مس فریا



شادی کے ایک مہینے بعد سہیل پریشان ہو گیا۔ اس کی راتوں کی نیند اور دن کا چین حرام ہو گیا۔ اس کا خیال تھا کہ بچہ کم از کم تین سال کے بعد پیدا ہو گا مگر اب ایک دم یہ معلوم کرکے اس کے پاؤں تلے کی زمین نکل گئی کہ جس بچے کا اس کو وہم و گمان بھی نہیں تھا اس کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔ اس کی بیوی کو بھی اتنی جلدی ماں بننے کا شوق نہیں تھا اور سچ پوچھیے تو وہ ابھی خود بچہ تھی۔ چودہ پندرہ برس کی عمر کیا ہوتی۔ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے عائشہ گڑیاں کھیلتی تھی اور صرف پانچ مہینے کی بات ہے کہ سہیل نے اسے گلی میں جنگلی بلی کی طرح نکمے چنوں پر خوانچے والے سے لڑتے جھگڑتے دیکھا تھا۔ منہ لال کیے وہ اس سے کہہ رہی تھی۔

’’تم نے مجھے کل بھی کھیلیں اسی طرح کم کردی تھیں، تم بے ایمان ہو۔ میرے پیسے کیا مفت کے آتے ہیں جو میں تول میں ہر بار کم چیز لے لوں۔ ‘‘

اور اس نے زبردستی جھپٹا مار کر مٹھی بھر نمکین چنے اس کے خوانچے سے اُٹھا لیے تھے۔ اب سہیل یہ منظر یاد کرتا اور سوچتا کہ عائشہ کی گود میں بچہ ہو گا جب وہ گھر جاتے ہوئے ٹرین کا سفرکرے گی تو اپنے اس ننھے کو اسی طرح دُودھ پلائے گی جس طرح ریل کے ڈبوں میں دوسری عورتیں پلایا کرتی ہیں۔ اس کی لڑکی یا لڑکا اسی طرح چُسر چُسر کرے گا۔ اسی طرح ہونٹ سکیڑ کر روئے گا، تو وہ عائشہ سے کہے گا۔

’’بچہ رو رو کر ہلکان ہُوا جارہا ہے اور تم کھڑکی میں سے باہر کا تماشہ دیکھ رہی ہو‘‘

۔ اس کا تصور کرتے ہی سہیل کا حلق سوکھ جاتا ہے۔

’’اس عمرمیں بچہ؟۔ بھئی میرا تو ستیاناس ہو جائے گا۔ ساری شاعری تباہ ہو جائے گی۔ وہ ماں بن جائے گی۔ میں باپ بن جاؤں گا۔ شادی کا باقی رہے گا کیا؟۔ صرف ایک مہینہ جس میں ہم دونوں میاں بیوی بن کے رہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ اولاد کا سلسلہ کیوں میاں بیوی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اولاد بُری چیز ہے۔ بچے پیدا ہوں پر اس وقت جب ان کی خواہش کی جائے یہ نہیں کہ بِن بُلائے مہمانوں کی طرح آن ٹپکیں۔ میں خدا معلوم کیا سوچ رہا تھا۔ کیسے کیسے حسین خیال میرے دماغ میں پیدا ہورہے تھے۔ شروع شروع کے دن تو ایک عجیب قسم کی افراتفری میں گزرے تھے۔ اب ایک مہینے کے بعد سب چیزوں کی نوک پلک درست ہوئی تھی۔ اب شادی کا اصلی لطف آنے لگا تھا کہ بیٹھے بٹھائے یہ آفت آگئی۔ ابھی جانے کتنے اور ہوں۔ ‘‘

سہیل پریشان ہو گیا۔ اگر دفعتہً آسمان سے کوئی جہاز بم برسانا شروع کردیتا تووہ اس قدر پریشان نہ ہوتا مگر اس حادثے نے اس کا دماغی توازن درہم برہم کردیا تھا۔ وہ اتنی جلدی باپ نہیں بننا چاہتا تھا۔

’’میں اگرباپ بن جاؤں تو کوئی ہرج نہیں مگر مصیبت یہ کہ عائشہ ماں بن جائے گی۔ اسکو اتنی جلدی ہرگز ہرگز ماں نہیں بننا چاہیے۔ وہ جوانی کہاں رہے گی اس کی جس کو میں اب بھی شادی ہونے کے بعد بھی کنکھیوں سے دیکھتا ہُوں اور ایک لرزش سی اپنے خیالات میں محسوس کرتا ہوں۔ اسکی تیزی و طراری کہاں رہے گی۔ وہ بھولا پن جو اب مجھے عائشہ میں نظر آتا ہے ماں بن کر بالکل غائب ہو جائے گا۔ وہ کھلنڈرا پن جو اس کی رگوں میں پھڑکتا ہے مُردہ ہو جائے گا۔ وہ ماں بن جائے گی، اور صابن کے جھاگ کی طرح اس کی تمام چلبلاہٹیں بیٹھ جائیں گی۔ گود میں ایک چھوٹے سے روتے پلے کو لیے کبھی وہ میز پر پیپر ویٹ اُٹھا کر بجائے گی، کبھی کنڈی ہلائے گی اور کبھی کن سری تانوں میں اوٹ پٹانگ لوریاں سنائے گی۔ واللہ میں تو پاگل ہو جاؤں گا۔ ‘‘

سہیل کو دیوانگی کی حد تک اس حادثے نے پریشان کر رکھا تھا۔ تین چار دن تک اس کی پریشانی کا کسی کو علم نہ ہوا۔ مگر اس کے بعد جب اس کا چہرہ فکر و تردّو کے باعث مُرجھا سا گیا تو ایک دن اُس کی ماں نے کہا

’’سہیل کیا بات ہے، آج کل تم بہت اداس اداس رہتے ہو۔ ‘‘

سہیل نے جواب دیا۔

’’کوئی بات نہیں امی جان۔ موسم ہی کچھ ایسا ہے۔ ‘‘

۔ موسم بے حد اچھا تھا۔ ہوا میں لطافت تھی۔ وکٹوریہ گارڈن میں جب وہ سیر کے لیے گیا تو اسے بیشمار پھول کھلے ہُوئے نظر آتے تھے۔ ہر رنگ کے ہر یاول بھی عام تھے۔ درختوں کے پتے اب مٹیالے نہیں تھے۔ ہر شے دُھلی ہوئی نظر آتی تھی۔ مگر سہیل نے اپنی اداسی کا باعث موسم کی خرابی بتایا۔ ماں نے جب یہ بات سنی تو کہا۔

’’سہیل تو مجھ سے چھپاتا ہے۔ دیکھ، سچ سچ بتاؤ کیا بات ہے۔ عائشہ نے تو کوئی ایسی ویسی بات نہیں کی۔ سہیل کے جی میں آئی کہ اپنی ماں سے کہہ دے۔

’’ایسی ویسی بات؟۔ امی جان اس نے ایسی بات کی ہے کہ میری زندگی تباہ ہو گئی ہے۔ مجھ سے پوچھے بغیر اس نے ماں بننے کا ارادہ کرلیا ہے۔ ‘‘

مگر اس نے یہ بات نہ کہی اس لیے کہ یہ سن کر اس کی ماں یقینی طور پر خوش ہوتی۔

’’نہیں امی۔ عائشہ نے کوئی ایسی بات نہیں کی وہ تو بہت ہی اچھی لڑکی ہے۔ آپ سے تو اسے بے پناہ محبت ہے۔ دراصل میری اداسی کا باعث۔ لیکن امی جان میں تو بہت خوش ہوں۔ یہ سن کر اس کی ماں نے دعائیہ لہجے میں کہا۔

’’اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے عائشہ واقعی بہت اچھی لڑکی ہے۔ میں تو اسے بالکل اپنی بیٹی کی طرح سمجھتی ہوں۔ اچھا، پر سہیل یہ تو بتا اب میرے دل کی مراد کب پوری ہو گی۔ ‘‘

سہیل نے مصنوعی لاعلمی کا اظہار کرتے ہُوئے پوچھا۔

’’میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا؟‘‘

’’تو سب سمجھتا ہے۔ میں پوچھتی ہوں کب تیرا لڑکا میری گود میں کھیلے گا۔ سہیل دل کی ایک آرزو تھی کہ تجھے دلہا بنتا دیکھوں، سو یہ آرزو خدا نے پوری کردی۔ اب اس بات کی تمنا ہے کہ تجھے پھلتا پھولتا بھی دیکھوں۔ ‘‘

سہیل نے اپنی ماں کے کاندھے پرہاتھ رکھا اور کھسیانی ہنسی کے ساتھ کہا۔

’’امی جان، آپ تو ہر وقت ایسی ہی باتیں کرتی رہتی ہیں، دو برس تک میں بالکل اولاد نہیں چاہتا۔ ‘‘

’’دو برس تک تُو۔ بالکل اولاد نہیں چاہتا، کیسے؟۔ یعنی تو اگر نہیں چاہے گا تو بچی بچہ نہیں ہو گا؟۔ واہ، ایسا بھلا کبھی ہو سکتا ہے۔ اولاد دینا نہ دینا اس کے ہاتھ میں ہے اور ضرور دے گا۔ اللہ کے حکم سے کل ہی میری گود میں پوتا کھیل رہا ہو گا۔ ‘‘

سہیل نے اس کے جواب میں کچھ نہ کہا۔ وہ کہتا بھی کیا۔ اگر وہ اپنی ماں کو بتا دیتا کہ عائشہ حاملہ ہوچکی ہے تو ظاہر ہے کہ سارا راز فاش ہو جاتا اور وہ بچے کی پیدائش روکنے کے لیے کچھ بھی نہ کرسکتا۔ شروع شروع میں اس نے سوچا تھا کہ شاید کوئی گڑبڑ ہو گئی ہے۔ اس نے اپنے شادی شدہ دوستوں سے سُنا تھا کہ عورتوں کے حساب و کتاب میں کبھی کبھی ایسا ہیر پھیر ہو جایا کرتا ہے، ابھی تک یہ خیال اس کے دماغ میں جما ہوا تھا۔ اس کے موہوم ہونے پر بھی، اس کو امید تھی کہ چند ہی دنوں میں مطلع صاف ہو جائے گا۔ پندرہ بیس دن گزر گئے مگر مطلع صاف نہ ہوا، اب اسکی پریشانی بہت زیادہ بڑھ گئی۔ وہ جب بھولی بھالی عائشہ کی طرف دیکھتا تو اسے ایسا محسوس ہوتا کہ وہ کسی مداری کے تھیلے کی طرف دیکھ رہا ہے۔

’’آج عائشہ میرے سامنے کھڑی ہے۔ کتنی اچھی لگتی ہے لیکن مہینوں میں اس کا پیٹ پھول کر ٹھلیا بن جائے گا۔ ہاتھ پیر سُوج جائیں گے۔ ہوا میں عجیب عجیب خوشبوئیں اور بدبوئیں سونگھتی پھرے گی۔ قے کرے گی اور خدا معلوم کیا سے کیا بن جائے گی!‘‘

سہیل نے اپنی پریشانی ماں سے چھپائے رکھی، بہن کو بھی پتہ نہ چلنے دیا مگر بیوی کو معلوم ہو ہی گیا۔ ایک روز سونے سے پہلے عائشہ نے بڑے تشویشناک لہجے میں اس سے کہا۔

’’کچھ دنوں سے آپ مجھے بے حد مضطرب نظر آتے ہیں۔ کیا وجہ ہے؟‘‘

لُطف یہ ہے کہ عائشہ کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ ایک دو بار اس نے سہیل سے کہا تھا کہ یہ اب کی دفعہ کیا ہو گیا ہے تو سہیل نے بات گول مول کردی تھی اور کہا تھا کہ شادی کے بعد بہت سی تبدیلیاں ہو جاتی ہیں۔ ممکن ہے کوئی ایسی ہی تبدیلی ہو گئی ہو۔ ‘‘

مگر اب اسے سچی بات بتانا ہی پڑی۔

’’عائشہ میں اس لیے پریشان ہوں کہ تم۔ تم اب ماں بننے والی ہو۔ ‘‘

عائشہ شرما گئی۔

’’آپ کیسی باتیں کرتے ہیں۔ ‘‘

’’کیسی باتیں کرتا ہوں۔ اب جو حقیقت ہے میں نے تم سے کہہ دی ہے تمہارے لیے یہ خوشخبری ہو گی مگر خدا کی قسم اس نے مجھے کئی دنوں سے پاگل بنا رکھا ہے۔ ‘‘

عائشہ نے جب سہیل کو سنجیدہ دیکھا تو کہا۔

’’تو۔ تو۔ کیا سچ مچ؟۔ ‘‘

’’ہاں، ہاں۔ سچ مچ۔ تم ماں بننے والی ہو۔ خدا کی قسم جب میں سوچتا ہوں کہ چند مہینوں ہی میں تم کچھ اور ہی بن جاؤ گی تو میرے دماغ میں ایک ہل چل سی مچ جاتی ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ اتنی جلدی بچہ پیدا ہو۔ اب خدا کے لیے تم کچھ کرو۔ ‘‘

عائشہ یہ بات سن کر صرف محجوب سی ہو گئی تھی۔ حجاب کے علاوہ اس نے ہونے والے بچے کے متعلق کچھ بھی محسوس نہیں کیا تھا۔ وہ دراصل یہ فیصلہ ہی نہیں کرسکی تھی کہ اسے خوش ہونا چاہیے یا گھبراہٹ کا اظہار کرنا چاہیے اس کو معلوم تھا کہ جب شادی ہُوئی ہے تو بچہ ضرور پیدا ہو گا مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ سہیل اتنا پریشان ہو جائے گا۔ سہیل نے اس کو خاموش دیکھ کر کہا۔

’’اب سوچتی کیا ہو۔ کچھ کرو تاکہ اس بچے کی مصیبت ٹلے۔ ‘‘

عائشہ دل ہی دل میں ہونے والے بچے کے ننھے ننھے کپڑوں کے متعلق سوچ رہی تھی، سہیل کی آواز نے اسے چونکا دیا۔

’’کیا کہا؟‘‘

’’میں کہتا ہوں کچھ بندوبست کرو کہ یہ بچہ پیدا نہ ہو۔ ‘‘

’’بتائیے میں کیا کروں؟‘‘

’’اگرمجھے معلوم ہوتا تو میں تم سے کیوں کہتا۔ تم عورت ہو۔ عورتوں سے ملتی رہی ہو۔ شادی پر تمہاری بیاہی ہُوئی سہیلیوں نے تمہیں کئی مشورے دیے ہونگے یاد کرو، کسی سے پوچھو۔ کوئی نہ کوئی ترکیب تو ضرور ہو گی۔ ‘‘

عائشہ نے اپنے حافظہ پر زور دیا۔ مگر اسے کوئی ایسی ترکیب یاد نہ آئی مجھے تو آج تک کسی نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ پر میں پوچھتی ہُوں کہ اتنے دن آپ نے مجھ سے کیوں نہ کہا۔ جب بھی میں نے آپ سے اس بارے میں بات چیت کی آپ نے ٹال دیا۔ ‘‘

’’میں نے تمہیں پریشان کرنا مناسب نہ سمجھا۔ یہ بھی سوچتا رہا کہ شاید میرا واہمہ ہو، پر اب کہ بات بالکل پکی ہو گئی ہے۔ تمہیں بتانا ہی پڑا۔ عائشہ اگر اس کا کوئی علاج نہ ہوا تو خدا کی قسم بہت بڑی آفت آجائے گی۔ آدمی شادی کرتا ہے کہ چند برس ہنسی خوشی میں گُزارے، یہ نہیں کہ سرمنڈاتے ہی اولے پڑیں۔ جھٹ سے ایک بچہ پیدا ہو جائے۔ کسی ڈاکٹر سے مشورہ لیتا ہُوں۔ ‘‘

عائشہ نے جو اب دماغی طور پر سہیل کی پریشانی میں شریک ہو چکی تھی۔

’’کہا’ہاں‘ کسی ڈاکٹر سے ضرور مشورہ لینا چاہیے۔ میں بھی چاہتی ہوں کہ بچہ اتنی جلدی نہ ہو۔ ‘‘

سہیل نے سوچنا شروع کیا۔ پولینڈ کا ایک ڈاکٹر اس کا واقف تھا، پچھلے دنوں جب شراب کی بندش ہوئی تھی تو وہ اس ڈاکٹر کے ذریعہ ہی سے وسکی حاصل کرتا تھا۔ پر اب وہ دیو لالی میں نظر بند تھا۔ کیونکہ حکومت کو اس کی حر کات و سکنات پر شبہ ہو گیا تھا۔ یہ ڈاکٹر اگر نظر بند نہ ہوتا تو یقیناً سہیل کا کام کردیتا۔ اس پولستانی ڈاکٹر کے علاوہ ایک یہودی ڈاکٹرکو بھی وہ جانتا تھا جس سے اس نے اپنی چھاتی کے درد کا علاج کرایا تھا سہیل اس کے پاس چلا جاتا مگر اس کا چہرہ اتنا رعب دار تھا کہ وہ اس سے ایسی بات کے متعلق ارادے کے باوجود مشورہ نہ لے سکتا۔ یوں تو بمبئی میں ہزاروں ڈاکٹر موجود تھے مگر بغیر واقفیت اس معاملے کے متعلق بات چیت ناممکن تھی۔ بہت دیر تک غور و فکر کرنے کے بعد معاً اس کو مس فریا کا خیال آیا جو ناگپاڑے میں پریکٹس کرتی تھی اور اس کا خیال آتے ہی مس فریا اس کے آنکھوں کے سامنے آگئی۔ موٹے اور بھاری جسم کی یہ کرسچین عورت عجیب و غریب کپڑے پہنتی تھی۔ ناگپاڑے میں کئی یہودی، کرسچین اور پارسی لڑکیاں رہتی ہیں۔ سہیل نے ان کو ہمیشہ چست اور شوخ رنگ لباسوں میں دیکھا تھا۔ سکرٹ گھٹنوں سے ذرا نیچی، ننگی پنڈلیاں، اونچی ایڑی کی سینڈل، سر کے بال کٹے ہُوئے، ان میں لہریں پیدا کرنے کے نئے نئے طریقے، ہونٹوں پر گاڑی سرخی، گالوں پر اُڑے اُڑے رنگ کا غازہ، بھویں موند کر تیکھی بنائی ہوئی۔ ان لڑکیوں کا بناؤ سنگھار کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ نگاہیں ان چیزوں کو پہلے دیکھتی تھیں جن سے عورت بنتی ہے۔ مگر مس فریا ٹخنوں تک لمبا ڈھیلا ڈھالا فراک پہنتی تھی۔ پنڈلیاں ہمیشہ موٹی جرابوں سے ڈھکی رہتی تھیں۔ شو پہنتی تھی بہت ہی پرانے فیشن کے بال کٹے ہُوئے تھے مگر ان میں لہریں پیدا کرنے کی طرف وہ کبھی توجہ ہی نہیں دیتی تھی، اس بے توجہی کے باعث اس کے بالوں میں ایک عجیب قسم کی بے جانی اور خشکی پیدا ہو گئی تھی۔ رنگ کالا تھا جو کبھی کبھی سنولا ہٹ بھی اختیار کرلیتا تھا۔ عائشہ نے تھوڑی دیر تک بچے کی پیدائش کے متعلق غور کیا اور سہیل کے پہلو میں سو گئی۔ غور و فکر ہمیشہ اس کو سلا دیا کرتا تھا۔ عائشہ سو گئی مگر سہیل جاگتا رہا اور مس فریا کے متعلق سوچتا رہا۔ ٹھیک ایک برس پہلے انہی دنوں میں جب اس کے کمرے میں نہ یہ نیا پلنگ تھا جو عائشہ جہیز میں لائی تھی۔ اور نہ خود عائشہ تھی تو سہیل نے ایک بار مس فریا کو خاص زاویے سے دیکھا تھا۔ سہیل کی بہن کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ بچہ کب پیدا ہو گا۔ مس فریا کو بلایا گیا تھا۔ سہیل تازہ تازہ بمبئی آیا تھا۔ ناگپاڑے کی شوخ تیتریاں دیکھ دیکھ کر جو بالکل اس کے پاس سے پھڑپھڑاتی ہوئی گزر جاتی تھیں اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی تھی کہ وہ ان سب کو پکڑ کر اپنی جیب میں رکھ لے مگر جب یہ خواہش پوری نہ ہُوئی اور وہ ناامیدی کی حد تک پہنچ گیا تو اسے مس فریا دکھائی دی۔ پہلی نظر میں سہیل کے جمالیاتی ذوق کو صدمہ سا پہنچا۔

’’کیسی بے ڈول عورت ہے۔ لباس کیسا بیہودہ ہے اور قد۔ تھوڑے ہی دنوں میں بھینس بن جائے گی۔ ‘‘

مس فریا نے اس روز کالے رنگ کی جالی دار ٹوپی پہن رکھی تھی۔ جس میں تین چار شوخ رنگ کے پھندنے لگے ہوئے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا کہ کیچڑ میں آلوچے گرپڑے ہیں۔ فراک جو ٹخنوں تک بڑے اُداس انداز میں لٹک رہا تھا چھپی ہُوئی جارجٹ کا تھا۔ پھول خوشنما تھے، کپڑا بھی اچھا تھا مگر بہت ہی بھونڈے طریقے پر سیا گیا تھا۔ مس فریا جب دوسرے کمرے سے فارغ ہو کر آئی تو اس نے سہیل سے انگریزی میں کہا۔

’’غسل خانہ کدھر ہے۔ مجھے ہاتھ دھونے ہیں۔ ‘‘

غسل خانے میں سہیل نے مس فریا کو بہت قریب سے دیکھا تو اسے نسوانیت کے کئی ذرّے اس کے ساتھ چمٹے ہُوئے نظر آئے۔ سہیل نے اب اسے پسند کرنے کی نیت سے دیکھنا شروع کیا۔

’’بُری نہیں۔ آنکھیں خوبصورت ہیں۔ میک اپ نہیں کرتی تو کیا ہوا۔ ٹھیک ہے۔ ہاتھ کیسے اچھے ہیں۔ ‘‘

مس فریا کے بالائی ہونٹ پر ہلکی ہلکی مونچھیں تھیں۔ کام کرنے کے باعث پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمودار ہو گئی تھیں۔ سہیل نے جب انکی طرف دیکھا تو مس فریا اسے پسند آگئی۔ پسینے کی یہ پھوار سی جو اس کی مونچھوں کی روئیں پر کپکپارہی تھی اسے بہت ہی بھلی معلوم ہُوئی۔ سہیل کے جی میں آئی کہ وہ کچھ کرنا شروع کردے جس سے اس کا سارا جسم عرق آلود ہو جائے۔ مس فریا جب ہاتھ پونچھ کر فارغ ہو گئی تو اس نے سہیل کی ماں سے کہا۔

’’آپ ان کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے میں دوا تیار کرکے دے دوں گی اور استعمال کرنے کی ترکیب بھی سمجھا دوں گی۔ ‘‘

ناگپاڑے تک جہاں وہ پریکٹس کرتی تھی، وکٹوریہ میں، سہیل نے اس سے کوئی خاص بات نہ کی۔ کونین کے متعلق اس نے چند باتیں دریافت کیں کہ ملیریا میں کتنی مقدار اسکی کھانی چاہیے۔ پھر اس نے دانتوں کی صفائی کے بارے میں اس سے کچھ معلومات حاصل کیں کہ اتنے میں وہ جگہ آگئی جہاں مس فریا۔ ایم۔ بی بی۔ ایس کا بورڈ لٹکا رہتا تھا۔ پہلی منزل کے ایک کمرے میں مس فریا کا مطب تھا۔ اس کمرے کے دو حصے کیے گئے تھے، ایک حصے میں مس فریا کی میز تھی جہاں وہ عام طور پر بیٹھتی تھی۔ دوسرے حصّے میں اس کی ڈسپنسری تھی۔ ڈسپنسری کی دو الماریوں کے علاوہ وہاں ایک چھوٹا سا تخت بھی تھا جس پر غالباً وہ مریض لٹا کر دیکھا کرتی تھی۔ مس فریا نے کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنی ٹوپی اُتار دی اور ایک کیل پر لٹکا دی۔ سہیل اس بنچ پر بیٹھ گیا جومیز کے پاس بچھی تھی۔ ٹوپی اتار کر مس فریا نے نیم انگریزی اور نیم ہندوستان لہجہ میں آواز دی، چھوکرا۔ کمرے کے دوسرے حصّے سے ایک مریل سا آدمی نکل آیا اور کہنے لگا۔

’’ہاں میم صاحب۔ ‘‘

میم صاحب کچھ نہ بولیں اور دوا بنانے کے لیے اندر چلی گئیں۔ سہیل اس دوران میں سوچتا رہا کہ مس فریا سے کسی طرح دوستی پیدا کرنی چاہیے وہ تھوڑا سا وقت جو اسے ملا اسی سوچ بچار میں خرچ ہو گیا اور مس فریا دوا بنا کر لے آئی۔ کرسی پر بیٹھ کر اس نے شیشی پر گوند سے لیبل چپکایا اور پڑیوں پر نمبر لگانے کے بعد کہا۔

’’یہ دو دوائیں ہیں۔ پڑیا ابھی جا کر پانی کے ساتھ دے دیجیے اور اس میں سے ایک خوراک آدھے گھنٹے کے بعد پلا دیجیے گا۔ پھر ہر تیسرے گھنٹے کے بعد اسی طرح۔ ‘‘

سہیل نے پڑیاں اٹھا کر جیب میں رکھ لیں۔ شیشی ہاتھ میں لے لی، اور مس فریا کی طرف کچھ عجیب نگاہوں سے دیکھنا شروع کردیا۔ وہ گھبرا گئی۔

’’آپ بھول تو نہیں گئے۔ ‘‘

سہیل نے اسی انداز سے دیکھتے ہوئے کہا۔

’’میں بھولا نہیں مجھے سب کچھ یاد ہے۔ ‘‘

مس فریا کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کہے۔

’’تو۔ تو۔ ٹھیک ہے۔ ‘‘

سہیل دراصل اپنے ارادہ کو مکمل کررہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھے جارہا تھا۔ مس فریا نے چند کاغذات اٹھا کر میز کے ایک طرف رکھ دیے۔

’’اس کے۔ اُس کے دام؟‘‘

سہیل نے خاموشی سے بٹوہ نکالا۔

’’کتنے ہوئے۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے پانچ کا نوٹ بڑھا دیا۔ مس فریا نے نوٹ لیا۔ میزکی دراز کھول کر اس میں رکھا۔ جلدی جلدی ریز گاری نکالی اور حساب کرکے باقی پیسے سہیل کی طرف بڑھا دیے۔ سہیل نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور جلدی سے کہا۔

’’تمہارا ہاتھ کتنا خوبصورت ہے۔ ‘‘

مس فریا تھوڑی دیر تک فیصلہ نہ کرسکی کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔

’’آپ کیسی باتیں کررہے ہیں۔ ‘‘

سہیل نے بڑے ہی خام انداز میں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا جیسے وہ اسٹیج پر عشقیہ پارٹ ادا کررہا ہے۔

’’میں تم سے محبت کرتا ہُوں۔ ‘‘

سہیل کو جب مس فریا کے لہجے میں کُھردرا پن محسوس ہوا تو وہ چونکا اس نے لوگوں سے سُن رکھا تھا کہ اینگلو انڈین اور کرسچین لڑکیاں فوراً ہی پھنس جایا کرتی ہیں۔ چنانچہ اسی سُنی سُنائی بات کے زیر اثر اس نے اتنی جرأت کی تھی مگر یہاں جب اسے معاملہ بالکل برعکس نظر آیا تو اس نے جلدی سے دوا کی شیشی اٹھائی اور کہا۔

’’میں آپ سے معافی چاہتا ہوں دراصل مجھے آپ سے ایسی فضول باتیں نہیں کرنا چاہیے تھیں۔ میں۔ میں نہ جانے کیا بک گیا۔ مجھے معاف کردیجیے گا۔ ‘‘

مس فریا اُٹھ کھڑی ہُوئی۔ اس کا غصّہ کچھ کم ہو گیا۔

’’تم نے جو کچھ کیا ہے اس پر مجھے بے حد غصّہ آیا تھا۔ مگر میں اب تمہاری طرف دیکھتی ہُوں تو مجھے تم بہت ہی معصوم نظر آتے ہو۔ بیوقوفی کی حد تک معصوم، جاؤ پھر کبھی ایسی حرکت نہ کرنا۔ ‘‘

سہیل سہم سا گیا۔ مس فریا کووہ اسکول کی استانی سمجھنے لگا۔

’’آپ نے مجھے معاف کردیا ہے نا۔ ‘‘

مس فریا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پیدا نہ ہوئی جو سہیل چاہتا تھا کہ پیدا ہو۔

’’جاؤ میں نے کہہ دیا کہ پھر ایسی حرکت نہ کرنا۔ دوا کسی اور جگہ سے نہ لینا۔ کل یہیں چلے آنا۔ اور دیکھو تم نے میرے آنے جانے کے پیسے نہیں دیے۔ ‘‘

سہیل نے پوچھا۔

’’کتنے ہوتے ہیں۔ ‘‘

’’بارہ آنے۔ ‘‘

سہیل نے بارہ آنے میز پررکھ دیے اور جب وہ بازار میں پہنچا تو اُس نے خیال کیا کہ وکٹوریہ والے کو تو وہ بارہ آنے ادا کر چکا تھا لیکن اس نے سوچا کہ چلو، بلا ٹل گئی ہے، کیا ہوا اگر بارہ آنے زیادہ چلے گئے۔ سہیل کا یہ پہلا موقع نہیں تھا۔ امرتسر میں وہ کئی لڑکیوں سے ایسی اور اس سے بھی سخت جھڑکیاں کھا چکا تھا۔ چند گھنٹوں تک اس واقعہ کا سہیل پر بہت ہی زیادہ اثر رہا۔ لیکن جب وہ دوسرے دن مس فریا کے ہاں دوا لینے کے لیے گیا تو اس نے دوسرے گاہکوں کی طرح اس سے بات چیت کی تو وہ شرمندگی جس کا تھوڑا سا احساس باقی رہ گیا تھا دُور ہو گئی۔ دس بارہ روز تک وہ متواتر دوا لینے کے لیے مس فریا کے ہاں جاتا رہا۔ اس دوران میں کوئی ایسی بات نہ ہوئی جس سے سہیل کے دماغ میں اس خفت انگیز واقعہ کی یاد تازہ ہوتی اس کے بعد اس کی بہن تندرست ہو گئی اور مس فریا اس عرصہ کے لیے اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔ اب ایک دم بارہ تیرہ مہینے کے بعد سہیل کو اس کا خیال آیا اور اس نے اس سے مشورہ لینے کا ارادہ کیا۔

’’عورت کو روپے پیسے کا بہت لالچ ہے میرا خیال ہے کہ وہ ضرور اس معاملہ میں ہماری مدد کرنے کو تیار ہو جائے گی اور پھر اس واقعہ کو اس بات سے کیا تعلق ہے۔ اگر وہ میرا کام کردے گی تو میں اسے منہ مانگے دام ادا کردوں گا۔ ‘‘

دوسرے روز شام کو وہ مس فریا کے پاس گیا۔ سہیل کو دیکھ کر اس نے بڑے کاروباری انداز میں کہا۔

’’بہت مدت کے بعد تشریف لائے۔ ‘‘

سہیل شادی کے بعد اب کافی تبدیل ہو چکا تھا آرام سے بنچ پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا۔ اس دوران میں کوئی بیمار نہیں ہوا اس لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکا۔ مس فریا مسکرائی۔

’’اب کیسے آنا ہوا۔ ‘‘

سہیل نے جواب دیا۔

’’میں اپنی بیوی کے متعلق کچھ پوچھنے آیا ہوں۔ ‘‘

مس فریا نے اور زیادہ متوجہ ہو کر پوچھا۔

’’آپ کی شادی ہو گئی۔ ‘‘

’’جی ہاں۔ ہو گئی۔ ‘‘

’’کب ہوئی۔ ‘‘

’’ایک مہینہ پہلے۔ ‘‘

’’صرف ایک مہینہ۔ ‘‘

مس فریا نے کرسی پر اپنا پہلو بدلا۔

’’کیسی ہے آپکی بیوی۔ ‘‘

سہیل نے بالکل رسمی انداز میں جواب دیا۔

’’بہت اچھی ہے۔ ‘‘

’’میرا مطلب ہے کہ۔ کہ۔ خوبصورت ہے؟۔ ضرور خوبصورت ہو گی۔ پنجاب کی لڑکیاں عام طور پر خوبصورت ہوتی ہیں۔ ‘‘

سہیل نے فریا کی طرف دیکھا چہرے پر اس نے پوڈر لگا رکھا تھا جس سے رنگ بہت ہی بدنما ہو گیا تھا۔ بال خشک اور بے جان تھے۔ فراک بھی نہایت بھونڈا تھا۔ جب اس نے عائشہ کا خیال کیا تو فریا اسے بھنگن معلوم ہُوئی۔ دل ہی دل میں وہ ہنسا اور پرانا بدلہ لینے کی خاطر اس نے کہا۔

’’میری بیوی بہت خوبصورت ہے۔ تم اسے دیکھو گی تو پتہ چلے گا۔ ‘‘

مس فریا نے شاید یہ بات نہ سنی، کیونکہ وہ کچھ اور ہی سوچ رہی تھی

’’تو ایک مہینے سے تم عیش کررہے ہو۔ ‘‘

سہیل نے پھر اسے جلانے کے لیے کہا

’’انسان کو زندگی میں ایک بار ہی ایسا موقع ملتا ہے۔ کیوں نہ اس سے فائدہ اُٹھایا جائے۔ ‘‘

’’ہاں، ہاں ضرور فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ مگر۔ مگر زیادہ نہیں۔ تم ضرور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوں گے۔ ‘‘

مس فریا کے لہجے میں ایک عجیب قسم کی للچاہٹ تھی۔ سہیل کو اس گفتگو میں مزہ آنے لگا مسکرا کر اس نے کہا

’’زیادہ سے زیادہ کیوں نہ اُٹھایا جائے۔ یہی وقت تو ہے کہ جی بھر کے لُطف اُٹھایا جائے بیوی اچھی ہو۔ طبعیتیں آپس میں مل جائیں۔ جوانی ہو۔ حالات ساز گار ہوں، موسم خوشگوار ہو تو۔ ‘‘

مس فریا مضطرب ہو گئی۔ یہ اضطراب چھپانے کی خاطر اس نے کہا۔

’’آپ۔ آپ کس قسم کا مشورہ لینے کے لیے آئے ہیں۔ ‘‘

’’میں اپنی بیوی کے متعلق کچھ پوچھنے آیا تھا۔ ‘‘

’’مس فریا پھر اسی رو میں بہہ گئی۔ ‘‘

میں۔ میں اسکو ضرور دیکھونگی۔ مجھے۔ مجھے خوشی ہو گی۔ کسے معلوم تھا کہ تم اتنی جلدی شادی کرلو گے۔ تمہاری زندگی میں۔ میرا مطلب ہے کہ تمہاری زندگی میں ضرور ایک بہت بڑی تبدیلی ہو گئی ہو گی۔ سہیل نے جواب دیا۔

’’تبدیلی۔ کوئی خاص تبدیلی پیدا تو نہیں ہوئی۔ میں پہلے بھی ایسا ہی تھا۔ خاص فرق پڑ بھی کیا سکتا ہے۔ ہر حال میں خوش ہُوں، بہت ہی خوش ہُوں۔ شادی بہت اچھی چیز ہے؟ مس فریا نے تھوک نگل کر کہا۔

’’کیا شادی واقعی بہت اچھی چیز ہے؟‘‘

’’بہت ہی اچھی چیز ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ تم بھی شادی کرلو۔ ‘‘

مس فریا نے میز پر سے رنگین تیلیوں کا بنا ہوا جاپانی پنکھا اُٹھایا اور جھلنا شروع کردیا۔

’’مجھے اپنی بیوی کے متعلق کچھ اور بتاؤ۔ یعنی تمہاری ازدواجی زندگی کیسے گزر رہی ہے۔ اسکے خیالات کیا ہیں۔ ‘‘

فریا کے ہونٹوں پر کھسیانی سی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔ اسکے ہونٹ کچھ اس انداز سے باتیں کرتے وقت کھل رہے تھے کہ سہیل کو محسوس ہوا فریا کے چہرے پر منہ کے بجائے ایک زخم ہے جس کے ٹانکے اُدھڑ رہے ہیں۔ سہیل نے غور سے اسکی طرف دیکھا اور یوں دیکھتے ہُوئے وہ ایک برس پیچھے چلا گیا۔ جب اس نے بڑی نیک نیتی سے اس عورت میں چند خوبصورتیاں تلاش کی تھیں اور ان کا سہارا لے کر اس سے دوستانہ تعلقات پیدا کرنے کی ایک نہایت ہی بھونڈی کوشش کی تھی۔ اب وہی عورت اس کے سامنے کرسی پربیٹھی پنکھا جھل کر اپنا اندرونی اضطراب ہلکا کررہی تھی، ایک برس اس کے کالے چہرے اور خشک بالوں پر سے مزید سیاہی اور خشکی پیدا کیے بغیر گزر گیا تھا۔ مگر سہیل اب بالکل تبدیل ہو چکا تھا۔ وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ مس فریا نے اس سے کہا۔

’’تم کتنے تبدیل ہو گئے ہو۔ اب تم پورے مرد بن چکے ہو۔ ‘‘

سہیل نے فریا کی طرف دیکھا۔ اس کی مونچھوں پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہورہے تھے۔ ان کو دیکھ کر اب اس کے دل میں وہ پہلی سی خواہش پیدا نہ ہوئی۔ مس فریا نے پنکھا میز پررکھ دیا اور کہنیاں ٹیک کر سہیل کی طرف ان بلیوں کی طرح دیکھنے لگی جو موسم بہار میں لوٹ کر اُداس اداس آوازیں نکالا کرتی ہیں۔ سہیل نے پنکھے کی ایک اکھڑی ہُوئی تیلی نوچنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو مس فریا نے اسے آہستہ سے پکڑ کر کہا۔

’’یاد ہے تمہیں، ایک دفعہ اسی طرح تم نے میرا ہاتھ دبایا تھا۔ ‘‘

مس فریا کی آواز لرزاں تھی۔ سہیل نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور بڑے خشک لہجہ میں کہا۔

’’مس فریا۔ تمہاری یہ حرکت بہت ہی نازیبا ہے۔ دیکھو، پھر کبھی ایسا نہ کرنا۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے اپنا بٹوا لرزتے ہوئے ہاتھوں سے کھولا اور بارہ آنے نکال کر میز پر رکھ دیے۔

’’یہ رہا تمہارے آنے جانے کا کرایہ۔ ‘‘

سہیل جب نیچے اُترا تو بازارمیں چلتے ہُوئے اس نے سوچا۔

’’جب بچہ پیدا ہو گا تو میں اسے گود میں اٹھا کر مس فریا کے پاس ضرور آؤں گا اور فخر کے ساتھ کہوں گا، اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘

سہیل بہت خوش تھا۔ جب اس نے مزا لینے کی خاطر یہ سارا واقعہ دھرایا تو آخر میں بارہ آنے آئے جو اس نے کانپتے ہُوئے ہاتھوں سے نکال کر مس فریا کی میز پر رکھے تھے۔

’’ارے۔ میں نے اسے بارہ آنے کیوں دیے۔ یہ کرایہ کس کا تھا؟‘‘

سہیل جب اس کا جواب تلاش نہ کرسکا تو بے اختیار ہنس پڑا۔






مصنف کے بارے میں


...

سعادت حسن منٹو‎

May 11, 1912, Samrala, India - January 18, 1955, Lahore, Pakistan |


اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار ، خاکہ نگار




Comments