوڑھے نے آنکھیں پھاڑ کر حیرت سے اسے دیکھا۔ "مطلب یہ کہ آپ کو میری آنکھیں اتنی پسند ہیں اور مجھے ان کی قدر نہیں غالبا، تو آپ میری آنکھیں لے لیں، میں آپ کی" نوجوان نے ہچکچاتے ہوئے مطلب واضح کیا۔بوڑھا کچھ تذبذب سا ہو کر بولا "مگر میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں، نگاہ بھی ٹھیک ہے، ہر کام بخوبی انجام دے لیتا ہوں، مجھے ضرورت اس کی ضرورت تو نہیں ہے" نوجوان چند لمحوں کیلئے  پریشان ہو گیا، پھر دوبارہ کی سی کوشش کے ساتھ بولا " یقینا آپ کو ضرورت نہیں، مگر کیا آپ کے دل میں خواہش بھی نہیں؟ کیا آپ نے کبھی نہیں چاہا کہ آپ بھی خود کو ایسی ہی آنکھوں کا مالک پائیں؟" بوڑھے نے اس کی طرف دیکھا۔ "میں جانتا ہوں کہ آپ کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ چاہ ہے، پھر جب قسمت آپ کو چاہ پوری کرنے کا موقع دے رہی ہے تو  کیا مضائقہ ہے؟" نوجوان نے اس کو راضی کرنا چاہا۔  بوڑھا کچھ دیر کو سوچ میں پڑ گیا، پھر بولا" بات تو تمہاری ٹھیک ہے مگر میرے پاس تو کوئی خاص آمدن بھی نہیں، جو میں تم سے آنکھیں بدلی کروا سکوں؟"۔ "پیسوں کی فکر کی ضرورت نہیں ہے، میرے پاس بہت ہیں، آپ  بس اپنی خواہش کا کھل کر اظہار کریں" نوجوان نے جواب دیا۔ "مگر میں اس طرح سے تمہارے پیسے کیسے لے سکتا ہوں؟" بوڑھے نے تذبذب ہو کر سوال کیا۔ "آپ نے اتنے دن میری خاطر مدارت کی ہے، اس کے بدلے یہ کچھ بھی نہیں ہے" نوجوان نے مسکرا کر کہا۔ بوڑھا بھی کچھ الجھے الجھے انداز میں مسکرا دیا اور وہ دونوں دوبارہ کام میں مصروف ہو گئے۔

اگلے روز مطلع صاف تھا۔  آج منصوبہ کے مطابق انہیں 30 کلومیٹر دور ایک ہسپتال جانا تھا، آنکھوں کا تبادلہ کرنے۔۔۔نوجوان اور بوڑھا شخص تیار ہوئے اور ہسپتال کےراستے پہ چل دیئے۔ بوڑھے کا دل کچھ بے ربطگی سے دھڑک رہا تھا، جو جو فاصلہ کم ہوتا جا رہا تھا، دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھی" شاید اتنے دنوں بعد باہر نکلا ہوں اس لئے یا پھر شائد وہ خوبصورت آنکھیں میری ہونے لگی ہیں اسی لئے ایسا محسوس ہو رہا ہے" وہ خود کو تسلیاں دے رہا تھا۔ بالآخر وہ ہسپتال پہنچ گئے، ڈاکٹر نوجوان سے پہلے سے ہی مانوس سے نظر آئے لہذا آپریشن شروع کرنے میں دیر نہ لگی۔

آپریشن کیلئے لیٹنے سے پہلے بوڑھے نے نوجوان کی طرف دیکھا، وہ انتہائی مطمئن نظر آیا۔ ذہن میں کئی خیالات شورش مچانے لگے مگر بوڑھا انہیں فورا جھٹک دیتا، وہ ان آنکھوں کے سوا کچھ سوچنا نہ چاہتا تھا۔ اس نے آنکھیں موند لیں اور ساتھ والے بستر پہ نوجوان نے۔ آگے کیا ہوا، کچھ خبر نہیں۔۔۔

کچھ عرصہ  آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا رہا، کئی خیالات ذہن میں منڈلاتے رہے،خوشگوار خیالات کا اک تانتا سا بندھا رہتا تھا۔  کبھی کبھار کچھ عجیب و غریب سے خیالات بھی ذہن میں آتے مگر وہ فورا جھٹک دیتا۔  وہ صرف خوبصورت آنکھوں کے بارے میں سوچنا چاہتا تھا، اس کے روز و شب کیسے پرکیف ہوں ہوں گے،  اب تو خواب بھی حسین ہی ہوا کریں گے، بالکل ان آنکھوں کی طرح۔ وہ سوچتا اور مسکراتا رہتا۔  بالآخر  انتظار ختم ہوا اور وہ دن بھی آ ن پہنچا جب آنکھوں سے پٹی کھلنی تھی۔  اسے اپنے خون میں سنسنی سی محسوس ہوئی۔  بوڑھا بے تاب تھا، وہ خود کو آئینے میں ان خوبصورت آنکھوں کے مالک کے روپ میں دیکھنا چاہتا تھا۔ چند لوگ اسے اپنے گرد محسوس ہوئے، پھر اچانک اس کی آنکھوں کی پٹی کھلنے لگی۔ "اپنی آنکھیں کھول لیں" ایک آواز اسے سنائی دی، جو غالبا ڈاکٹر کی تھی۔ اس نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں، اسے دھند کے سوا کچھ نظر نہ آیا، "شاید اتنے دن بند رہی ہیں، اسی لئے ایسے دکھائی دے رہا ہے" اس نے خود کو دلاسا دیا۔

پھر وہاں موجود ڈاکٹر سے جو جانے ہی والا تھا بوڑھے نے نوجوان کا پوچھا۔ "جی، وہ تو کچھ دیر پہلے ہی یہاں سے جا چکے ہیں اور کچھ رقم شکریے کے طور پہ آپ کے لئے چھوڑ کر گئے ہیں" یہ کہہ کر ڈاکٹر چلا گیا۔ "شکریے کے طور پہ رقم؟میرے لئے؟" اس کے ذہن میں کچھ جھماکے ہوئے۔ اس نے دوبارہ دیکھنے کی کوشش کی مگر کچھ نظر نہ آیا۔ اس کے ذہن میں نوجوان کے الفاظ گونجنے لگے " میری آنکھوں سے زیادہ بہتر  آنکھیں آپ کی ہیں"۔






Comments